گہرے مطالعہ اور علمی تحقیق کے بعد یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امت کے فکر و عمل میں پچھلے ہزار سال سے زائد عرصے میں ایک بڑا بنیادی تغیر رونما ہوا ہے۔
جو دینِ کامل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ چھوڑ کر گئے تھے—اور جس پر رسول اللہ ﷺ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کا اجتماعی فکری و عملی تسلسل تقریباً تین صدیوں تک قائم رہا—بعد کے ادوار میں اس کے فہم اور ترجیحات کو بدل دیا گیا۔
اگرچہ بدلتے حالات اور فروعی معاملات میں "جزوی فہم و تطبیق" کی گنجائش موجود ہوتی ہے، مگر دین کی بنیاد اور اس کے اصل خدوخال میں کسی قسم کا تغیر، درحقیقت اساسِ دین کی تبدیلی ہے—جو کہ ایک مکمل اور محفوظ دین میں بالکل ممکن نہیں۔
اس اہم اور بنیادی موضوع کا مختصر تحقیقی خلاصہ ذیل میں پیشِ خدمت ہے۔ تفصیلی علمی دلائل، قرآنی نصوص اور مستند تاریخی شواہد دیے گئے لنک پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں تاکہ معاملے کے تمام پہلوؤں کو درست تناظر میں سمجھا جا سکے۔
1۔ قرآن بہترین حدیث
قرآنِ کریم خود کو "احسن الحدیث" کہتا ہے اور کسی اور حدیث پر ایمان کی ممانعت ہے— (39:23)، (52:34)، (56:81)، (53:59)، (68:44)، اور (77:50)— رسول اللہ ﷺ بھی ہر خطبہ سے پہلے قرآن کو "بہترین حدیث" کہتے تھے۔ اس لیئے کلام رسول اللہ ﷺ کو "حدیث رسول اللہ ﷺ " یا قرآن کا لفظ "اسوہ حسنہ" کہنا مناسب ہے۔
2۔ ممانعت تدوین حدیث، یهود و نصاری کی پیروی کی ممانعت اور گمراہی
رسول اللہ ﷺ نے امت کو خبردار فرمایا کہ تم پچھلی امتوں (یہود و نصاریٰ) کی روش پر اس حد تک اندھا دھند چلو گے کہ اگر وہ کسی گوہ کے تنگ سوراخ میں بھی گھسے ہوں گے تو تم بھی ان کی پیروی کرو گے۔
رسول اللہ ﷺ نے کلامِ الٰہی کے علاوہ کچھ (احادیث) کو تحریر کرنے سے صراحةً منع فرمایا تھا (مسلم: 3004، الخطیب البغدادی: 33, 34) اور متنبہ فرمایا تھا کہ؛
"پہلی امتیں کتابِ الٰہی کے علاوہ دیگر کتب تحریر کر کے گمراہ ہوئیں"
ممانعت اور انتباہ کے باوجود مسلمان یہودونصاری کے راستہ پر چل پڑے۔
3 ابدی علت و منسوخی



