عوام میں کسی متبادل نظام یا شارٹ کٹ کا نظریہ بہت پاپولر ہے. ہم چاہتے ہیں کہ جنت آسانی سے بغیر کسی خاص اچھے عمل کے مل جائے. اس انسانی کمزوری سے لوگوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور ان کو بے وقوف بنایا.اصلی اور جعلی احادیث کا خوب استعمال کیا گیا. اللہ کے اپنی مخلوق سے پیاراور مغفرت کے نظریہ کو خوب اچھالا گیا کہ قرآن صرف تلاوت اور ثواب تک محدود گیا. ایسا لگتا ہے کہ جیسے دو شریعتیں ہیں ایک تلاوت اور دوسری آسان عملی شریعت. یہ قرآن کے نظریہ کو کھلا چیلنج ہے جس کی اصلاح ضروری ہے۔ قرآن کے مطابق دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اخرت اس کا حتمی نتیجہ ہے۔ موت کے بعد برزخ ، یوم حساب ، جزا و سزا ، معافی اور بخشش کا نظام قرآن میں بیان ہے جس کی تفصیل رسول اللہ ﷺ نے بھی بیان فرمائی۔ اس پر اسلام کے نظام کی بنیاد ہے ۔ قرآن نے عقل کے استعمال پر بہت زور دیا جس کو ہم بھلا چکے ہیں۔
"نجات نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو بھی برا کام کرے گا اس کی سزا پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی پائے گا نہ مددگار۔ اور جو صالح اعمال کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہوگی۔". (النساء: ۱۲۳ - ۱۲۴)
قرآن مجید کا نظامِ جزا و سزا درج ذیل محکم اصولوں پر قائم ہے:
https://tinyurl.com/Shortcut2Jannah


