رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

صراط مستقیم : https://tinyurl.com/SirateMustaqem        مصنوعی  ذہانت ...

مصنوعی ذہانت سے "تدوین حدیث " پرمکالمہ

مصنوعی ذہانت AI سے "تدوین حدیث " پر ایک مکالمہ (Dialogue ) 10 اکتوبر 2026 کو ہوا جواس میں شامل ہے سوالات کو بھی کھولنا ہے ، لنک پیش خدمت ہے .
یہ یاد رہے کہ مصنوئی ذہانت کی رسائی پندر سو سال میں لکھی گیئ لاکھوں کتاب تک ہے جن کو پڑھنا  کسی انسان کے لیے ممکن نہیں مگر یہ روایتی نظریات کو پیش کرتی ہے ان کی اپنی پالیسی ہے مگر اس کو اگر مختلف موضوعات پر سوالات پیش کریں اور حقیقت بیان کرنے کا کہیں تو کھل کر بات کرتے ہیں . کسی ایک اپپ App پر یقین نہ کریں دوسری App سے چیک کریں مگر صرف سچ کی تلاش کریں فرقہ وارانہ نظریات سے دور رہیں ورنہ "مصنوعی ذہانت" اپ کے فرقہ و نظریات کے مطابق آپ کی مرضی کا جواب دے گی ،  آخر ان کو بھی اپنا مال بچنا ہے  یہ کاروبار ہے ورنہ ان کو ہم سے یا اسلام سے کیا لینا؟  آپ کا مقصد سچ اور علم کی تلاش ہے. قرآن میں سب کچھ ہے اور تاریخ واضح ہے ،  ہماری آنکھوں اور عقل پر پردے پڑے ہیں .... یہ کام کس نے ہزار سال تک کیا ؟  اور کر رہے ہیں ؟ علامہ اقبال نے ایک شعر میں بیان کر دیا ....

مصنوعی ذہانت نیا دور: کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟

تاریخ کا یہ سبق نہایت تلخ اور سبق آموز ہے کہ جب یورپ میں صنعتی انقلاب برپا ہو رہا تھا، تو خلافتِ عثمانیہ (ترکی) یورپ کی سرحد پر واقع ہونے کے باوجود داخلی بگاڑ، جمود اور سیاسی و مذہبی کشمکش میں الجھا رہا۔ جدید ٹیکنالوجی، مشین اور سائنسی علوم کو اپنانے میں تاخیر کی وجہ سے وہ عظیم سلطنت معاشی اور فوجی طور پر مفلوج ہوئی اور بالآخر پارہ پارہ ہو گئی۔ اس کے برعکس، ایشیا کے دوسرے کنارے پر جاپان نے 1868ء کے "میجی انقلاب" (Meiji Restoration) کے بعد تمام تر داخلی اختلافات کو بالائے طاق رکھا اور ... >>>

قرآن مجید: حق و باطل کی واحد کسوٹی - الفرقان

 انسان جب افکار و نظریات، تاریخ کی روایات اور مذہبی بیانیوں کے جنگل میں بھٹکتا ہے، تو اسے ایک ایسی غیر متزلزل اور حتمی بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے جو سچ کو جھوٹ سے اور حق کو باطل سے الگ کر سکے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی اسی علمی و فکری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قرآنِ مجید کو "الفرقان" یعنی "حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی کسوٹی" بنا کر نازل فرمایا۔ قران کی تدوین بہت احتیاط سے مرحلہ وار رسول اللہ ﷺ اور  بتدریج خلفاء راشدین کی نگرانی میں ہوئی اور اس پر ان کا عملی اجماع رہا جس پر دو ،  تین صدی عمل ہوا. پھر تاویلات کے زور پر  رسول اللہ ﷺ،  خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام کے حکم اور عمل کی خلاف درزی ہوئی. یہ اسلامی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے جس کو واپس ہونا ضروری ہے اور اس کی تحقیق بھی ضروری ہے کہ کون ہیرو اور کون ویلن؟ 
قرآن کے کاتب وحی تھے ،  آیات کے نزول پر تلاوت ، زبانی یاد کرنا ،  رسول اللہ ﷺ کی چیکنگ ،  حضرت جبرائیل کی نگرانی میں دہرائی ، حضرت عمر (ر ض)  کا قرآن کا فوری اکٹھا کرنا ،  محفوظ کرنا اور حضرت عثمان (ر ض) کا کاتب وحی کی نگرانی میں کمیٹی اور ان کے حافظ ہونے کے باوجود،  ہر آیات پر دو چشم دید گواہان. یہ نظام اور احتیاط اور دوسری طرف ایک مجھول شخص صدیوں بعد ایسی روایت بناے جو قرآن کو عملی طور پر منسوخ کر دے ،  اس کو علماء حق ،  من گھڑت ،  موضوع،  ضعیف کہیں اور کوئی اس کو حسن ، صحیح کا سرٹیفیکٹ دے. (ملاحضہ : جنت کا  شارٹ کٹ ). یہ دین کے ساتھ  کھلواڑ  نہیں تو اور کیا ہے ؟   رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ان لوگوں کے حوالے نہیں کیا کہ من مانی کریں ،  واضح روشن راستہ   صراط مستقیم پر چھوڑا ، قرآن کی واضح محکم آیات ہی احکام ہہیں باقی تاویلات کی کوئی حقیقت نہیں (3:7). 

  قرآن ،  فرقان موجود ہے :

 سورۃ الانبیاء (21:18): "بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ"

"بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے باطل نابود ہو جاتا ہے۔"

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا"
"بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر الفرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب) نازل کی تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے خبردار کرنے والا بنے۔" (سورۃ الفرقان 25:1)

جھوٹ کیسے سچ بن جاتا ہے؟ اس سے بچاؤ

یہہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ مذہبی اور سیاسی نظریات جو بظاھرصاف جھوٹ اور ناقابل یقین نظر اتے ہہیں حریت  انگیز طور پر سچے نظریات بن جاتے ہیں  اگرچہ ہمارے پاس حق اور باطل کی پیچان کرنے کی کسوٹی ، فرقان ،  قرآن موجود ہہے جو اکثر روزانہ تلاوت کیا جاتا ہے مگر عمل علماء سو کی باتوں پر کیا جاتا ہے. روز محشر ہر انسان کو اکیلے جواب دینا ہوگا . یہہ کیسے ممکن ہے ؟ آیے دیکھتے ہیں :

اطاعت اور اتباع رسول اللہ ﷺ کا قرآنی فلسفہ اور کتب حدیث


قرآن مجید کے اصطلاحی، لغوی اور قانونی نظام میں 'اطاعت' اور 'اتباع' دو بالکل مختلف علمی، عسکری اور شریعت ساز تصورات ہیں، جن کا گہرا تعلق قانون کی مکتوب شکل، حاکم کی نوعیت اور انسانی عمل کے دائرہ کار سے ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ، معانی اور اسلوب کے گہرے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں مختلف علمی اور عملی ابعاد کو محیط ہیں، جن کو خلط ملط کرنے سے شریعت کا اصل مرکزہ (Center of Gravity) تبدیل ہو جاتا ہے۔ روائیتی بیانیہ کے خلط ملط کردہ تصورات سے ہٹ کر، اگر انہیں خالص قرآنی اور عقلی(8:22) بنیادوں پر سمجھا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے >>>>>>>Read more »

جنت کا شارٹ کٹ

 عوام میں کسی متبادل نظام یا شارٹ کٹ کا نظریہ بہت پاپولر ہے. ہم چاہتے ہیں کہ جنت آسانی سے بغیر کسی خاص اچھے عمل کے مل جائے. اس انسانی کمزوری سے لوگوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور ان کو بے وقوف بنایا.اصلی اور جعلی احادیث اور تاویلات جو منع (٣ :٧ )ہیں  کا خوب استعمال کیا گیا. ایک روایت بہت مشہور ہے :

«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»

اس کا تجزیہ کرتے ہیں کہ اس طرح کی موضوع (من گھڑت) روآیات انسان کو گمراہ کرتی ہیں یا ہدایت پر رکھتی ہیں ؟Read more »