رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

Showing posts with label eBook. Show all posts
Showing posts with label eBook. Show all posts

ایک اللہ، ایک رسول، ایک کتاب توتقسیم کیوں؟

قرآن آخری کتاب کیوں اور کیسے ہے؟

سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام میں کتنی کتابوں پر ایمان لازم ہے ؟

یہ عقیدہ کہ قرآن اللہ کی طرف سے آخری اور حتمی وحی ہے، اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے۔ یہ concept قرآن مجید کی متعدد آیات میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے, اور ام السنہ میں جبرائیل علیہ السلام نے برسرعام اسلام اور ایمان واضح کرتے کسی اور کتاب پر ایمان یا انتظار کازکر نہیں کیا۔ 


یہ قرآنی آیات اس اصول کو قائم کرتی ہیں:


1۔ دین کی تکمیل اور اسے کامل کر دینا شاید یہ سب سے واضح آیت ہے،جو نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی۔ یہ اعلان کرتی ہے کہ اب divine message قرآن کے ذریعے مکمل اور کامل ہو چکا ہے۔


سورۃ المائدہ (5:3): "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا ہے۔"


یہ آیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ divine legislation (خدائی قانون سازی) کے اختتام کی علامت ہے۔


2۔ ہر چیز کی وضاحت قرآن کو ایک ایسی کتاب کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو تمام بنی نوع انسان کے لیے ضروری رہنمائی مہیا کرتی ہے،نجات اور نیک زندگی کے لیے ضروری تمام چیزوں کی وضاحت کرتی ہے۔


سورۃ النحل (16:89): "اور ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی ہے ہر چیز کی واضح تشریح کے ساتھ، اور مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے۔"


3۔ پچھلی کتابوں پر نگہبان قرآن خود کو پچھلی revelations(جیسے تورات اور انجیل) کے انکار کے طور پر نہیں بلکہ ان کا محافظ اور معیار (فرقان) قرار دیتا ہے، ان میں موجود سچائی کی تصدیق کرتا ہے اور وقت کے ساتھ در آنے والی تحریفات کو درست کرتا ہے۔


سورۃ المائدہ (5:48): "اور ہم نے آپ کی طرف سچائی کے ساتھ کتاب نازل کی ہے، ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے آئی تھیں اور ان پر نگہبان (حاکم) بن کر۔"


4۔ بنی نوع انسان کے لیے عالمگیر پیغام پچھلی کتابوں کے برعکس جو کسی خاص قوم یا زمانے کے لیے بھیجی گئی تھیں،قرآن کو تمام مخلوق (جن و انس) کے لیے پیغام قرار دیا گیا ہے۔


سورۃ الفرقان (25:1): "بڑی برکت والا ہے وہ (اللہ) جس نے اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر فرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب) نازل کی تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والا بن جائے۔"


سورۃ سبا (34:28): "اور (اے نبی) ہم نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔"


5۔ نبوت کی اختتامییت اگرچہ یہ آیت براہ راست کتاب کے بارے میں نہیں ہے،لیکن نبی کی اختتامییت کے بارے میں یہ آیت پیغام کی اختتامییت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ چونکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آخری نبی ہیں، اس لیے ان پر نازل ہونے والی وحی آخری وحی ہے۔


سورۃ الاحزاب (33:40): "محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین (آخری نبی) ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔"


ان آیات سے اخذ کردہ کلیدی concepts کا خلاصہ:


· حتمی وحی: قرآن خدا کی طرف سے آخری کتاب ہے، جو حضرت آدم سے شروع ہونے والی اور حضرت ابراہیم، موسیٰ، داؤد اور عیسیٰ علیہم السلام کو عطا کردہ کتابوں پر مشتمل وحی کے سلسلے کا اختتام ہے۔

· عالمگیر پیغام: اس کی رہنمائی کسی خاص قبیلے یا قوم تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے۔

· خدا کی طرف سے حفاظت: مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ پچھلی کتابوں کے برعکس، اللہ نے خود قرآن کو کسی بھی قسم کی تحریف یا alteration (تبدیلی) سے بچانے کا عہد لیا ہے (سورۃ الحجر (15:9): "بے شک ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔")۔

· معیار (فرقان): یہ حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان فیصلہ کرنے اور پچھلی روایات میں سچائی کی تصدیق کرنے کے لیے حتمی معیار (Criterion) کے طور پر کام کرتا ہے۔


لہٰذا، مسلمانوں کے لیے، قرآن خدا کا ابدی، لغوی اور غیر متبدل کلام ہے، جو زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے مکمل اور کامل رہنمائی فراہم کرتا ہے، اور اس کے بعد کوئی نئی کتاب یا نبی نہیں آئے گا۔

مزید 

 https://SalaamOne.com/last-book

تفکراسلام کا اندازجدید - Reconstruction of Religious Thought in Islam

 بیسویں صدی میں علامہ اقبال جیسا ایک شخص جس نے وقت کی اعلیٰ ترین سطح پر علم حاصل کیا، جس نے مشرق و مغرب کے فلسفے پڑھ لئے، جو قدیم اور جدید دونوں کا جامع تھا، جو جرمنی اور انگلستان میں جا کر فلسفہ پڑھتا رہا، اُس کو اس قرآن نے اس طرح Possess کیا اور اس پراس طرح چھاپ قائم کی کہ اُس کے ذہن کو سکون ملا تو صرف قرآنِ حکیم سے اور اس کی تشنگٔی علم کو آسودگی حاصل ہو سکی تو صرف کتاب اللہ سے-
مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد علامہ اقبالؒ کو عہدِ حاضر میں اعجاز قرآن کا مظہر قرار دیتے ہوئے مزید رقمطراز ہیں ؎ Read more »

Master Key 4 Quran کلید قرآن

مسلمانوں میں فرقہ واریت اور گمراہی کی اصل وجہ قرآن کی سورہ آل عمران کی آیت نمر سات پی عمل نہ کرنا ہے- یہ آیت قرآن کے احکام کی بنیاد فراہم کرتی ہے، اور آیات قرآن کی ایسی آیات جن کے ایک سے زیادہ معنی ہو سکتے ہیں اور تاویلیں کی جا سکتی ہیں اس طریقہ سے احکام و عقائد اخذ کرنے سے منع فرمایا دیا- مگر جب الله تعالی کے احکام کو نذر انداز کیا جاتا ہے تو گمراہی کے سوا کچھ نہیں ملتا-
 قرآن راہ ھدایت اور راہ نجات ہے، جو شخص طالب حق ہو اور یہ جاننے کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہو کہ وہ کس راہ پر چلے اور کس راہ پر نہ چلے، اس کے لیے قرآن کی "آیات محکمات" ہی اصل مرجع ہیں اور فطرةً انہی پر اس کی توجہ مرکوز ہوگی اور وہ زیادہ تر انہی سے فائدہ اٹھانے میں مشغول رہے گا۔  محکم پکی اور پختہ چیز کو کہتے ہیں۔ 
هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ‎﴿٧﴾
“It is God who has revealed the Book to you in which some verses are clear statements (which accept no interpretation) and these are the fundamental ideas of the Book, while other verses may have several possibilities. Those whose hearts are perverse, follow the unclear statements in pursuit of their own mischievous goals by interpreting them in a way that will suit their own purpose. No one knows its true interpretations except God and those who have a firm grounding in knowledge say, "We believe in it. All its verses are from our Lord." No one can grasp this fact except the people of reason.” (Quran;3:7)
”آیات محکمات (clear ,decisive, ,precise) سے مراد وہ آیات ہیں، جن کی زبان بالکل صاف ہے، جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے، جن کے الفاظ معنی و مدعا پر صاف اور صریح دلالت کرتے ہیں، جنہیں تاویلات کا تختہ مشق بنانے کا موقع مشکل ہی سے کسی کو مل سکتا ہے۔ یہ آیات ”کتاب کی اصل بنیاد ہیں“ ، یعنی قرآن جس غرض کے لیے نازل ہوا ہے، اس غرض کو یہی آیتیں پورا کرتی ہیں۔ انہی میں اسلام کی طرف دنیا کی دعوت دی گئی ہے، انہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں فرمائی گئی ہیں، انہی میں گمراہیوں کی تردید اور راہ راست کی توضیح کی گئی ہے۔ انہی میں دین کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ انہی میں عقائد، عبادات، اخلاق، فرائض اور امر و نہی کے احکام ارشاد ہوئے ہیں۔
قرآن میں دوسری قسم، "آیات متشابہات" (ambiguous, unspecificallegorical)، یعنی وہ آیات جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے >>>>>>

المُحْكَمَاتُ

Lane's Arabic-English Lexicon
مُحْكَمٌ [pass. part. n. of أَحْكَمَهُ;] applied to a building [&c.,] Made, or rendered, firm, stable, strong, solid, compact, &c.; held to be secure from falling to pieces. (KT.) B2: And hence, A passage, or portion, of the Kur-án of which the meaning is secured (أُحْكِمَ) from change, and alteration, and peculiarization, and interpretation not according to the obvious import, and abrogation. (KT.) And سُورَةٌ مُحْكَمَةٌ A chapter of the Kur-án not abrogated. (K.) And الآيَاتُ المُحْكَمَاتُ, [see Kur iii. 5, where it is opposed to آيَاتٌ مُتَشَابِهَاتٌ,] The portion commencing with قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ [Kur vi. 152], to the end of the chapter: or the verses that are rendered free from defect or imperfection, so that the hearer thereof does not need to interpret them otherwise than according to their obvious import; such as the stories of the prophets; (K;) or so that they are preserved from being susceptible of several meanings. (Bd in iii. 5.) And المُحْكَمُ The portion of the Kur-án called المُفَصَّلُ [q. v.]; because nought thereof has been abrogated: or, as some say, what is unequivocal, or unambiguous; because its perspicuity is made free from defect, or imperfection, and it requires nothing else [to explain it]. (TA.) مَحْكَمَةٌ A place of judging; a tribunal; a court of justice.]

 مُتَشَابِهَاتٌ 

See also مُشْتَبِهٌ. B3: مُتَشَابِهَاتٌ in the Kuran iii. 7 means Verses that are equivocal, or ambiguous; i. e. susceptible of different interpretations: (Kshaf Zmakhashri) or verses unintelligible; such as the commencements [of many] of the chapters: (Tafseer Jalaleen Al Syauti) or the مُتَشَابِه in the Kuran is that of which the meaning is not to be learned from its words; and this is of two sorts; one is that of which the meaning is known by referring it to what is termed مُحْكَم [q. v.]; and the other is that of which the knowledge of its real meaning is not attainable in any way: (Taj AlAroos) or it means what is not understood without repeated consideration: (Taj Alaroos. فسر:)

مُشَبَّهٌ: [see its verb: B2: and] see مُشْتَبِهٌ. B3: Also, applied to the plant called نَصِىّ, Becoming yellow. (TA.) مُشَبِّهٌ: [see its verb: B2: and] see مَشْتَبِهٌ.

مَشَابِهُ: see شَبَهٌ, of which it is said to be an anomalous pl. مُشْتَبِهٌ [part. n. of 8, q. v.]. مُشْتَبِهَاتٌ, (S,) and ↓ مُشَبِّهَاتٌ, [thus agreeably with an explanation of its verb by IAar, (see 8, last sentence,)] (JK,) or أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ, and ↓ مُشَبَّهَةٌ like مُعَظَّمَةٌ, (K,) Things, or affairs, that are confused or dubious [by reason of their resembling one another or from any other cause]: (JKSK:) [and uncertain: (see an ex. of مُشَبَّه in this sense in a verse cited voce سَنَفَ:)]

↓ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِه ٍ, in the Kur [vi. 99], means resembling one another so that they become confounded, or confused, or dubious, and not resembling one another &c. (TA.) مُتَشَابِهٌ Consimilar, or conformable, in its several parts: thus مُتَشَابِهًا means in the Kur xxxix. 24. (Jel.) And مُتَشَابِهَاتٌ Things like, or resembling, one another. (JKS.) 
ترجمہ : 
مُشْتَبِهٌ بھی دیکھیں۔ ب3: مُتَشَابِهَاتٌ قرآن (3:7) میں  سے مراد وہ آیات ہیں جو متضاد، یا مبہم ہیں(ایک سے زیادہ تشریح ممکن ؛ مبہم۔: "اس کے ریمارکس کی متضاد نوعیت"۔). e مختلف تشریحات کے لیے حساس: (زمخشری،  تفسیر کشاف ) یا ناقابل فہم آیات؛ جیسا کہ بہت سی سورہ کے آغاز: (تفسیر جلالین، السیوطی) 
یا قرآن میں مُتَشَابِه وہ ہے جس کے معنی اس کے الفاظ سے نہیں سیکھے جاتے۔ اور یہ دو طرح کا ہے۔
(١) ایک وہ ہے جس کا مفہوم مُحْكَم [آیات] کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔
(٢) اور دوسرا وہ ہے جس کے حقیقی معنی کا علم کسی طرح بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا: (تاج العروس ) یا اس کا مطلب ہے جو بار بار غور و فکر کے بغیر سمجھ میں نہیں آتا: (تاج العروس )

The Vision of Islam اسلام اپنی نگاہ میں


اسلام کی چار(Four Dimensions) کا احاطہ اس مشہورعالم انگریزی کتاب اور ترجمہ میں کیا گیا ہے، جیسا کہ حدیث جبرائیل میں بیان کیا گیا ہے: اسلام ، ایمان، احسان اور تاریخ کا اسلامی نظریہ- قرآن، پیغمبر کے اقوال اور روایت کے عظیم حکام پر چلتے ہوئے، کتاب کا متن ہر جہت (Dimensions) کے لوازم کا تعارف کراتی ہے اور پھر یہ ظاہر کرتی ہے کہ پوری تاریخ میں اسلامی اداروں میں یہ کس طرح مجسم ہوا ہے.....

☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆

رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly

متضاد عقائد و نظریات

مسلمانوں  میں یہ عقیدہ بہت مقبول و مشہور ہے کہ جس  کسی نے بھی کلمہ "لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ " کا اقرار کر لیا تو دوزخ  اس پر حرام وہ سیدھا جنت میں چلا جائے گا- اس سلسلہ میں قرآن سے تو کچھ نہیں ملتا مگر کچھ احادیث[1],[2] اس عقیدہ کو مدد فراہم کرتی ہیں، جبکہ بہت سی احادیث اس نظریہ کی تردید[3] بھی کرتی ہیں- اس اختلاف اور تمام اختلافات کا حل الفرقان (قرآن)[4] دیتا ہے، اور  رسول اللہ ﷺ نے بھی حل دیا[5] مگر اس طرف جانے سے نفس[6] و شیطان روکتا ہے- مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی بہت گناہگار مسلمان دوزخ میں چلا  بھی جاتا ہے تو رسول اللہ ﷺ  یا کوئی  شیخ، پیر. مرشد، بزرگ، ولی اللہ، عارف باللہ وغیرہ یوم حشر کو، اللہ کے عذاب سے شفاعت (سفارش) کرکہ چھڑوا لیں گے کیونکہ اللہ اپنے نیک بندوں کی بات مانتا ہے- 

(تفصیل : https://bit.ly/Shfaat)

یہ بہت آسان بات ہے مسیحت اور دوسرے انسانی مذاھب میں صرف ایمان (ان کے نظریات پر) اور شفاعت کو راہ نجات سمجھا جاتا ہے مگر اسلام میں عمل صالح بھی ایمان کے ساتھ ضروری ہیں-

کلمہ گو پر دوزخ حرام ، جنت لازم اور اسی کے متضاد دوزخ سے شفاعت[7] کے زریعہ سے نجات -  یہ دونوں نظریات و عقائد آپس میں ایک دوسرے کے متضاد (mutually contradictory) ہیں- اگر کلمہ گو پر دوزخ حرام ہے تو پھر شفاعت کس کی؟ مزید یہ نظریات و عقائد اسلام کی بنیادی تعلیمات، "ایمان و عمل صالح" جس پر قران تسلسل سے زور دیتا ہے متضاد ہیں-


اس مضمون اور ای بک میں  قرآن و سنت اور احادیث کی بنیاد پر اس تضاد کو ڈسکس کیا گیا ہے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور مسلمان درست عقائد پر کاربند ہو کر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں >>>>

محمدیہ پاکٹ بک (بجواب قادیانی احمدیہ پاکٹ بک ) Muhammadiya Pocket Book Bajawab Ahmdiya Qadiani Pocket Book


''کتاب محمدیہ پاکٹ بک'' کا مقصد ''احمدیہ پاکٹ بک'' کا علمی و تنقیدی جائزہ لینا اور اس کے مغالطوں سے پردہ اٹھانا ہے یہ کتاب بعض ایسی منفرد خصوصیات کی حامل ہے کہ اس کو رد قادنیت پر حرفِ آخر کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حسن قبول بھی ایسا بخشا کہ ہر طبقہ و خیال کے اہل علم اور عوام نے اس کا خیر مقدم کیا- دعا ہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کفر و ضلال کے فتنوں سے بچائے۔ اور اس کتاب سے ارواح سعیدہ کو نفع پہنچائے۔ واللہ ولی التوفیق وھو نعم المولٰی ونعم النصیر
چند ضروری اقتباسات​ معارف '' محمدیہ پاکٹ بک'' میں مرزا صاحب کی تصنیفات اور قادیانی لٹریچر سے بہ کثرت پیشین گوئیاں جمع کی گئی ہیں، اور انہیں واقعات، دلائل اور شواہد سے ناقابل رد طریق پر دکھایا ہے کہ وہ غلط اور خلافِ واقعہ نکلیں۔ اکثر موقعوں پر مرزا صاحب نے پیش گوئیوں کے غلط ٹھہرنے پر تاویلیں کی تھیں، فاضل مؤلف نے دلائل سے ان تاویلوں کا پردہ بھی چاک کیا ہے۔ پھر ختم نبوت، حیاتِ مسیح اور نزولِ مسیح وغیرہ متعلقہ مسائل پر دل چسپ بحثیں ہیں۔ یہ کتاب صحیح مناظرانہ اصولوں پر لکھی گئی ہے۔ طریق استدلال، پرزور طرزِ ادا دلچسپ اور لب ولہجہ متین اور سنجیدہ ہے۔ (رسالہ '' معارف'' اعظم گڑھ بابت ماہ جون ۱۹۳۵ء) جامعہ '' یہ کتاب مرزائیت کی تردید میں نہایت جامع اور مبسوط لکھی گئی ہے۔ جس میں اس کے تمام اصولی اور فروعی امور زیر بحث لائے گئے ہیں۔ اندازِ بیان اس قدر معقول اور مدلل ہے کہ سوائے تسلیم کے کوئی چارۂ کار باقی نہیں رہتا ... اس کتاب میں مؤلف نے مرزا صاحب کی اکثر پیشن گوئیوں کو جو بڑے ادعا کے ساتھ کی گئی تھیں جھوٹا ثابت کردیا ہے، اور ان کے عدم وقوع کو خود مرزا اور مرزائیوں کی تحریروں سے دکھلایا ہے۔ ہندوستان کے اس مدعی نبوت کی حقیقت اگر کوئی دیکھنا چاہے تو اس کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ (رسالۂ '' جامعہ '' دہلی ۔ بابت ماہ اپریل ۱۹۳۵ء) فاران '' جزئیات سے لے کر اصول تک ہر بات کو اس مجموعے میں مفصل بیان کیا ہے اور قادیانیوں سے مباحثہ کرنے والوں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار دے دیا ہے۔ اصولاً جس قدر مباحث ہیں، سب پر مدلل اور محققانہ بحث ہے۔ اور اپنے فن میں سب سے عمدہ کتاب ہے۔'' (رسالہ فاران'' بجنور'' بابت ماہ مئی ۱۹۳۵ء) النجم '' کتاب اپنی معنوی خوبیوں اور ظاہری دلفریبیوں کے اعتبار سے ہر مسلمان کے لیے قابل مطالعہ ہے... کتاب کو تعلیم یافتہ طبقہ میں، زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے۔'' (اخبار '' النجم'' لکھنؤ مورخہ ۳؍ مئی ۱۹۳۵ء) مسلمان '' محمدیہ پاکٹ بک'' ہر حیثیت سے قابل قدر ہے۔ اور بلا مبالغہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزائیوں کو فنا کرنے کے لیے ہر قسم کا ضروری علمی، عقلی اور نقلی مواد اس میں موجود ہے۔'' (اخبار ''مسلمان '' سوہدرہ مؤرخہ ۱۵؍ جولائی ۱۹۳۵ء) مسلم اہل حدیث گزٹ '' تمام ضروری مباحث پر پوری تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ عام گفتگو اور مناظروں میں نہایت کام آنے والی کتاب ہے۔'' (''مسلم اہل حدیث گزٹ'' دہلی۔ بابت ماہ مئی ۱۹۳۵ء) شیر ، رنگون '' عقلی و نقلی دلائل اور قرآنی آیات سے اس مذہب کاذبہ کے ڈھول کا پول کھول دیا ہے... کتاب اس قابل ہے کہ ہر مسلمان پڑھے اور اپنے پاس رکھے۔'' (روزنامہ ''شیر'' رنگون، مورخہ ۲۰؍ اپریل ۱۹۳۵ء) احسان، لاہور '' اس کتاب میں ان تمام اعتراضات کا جواب دے دیا گیا ہے جو مرزائی مسلمانوں پر کیا کرتے ہیں۔ ختم نبوت، حیات و و فاتِ مسیح، آخری فیصلہ، کذب و صدق مرزا پر نہایت مدلل بحث کی گئی ہے۔ اور ان مسائل کا کوئی پہلو باقی نہیں چھوڑا۔ اندازِ بیان نہایت سلجھا ہوا اور متین ہے... ہمارے خیال میں اس موضوع پر اس سے زیادہ جامع و مانع کتاب شائع نہیں ہوئی۔'' (روزنامہ ''احسان'' لاہور مؤرخہ ۲۲؍ اپریل ۱۹۳۵ء) یہ چند ضروری اقتباسات درج کردئیے گئے ہیں ورنہ اسلامی پریس کی آراء و تبصرے اگر اکٹھے کئے جاتے تو ایک مستقل دفتر جمع ہو جاتا ہے۔ ہندوستان بھر کے روزناموں، علمی اور تبلیغی رسالوں نے بڑے لمبے چوڑے ریویو لکھے۔ '' خلافت، بمبئی، دینہ بجنور، جمعیت دہلی اہل حدیث امرتسر'' اسی طرح کلکتہ صوبہ سرحد، صوبہ سندھ وغیرہ کے اخبارات نے شاندار الفاظ میں کتاب کی داد دی، اختصار کی غرض سے صرف چند اقتباسات پیش نظر ہیں۔ جو اندازہ لگانے کے لیے کفایت کرسکتے ہیں۔
[ بشکریہ، محمد عطاء اللہ حنیف، ناظم المکتبۃ السلفیہ (لاہور) سے حاصل کی ، محدث فورم ویب سائٹ، الله ان کی پرخلوص کاوش کو قبول فرمایے]

Pocket Book, Ahmadiyya, #Qadiani, Mirza Ghulam Ahmad, Messiah, Mahdi, Ahmadiyya References, KhatmeNabuwat, Pakistan, Islam, Ahmadiyyat, Qadiani, Nabuwat,
☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly