رسول اللﷺ نے صاف الفاظ میں حدیث لکھنے سے منع فرمایا: "میرے پاس سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو"۔ .اگرچہ چند ایک مستثنیات ملتی ہیں، لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سمیت متعدد فقیہ صحابہ کرام کو حدیث لکھنے سے انکار اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ پابندی مستقل اور دائمی نوعیت کی تھی۔
اس کی دو اہم وجوہات تھیں: پہلی یہ کہ قرآن اور حدیث کے درمیان فرق واضح رہے، کاتب وحی کا گروپ الگ تھا اس لینے یہ امکان ممکن نہیں تھا ۔ دوسری یہ کہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن کے ساتھ دوسری کتابیں نہ بنائی جائیں۔ حضرت عمرؓ نے بھی سنت لکھنے سے اس لیے گریز کیا کہ کہیں لوگ قرآن کو چھوڑ کر صرف حدیث میں نہ پڑ جائیں۔
پہلی صدی ہجری تک صحابہؓ نے احادیث لکھنے سے پرہیز کیا۔ لیکن بعد میں سیاسی اور فرقہ وارانہ اختلافات کی وجہ سے حدیث کی کتابیں لکھی جانے لگیں۔ امام ابو حنیفہؒ جیسے بڑے عالم بھی حدیث کی کتاب نہیں لکھی، جو سنت نبوی کی پابندی تھی۔
آج ہمیں چاہیے کہ قرآن کو اصل معیار بنائیں، احادیث کو قرآن کی روشنی میں پرکھیں، اور جدید ٹیکنالوجی سے تحقیق کریں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان یاد رکھیں: "جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ جہنم میں جائے گا"۔ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔
Scholarly Note:
To clear the intellectual dust of twelve centuries, readers are requested to first study the treatise "Pious Deceit." Doing so will clarify most of the questions arising in your mind. Understanding the True Religion and conducting further independent research is the personal responsibility of every Muslim. History bears witness that Muslims fiercely resisted this deceit; however, they could not withstand the collaboration between the rulers of the time and the religious class. Nevertheless, if further clarification is required at any point, do raise your questions. Leave no room for doubt or ambiguity in your mind, for our objective is not sectarianism, but rather protection from misguidance and the pursuit of that pure Truth and Islam which the Messenger of Allah ﷺ left for the humanity<<Pious Deceit>>
May use Google or any Translator for translation to any language: https://translate.google.com
https://docs.google.com/document/d/1LQl1XkdXKvURC6wyjpdHsIbz5j
.................................
حدیث لکھنے کی ممانعت پر احادیث ہیں اور وجہ( علت ) بھی جو کہ ابدی ہے آج بھی تصدیق کی جا سکتی ہے مگرحدیث لکھنے پر ایک بھی حدیث نہیں آپ کی طرف سے . بڑی مشہور کتب حدیث میں اس کو شامل نہیں کیا گیا کئی تاویلیں ہو سکتی ہیں ، مگر یہ علمی خیانت ہہے . دوسری جگہ بھیRead more »
احادیث نامکمل ہیں آہم اجزا کو کاٹ دییا گیا ہے خطیب البغدادی اور ایک اور حدیث میں' علت' موجود ہے .شاید اس لیے کہ قران پر حدیث کو ترجیح یا برابر کرنا تھا ؟ درج زیل لنک بڑی مشکل سے مل سکے جو حاضر ہیں . رسول ﷺ کی وصیت اور خلفاء راشدین کے فیصلہ کے بعد رہا سہا شک بھی دور ہو جاتا ہے (ابن ماجہ 43).
- (i)https://mohaddis.com/View/Muslim/T2/3004 (Muslim-3004) نا مکمل حدیث
- (ii )Khateeb Al-khilafahBaghdadi-33,34/ https://read.shamela.ws/book/13089/18 / مکمل حدیث
- https://read.shamela.ws/book/13089/19
- (iii) https://ketabonline.com/ar/books/1610/read?part=1&page=19&index=68713
- (iv) https://www.al-hadees.com/musnad-ahmed/11092
- (v) https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=24&hadith_number=11092
- (vi) https://quran1book.blogspot.com/2020/10/hadith-ban.html (ویب سائٹ هذا )
- (vii) https://quran1book.blogspot.com/2021/11/HadithBan-Sahabh.html
- https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=4&hadith_number=43
فریب مقدس 2 -The Pious Deceit
مسلمان رسول اللہ ﷺ کی سخت ممانعت کے باوجود یہود و نصاری کے نقش قدم پر
سلام دو بنیادوں پر قائم ہے: قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی صحیح سنت۔ قرآن کسی بھی قسم کی تبدیلی یا تحریف سے محفوظ ہے، خواہ الفاظ میں ہو یا معنی میں۔ سنت ان اقوال اور اعمال پر مشتمل ہے جو نبی ﷺ سے ثابت ہیں اور جنہیں بہت سے صحابہ نے براہِ راست سنا یا دیکھا، جن پر کوئی شک نہیں رہتا۔ یہ قرآن کی طرح ہی واجب العمل ہیں۔
احادیث وہ روایات ہیں جو محدود افراد نے بیان کی ہیں۔ اگرچہ یہ ہماری روایت کا قیمتی خزانہ ہیں، لیکن صرف ان کا نبی ﷺ سے منسوب ہونا کافی نہیں۔ اسی لیے علماء نے سخت درجہ بندی کے نظام قائم کیے۔ امام سیوطی نے 113 متواتر احادیث جمع کیں، جبکہ دیگر مجموعوں میں ہزاروں موجود ہیں۔ ہمیں صحیح احادیث اور منافقین کی گھڑی ہوئی روایات میں فرق کرنا ہوگا جو مسلمانوں کی محبتِ رسول ﷺ کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
حدیث لکھنے کی ممانعت کے دو نظریات
1. قرآن اور حدیث کے اختلاط کا خوف
2. قرآن کے مقابلے میں ایک اور کتاب لکھنا (جیسے یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا)
قرآن اور حدیث کے خوف اختلاط کا نظریہ
اسلام کے ابتدائی دور میں، منافقین اور مشرکین نے قرآن کی صحت پر شک ڈالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پروپیگنڈہ پھیلایا کہ قرآن اب اللہ کا کلام نہیں رہا، بلکہ حدیث کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ لیکن مسلم امت کے اجتماعی تحفظ (متواتر نقل)اور دوسرے بندوبست نے ان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ بعد میں حدیث کے کتابیں لکھنے والوں نے ایک کہانی گھڑی کہ "ابتدائی دور میں قرآن اور حدیث کے اختلاط کے خطرے کی وجہ سے حدیث لکھنے پر پابندی تھی، جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو گئی"۔ یہ دعویٰ نہ تو کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے اور نہ ہی تاریخی شواہد سے، یہ ایک حدیث مسلم 3004 سے زبردستی اخذ کیا گیا، اور یہ قرآن(15:9) کے بھی برخلاف ہے- حدیث کےزبانی بیان کا حکم بھی موجود ہے (وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلاَ حَرَجَ)۔ خلفاء راشدین نے قرآن کی تدوین کے بعد بھی احادیث کو مدون نہ کیا ،پہلی صدی حجرہ میں نہ ہوا، کیا یہ ثبوت کافی نہیں؟
ابو سعید الخدری (رضی الله ) (جو 5 ہجری میں مسلمان ہوئے) اور ابو ہریرہ (رضی الله ) (جو 7/8 ہجری میں مسلمان ہوئے) کی روایات سے واضح ہوتا ہے کہ حدیث لکھنے کی ممانعت قرآن کے نزول کے آخری دور تک قائم رہی (نبی ﷺ 10 ہجری میں وفات پا گئے)، جبکہ اس وقت تک قرآن 18 سے 20 سال تک نازل ہوتا رہا تھا جس کی23 سال میں تکمیل ہوئی۔
نبی ﷺ کے زمانے میں وحی کے کاتبوں (کُتّاب الوحی) کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جو قرآن کی آیات فوراً لکھ لیتے تھے۔ ان میں سے چند مشہور نام: زید بن ثابت، علی بن ابی طالب، عثمان بن عفان، اُبی بن کعب، معاویہ بن ابی سفیان، عبداللہ بن مسعود، خالد بن سعید بن العاص، ثابت بن قیس، حنظلہ بن الربیع، شرحبیل بن حسنہ، ابان بن سعید بن العاص، مغیرہ بن شعبہ (رضی اللہ عنہم) اور بہت سے دیگر۔
یہ تمام صحابہ نبی ﷺ کے براہِ راست حکم پر قرآن لکھتے تھے، اور آپ ﷺ خود ہر لفظ کی صحت کی نگرانی کرتے تھے۔ قرآن کی حفاظت صرف لکھنے تک محدود نہیں تھی؛ ہزاروں صحابہ نے اسے حفظ بھی کیا تھا۔ اللہ نے خود قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لی:
"بے شک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔" (قرآن 15:9)
اس لیے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ نبی ﷺ ہر سال جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ پورا قرآن سنتے تھے (جسے "عرضہ اخیرہ" کہا جاتا ہے)، تاکہ اس کی ترتیب اور جمع مکمل ہو۔ ان تمام احتیاطی تدابیر کے پیش نظر، قرآن اور حدیث کے اختلاط کا خیال محض ایک وہم ہے کیونکہ قرآن اور حدیث کا لسانی فرق ہے :
- قرآن: الفاظ و معنی دونوں اللہ کی طرف سے (وحیِ الٰہی)۔
- حدیث: نبی ﷺ کے الفاظ میں
- قرآن: اعلیٰ فصاحت و بلاغت، معجزاتی انداز، دقیق الفاظ۔
- حدیث: سادہ، عام فہم زبان موقع و محل کے مطابق۔
- قرآن معجزاتی زبان اور الہامی متن رکھتا ہے، جبکہ حدیث انسانی بیان
لہٰذا ان واضح فرق سے حدیث لکھنے کی ابتدائی ممانعت کا یہ نظریہ (کہ قرآن اور حدیث کے اختلاط کا خوف تھا) تاریخی شواہد سے خالی ہے۔ عرب اپنی بلاغت اور فصاحت پر مشہور تھے کاتب وحی اور دی گئی وجوہ اس نظریہ کو سپورٹ نہیں کرتیں۔اگر باالفرض اگر علماء کی یہ بات مان بھی لیں تو اس وجہ کا کیا کریں گے جو رسول اللہ ﷺ نے حدیث نہ لکھنے پر بذات خو د فرمائی !
قرآن کے مقابلے میں کتب لکھنا
(جیسے یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا)
نبی ﷺ کا حکم، تاریخی اقدامات اور انحراف
رسول اللہ ﷺ نے یقیناً پیشین گوئی کی تھی کہ آپ کی امت پچھلی قوموں کے راستے پر چلے گی: "تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے راستوں پر چلو گے، بالشت بہ بالشت، یہاں تک کہ اگر وہ گرگٹ کے بل میں گھس جائیں تو تم بھی ان کے پیچھے چلو گے۔"
یہودیوں نے تورات کے ساتھ 38 جلدوں پر مشتمل تلمود (جسے "زبانی تورات" کہا جاتا ہے) شامل کر لیا، جبکہ عیسائیوں نے 4 انجیلوں کے ساتھ 23 اضافی کتابیں شامل کر کے "نیا عہدنامہ" بنا لیا۔ آج، مسلمانوں کے پاس 100 سے زائد حدیث کی کتابیں موجود ہیں— یہ نبی ﷺ کے خدشات کی زندہ تصدیق ہے۔
اسی لیے نبی ﷺ نے صراحتاً اپنے اقوال لکھنے سے منع فرمایا:
"میرے پاس سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو۔ جس نے قرآن کے علاوہ میری طرف سے کچھ لکھا ہے، اسے مٹا دے۔" (صحیح مسلم 3004) (یہ حدیث 5 ہجری کے بعد کی ہے، جو راوی کے اسلام لانے کا وقت ہے۔ ایک وقت ، جگہ دونوں قرآن اور حدیدث لکھنے کا ذکر نہیں لہذا اختلاط کا مسلہ نہیں- قرآن کے علاوہ سب کچھ مٹانے کا حکم ہے . اس حکم کو منسوخ کرنے والی کوئی صحیح حدیث یا ثبوت موجود نہیں۔
نبی ﷺ نے 3 یا 4 ہجری میں (یعنی اپنی وفات (10 ہجری) سے پہلے) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے فرمایا کہ پچھلی قومیں اللہ کی کتاب کے ساتھ اضافی کتابیں لکھنے کی وجہ سے گمراہ ہو گئیں (جیسے تورات اور انجیل)، اس لیے تم میری احادیث نہ لکھنا۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے تمام حدیث کے مواد کو جلا دیا اور زندگی بھر کچھ نہیں لکھا۔
یہاں نبی ﷺ نے حدیث لکھنے کی ممانعت کی وجہ بیان کی ہے۔ اگرچہ بعد کے علماء نے اس وجہ کو نظر انداز کر دیا، لیکن خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسی بات پر زور دیا:
"میں سنت لکھنا چاہتا تھا، لیکن مجھے یاد آیا کہ تم سے پہلے لوگوں نے کتابیں لکھیں اور پھر اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر انہی میں مشغول ہو گئے۔ اللہ کی قسم! میں کبھی بھی اللہ کی کتاب کو کسی چیز کے نیچے نہیں ہونے دوں گا!" (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ)
پہلی صدی ہجری کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔
یہودی اور عیسائی آج بھی اضافی کتابوں کی پیروی کرتے ہیں، اور مسلمانوں نے 100 سے زائد حدیث کی کتابیں لکھ کر صریحاً نافرمانی کی اور کئی فرقے بنا لئے۔ اسلام میں صرف قرآن ہی اللہ کی کتاب ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے—کوئی دوسری تحریر اس درجے میں نہیں۔ یہ ایک بنیادی اصول ہے۔ اگر نبی ﷺ کو مزید کتابوں کی توقع ہوتی تو آپ ﷺ ضرور بتاتے۔ یہ ختم نبوت کی طرف اشارہ ہے.
جیساکہ پہلے تزکرہ ہوا قرآن کا زبان و بیان منفرد، واضح اور فصاحت و بلاغت سے پر ہے (اعجاز القرآن)—یہ ایک ایسا لسانی معجزہ ہے جس کی کوئی انسان نقل نہیں کر سکتا۔ جبکہ نبی ﷺ عام روزمرہ کی عربی میں بات کرتے تھے، نہ کہ قرآن کی طرز پر۔
صحابہ، یہاں تک کہ وہ جو قرآن کی وحی کے کاتب تھے انہوں نے اس ممانعت کا احترام کیا اور قرآن اور حدیث کے درمیان فرق کو سمجھا۔ ابتدائی مسلم معاشرہ عربی زبانی روایت کے مضبوط نظام پر انحصار کرتا تھا، جس میں حفظ اور تصدیق کی سخت سلسلے موجود تھے۔ اگرچہ کچھ مستثنیات تھیں (شاید 50 سے زیادہ نہیں)، لیکن یہ صرف ان لوگوں کے لیے تھیں جنہیں واقعی ضرورت تھی (جیسے شوق ، کمزور یادداشت والے)، جیسے صَلَاة پڑھنے کا ایک طریقہ ہے، لیکن بیمار بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں۔ ایک استسناء ہے۔ بہت سے صحابہ حدیث لکھنا چاہتے تھے، لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی۔ کیوں؟ یہ صرف نبی ﷺ ہی جانتے تھے۔
سلف کا یہ محتاط اور اصول پر مبنی طریقہ بعد میں حدیث کی کتابوں کی کثرت سے یکسر مختلف ہے، جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم روایت کو محفوظ کرنے کے شوق میں نبوی ہدایت سے بھٹک گئے ہیں؟
اگر حدیث لکھنے کی ممانعت واقعی منسوخ ہوتی، تو ضرور کوئی واضح اور صریح حدیث موجود ہوتی جو عام اجازت دیتی— لیکن ایسی کوئی صحیح روایت موجود نہیں۔ بلکہ زمینی حقائیق مختلف ہیں۔
مزعومہ "اجازت" درحقیقت محض بعد کے علماء کی تاویلیں ، تفسیر اور استنباط ہے، جو وزن نہیں رکھتی جب ان کا موازنہ کیا جاتا ہے:
1. قرآن کے واضح احکام (جیسے 3:7)
2. نبی ﷺ کے صریح احکام
3. خلفائے راشدین اور صحابہ کے طریقے اور عمل
4. دستاویزی تاریخی حقائق
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ — جنہیں ہزاروں احادیث یاد تھیں — نے جان بوجھ کر حدیث کی کتاب لکھنے سے گریز کیوں کیا؟ یہ عظیم امام کا یہ دانستہ انتخاب نبی ﷺ کے حدیث لکھنے سے منع کرنے کی خاموش گواہی ہے۔
حدیث لکھنے کی پابندی مستقل تھی، تاکہ قرآن کے مقابلے میں کوئی دوسری کتاب (جیسے تلمود اور انجیل کی کتابیں) نہ بن سکے۔
جو کچھ ماضی میں ہو چکا سو ہو چکا، لیکن کیا ہمیں نافرمانی جاری رکھنی چاہیے یا اب اپنا راستہ درست کرنا چاہیے؟
اللہ کا غیر متبدل حکم
خلفائے راشدین نے قرآن کو جمع کرنے کے بعد بھی اس پابندی کو برقرار رکھا۔
اللہ فرماتا ہے: "جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔" (قرآن 4:80)
نبی ﷺ کا حکم کسی اجماع سے تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کی حدیثوں میں حدیث لکھنے کی ممانعت واضح اور غیر مبہم ہے۔ اگرچہ بحث کی خاطر "اختلاط کا نظریہ عاضی طور پر" مان بھی لیا جائے، تو بھی مستقل حکم یہی ہے کہ "اللہ کی کتاب (قرآن) کے علاوہ کوئی کتاب یا کتابیں نہیں ہوں گی"۔
حجۃ الوداع کے موقع پر ابو شاہ (یمنی) کا واقعہ (جس میں انہوں نے قصاص کے احکامات لکھوانے کی درخواست کی) عمومی ممانعت کو ہی مضبوط کرتا ہے، کیونکہ مستثنیات صرف اسی وقت بنتی ہیں جب پہلے سے کوئی اصول/ پابندی موجود ہو۔
نبوی حکم سے تاریخی انحراف
نبی ﷺ کی وفات کے تقریباً ایک صدی بعد تک مسلم معاشرہ حدیث لکھنے کی ممانعت پر سختی سے کاربند رہا۔
بعد کے علماء نے اس پابندی کو کیوں نظر انداز کیا؟
صحابہ کے بعد سیاسی اور مذہبی اختلافات نے حدیث کی گھڑنت اور تدوین کو جنم دیا:
1. اموی اور عباسی حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں کے لیے مذہبی جواز درکار تھا۔
2. فرقہ وارانہ گروہوں (شیعہ، خوارج، معتزلہ) نے حدیثیں گھڑیں، جس کی وجہ سے سنی علماء کو اپنے مجموعے بنانے پڑے۔
3. بعد کے علماء نے دوسری تیسری حجرہ میں نظریہ پیش کیا کہ حدیث "وحی غیر متلو" ہے، حالانکہ نبی ﷺ یا صحابہ سے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ انہوں نے قرآن (53:3-4) کی غلط تاویل وتفسیر کی، جبکہ قرآن (3:7) اس کے خلاف ہے۔
یہ بتدریج لیکن فیصلہ کن تبدیلی تھی جب مذہبی تقسیم نے جنم لیا:
- ایک گروہ حدیث کو لکھ کر محفوظ کرنے کا حامی تھا۔
- دوسرا گروہ اصل ممانعت پر قائم رہا۔
دوسری اور تیسری صدی ہجری تک، لکھنے والے گروہ نے غلبہ حاصل کر لیا، جس کے نتیجے میں حدیث کے مجموعے بکثرت دستیاب ہو گئے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ جب یہ کتابیں پھیلنے لگیں، تو نبی ﷺ کی ممانعت پر مشتمل صحیح احادیث پس منظر میں چلی گئیں، اور ان کی جگہ پیچیدہ تاویلات نے لے لیں جو اصل حکم سے بچنے کی کوشش کرتی تھیں۔
یہ نظریاتی تبدیلی اس وقت اپنے عروج پر پہنچی جب بعض علماء نے حدیث کو "غیر متلو وحی" قرار دے دیا، جو یہودیوں کے "زبانی تورات" (تلمود) کے تصور کے مماثل تھا۔ اس تصوراتی تبدیلی نے قرآن کی تعلیمات اور انسانی نقل کے درمیان وہ تعلق ختم کر دیا جو نبی ﷺ نے قائم کیا تھا۔ اس انحراف کے اثرات آج بھی اسلامی فکر میں موجود ہیں۔
حدیث لٹریچر کی اصلاح کی ضرورت
الحمدللہ اسلام کی اصل حقیقت قرآن کی حفاظت الہی اور علماء ناصح کی کوششوں سے محفوظ ہے۔ لیکن ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ مشکوک اضافوں کی وجہ سے فرقہ وارانہ تقسیم نے امت کی وحدت کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس بحران کے لیے فوری اصلاح کی ضرورت ہے، جو چار نکات پر مبنی ہو:
1. قرآن کے سخت معیارات کو بنیاد بنا کر احادیث کا ازسرنو جائزہ لینا۔ (مجوزہ اصول احقر نے ویب سائیٹ پر رکھے ہیں)
2. حدیث اور قرآن کے اختلاط کے فرضی نظریے کو مسترد کرنا، کیونکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
3. ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں بنانا جو جدید علوم کے ساتھ احادیث کا تنقیدی جائزہ لیں۔
4. جدید ٹیکنالوجی (AI اور ڈیجیٹل تصدیق) کا استعمال کرتے ہوئے احادیث کی اسناد اور متن کا تجزیہ کرنا۔
5. روایتی کتابوں کی بجائے محفوظ ڈیجیٹل ذخیرہ کاری کا نظام اپنانا۔
یہ اصلاحی کام انتہائی احتیاط سے کرنا ہوگا، کیونکہ نبی ﷺ نے سخت تنبیہ کی ہے: "جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔" (صحیح مسلم)
یہ ایک سنگین تنبیہ ہے جو ہر مسلمان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے وقت بہت محتاط رہنا چاہیے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن اور اپنے نبی ﷺ کی صحیح سنت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ [برگیڈیئر آفتاب خان (ر)]
..............................
https://docs.google.com/document/d/1LQl1XkdXKvURC6wyjpdHsIbz5j
یہ کتابچہ "فریب مقدس 3 -The Pious Deceit " مفصل ہے ، تقریبا 30صفحات (انگریزی)، 20 صفحات (اردو ) پر مشتمل ہے . ایک ہی Google Doc پر مختلف مگر متعلقہ مضوعات موجود ہیں.




