رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

ایران - مزہبی جنگ جہاد یا علاقائی بالادستی


کچھ سوالات مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال اور "جہاد" کے قرآنی تصور کے درمیان ایک گہرا تضاد واضح کرتے ہیں۔ اگر ہم روائیتی بیانیہ سے ہٹ کر خالص قرآنی اصولوں اور بین الاقوامی سیاست (جیو پولیٹکس) کی بنیاد پر ان کا تجزیہ کریں، تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے:

متواتر احادیث - 150



 "متواتر حدیث " قطعی الثبوت ہوتی ہے۔ یعنی اس کے اللہ کے رسول ﷺ کا کلام ہونے میں ۱۰۰٪ یقین ہوتا ہے اور اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کا درجہ قرآن کی طرح یقینی ہے۔ جبکہ "صحیح"  ظنی الثبوت ہوتی ہے۔ یعنی اس کے رسول ﷺ سے ثابت ہونے کا غالب گمان (Strong probability) ہوتا ہے، لیکن اس میں متواتر جیسا ۱۰۰٪ یقینی درجہ نہیں ہوتا کیونکہ راوی انسان ہے اور اس سے غلطی کا ایک معمولی سا امکان رہتا ہے۔

متواترکا انکار کرنا کفر کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ یہ دین کی ایسی حقیقت ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ احادیث کے ذخیرے میں صحیح احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کتبِ احادیث (بخاری، مسلم وغیرہ) کا بڑا حصہ ٩٩% اسی پر مشتمل ہے۔

جن کو "صحیح احادیث" کہتے ہیں وہ ظنی ہیں مگر "متواتر حدیث " تھوڑی ہیں جن میں شک کی گنجائش نہیں . جب تک دیے گیے اصولوں ١ کی بنیاد پر کام مکمل نہیں ہوتا  "متواتراحادیث " سے فائدہ لیا جا سکتا ہے.

<<<<<Read / Download as G-Doc >>>

عظیم تحریف The Great Betrayal

ایگزیکٹو سمری :اسلام کی بنیاد دو چیزوں پر ہے: قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی صحیح سنت۔ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ہر طرح کی تبدیلی سے محفوظ ہے، جبکہ سنت وہ اعمال و اقوال ہیں جو بہت سے صحابہؓ نے براہ راست دیکھے یا سنے۔ احادیث اگرچہ اہم ہیں لیکن ان کی صحت کو پرکھنا ضروری ہے کیونکہ منافقین نے جعلی روایات گھڑی ہیں.

رسول اللہ ﷺ نے صاف الفاظ میں حدیث لکھنے سے منع فرمایا: "میرے پاس سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو"۔ .اگرچہ چند ایک مستثنیات ملتی ہیں، لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سمیت متعدد فقیہ صحابہ کرام کو حدیث لکھنے سے انکار اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ پابندی مستقل اور دائمی نوعیت کی تھی۔

اس کی دو اہم وجوہات تھیں: پہلی یہ کہ قرآن اور حدیث کے درمیان فرق واضح رہے، کاتب وحی کا گروپ الگ تھا اس لینے یہ امکان ممکن نہیں تھا ۔ دوسری یہ کہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن کے ساتھ دوسری کتابیں نہ بنائی جائیں۔ حضرت عمرؓ نے بھی سنت لکھنے سے اس لیے گریز کیا کہ کہیں لوگ قرآن کو چھوڑ کر صرف حدیث میں نہ پڑ جائیں۔

پہلی صدی ہجری تک صحابہؓ نے احادیث لکھنے سے پرہیز کیا۔ لیکن بعد میں سیاسی اور فرقہ وارانہ اختلافات کی وجہ سے حدیث کی کتابیں لکھی جانے لگیں۔ امام ابو حنیفہؒ جیسے بڑے عالم بھی حدیث کی کتاب نہیں لکھی، جو سنت نبوی کی پابندی تھی۔

آج ہمیں چاہیے کہ قرآن کو اصل معیار بنائیں، احادیث کو قرآن کی روشنی میں پرکھیں، اور جدید ٹیکنالوجی سے تحقیق کریں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان یاد رکھیں: "جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ جہنم میں جائے گا"۔ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔

بریگیڈیئر آفتاب خان (ریٹائرڈ) نے اس موضوع پر گہری تحقیق کی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ان کا   درج زیل مضمون  پڑھیں اور ویب سائٹس  وزٹ کریں-  

https://SalaamOne/Betrayal 

https://Quran1book.blogspot.com (Urdu)

https://Quran1book.wordpress.com (English)


The Great Betrayal - Executive Summary

Islam stands firmly upon two foundations: the divinely protected Quran and the authentic, mass-transmitted Sunnah of the Prophet ﷺ. While the Quran's preservation is guaranteed by Allah (15:9),

 Hadith narrations require careful scrutiny due to their varied authenticity levels. The Prophet ﷺ explicitly prohibited writing his sayings, commanding: "Do not write anything from me except the Quran" (Sahih Muslim 3004), a prohibition maintained until his death and followed by the Rightly-Guided Caliphs.

حقیقی کیمیا : ثابت شدہ احادیث نبوی ﷺ کی جستجو- علم الحدیث کے سات مجوزہ سنہری اصول اور احادیث کی تدوین نو (القواعد الذهبية السبع المقترحة في علم الحديث) Seven Golden Rules of Science of Hadith and Recompilation of Hadith literature

یہ عنوان ایک علمی جستجو کا اعلان ہے جس کا مقصد اصلی احادیث کو غیر معتبر روایات سے الگ کرنا ہے۔ "سچائی کا کیمیا" استعارہ ہے جو نبی ﷺ کی خالص تعلیمات کو تلاش کرنے کی کوشش کا مظھر ہے۔ "سنہری اصول" وہ بنیادی قواعد ہیں جو حدیث کی تحقیق میں معیار کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ کام منظم اور دقیق تحقیق کا متقازی ہے۔ Read more »
 

قرآن: سوال و جواب

 
آخری کتاب ہدایت: قرآن کا تعارف قرآن سے:
کسی مسلمان کو قرآن مجید کے تعارف کی ضرورت نہیں، مختصر تعارف <<ادھر پڑھ>> سکتے ہیں-  کچھ آیات یاد دہانی کے لیے پیش ہیں-  قرآن کے متعلق الله نے واضح  کر دیا کہ :
1۔ قرآن مجید رب العالمین کا نازل کردہ کلام حق ہے (آل عمران 3:60)  یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے (قرآن 2:2)
2.قران کوکوئی تبدیل نہیں کر سکتا  رسول اللہ ﷺ بھی نہیں، رب کی نافرمانی پر سخت عذاب (قرآن 10:15)
3۔قرآن مجید کلام الٰہی ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ 2:2)
4۔اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر15:9)
5.قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)
6۔قرآن کو واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں (یوسف18:1,2)۔
7۔ باطل نہ اس کلام کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (الفصلت 41:42)
8۔یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ42:17)
9۔یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)
10۔ تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)
11۔قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)
12۔یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)
14.تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)
یہ الله کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل سچی پڑھ کر سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے، (الجاثية45:6)
15.وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٧﴾ يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ  (الجاثية45:7)
ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے (-جو آیات الہیٰ سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر نا حق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے گویاکہ اس نے سنا ہی نہیں پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو  (الجاثية45:7,8)
16.هَـٰذَا هُدًى ۖوَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ  (الجاثية45:11)
17. قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)
“یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)
اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے اور (اس میں) مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے (16:89)
اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں قرآن مجید کی حیثیت بیان کی ہے- جو کچھ قرآن مجید کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے وہ کسی دوسری کتاب کے بارے میں نہیں کہا۔ قرآن مجید کے سوا کسی اور مذہبی کتاب، کسی پیغمبرسے منسوب کلام، کسی عالم اور محقق کی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ اس طرح کی کوئی بات نہیں کہتے۔ اس لیے جو کوئی بھی قرآن کی آیات مبارکہ کے بارے میں شک شبہ ، تامل کرے ، اگر مگراور من گھڑت تاویلوں سے ان کو بے اثر کرنے کی کوشش کرے تو وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ وہ الله کی نافرمانی کی جرأت کر رہا ہے۔ اصحاب سبت  کا واقعہ ایک سبق ہے- (قرآن 7:163,166, 2:65,66).
قرآن کا عملی نمونہ سنت رسول اللہ صلعم میں موجود ہے ۔۔۔ وہ وحی نہیں علم و حکمت wisdom  ہے جو الله نے عطا کی ، آپ نے اجتہاد سے مطلب بیان کیا جہاں الله نے ضروری سمجھا تصحیح فرمائی یہ تواتر سے صدیوں سے نسلدر نسل منتقل ہو رہی ہے ،مگر اس کو قرآن سے چیک کرنا ضروری ہے -
"در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے " (33:21)

Divergence and Convergence A Structural Comparison of Bible and Quran

"We have believed in Allah and what has been revealed to us and what has been revealed to Abraham and Ishmael and Isaac and Jacob and the Descendants and what was given to Moses and Jesus and what was given to the prophets from their Lord. We make no distinction between any of them." — Quran, Surah 2:136

"For there is one God, and one mediator also between God and men, the man Christ Jesus."

— 1 Timothy 2:5