رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

جھوٹ کیسے سچ بن جاتا ہے؟ اس سے بچاؤ


یہہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ مذہبی اور سیاسی نظریات جو بظاھرصاف جھوٹ اور ناقابل یقین نظر اتے ہہیں حریت انگیز طور پر سچے نظریات بن جاتے ہیں .  یه کیسے ممکن ہے ؟ آیے دیکھتے ہیں :

اطاعت اور اتباع رسول اللہ ﷺ کا قرآنی فلسفہ اور کتب حدیث


قرآن مجید کے اصطلاحی، لغوی اور قانونی نظام میں 'اطاعت' اور 'اتباع' دو بالکل مختلف علمی، عسکری اور شریعت ساز تصورات ہیں، جن کا گہرا تعلق قانون کی مکتوب شکل، حاکم کی نوعیت اور انسانی عمل کے دائرہ کار سے ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ، معانی اور اسلوب کے گہرے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں مختلف علمی اور عملی ابعاد کو محیط ہیں، جن کو خلط ملط کرنے سے شریعت کا اصل مرکزہ (Center of Gravity) تبدیل ہو جاتا ہے۔ روائیتی بیانیہ کے خلط ملط کردہ تصورات سے ہٹ کر، اگر انہیں خالص قرآنی اور عقلی(8:22) بنیادوں پر سمجھا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔

1۔ لغوی و قرآنی تفریق اور ان کا بنیادی دائرہ کار
الف) اطاعت (Obedience)
اطاعت کا مادہ "طوع" ہے، جس کا لغوی مطلب ہے خوشی، رغبت اور رضا مندی سے کسی کے حکم کو تسلیم کرنا، اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اور اس کی فرمانبرداری کا طوق گردن میں ڈالنا۔
• حکم اور قانون کی پابندی:
اطاعت کا تعلق بنیادی طور پر کسی صاحبِ اختیار (Authority) کے صریح، واضح اور مکتوب احکامات، قوانین، فرائض، حدود اور جاری کردہ ضوابط پر من وعن عمل کرنے سے ہے۔ یہ ایک منصبی، قانونی اور انتظامی ضرورت کا نام ہے۔
• قرآنی دائرہ کار:
قرآن مجید میں جہاں قانون، حدود اللہ اور حتمی ضابطوں کا ذکر آتا ہے، وہاں اطاعت کا حکم صادر کیا گیا ہے، جیسے اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت۔
• رسول کی اطاعت کی حقیقت:
قرآن مجید نے خود اس بات کو بالکل صاف کر دیا ہے کہ رسول کی اپنی کوئی مستقل یا الگ شریعت نہیں ہوتی، بلکہ وہ دین کے متعلق جو کچھ بھی حکم دیتا ہے، وہ اللہ ہی کا حکم ہوتا ہے (ذاتی اور معاشرتی معاملات اس سے الگ ہیں)۔ چنانچہ سورہ النساء میں فرمایا گیا: "مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ" (النساء: 80) یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ ہی کی اطاعت کی۔ رسول چونکہ وحیِ الہیٰ (قرآن مجید) کا پیغامبر اور اس کا پہلا مفسر و مجسم نمونہ ہوتا ہے، اس لیے کتاب کو لانے والے کی اطاعت کے بغیر خود کتاب پر عمل ممکن نہیں ہوتا۔ جب تک رسول دنیائے فانی میں موجود تھے، ان کا ہر شرعی فیصلہ، ہر عدالتی حکم اور ہر تصفیہ واجب الاطاعت تھا ......... Read more »

جنت کا شارٹ کٹ

آیت الکرسی کی تلاوت پر جنت
 عوام میں کسی متبادل نظام یا شارٹ کٹ کا نظریہ بہت پاپولر ہے. ہم چاہتے ہیں کہ جنت آسانی سے بغیر کسی خاص اچھے عمل کے مل جائے. اس انسانی کمزوری سے لوگوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور ان کو بے وقوف بنایا.اصلی اور جعلی احادیث اور تاویلات جو منع (٣ :٧ )ہیں  کا خوب استعمال کیا گیا. ایک روایت بہت مشہور ہے :

«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»

اس کا تجزیہ کرتے ہیں کہ اس طرح کی موضوع (من گھڑت) روآیات انسان کو گمراہ کرتی ہیں یا ہدایت پر رکھتی ہیں ؟  
 اللہ کے اپنی مخلوق سے پیاراور مغفرت کے نظریہ کو خوب اچھالا گیا کہ قرآن صرف تلاوت اور ثواب تک محدود گیا. ایسا لگتا ہے کہ جیسے دو شریعتیں ہیں ایک تلاوت اور دوسری آسان عملی شریعت. یہ   قرآن کے نظریہ کو کھلا چیلنج ہے جس کی اصلاح ضروری ہے۔ قرآن کے مطابق دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اخرت اس کا حتمی نتیجہ ہے۔  موت کے بعد برزخ ، یوم حساب ، جزا و سزا ، معافی اور بخشش کا نظام قرآن میں بیان ہے جس کی تفصیل  رسول اللہ ﷺ  نے بھی بیان فرمائی۔ اس پر اسلام کے نظام کی بنیاد ہے ۔ قرآن  نے عقل کے استعمال پر بہت زور دیا جس کو ہم بھلا چکے ہیں۔ کیا نجات بہت آسان ہے کہ بآسانی مل جائے ؟ 
"نجات نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو بھی برا کام کرے گا اس کی سزا پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی پائے گا نہ مددگار۔ اور جو صالح اعمال کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہوگی۔". (النساء: ۱۲۳ - ۱۲۴)
قرآن ، فرقان ہے ، حق و باطل میں فرق کرنے کی کسوٹی ہے:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ (الأنبياء: 18) 
"بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اس کا مغز توڑ دیتا ہے اور باطل اسی وقت نابود ہو جاتا ہے۔"

​قرآن مجید کا نظامِ جزا و سزا درج ذیل محکم اصولوں پر قائم ہے:

 

https://tinyurl.com/Shortcut2Jannah

فریب مقدس Pious Deceit الْكَذِبُ الْمُقَدَّسُ

فریب مقدس -Pious Deceit - الْكَذِبُ الْمُقَدَّسُ  

ایگزیکٹو سمری 
اسلام کی بنیاد قرآن پر ہے جو اللہ کا کلام ہے، ہر طرح کی تبدیلی سے محفوظ ہے،   رسول اللہ ﷺ  کا "اسوہ" وہ عمل ہے جس پر عبادات کی شکل میں عملی طور پر نسل در نسل متواتر عمل ہو رہا ہے۔ یہ کسی تحریر کا محتاج نہیں۔ آپ کے وہ اعمال و اقوال جو بہت سے صحابہؓ نے براہ راست دیکھے یا سنے اگرچہ اہم ہیں لیکن ان کی صحت کو پرکھنا ضروری ہے کیونکہ منافقین نے جعلی روایات گھڑی ہیں.
علمی نوٹ:  صدیوں کے فکری غبار کو صاف کرنے کے لیے قارئین سے گزارش ہے کہ وہ پہلے مقالہ "مقدس فریب" کا مطالعہ فرمائیں۔ اس سے آپ کے ذہن میں ابھرنے والے اکثر سوالات کے جوابات خود بخود واضح ہو جائیں گے۔ دینِ حق کی فہم حاصل کرنا اور اپنے طور پر مزید تحقیق کرنا ہر مسلمان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس یہود و نصاریٰ کے پر فریب  راستہ پر چلنے کی شدید مزاحمت کی تھی، مگر وہ وقت کے حکمرانوں اور مذہبی طبقے کے گٹھ جوڑ (Collaboration) کے آگے ٹھہر نہ سکے۔ اگر اس کے باوجود کسی مقام پر مزید وضاحت درکار ہو، تو سوالات ضرور اٹھائیے۔ ذہن میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہنے دیں، کیونکہ ہمارا مقصد کسی قسم کی فرقہ واریت نہیں، بلکہ صرف گمراہی سے بچاؤ اور اس خالص حق اور دینِ اسلام کی تلاش ہے جو رسول اللہ ﷺ بنی نوع انسان کے لیے چھوڑ گئے تھے.

رسول اللہﷺ نے صاف الفاظ میں ان کے فرامین لکھنے سے منع فرمایا: "میرے پاس سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو"۔ .اگرچہ چند ایک مستثنیات ملتی ہیں، لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سمیت متعدد فقیہ صحابہ کرام کو حدیث لکھنے سے انکار اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ پابندی مستقل اور دائمی نوعیت کی تھی۔

اس کی دو اہم وجوہات تھیں: پہلی یہ کہ قرآن اور اسوہ  کے درمیان فرق واضح رہے، کاتب وحی کا گروپ الگ تھا اس لینے یہ امکان ممکن نہیں تھا ۔ دوسری یہ کہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن کے ساتھ دوسری کتابیں نہ بنائی جائیں۔ حضرت عمرؓ نے بھی اسوہ لکھنے سے اس لیے گریز کیا کہ کہیں لوگ قرآن کو چھوڑ کر صرف اس میں نہ پڑ جائیں اور تمام خلفاء راشدین ،  صحابہ اکرام کا اجماع اس رسول اللہ (ص) کے فیصلہ کے مطابق تھا جو تمام ابہام دور کر دیتا ہے جس کی گواہی پہلی صدیوں میں عمل سے ثابت ہے. 

 لیکن بعد میں سیاسی اور فرقہ وارانہ اختلافات کی وجہ سے اسوہ کی کتابیں لکھی جانے لگیں جن کو غلط طور پر حدیث کا نام دیا گیا۔ قرآن اور رسول اللہﷺ کے مطابق حدیث صرف قرآن ہے، جی ہاں یہ غلط فہمی ہمارے دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے جسے کتاب "مقدس فریب" میں ریفرنسز کے ساتھ واضح کر دیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ کے اقدامات کو قرآن "اسوہ" کہتا ہے اور سنت اللہ۔ رسول اللہﷺ ہر خطبہ سے پہلے فرماتے، بہترین حدیث قرآن اور بہترین سیرت محمد (ص) کی۔

امام ابو حنیفہؒ جیسے بڑے عالم نے بھی کوئی کتاب نہیں لکھی، جو اسوہ رسول اللہﷺ کی پیروی تھی۔ آج ہمیں چاہیے کہ قرآن کو اصل معیار بنائیں، احادیث (جیسا مروج ہے) کو قرآن کی روشنی میں پرکھیں، اور جدید ٹیکنالوجی سے تحقیق کریں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان یاد رکھیں: "جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ جہنم میں جائے گا"۔ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔ :<<<مزید ۔۔۔ کتاب - فریب مقدس  >>>]

Scholarly Note: 

To clear the intellectual dust of many centuries, readers are requested to first study the treatise "Pious Deceit." Doing so will clarify most of the questions arising in your mind. Understanding the True Religion and conducting further independent research is the personal responsibility of every Muslim. History bears witness that Muslims fiercely resisted this following of Jewish-Christian practice of deceit; however, they could not withstand the collaboration between the rulers of the time and the misguidance and deviations of religious class. Nevertheless, if further clarification is required at any point, do raise your questions. Leave no room for doubt or ambiguity in your mind, for our objective is not sectarianism, but rather protection from misguidance and the pursuit of that pure Truth and Islam which the Messenger of Allah ﷺ left for the humanity<<Keep reading Pious Deceit>>

دین اسلام میں ہزار سالہ عظیم فریب : یہود و نصاریٰ کے راستہ پر ...(منتخب مضامین - مقدس فریب )


ازالہِ شبہات: فرمانِ رسول ﷺ، تدوینِ حدیث اور تاریخِ امت کا ایک تحقیقی جائزہ

گہرے مطالعہ اور علمی تحقیق کے بعد یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امت کے فکر و عمل میں پچھلے ہزار سال سے زائد عرصے میں ایک بڑا بنیادی تغیر رونما ہوا ہے۔

جو دینِ کامل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ چھوڑ کر گئے تھے—اور جس پر رسول اللہ ﷺ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کا اجتماعی فکری و عملی تسلسل تقریباً تین صدیوں تک قائم رہا—بعد کے ادوار میں اس کے فہم اور ترجیحات کو بدل دیا گیا۔

اگرچہ بدلتے حالات اور فروعی معاملات میں "جزوی فہم و تطبیق" کی گنجائش موجود ہوتی ہے، مگر دین کی بنیاد اور اس کے اصل خدوخال میں کسی قسم کا تغیر، درحقیقت اساسِ دین کی تبدیلی ہے—جو کہ ایک مکمل اور محفوظ دین میں بالکل ممکن نہیں۔

اس اہم اور بنیادی موضوع کا مختصر تحقیقی خلاصہ ذیل میں پیشِ خدمت ہے۔ تفصیلی علمی دلائل، قرآنی نصوص اور مستند تاریخی شواہد دیے گئے لنک پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں تاکہ معاملے کے تمام پہلوؤں کو درست تناظر میں سمجھا جا سکے۔

1۔ قرآن بہترین حدیث

قرآنِ کریم خود کو "احسن الحدیث" کہتا ہے اور کسی اور حدیث پر ایمان کی ممانعت ہے— (39:23)، (52:34)، (56:81)، (53:59)، (68:44)، اور (77:50)— رسول اللہ ﷺ بھی ہر خطبہ سے پہلے قرآن کو "بہترین حدیث" کہتے تھے۔ اس لیئے  کلام  رسول اللہ ﷺ کو "حدیث  رسول اللہ ﷺ " یا قرآن کا لفظ "اسوہ حسنہ" کہنا مناسب ہے۔

2۔ ممانعت تدوین حدیث، یهود و نصاری کی پیروی کی ممانعت اور گمراہی

رسول اللہ ﷺ نے امت کو خبردار فرمایا کہ تم پچھلی امتوں (یہود و نصاریٰ) کی روش پر اس حد تک اندھا دھند چلو گے کہ اگر وہ کسی گوہ کے تنگ سوراخ میں بھی گھسے ہوں گے تو تم بھی ان کی پیروی کرو گے۔

رسول اللہ ﷺ نے کلامِ الٰہی کے علاوہ کچھ (احادیث) کو تحریر کرنے سے صراحةً منع فرمایا تھا (مسلم: 3004، الخطیب البغدادی: 33, 34) اور متنبہ فرمایا تھا کہ؛

 "پہلی امتیں کتابِ الٰہی کے علاوہ دیگر کتب تحریر کر کے گمراہ ہوئیں"

ممانعت اور انتباہ کے باوجود مسلمان یہودونصاری کے راستہ پر چل پڑے۔ 

3 ابدی علت و منسوخی

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے-
دین اسلام چودہ سو سال قبل کامل ہو چکا ہماری سوچ اور عمل کو تجدید کی ضرورت ہے!
Translate this page to English : https://bit.ly/Tejdeed-Eng
رسالة التجديد
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ 
اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہے  (القرآن36:17)
Our mission is only to convey the message clearly