رسول اللﷺ نے صاف الفاظ میں حدیث لکھنے سے منع فرمایا: "میرے پاس سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو"۔ .اگرچہ چند ایک مستثنیات ملتی ہیں، لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سمیت متعدد فقیہ صحابہ کرام کو حدیث لکھنے سے انکار اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ پابندی مستقل اور دائمی نوعیت کی تھی۔
اس کی دو اہم وجوہات تھیں: پہلی یہ کہ قرآن اور حدیث کے درمیان فرق واضح رہے، کاتب وحی کا گروپ الگ تھا اس لینے یہ امکان ممکن نہیں تھا ۔ دوسری یہ کہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن کے ساتھ دوسری کتابیں نہ بنائی جائیں۔ حضرت عمرؓ نے بھی سنت لکھنے سے اس لیے گریز کیا کہ کہیں لوگ قرآن کو چھوڑ کر صرف حدیث میں نہ پڑ جائیں۔
پہلی صدی ہجری تک صحابہؓ نے احادیث لکھنے سے پرہیز کیا۔ لیکن بعد میں سیاسی اور فرقہ وارانہ اختلافات کی وجہ سے حدیث کی کتابیں لکھی جانے لگیں۔ امام ابو حنیفہؒ جیسے بڑے عالم بھی حدیث کی کتاب نہیں لکھی، جو سنت نبوی کی پابندی تھی۔
آج ہمیں چاہیے کہ قرآن کو اصل معیار بنائیں، احادیث کو قرآن کی روشنی میں پرکھیں، اور جدید ٹیکنالوجی سے تحقیق کریں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان یاد رکھیں: "جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ جہنم میں جائے گا"۔ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔
Scholarly Note:
To clear the intellectual dust of twelve centuries, readers are requested to first study the treatise "Pious Deceit." Doing so will clarify most of the questions arising in your mind. Understanding the True Religion and conducting further independent research is the personal responsibility of every Muslim. History bears witness that Muslims fiercely resisted this deceit; however, they could not withstand the collaboration between the rulers of the time and the religious class. Nevertheless, if further clarification is required at any point, do raise your questions. Leave no room for doubt or ambiguity in your mind, for our objective is not sectarianism, but rather protection from misguidance and the pursuit of that pure Truth and Islam which the Messenger of Allah ﷺ left for the humanity<<Pious Deceit>>
May use Google or any Translator for translation to any language: https://translate.google.com
https://docs.google.com/document/d/1LQl1XkdXKvURC6wyjpdHsIbz5j
.................................




