رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

صراط مستقیم : https://tinyurl.com/SirateMustaqem     مصنوعی ذہانت سے ...

Showing posts with label سوال و جواب (Q & A). Show all posts
Showing posts with label سوال و جواب (Q & A). Show all posts

قرآن ربا اور کاغذی کرنسی Riba Explained

اگرتم  توبہ کرتےہو  اورربا  نہیں لیتے  تو تمہاراصل سرمایہ پر حق ہے بغیر کسی نقصان، کمی کے (قرآن 2:279)

If you repent and don't take usury you have right on Principal Capital without any loss/decrease in value

‮ربا ایک عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے "اضافہ کرنا" یا "زیادہ کرنا" اور عام طور پر غیر مساوی تبادلے یا قرض لینے کے معاوضے اور فیس کے حوالے سے استعمال ہوتا ہے۔ سود کو ربا، یا ناجائز، استحصالی فائدہ سمجھا جاتا ہے، اور اسلامی قانون شریعت کے تحت ایسا عمل حرام ہے۔ ربا سے مراد سود یا سود کا تصور ہے۔
فیاٹ (کاغذی) کرنسی نظام کے اس دور میں ربا کی تعریف کرنے میں ایک سنگین غلط فہمی پائی جاتی ہے >>>

اسلام - سوال و جواب معلومات


علم اور معلومات کی طلب کبھی ختم نہیں ہوتی- صاحب تفہیم القرآن مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ علیہ رسالہ ترجمان القرآن میں کئی دہائیوں تک لوگوں کے سوالوں کے جوابات دیتے رہے، ان کی فکری گتھیوں کو سلجھاتے رہے اور قرآن و سنت، فقہاء کے فتاویٰ اور بعض جدید مسائل میں اجتہاد کی مدد سے عامتہ الناس کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ ان میں سے انتخاب،  رسللہ تجدید الاسلام" اور دوسری مشہورویب سائٹس کے لنکس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے- خیالات مصنف کے ہیں ہمارا تعلق کس فرقہ یا جماعت سے نہیں صرف اسلام سے جس کی بنیاد  قرآن (محکم آیات) و سنت ثابتہ پرہے نہ کہ لوگوں کی تاویلوں، خود ساختہ نظریات پر  [https://bit.ly/Islam-QnA]
  1. آپ کے سوال اور جواب 1.....
  2. اسلام سوال جواب 2.....
  3. فتوی آن لائن 3....
  4. ذات باری تعالی 
  5. رسول اللہ ﷺ 
  6.  تحقیقی جائزہ میلاد النبی ﷺ
  7. احکام القران 
  8. خلاصہ (٣٠) پارہ 
  9. رساله تجديد الاسلام 
  10. أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge
  11. شیطان و ابلیس 
  12. جنات 
  13. دجال 
  14. المہدی 
  15. مسئلہ حیات النبیﷺ
  16. سنت اور عادت کا اُصولی فرق
  17. تاویل حدیث 
  18. فتنہ انکار حدیث  
  19. (Sufism) تصوف کی حقیقت 
  20. ختمِ نبوت اور قادیانیت
  21. علم الحديث کے سات سنہری اصول
  22. قرآن  ترک العمل  ( مھجور)
  23. .صرف مسلمان  بنو اور مسلمان کہلاؤ
  24. .بدعة،  گمراہی (ضَلَالَۃٌ)
  25. ایمانیات 
  26. عقائد 
  27. عبادات 
  28. نماز / صلاہ
  29. معاملات 
  30. شفاعت اور شریعت
  31. اسلامی قانون 
  32. اختلافی-مسائل
  33. سیاسی مسائل 
  34. پاکستان اسلامی ریاست ؟
  35. عقیدہ-ختم-نبوت-اور-قادیانیت
  36. تصوف اور اسلام 
  37. تزکیۂ نفس کی حقیقت
  38. تصوف سے متعلق چند تصریحات
  39. اصحاب قبور سے درخواست دعا
  40. قبولیت دعا کے لیے قبروں پر چلہ کشی
  41. علوم نفسیات اور چند متفرق مسائل
  42. اسلام-اور-دیگر-مذاہب
  43. مزید ....
  44. https://bit.ly/Islam-QnA


☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly

حدیث لکھنے پر پابندی عارضی یا مستقل ؟


حدیث لکھنے پر پابندی ابتدائی دور میں عارضی تھی بعد میں لکھنے کی عام  اجازت تھی !




یہ بیانیہ ان لوگوں نے ترتیب دیا جو قرآن اور  رسول اللہ ﷺ خااتم النبیین کے احکام کے برخلاف، یہود و نصاری کے نقش قدم پر کتاب الله تعالی کے ساتھ دوسری کتب احادیث لکھنے کا جواز اور تاویلیں پیش کرتے ہیں -

 رسول اللہ ﷺ خااتم النبیین کی طرف سے کچھ لوگوں کو یاداشت کی کمی کے عذر پر افرادی اجازت کو دائمی اجازت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں - ان کی تاویلات کے علاوہ کوئی ایسی ڈائریکٹ حدیث پیش نہیں کرتے جس میں لکھنے کی پابندی کی وجہ کو تبدیل کیا گیا ہو یا دائمی اجازت ہو - 

ذیل میں احادیث اور مستبد  کتب سے حوالہ جات پیش ہیں جو بہت بعد کے عرصہ میں  احدیث لکھنے پر پابندی پر عمل درآمد  ثابت کرتے ہیں- اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ حدیث لکھنے کی کھلی عام اجازت  رسول اللہ ﷺ خااتم النبیین نے نہیں دی- اگر کسی کے پاس لکھا مواد تھا تو یہ جن اصحاب کو اجزت ملی ان کی ملکیت ہوگا ، یہ کہنا شاید درست نہ ہو کہ کسی نے اپنی مرضی سے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف درزی کی ہو - اگر ایسا ہوتا تو پھر صحابہ اور تابعین لکھنے سے انکار کیوں کرتے؟ 

زیل میں اس موضوع پر منتخب احادیث پیش ہیں جو قاری کو حقیقت سمجھنے میں مدگار ہو سکتی ہیں - راویوں کی لمبی لسٹ سے صاف  معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت بعد کی بات ہے جو لنک پر بھی دیکھی  ہے - 


یہ اتمام حجت ہے جو لوگ قرآن (7:185، 77:50،  45:6،39:23) سنت  رسول اللہ ﷺ خااتم النبیین کے واضح احکام کو مسترد کرتے ہیں تاکہ  اپنے مذہبی پیشواؤں کے من گھڑت عقائد  پر عمل پیرا ہو کر یہود و نصاری کے نقش قدم پر چلیں یہ دلائل ان کے لیے کوئی حثیت نہیں رکھتے- [ نیک لوگوں کا کذب فی الحدیث سے بڑھ کر کوئی جھوٹ نہیں دیکھا (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 40)]

 یہ فتنہ، گمراہی اوربدعت (بقول حضرت عبد اللہ بن مسعود -  فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فِتْنَةٌ وَضَلَالَةٌ وَبِدْعَةٌ ) کا سلسلہ بارہ صدیوں سے جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا (واللہ اعلم )

جو لوگ حق کی آواز بلند کرتے رہیں چاہے کوئی بھی ساتھ نہ دے ،وہ بروز قیامت جب  رسول اللہ ﷺ خااتم النبیین اللہ کے سامنے شکوہ کریں گے تو وہ  اس سے مبرا ہوں گے اور نبی ﷺ  کے دشمنوں میں شامل نہ ہوں- ان شاء الله :

 "اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا" (30) اے محمدؐ، ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے ‘‘ (قرآن 25:31)

  1.  من گھڑت داستانوں سے حقائق  مسخ ، رسول اللہﷺ کی حکم عدولی
  2. اہم احادیث
  3. حادیث لکھنے کی ممانعت ( فِتْنَةٌ وَضَلَالَةٌ وَبِدْعَةٌ )
  4. احادیث سے استفادہ ممکن
  5. احادیث پر احادیث - تقييد العلم للخطيب البغدادي
  6. خلفاء راشدین نے  کتابت  حدیث کیوں نہ کی؟ 
  7. سنت خلفاء راشدین کی شرعی حثیت اور کتابت حدیث 
  8. قرآن اوراحیائے اسلام(Revival)  : پرنس محمد بن سلمان
  9. رسول اللہ ﷺ وصیت  (ابی داوود 4607, ترمزی 266 )  کا انکار اور بدعت 
  10. رسول اللہ ﷺ کا حدیث کی درستگی اور پہچان کا میعار
  11. البدعة الكبيرة Big Bid'ah.....[.......]
  12. اہل قرآن اور اہل حدیث کے مغالطے
  13. قرآن و حدیث اور" توریت و تلمود" موازنہ
  14. قرآن کتاب حدیث کو مسترد کرتا ہے مگر اطاعت رسول و س...
  15. فقیہ و محدثین









 أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ﷺ

حدیث  کے بیان و ترسیل  کا مجوزہ طریقہ

کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ “تجدید الاسلام” حدیث کے خلاف ہے۔“تجدید الاسلام” کی بنیاد "أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ" پر ہے-  ایک مسلمان اپنے محبوب اور پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب الفاظ، اقوال (احادیث) اور عمل (سنت) کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتا، حقیقی محبت کا اظہار اطاعت[83]  رسول اللہ ﷺ  ہے نہ کہ نافرمانی[84]- قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم “ کتب حدیث”[85] کا انکار، ممانعت کرتے ہیں لیکن وہ احادیث جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ معیار[86]کے مطابق ہوں ان کی ترسیل بذریعه حفظ و بیان مستحب اور باعث ثواب ہے- رسول اللہ ﷺ نے کچھ صحابہ کو حفظ کی کمزوری پر انفرادی طور پر ذاتی نوٹس کی اجازت دی اور کچھ کو انکار[87]- اس سے احادیث کے انفرادی طور پر ذاتی نوٹس بزریعہ قلم کاغذ یا ڈیجیٹل نوٹس کا جواز ممکن ہے- علماء اور ماہرین جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی[88] کے ذریعہ ممکنہ ترسیل کا شرعی جائزہ لے سکتے ہیں-"أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ" کی روشنی میں حکمت[89 اورعقل و شعور کا تقاضا ہے کہ  جب تک "اجماع"  قائم نہیں ہو جاتا، اتحاد امت[90] (وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا[91]) کی خاطر بحالت مجبوری (اضْطُر)[92] وضع موجود  (statuesque) میں اچانک تبدیلی نامناسب اقدام ہوگا- انتشار سے بچتےہوۓ انفرادی طور پر اصول دین کے مطابق ایمان کو درست رکھتے ہوۓ رسول اللہ ﷺ کے قائم کردہ معیار[93] کے مطابق احادیث کا بیان و ترسیل بزریعہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی[94] ممکن ہو سکتا ہے(و اللہ اعلم ) جبکہ اجماع کی پرامن فکری جدوجہد (Peaceful intellectual struggle) بزریعہ دعوه و مکالمہ بھی جاری رہے- [مزید تفصیل: سنت، حدیث اور متواتر حدیث][95]

   



🌹🌹🌹
قرآن آخری کتاب یا کتب؟ تحقیق و تجزیہ 🔰
 🔰 ?The Last Book Quran or Books

"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی, "قرآن" کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ... احادیث کی کتب  کے زریعہ قرآن کو پس پشت ڈال کر کہ مشرکوں کی طرح فرقہ واریت سے دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کی بزریعہ قرآن بحالی میں ہے  ..تفصیل  >>>>>



Why Dialogue ? قادیانیوں سے مکالمہ کیوں



 أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ﷺ

حدیث  کے بیان و ترسیل  کا مجوزہ طریقہ

کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ “تجدید الاسلام” حدیث کے خلاف ہے۔“تجدید الاسلام” کی بنیاد "أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ" پر ہے-  ایک مسلمان اپنے محبوب اور پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب الفاظ، اقوال (احادیث) اور عمل (سنت) کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتا، حقیقی محبت کا اظہار اطاعت[83]  رسول اللہ ﷺ  ہے نہ کہ نافرمانی[84]- قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم “ کتب حدیث”[85] کا انکار، ممانعت کرتے ہیں لیکن وہ احادیث جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ معیار[86]کے مطابق ہوں ان کی ترسیل بذریعه حفظ و بیان مستحب اور باعث ثواب ہے- رسول اللہ ﷺ نے کچھ صحابہ کو حفظ کی کمزوری پر انفرادی طور پر ذاتی نوٹس کی اجازت دی اور کچھ کو انکار[87]- اس سے احادیث کے انفرادی طور پر ذاتی نوٹس بزریعہ قلم کاغذ یا ڈیجیٹل نوٹس کا جواز ممکن ہے- علماء اور ماہرین جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی[88] کے ذریعہ ممکنہ ترسیل کا شرعی جائزہ لے سکتے ہیں-"أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ" کی روشنی میں حکمت[89 اورعقل و شعور کا تقاضا ہے کہ  جب تک "اجماع"  قائم نہیں ہو جاتا، اتحاد امت[90] (وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا[91]) کی خاطر بحالت مجبوری (اضْطُر)[92] وضع موجود  (statuesque) میں اچانک تبدیلی نامناسب اقدام ہوگا- انتشار سے بچتےہوۓ انفرادی طور پر اصول دین کے مطابق ایمان کو درست رکھتے ہوۓ رسول اللہ ﷺ کے قائم کردہ معیار[93] کے مطابق احادیث کا بیان و ترسیل بزریعہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی[94] ممکن ہو سکتا ہے(و اللہ اعلم ) جبکہ اجماع کی پرامن فکری جدوجہد (Peaceful intellectual struggle) بزریعہ دعوه و مکالمہ بھی جاری رہے- [مزید تفصیل: سنت، حدیث اور متواتر حدیث][95]

~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
قرآن آخری کتاب یا کتب؟ تحقیق و تجزیہ 🔰
 🔰 ?The Last Book Quran or Books

"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی, "قرآن" کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ... احادیث کی کتب  کے زریعہ قرآن کو پس پشت ڈال کر کہ مشرکوں کی طرح فرقہ واریت سے دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کی بزریعہ قرآن بحالی میں ہے  ..تفصیل  >>>>>>اسلام دین کامل (قرآن 5:3)



سوال و جواب (Q & A)


تجربہ ہے کہ کسی مذہبی سکالر سے بحث مت کرو وہ علمی اصطلاحات , مشکل الفاظ ،  تھیوریوں، قدیم  کتب کے ریفرنسز، قدیم علماء کے فرامین میں الجھا کرآپ کنفیوز کرکہ اصل موضوع سے بہت  دور، اپنے خاص موضوع کی طرف لےجائے گا وہاں آپ کو مزید الجھا دے گا کہ آپ اپنا اصل سوال بھول چکے ہوں گے - آپ کو دین کے معاملات میں عقل کے استعمال کے مضراثرات سے ڈرایا جائے گا، بزرگان دین کا اعلی علمی و روحانی مقام ، کارنامے،  کرامات کو بطور دلیل پیش  کیا جا سکتا ہے-  لیکن اگر آپ بہت مستقل مزاج (determined) اور اپنے نقطہ پیر مرکوز (focused) ہیں اور قرآن و سنت سے دلائل مانگیں، آیات کا ریفرنس دیں  توپھر آخری ہتھیار گمراہی کا فتویٰ ہے مزید ممکن ہے کہ آپ کو دائرہ اسلام سے ہی خارج قرار دیا جائے-  
اصطلاحات جوقرآن و سنت میں نہیں , قرآن کے ساتھ (یا مقابل ) کتب کا  بیانیہ  ظن  ,  گمان ,استدلال اور استنباط , مفروضوں [deductions، assumptions and inferences ] پرکھڑا کیا گیا ہے نہ کہ قرآن کے واضح احکام پر (قرآن 3:7).. جب اللہ کی آخری ایک کتاب کی حثیت تبدیل کی جارہی ہوتویہ اہم ترین معامله ہے کہ جو کسی کی تاویلوں کی بنیاد پرنہیں ہو سکتا-  جب مرزا قادیانی نے ایک آیت  پرتاویل گھڑی تو گمراہ ہوگیا-  
اسلام کی بنیاد ، ایمان اور ہدایت قرآن و سنت کے واضح احکام پر کھڑی ہے نہ کہ کسی مذہبی پیشوا کی  تاویلوں پر... 

قرآن کی "محکم آیات"  کےعلاوہ دوسسری آیات سے ماخوز, ظن, گمان ,اندازے,آراء (speculations, inferences, decuctions، guess work, inference) ,نتیجه گیری, کی بُنیادووں پر دین کی نہ عمارت کھڑی کی جاسکتی نہ "بنیادی احکام'  [ Fundamentals of Faith] نکالے جاسکتے ہیں, یہ چور دروازہ جو یہود و نصاری استعمال کرتے تھے اللہ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے[(قرآن 3:7)] جب کسی معامله پر  قرآن کی واضح محکم آیات موجود ہوں جو سنت سے بھی ثابت ہوں توقیاس آرائیاں ,اندازے,آراء (speculations, inferences, decuctions، guess work, inference) ,نتیجه گیری کی کوئی  گنجائش نہیں:
  1.  قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)

  2.  قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)

  3. اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے اور (اس میں) مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے (16:89)

  4. ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے (-جو آیات الہیٰ سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر نا حق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو  (الجاثية45:7,8)

  5. “یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)

اجتہاد ، قیاس صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی معاملہ میں قرآن و سنت سے واضح ہدایت نہ مل سکتے، مگر پھر بھی قرآن و سنت کے دائرہ کے اندر رہنا ہوتا ہے- اسلام کے  چھ بنیادی عقائد اور پانچ ارکان ہیں- ان عقائد کا ماخذ قرآن سے ہے, پیغمبروں اور الہامی کتابوں پر ایمان ان میں شامل ہے اس کی بنیاد قرآن سے  ہے [سورة البقرة 2  آیت: 136] 

 

کچھ عرصہ قبل "تحقیق و تجزیہ"  کو سوشل میڈیا پر شیر کیا تو وہاٹس ایپ پر ایک عالم دین (ASJ ) جو انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں پی ایچ ڈی (PHD) کر رہے ہیں ان سے اس موضوع پر مکالمہ ہوا - اس مقصد کے لیے ایک الگ وہاٹس ایپ گروپ بنایا جس میں صرف سات ممبران شامل ہوئے- جن میں اعلی تعلیم یافتہ سینئر بیوروکریٹ پولیس آفیسر ، آرمی آفیسر، یونیورسٹی پروفیسر ماہر تعلیم  پی یچ ڈی ڈاکٹر، میڈیکل ڈاکٹر پروفیسر، دارالعلوم علوم کے ناظم اور عالم دین، محقق شامل تھے- مکالمہ میں زیادہ سوال و جواب (ASJ ) صاحب سے ہوے- اس مکالمہ کو ایڈٹ کر کہ پیش خدمت ہے- کچھ وضاحت (blue colour) سے بعد میں شامل کی ہے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو مقصد صرف نقطۂ نظر سمجھنا ہے کسی کی تعریف یا تضحیک نہیں- (ASJ ) صاحب نے بہت محنت اور لگن سے چبھتے ہوے سوالات کو ہینڈل کیا، جو قابل تعریف ہے- مقالہ کے حق اور مخالفت میں دلائل کو سمجھ کر کوئی بھی  قاری آزادانہ طور پر اپنا نظریہ، رایئے  قائم کر سکتا ہے- 

معزز ممبران کی شمولیت اور مثبت سوالات "تحقیق " کو بہتر کرنے میں مدگار ثابت  ہوئے جو قابل تعریف ہے- 

  1. سوال و جواب (Q & A)
  2. اصول دین اور فروع دین
  3. حدیث اور قرآن و سنت میں اختلاف اور موافقت
  4. منکرین حدیث کے سوالات و جوابات
  5. منطق ، عقل ، عربی زبان، پرانا نظام پرسوالات
  6. ایک عالم دین سے (Q&A) - ١٩ سوال
  7. احادیث کی کتابت سے حضرت عمر (رضی الله) کا انکار اور وجوہات 
  8. يهود اور مسيحت كي كتب كا تجزيه 
  9. حفاظت قول رسول الله صلعم اور مذہبی پیشواؤں کو ترجیح
  10. اجماع خلفاء راشدین کو ایک صدی بعد منسوخ کرنے کا اختیار کسی شخص کو نہیں 
  11. دوسرون كے نظريات كا اثر , فرقہ واريت
  12. حضرت عمر كا كتابت حديث نہ كرنے كا فيصله
  13. قرآن میں لفظ "حدیث" کے معنی میں تحریف کی مذموم کوشش 
  14. علماء ، مذہبی پیشواؤں کو رب ماننا 
  15. اختتامیہ
  16. References ریفرنس