ایک اللہ، ایک رسول، ایک کتاب
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن36:17) اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہے
- Home
- انڈکس
- متواتر احادیث
- Notes
- عظیم تحریف
- رسالة التجديد - تعارف
- حیرت انگیز
- 1 اللہ،1رسول، 1 کتاب
- تفکر کا انداز جدید
- کلید قرآن
- ام السنہ
- قرآن 19جوابات
- علم الحديث اصول
- سود اور کاغذی کرنسی
- مسلم کیوں؟
- قرآن- عقل و شعور
- مجموعہ حدیث
- دعوة دین کامل
- (Critical Inquiry) تحقیق انتقادی
- مقدمہ: تجديد الإسلام
- احکام القرآن
- ختمِ نبوت اور قادیانیت
- شفاعت اور شریعت
- تجديد ایمان
- مصادر الإسلام
- تصوف Sufism
- اجماع ممنوعہ
- راہ نجات
- قرآن کا زندہ معجزہ
- مقصد حیات: کامیاب ناکام ؟
- قرآن متروک العمل
- اہم آیات قرآن
- اہم احادیث
- تعارف قرآن
- مغالطے
- احادیث کتابت ممانعت
- وحی غیر متلو
- رسول اللہ ﷺ میعار حدیث
- سنت , حدیث، متواتر حدیث
- وصیت رسول ﷺ سنت خلفاء راشدین
- بدعة ضَلَالَۃٌ’
- خلفاء راشدین, کتابت حدیث
- یہود و نصاری کی تقلید
- قرآن: کتابت حدیث
- فقیہ و محدثین
- کتمان حق
- قرآن ، حدیث " توریت و تلمود"
- سوال و جواب (Q & A)
- آخری رسول اور آخری کتاب
- تجدید اسلام - آغاز
- موضوع - تھم
- تحقیق - خلاصہ
- تحقیق کے اہم نقاط و نتائج
- خلاصہ
- تجديد الإسلام (eBook)
- References ریفرنس
- قرآن مضامین
- English Site
- اختتامیہ
- شیعہ اصلاحات
- سوشل میڈیا
- رابطہ Contact
رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)
انڈکس رسالة التجديد
قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...
متواتر احادیث - 150
"متواتر حدیث " قطعی الثبوت ہوتی ہے۔ یعنی اس کے اللہ کے رسول ﷺ کا کلام ہونے میں ۱۰۰٪ یقین ہوتا ہے اور اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کا درجہ قرآن کی طرح یقینی ہے۔ جبکہ "صحیح" ظنی الثبوت ہوتی ہے۔ یعنی اس کے رسول ﷺ سے ثابت ہونے کا غالب گمان (Strong probability) ہوتا ہے، لیکن اس میں متواتر جیسا ۱۰۰٪ یقینی درجہ نہیں ہوتا کیونکہ راوی انسان ہے اور اس سے غلطی کا ایک معمولی سا امکان رہتا ہے۔
متواترکا انکار کرنا کفر کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ یہ دین کی ایسی حقیقت ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ احادیث کے ذخیرے میں صحیح احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کتبِ احادیث (بخاری، مسلم وغیرہ) کا بڑا حصہ ٩٩% اسی پر مشتمل ہے۔
جن کو "صحیح احادیث" کہتے ہیں وہ ظنی ہیں مگر "متواتر حدیث " تھوڑی ہیں جن میں شک کی گنجائش نہیں . جب تک دیے گیے اصولوں ١ کی بنیاد پر کام مکمل نہیں ہوتا "متواتراحادیث " سے فائدہ لیا جا سکتا ہے.
عظیم تحریف The Great Betrayal
رسول اللہ ﷺ نے صاف الفاظ میں حدیث لکھنے سے منع فرمایا: "میرے پاس سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو"۔ .اگرچہ چند ایک مستثنیات ملتی ہیں، لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سمیت متعدد فقیہ صحابہ کرام کو حدیث لکھنے سے انکار اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ پابندی مستقل اور دائمی نوعیت کی تھی۔
اس کی دو اہم وجوہات تھیں: پہلی یہ کہ قرآن اور حدیث کے درمیان فرق واضح رہے، کاتب وحی کا گروپ الگ تھا اس لینے یہ امکان ممکن نہیں تھا ۔ دوسری یہ کہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن کے ساتھ دوسری کتابیں نہ بنائی جائیں۔ حضرت عمرؓ نے بھی سنت لکھنے سے اس لیے گریز کیا کہ کہیں لوگ قرآن کو چھوڑ کر صرف حدیث میں نہ پڑ جائیں۔
پہلی صدی ہجری تک صحابہؓ نے احادیث لکھنے سے پرہیز کیا۔ لیکن بعد میں سیاسی اور فرقہ وارانہ اختلافات کی وجہ سے حدیث کی کتابیں لکھی جانے لگیں۔ امام ابو حنیفہؒ جیسے بڑے عالم بھی حدیث کی کتاب نہیں لکھی، جو سنت نبوی کی پابندی تھی۔
آج ہمیں چاہیے کہ قرآن کو اصل معیار بنائیں، احادیث کو قرآن کی روشنی میں پرکھیں، اور جدید ٹیکنالوجی سے تحقیق کریں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان یاد رکھیں: "جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ جہنم میں جائے گا"۔ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔
بریگیڈیئر آفتاب خان (ریٹائرڈ) نے اس موضوع پر گہری تحقیق کی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ان کا درج زیل مضمون پڑھیں اور ویب سائٹس وزٹ کریں-
https://Quran1book.blogspot.com (Urdu)
https://Quran1book.wordpress.com (English)
Hadith narrations require careful scrutiny due to their varied authenticity levels. The Prophet ﷺ explicitly prohibited writing his sayings, commanding: "Do not write anything from me except the Quran" (Sahih Muslim 3004), a prohibition maintained until his death and followed by the Rightly-Guided Caliphs.
حقیقی کیمیا : ثابت شدہ احادیث نبوی ﷺ کی جستجو- علم الحدیث کے سات مجوزہ سنہری اصول اور احادیث کی تدوین نو (القواعد الذهبية السبع المقترحة في علم الحديث) Seven Golden Rules of Science of Hadith and Recompilation of Hadith literature
رسالة التجديد - تعارف
السلام علیکم ! اسلامی فکر صدیوں سے جمود کا شکار ہے جبکہ علامہ اقبال کے ویژن میں بنیادی طور پر اسلامی فکر کو متحرکت اورارتقاء پزیر ہونا چاہیے- اسلام میں قران کی مرکزیت پر قرآن اور رسول اللہ ﷺ نے بہت زور دیا مگر افسوس کہ قرآن کو متروک العمل کردیا گیا- اقبال اورڈاکٹر برق کے مجربات و محسوسات بھی قرآن پر فوکس اور (inspire) کرتے ہیں- بیس سال قرآن کے مطالعہ و تحقیق، علماء اور اہل علم لوگوں سے کئی کئی دن پر محیط طویل تبادلہ خیالات و ای ایکسچینجز کے بعد اہم موضوعات پر حاصل نتائج کا خلاصہ مرتب کردیا ہے- رسول اللہ ﷺ کے بیان کردہ احادیث کی درستگی کے معیاراور اصول احادیث سے ہی مل جاتے ہیں، آپﷺ سے بہتراصول کون بنا سکتا ہے؟ مکمل تحقیق اردو اور انگریزی ویب سائٹس اور eBooks میں مہیا کر دی گئی ہے جو کہ 17 سال سے (Defence Journal)میں بھی پرنٹ ہو چکی ہے - دوران مطالعہ اپنے موجودہ نظریات کو ایک طرف رکھنا بہتر ہو گا، فٹ نوٹس پرریفرنس لنکس کو پڑھیں توذہن میں اٹھنے والےاکثرسوالات کے جوابات مل جائیں گےپھررابطہ بھی کیا جا سکتا ہے- الله تعالی کے پیغام کو درست طور پرسمجھ کر پیش کرنے کی یہ ایک کوشش ہے، بشری محدودات سے کسی نادانستہ غلطی پراللہ تعالی سےمعافی اوربخشش کا طلبگار-
بریگیڈیئر آفتاب احمد خان (ر)
[September 29 2023 | ١٢ ربیع الاول ١٤٤٨ ھ]
حیرت انگیز
انسانی تاریخ میں ایسے لمحات بہت کم آتے ہیں جب کوئی عظیم مقصد وسائل اور طاقت کی کمی کے باعث ادھورا رہ جاتا ہے، اور اس کی تکمیل کا بار آئندہ نسلوں کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ لیکن پھر، تقدیر کے صفحات پلٹتے ہیں، اور وہ کام، جو بظاہر ناممکن تھا، اچانک حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔ ایسا ہی کچھ حدیث نبوی کی "تدوین نو" کے ساتھ ہوا[1]۔ برسوں کی عرق ریزی اور تحقیق کے بعد، جب اس اہم کام کے نتائج کو ویب سائٹس پر محفوظ کر دیا گیا،[2] اور مسلم ممالک کے سفارت کاروں، وزارتوں، ملکی اہم افراد، اداروں اور دارالعلوم کو خطوط لکھ کر آگاہ کر دیا گیا، تو یہ خیال دل میں راسخ ہو گیا کہ اب یہ کام اللہ کے سپرد ہے۔ وہی کوئی ایسا سبب پیدا کرے گا کہ یہ عظیم الشان منصوبہ اس زندگی میں پایہ تکمیل تک پہنچ سکے- ورنہ پچھلے بارہ سو سال سے مسلمانوں کو کتب حدیث لکھنے والوں کی صوابدید پر تکیہ کرنا پڑتا رہا ہے- انہوں نے بہت محنت کی لیکن آخر انسان تھے کوئی پیغمبر نہیں اور دو ڈھائی سو سال کا عرصۂ درازبھی گزر چکا تھا- وقت کے ساتھ ان پر شخسیت پرستی اور مقدسیت کے حصار قائم ہو چکے تھے جن کو پار کرنا ناممکن ہو چکا تھا[3]- ان کتب نے قرآن کے قریب کا درجہ حاصل کر لیا جبکہ تدوین قران[4] سے ان کا زرہ برابر بھی تقابل نہیں- جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت عمر (رضی الله )[5] کی بصیرت نے پہلے بھانپ لیا تھا جب انہوں نے کتب حدیث لکھنے پر پابندی لگائی. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ، یہ (کتب احادیث) اللہ کی کتاب کو نظراندا کر دیں گی"[6]، جیسا کہ پہلی اقوام نے کیا (یہود (تلمود 38جلد) و نصاریٰ (23 کتب، عہد جدید)[7] اور اب تک مسلمان 171 کتب[8] حدیث لکھ چکے ہیں اور بے شمار فرقے موجود ہیں- کتب حدیث کی "تدوین نو" تو کیا اس موضوع پر بات کرنا بھی نا ممکن ہے- اپنی تحقیق کو اردو اور انگلش ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پرڈال کر اللہ کے حوالے کردیا-[9]
-
اسلام کے عقائد و تعلیمات کو قرآن کی آیات محکمات اور سنت ثابتہ یعنی الله تعالی اور ر...
-
بسم الله الرحمن الرحيم لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ شروع اللہ کے...
پوسٹ لسٹ
-
▼
2026
(3)
- ▼ March 2026 (2)
- ► February 2026 (1)
-
►
2024
(5)
- ► March 2024 (3)
- ► January 2024 (1)
-
►
2020
(138)
- ► September 2020 (1)
- ► April 2020 (1)
- ► February 2020 (1)
- ► January 2020 (2)
-
►
2018
(1)
- ► September 2018 (1)




