رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

ایک اللہ، ایک رسول، ایک کتاب توتقسیم کیوں؟

ایک اللہ، ایک رسول، ایک کتاب پر ایمان توتقسیم کیوں؟ 

مختصرخلاصہ١

بسم الله الرحمن الرحيم

1۔مسلمان ایک اللہ ، ایک رسول اور ایک کتاب (قرآن) پر ایمان رکھتے ہیں، جس میں تمام اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے[1]، لیکن پھر بھی بہت سے فرقے موجود ہیں۔ فرقہ واریت کی ایک بڑی وجہ مختلف احادیث [2]کا استعمال کرکے قرآنی آیات کی متضاد تعبیرات [3] کرنا ہے۔ بہت سے لوگ حیران ہوتے ہیں کہ قرآن پاک کی تدوین کے بعد، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد میں  خلفائے راشدین نےاحادیث کی تدوین کا بندوبست کیوں نہیں کیا جبکہ اکثر راویان (صحابہ کرام) زندہ تھے-

حدیث اور قرآن کو گڈمد ہونے کے خوف کی وجہ سے حدیث کے نہ لکھنے جو داستان بیان کی جاتی ہے، وہ تاریخ، حالات اور کامن سینس کے مطابق نہیں ہے۔ کیونکہ دونوں کا مزاج ، بیان مختلف ہے اور ان میں ملاپ ، مشابہت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بلکہ دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر (رض) کے دور میں حدیث پر پابندی لگائی گئی تھی   دوسری اقوام (یہود و نصاری) غیر اللہ کی کتب لکھ کر کتاب اللہ کو چھوڑ بیٹھی تھیں مسلمان بھی یہی کریں گے- اس کی آج بھی تصدیق ہوتی ہے کی پیغمبر کا خدشہ درست تھا۔ تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان (رض)کے دور حکومت کے دوران، قرآن کی تدوین کے بعد احادیث  جمع نہیں کی  گئیں۔ نہ ہی چوتھے خلیفہ راشدہ کی خلافت کے دوران اور نہ ہی پہلی صدی ہجری میں- لہذا صرف ایک غیر معقول ذہن ہی داستان پر یقین کر سکتا ہے کہ حدیث کی تحریر پر پابندی قرآن کے ساتھ گڈ مڈ ہونے کے خوف کی وجہ سے لگائی گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بھی ایسی حدیث نہیں ملتی جس میں تمام لوگوں کے لیے احادیث لکھنے کی اجازت عام دی گئی ہو، بلکہ علماء نے احادیث کی تحریر کے جواز پیش کرنے کے لیے مختلف تاریلات پیش کی ہیں- لیکن یہ دلائل اکثر ذاتی نوٹس کی طرف اشارہ کرتے ہیں نہ کہ باقاعدہ کتابی تدوین یا زکوٰۃ، خون بہا (ٹیکس) وغیرہ کے جمع کرنے کے لیے سرکاری مراسلات/حساب کتاب کی ہدایات کا لکھنا [4]۔ ذاتی حدیثی نوٹس اور باقاعدہ حدیثی کتابوں کی تحریر میں فرق کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ دونوں مختلف ہیں۔ قرآن لکھنے کے برعکس، جسے کبھی بھی اس طرح کے مسائل یا اختلافات کا سامنا نہیں کرنا پڑا، احادیث کی تحریر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص اجازت کی ضرورت تھی۔