رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

دین اسلام میں ہزار سالہ عظیم فریب


دین اسلام میں ہزار سالہ فریب بے نقاب

https://tinyurl.com/FraibeAlif

............................

قرآن و حدیث اپنے متعلق کیا کہتے ہیں؟

حدیث :

 رسول اللہ ﷺ  سے منسوب روایت  ہے: "جب تم میرے حوالے سے کوئی ایسی حدیث سنو جس سے تمہارے دل شناسا ہوں تمہارے بال اور تمہاری کھال نرم ہوجائے اور تم اس سے قرب محسوس کرو تو میں اس بات کا تم سے زیادہ حقدار ہوں اور اگر کوئی ایسی بات سنو جس سے تمہارے دل نامانوس ہوں تمہارے بال اور تمہاری کھال نرم نہ ہو اور تم اس سے دوری محسوس کرو تو میں تمہاری نسبت اس سے بہت زیادہ دور ہوں۔" " [ مسند احمد: 22505]

قرآن:

 سب تعریف اللہ ہی کی ہے جس نے اپنے بندے (محمد ﷺ) پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی اور پیچیدگی نہ رکھی۔ ۞ بلکہ سیدھی اور آسان اتاری تاکہ لوگوں کو سخت عذاب سے جو اس کی طرف سے آنے والا ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کے لیے ان کاموں کا نیک بدلہ ہے۔ ۞(القرآن 2- 1 : 18)

یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (القران:8:22)

علم الحدیث کے سات مجوزہ سنہری اصول :https://bit.ly/Hadith-Basics

حدیث لکھنے پر پابندی ابتدا یا آخری دور میں؟ "مستقل علت" اور روائیتی غلط بیانیہ >>>

حدیث لکھنے پر پابندی کا دور، "مستقل علت" اور روائیتی غلط بیانیہ

روائیتی بیانیے میں "قرآن اور حدیث کے آپس میں مکس ہو جانے" کا جو عذر پیش کیا جاتا ہے، وہ عقل اور منطق کے خلاف ہے، کیونکہ عرب کا معاشرہ اپنی غیر معمولی حفظ کی صلاحیت اور فصاحتِ زبان کے لیے معروف تھا، اور وہ قرآن کے بے مثل اسلوب اور رسول اللہ ﷺ کے کلام کے فرق کو بخوبی سمجھتے تھے۔ تاریخی اور زمانی اعتبار سے یہ دلیل روائیتی بیانیے کے اس عذر کو مکمل طور پر مسترد کر دیتی ہے کہ ممانعت صرف "شروع اسلام" یا "ابتدائی دور" میں تھی۔

واقعات کی یہ کڑیاں پہلی مرتبہ ہزار سال میں کھولنے کا اعزاز اس احقرکے حصہ میں آیا جو اس حقیقت کو بالکل واضح کرتی ہیں:

• سیدنا ابو ہریرہ کا دورِ اسلام:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جو اس حدیث لکھنے کی ابدی ممانعت کے راوی ہیں ،  سن 7 ہجری میں (غزوہ خیبر کے موقع پر) ایمان لائے۔ یعنی ان کا دورِ صحبت رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری تین ساڑھے تین سال پر مشتمل ہے۔ وہ ممانعتِ کتابت کی روایات کے راوی ہیں، تو یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ یہ حکم اسلام کے آخری دور کا ہے، نہ کہ مکہ یا اوائلِ مدینہ کے ابتدائی دور کا۔

سیدنا ابو سعید خدری، ممانعت کی حدیث کے راوی ابو مسلم 3004، کی عمر اور دور:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہجرت کے وقت صرف نو یا دس سال کے بچے تھے۔ غزوہ احد (3 ہجری) کے موقع پر ان کی عمر چھوٹی ہونے کی وجہ سے انہیں جنگ میں شرکت کی اجازت نہیں ملی تھی۔ وہ سن 5 ہجری (غزوہ خندق) اور اس کے بعد کے دور کے راوی ہیں۔ ان کا ممانعت کی روایات کو نقل کرنا بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ یہ حکم مدنی دور کے وسط اور آخری حصے کا ہے۔

یہ زمانی حقائق اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ کتابت کی ممانعت کا حکم کوئی عارضی یا ابتدائی دور کا فیصلہ نہیں تھا جو بعد میں منسوخ ہو گیا ہو، بلکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے آخری دور تک قائم رہنے والا ایک اصولی اور دائمی فیصلہ تھا۔ اس کا مقصد وہی تھا جو خطیب بغدادی کی روایت میں بیان ہوا ہے: یعنی :" امت کو سابقہ امتوں کی طرح قرآن کے متوازی کسی دوسرے تحریری مجموعے پر تکیہ کرنے اور اصل وحی (قرآن مجید) سے دور ہونے سے بچانا".

بعد میں خلیفہ راشد دوئم نے بھی یہی کہ کر فیصلہ کیا اور باقی تمام خلفاء راشدین نے ان کی تقلید کی اور یہ اجماع ہو گیا جو رسول کا فرمان بھی تھا (ابن ماجہ 42, 43) جو دو تین صدی جاری رہا جب نافرمانی سے ٹوٹا "علماء حق" نے مخلالفت کی مگر "حکومت" ، "علماء سو" اور "سہل پسند عوام" کو یہ شارٹ کٹ آسان لگا کہ "امنو و عمل صالحات " کی بجاے "صرف کلمہ پڑھنے پر جنت" ملنا آسان ہے .

https://sunnah.com/muslim:3004 

دائمی علت

البغدادی حدیث # 33 : خطیب بغدادی کی کتاب "تقیید العلم" کی حدیث نمبر 33 (اور اس موضوع کی دیگر مستند روایات) اس اصل اور دائمی علت کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں جسے روائیتی بیانیہ عام طور پر نظر انداز کر دیتا ہے۔

اس دائمی علت کی اصل علمی حقیقت درج ذیل ہے:

• سابقہ امتوں کا طرزِ عمل اور گمراہی کا سبب:

تقیید العلم کی روایات (بشمول حدیث نمبر 33) میں یہ صراحت موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتابت کی ممانعت فرماتے ہوئے جو علت بیان فرمائی، وہ یہ تھی کہ، "تم سے پہلی امتیں بھی اسی لیے گمراہ ہوئیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کے ساتھ متوازی طور پر خود کتابیں لکھ لیں اور پھر انھی کتابوں پر ایسا تکیہ کیا کہ اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا۔"

• وحیِ الٰہی (قرآن) کی حاکمیت کا تحفظ:

یہ علت عارضی نہیں بلکہ دائمی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ دین میں قانون سازی، عقائد اور ہدایت کا واحد، قطعی اور مستند سرچشمہ صرف اور صرف قرآن مجید ہی رہے، اور اس کے متوازی کوئی اور کتابی ڈھانچہ کھڑا نہ کیا جائے جو وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی توجہ کا اصل مرکز بن جائے اور قرآن کا مقام ثانوی ہو جائے۔

• روائیتی بیانیے کی کمزوری:

روائیتی بیانیے میں پیش کیا جانے والا یہ عذر کہ "ممانعت صرف اس لیے تھی کہ کہیں قرآن اور حدیث آپس میں خلط ملط نہ ہو جائیں"، علمی اور عقلی طور غلط ہے۔ قرآن مجید کا اسلوب اور بلاغت اتنی منفرد ہے کہ اس کا کسی بھی بشری کلام کے ساتھ خلط ملط ہونا ممکن ہی نہیں تھا، اس دعوی کو کوئی حدیث سپورٹ نہیں کرتی۔ اصل اندیشہ وہی دائمی علت تھی ، یعنی قرآن کے علاوہ کسی اور مجموعے کو مستقل دین کا درجہ دے دینا۔

لہٰذا  یہ علمی نشاندہی بالکل بجا ہے جو اس بنیادی اصول کو تقویت دیتی ہے کہ وحی صرف قرآن مجید ہے اور دین کا اصل ڈھانچہ اسی کے گرد قائم رہنا چاہیے۔

 حفظ : زبانی یاد کرنا

اب زبانی یاد کرنا مشکل ہے مگر اس وقت عام رواج تھا . اب یہ کام اہل علم ہی کر سکتے ہیں عوام کے لیے مشکل ہے تو عملی طور پور یہ اجازت ، ممانعت ہی بن گئی. کیا حکمت ہے رسول( ص ) کی واہ واہ داد دینا پڑتی ہے . قرآن کی طرف توجہ کرنے کی حکمت عملی مگر جھوٹ آڑے آ گیا اور ہزار سال بعد سچ سامنے آ گیا .

ہزاروں ، لاکھوں احادیث کا ڈھیر رسول(ص ) کے حکم اور پالیسی کے خلاف ٹھہرا . ایک آدمی کتنی احادیث زبانی حفظ کر سکتا ہے ؟ شاید 30اور 40 احادیث کے مجموعے بنانے کی ایک وجہ یہ بھی ہو . اللہ نے قرآن میں کہا کہ شراب کے فوائد ہیں لیکن نقصانات زیادہ ہیں.بہت لوگ حدیث کے ذاتی نوٹس بناتے تھے ان ککو یاد کرنے کے لیے . کسی کی ذاتی تحریروں کو مقدس مذہبی کتاب ، ( قران) کا درجہ نہیں دیا جا سکتا .یہ اس طرح شرک ہے جس طرح اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، کیا اللہ کے کلام کے سامنے کسی اور کلام کو رسول (ص ) کے مقدس نام سے بھی شریک کیا جا سکتا ہے ؟

"ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ کے سامنے جب ایک شخص نے کہا کہ 'جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں'، تو آپ ﷺ نے اسے ڈانٹتے ہوئے توحیدِ مطلق کا درس دیا اور فرمایا کہ مجھے اللہ کے برابر نہ کرو، بلکہ صرف اللہ کی چاہت کا ذکر کرو۔"(یہ روایت سنن ابن ماجہ، مسند احمد اور دیگر کتبِ روایات میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے).

تحریر کے فوائد کون نہیں جانتا مگر کلام اللہ کو پس پشت ڈالنا بڑا نقصان ہے . اب 170 کتب احادیث اور قرآن متروک العمل (مھجور ) ہے یہ اس ہزار سالہ غلطی ، بدہ کی زندہ مثال ہے (25:30).

جب یہ حقیقت ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے آخری دور تک حدیث کو مستقل طور پر لکھنے سے منع فرمایا اور اس کی دائمی علت بھی بیان فرما دی، تو حدیثِ نضرہ (نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً...) میں لفظ "حَفِظَهُ" کا واحد اور حقیقی مطلب زبانی "یاد رکھنا اور ذہن میں محفوظ کرنا: ہی بنتا ہے۔

اس کی تائید درج ذیل علمی اور تاریخی حقائق سے ہوتی ہے:

• صحابہ کرام کا عملی طرزِ عمل:

صحابہ کرام کے ہاں علم کو محفوظ کرنے کا رائج طریقہ زبانی یاداشت ہی تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی باتوں کو اپنے حافظے میں محفوظ کرتے تھے، نہ کہ ان کے تحریری مجموعے تیار کرتے تھے۔

• لفظِ حفظ کا لغوی اطلاق:

عرب معاشرے میں "حفظ" کا بنیادی اور اصل اطلاق سینے کے حافظے پر ہی ہوتا تھا۔ جس طرح آج بھی ہمارے ہاں "حافظِ قرآن" کا مطلب وہ شخص ہوتا ہے جس نے قرآن کو اپنے سینے میں زبانی محفوظ کیا ہو (خواہ قرآن کتابی شکل میں موجود ہی کیوں نہ ہو)، اسی طرح اس دور میں بھی حدیث کو یاد رکھنے کا مطلب اسے زبانی ذہن نشین کرنا تھا۔

• حدیث کا اپنا داخلی سیاق:

حدیث کے الفاظ ہیں: "سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ" (جس نے ہم سے بات سنی، پھر اسے یاد رکھا)۔ یہاں سننے کے فوراً بعد حفظ کا ذکر ہے، جو انسانی دماغ کے فوری عمل یعنی زبانی یادداشت اور فہم کی طرف اشارہ کرتا ہے، نہ کہ قلم کاغذ سنبھال کر اسے درج کرنے کی طرف۔

تدوینِ حدیث کی تاخیر:

تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ احادیث کی باقاعدہ کتابی شکل میں تدوین رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بہت بعد (دوسری اور تیسری صدی ہجری میں) عمل میں آئی۔ اگر عہدِ رسالت میں "حفظ" کا مطلب لکھنا ہوتا، تو صحابہ کرام کے دور میں ہی احادیث کے سرکاری یا نجی تحریری مجموعے موجود ہوتے، جبکہ ایسا نہیں تھا۔ صدیوں تک یہ سلسلہ زبانی منتقلی (روایت) پر ہی قائم رہا۔

حفظ سے مراد خالصتاً زبانی یاد رکھنا اور ذہن میں محفوظ کرنا ہے، جیسا کہ اس دور کا عملی طریقہ تھا اور جیسا کہ آج بھی زبانی یاد کرنے کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں  >>  فریب مقدس .....   https://tinyurl.com/DeenMeenDhoka (Urdu)


☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly