رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

دین اسلام میں ہزار سالہ عظیم فریب : یہود و نصاریٰ کے راستہ پر ...(منتخب مضامین - مقدس فریب )


ازالہِ شبہات: فرمانِ رسول ﷺ، تدوینِ حدیث اور تاریخِ امت کا ایک تحقیقی جائزہ

گہرے مطالعہ اور علمی تحقیق کے بعد یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امت کے فکر و عمل میں پچھلے ہزار سال سے زائد عرصے میں ایک بڑا بنیادی تغیر رونما ہوا ہے۔

جو دینِ کامل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ چھوڑ کر گئے تھے—اور جس پر رسول اللہ ﷺ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کا اجتماعی فکری و عملی تسلسل تقریباً تین صدیوں تک قائم رہا—بعد کے ادوار میں اس کے فہم اور ترجیحات کو بدل دیا گیا۔

اگرچہ بدلتے حالات اور فروعی معاملات میں "جزوی فہم و تطبیق" کی گنجائش موجود ہوتی ہے، مگر دین کی بنیاد اور اس کے اصل خدوخال میں کسی قسم کا تغیر، درحقیقت اساسِ دین کی تبدیلی ہے—جو کہ ایک مکمل اور محفوظ دین میں بالکل ممکن نہیں۔

اس اہم اور بنیادی موضوع کا مختصر تحقیقی خلاصہ ذیل میں پیشِ خدمت ہے۔ تفصیلی علمی دلائل، قرآنی نصوص اور مستند تاریخی شواہد دیے گئے لنک پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں تاکہ معاملے کے تمام پہلوؤں کو درست تناظر میں سمجھا جا سکے۔

1۔ قرآن بہترین حدیث

قرآنِ کریم خود کو "احسن الحدیث" کہتا ہے اور کسی اور حدیث پر ایمان کی ممانعت ہے— (39:23)، (52:34)، (56:81)، (53:59)، (68:44)، اور (77:50)— رسول اللہ ﷺ بھی ہر خطبہ سے پہلے قرآن کو "بہترین حدیث" کہتے تھے۔ اس لیئے  کلام  رسول اللہ ﷺ کو "حدیث  رسول اللہ ﷺ " یا قرآن کا لفظ "اسوہ حسنہ" کہنا مناسب ہے۔

2۔ ممانعت تدوین حدیث، یهود و نصاری کی پیروی کی ممانعت اور گمراہی

رسول اللہ ﷺ نے امت کو خبردار فرمایا کہ تم پچھلی امتوں (یہود و نصاریٰ) کی روش پر اس حد تک اندھا دھند چلو گے کہ اگر وہ کسی گوہ کے تنگ سوراخ میں بھی گھسے ہوں گے تو تم بھی ان کی پیروی کرو گے۔

رسول اللہ ﷺ نے کلامِ الٰہی کے علاوہ کچھ (احادیث) کو تحریر کرنے سے صراحةً منع فرمایا تھا (مسلم: 3004، الخطیب البغدادی: 33, 34) اور متنبہ فرمایا تھا کہ؛

 "پہلی امتیں کتابِ الٰہی کے علاوہ دیگر کتب تحریر کر کے گمراہ ہوئیں"

ممانعت اور انتباہ کے باوجود مسلمان یہودونصاری کے راستہ پر چل پڑے۔ 

3 ابدی علت و منسوخی

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے-
دین اسلام چودہ سو سال قبل کامل ہو چکا ہماری سوچ اور عمل کو تجدید کی ضرورت ہے!
Translate this page to English : https://bit.ly/Tejdeed-Eng
رسالة التجديد
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ 
اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہے  (القرآن36:17)
Our mission is only to convey the message clearly

فریب مقدس Pious Deceit الْكَذِبُ الْمُقَدَّسُ

فریب مقدس -Pious Deceit - الْكَذِبُ الْمُقَدَّسُ  

ایگزیکٹو سمری 
اسلام کی بنیاد قرآن پر ہے جو اللہ کا کلام ہے، ہر طرح کی تبدیلی سے محفوظ ہے،   رسول اللہ ﷺ  کا "اسوہ" وہ عمل ہے جس پر عبادات کی شکل میں عملی طور پر نسل در نسل متواتر عمل ہو رہا ہے۔ یہ کسی تحریر کا محتاج نہیں۔ آپ کے وہ اعمال و اقوال جو بہت سے صحابہؓ نے براہ راست دیکھے یا سنے اگرچہ اہم ہیں لیکن ان کی صحت کو پرکھنا ضروری ہے کیونکہ منافقین نے جعلی روایات گھڑی ہیں.
علمی نوٹ:  صدیوں کے فکری غبار کو صاف کرنے کے لیے قارئین سے گزارش ہے کہ وہ پہلے مقالہ "مقدس فریب" کا مطالعہ فرمائیں۔ اس سے آپ کے ذہن میں ابھرنے والے اکثر سوالات کے جوابات خود بخود واضح ہو جائیں گے۔ دینِ حق کی فہم حاصل کرنا اور اپنے طور پر مزید تحقیق کرنا ہر مسلمان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس یہود و نصاریٰ کے پر فریب  راستہ پر چلنے کی شدید مزاحمت کی تھی، مگر وہ وقت کے حکمرانوں اور مذہبی طبقے کے گٹھ جوڑ (Collaboration) کے آگے ٹھہر نہ سکے۔ اگر اس کے باوجود کسی مقام پر مزید وضاحت درکار ہو، تو سوالات ضرور اٹھائیے۔ ذہن میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہنے دیں، کیونکہ ہمارا مقصد کسی قسم کی فرقہ واریت نہیں، بلکہ صرف گمراہی سے بچاؤ اور اس خالص حق اور دینِ اسلام کی تلاش ہے جو رسول اللہ ﷺ بنی نوع انسان کے لیے چھوڑ گئے تھے.

رسول اللہ نے صاف الفاظ میں ان کے فرامین لکھنے سے منع فرمایا: "میرے پاس سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو"۔ .اگرچہ چند ایک مستثنیات ملتی ہیں، لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سمیت متعدد فقیہ صحابہ کرام کو حدیث لکھنے سے انکار اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ پابندی مستقل اور دائمی نوعیت کی تھی۔

اس کی دو اہم وجوہات تھیں: پہلی یہ کہ قرآن اور اسوہ  کے درمیان فرق واضح رہے، کاتب وحی کا گروپ الگ تھا اس لینے یہ امکان ممکن نہیں تھا ۔ دوسری یہ کہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن کے ساتھ دوسری کتابیں نہ بنائی جائیں۔ حضرت عمرؓ نے بھی اسوہ لکھنے سے اس لیے گریز کیا کہ کہیں لوگ قرآن کو چھوڑ کر صرف اس میں نہ پڑ جائیں اور تمام خلفاء راشدین ،  صحابہ اکرام کا اجماع اس رسول اللہ (ص) کے فیصلہ کے مطابق تھا جو تمام ابہام دور کر دیتا ہے جس کی گواہی پہلی صدیوں میں عمل سے ثابت ہے. 

 لیکن بعد میں سیاسی اور فرقہ وارانہ اختلافات کی وجہ سے اسوہ کی کتابیں لکھی جانے لگیں جن کو غلط طور پر حدیث کا نام دیا گیا۔ قرآن اور رسول اللہﷺ کے مطابق حدیث صرف قرآن ہے، جی ہاں یہ غلط فہمی ہمارے دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے جسے کتاب "مقدس فریب" میں ریفرنسز کے ساتھ واضح کر دیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ کے اقدامات کو قرآن "اسوہ" کہتا ہے اور سنت اللہ۔ رسول اللہﷺ ہر خطبہ سے پہلے فرماتے، بہترین حدیث قرآن اور بہترین سیرت محمد (ص) کی۔

امام ابو حنیفہؒ جیسے بڑے عالم نے بھی کوئی کتاب نہیں لکھی، جو اسوہ رسول اللہﷺ کی پیروی تھی۔ آج ہمیں چاہیے کہ قرآن کو اصل معیار بنائیں، احادیث (جیسا مروج ہے) کو قرآن کی روشنی میں پرکھیں، اور جدید ٹیکنالوجی سے تحقیق کریں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان یاد رکھیں: "جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ جہنم میں جائے گا"۔ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔ :<<<مزید ۔۔۔ کتاب - فریب مقدس  >>>]

Scholarly Note: 

To clear the intellectual dust of many centuries, readers are requested to first study the treatise "Pious Deceit." Doing so will clarify most of the questions arising in your mind. Understanding the True Religion and conducting further independent research is the personal responsibility of every Muslim. History bears witness that Muslims fiercely resisted this following of Jewish-Christian practice of deceit; however, they could not withstand the collaboration between the rulers of the time and the misguidance and deviations of religious class. Nevertheless, if further clarification is required at any point, do raise your questions. Leave no room for doubt or ambiguity in your mind, for our objective is not sectarianism, but rather protection from misguidance and the pursuit of that pure Truth and Islam which the Messenger of Allah ﷺ left for the humanity<<Keep reading Pious Deceit>>

اسوہ حسنہ (سنت) متواتر: اسوہ حسنہ ( احادیث) - 150



 "متواتر اسوہ " جس کو عام، غلط طور پر متواتر حدیث کہتے ہیں . اس کے اللہ کے رسول ﷺ کا کلام ہونے میں کافی امکان ہوتا ہے قرآن کے علاوہ سب کچھ ظنی الثبوت ہوتا ہے۔مگر اس کے رسول ﷺ سے ثابت ہونے کا غالب گمان (Strong probability) ہوتا ہے، راوی انسان ہے اور اس سے غلطی کا ایک معمولی سا امکان رہتا ہے۔

متواترکا انکار کرنا درست نہیں ہے کیونکہ یہ دین کی ایسی حقیقت ہے جس میں شک کم ہے عملی طور پر منتقلی سے غلطی کا امکان نہیں جیسے صلوات نسل در نسل منتقل ہوتی ہے معمولی فرق ہے ۔عبادات میں درستی ہے باقی روایت کا تجزیہ ضروری ہے . احادیث کے ذخیرے میں صحیح احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کتبِ احادیث (بخاری، مسلم وغیرہ) کا بڑا حصہ ٩٩% اسی پر مشتمل ہے۔

جن کو "صحیح احادیث" کہتے ہیں وہ ظنی ہیں مگر "متواتر حدیث " تھوڑی ہیں . جب تک دیے گیے اصولوں کی بنیاد پر کام مکمل نہیں ہوتا  "متواتراحادیث " سے فائدہ لیا جا سکتا ہے.

<<<<<Read / Download as G-Doc >>>

قرآن: 99 سوال و جواب

 
آخری کتاب ہدایت: قرآن کا تعارف قرآن سے:
کسی مسلمان کو قرآن مجید کے تعارف کی ضرورت نہیں، مختصر تعارف <<ادھر پڑھ>> سکتے ہیں-  کچھ آیات یاد دہانی کے لیے پیش ہیں-  قرآن کے متعلق الله نے واضح  کر دیا کہ :
1۔ قرآن مجید رب العالمین کا نازل کردہ کلام حق ہے (آل عمران 3:60)  یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے (قرآن 2:2)
2.قران کوکوئی تبدیل نہیں کر سکتا  رسول اللہ ﷺ بھی نہیں، رب کی نافرمانی پر سخت عذاب (قرآن 10:15)
3۔قرآن مجید کلام الٰہی ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ 2:2)
4۔اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر15:9)
5.قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)
6۔قرآن کو واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں (یوسف18:1,2)۔
7۔ باطل نہ اس کلام کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (الفصلت 41:42)
8۔یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ42:17)
9۔یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)
10۔ تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)
11۔قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)
12۔یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)
14.تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)
یہ الله کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل سچی پڑھ کر سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے، (الجاثية45:6)
15.وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٧﴾ يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ  (الجاثية45:7)
ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے (-جو آیات الہیٰ سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر نا حق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے گویاکہ اس نے سنا ہی نہیں پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو  (الجاثية45:7,8)
16.هَـٰذَا هُدًى ۖوَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ  (الجاثية45:11)
17. قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)
“یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)
اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے اور (اس میں) مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے (16:89)
اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں قرآن مجید کی حیثیت بیان کی ہے- جو کچھ قرآن مجید کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے وہ کسی دوسری کتاب کے بارے میں نہیں کہا۔ قرآن مجید کے سوا کسی اور مذہبی کتاب، کسی پیغمبرسے منسوب کلام، کسی عالم اور محقق کی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ اس طرح کی کوئی بات نہیں کہتے۔ اس لیے جو کوئی بھی قرآن کی آیات مبارکہ کے بارے میں شک شبہ ، تامل کرے ، اگر مگراور من گھڑت تاویلوں سے ان کو بے اثر کرنے کی کوشش کرے تو وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ وہ الله کی نافرمانی کی جرأت کر رہا ہے۔ اصحاب سبت  کا واقعہ ایک سبق ہے- (قرآن 7:163,166, 2:65,66).
قرآن کا عملی نمونہ سنت رسول اللہ صلعم میں موجود ہے ۔۔۔ وہ وحی نہیں علم و حکمت wisdom  ہے جو الله نے عطا کی ، آپ نے اجتہاد سے مطلب بیان کیا جہاں الله نے ضروری سمجھا تصحیح فرمائی یہ تواتر سے صدیوں سے نسلدر نسل منتقل ہو رہی ہے ،مگر اس کو قرآن سے چیک کرنا ضروری ہے -
"در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے " (33:21)

مشرق وسطی - مزہبی جنگ جہاد یا علاقائی بالادستی


کچھ سوالات مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال اور "جہاد" کے قرآنی تصور کے درمیان ایک گہرا تضاد واضح کرتے ہیں۔ اگر ہم روائیتی بیانیہ سے ہٹ کر خالص قرآنی اصولوں اور بین الاقوامی سیاست (جیو پولیٹکس) کی بنیاد پر ان کا تجزیہ کریں، تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے:

میلاد النبی صلعم


سورۃ مریم میں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام دونوں کی ولادت اور ان کے پاکیزہ کردار کا ذکر کرتے ہوئے سلام پیش کیا گیا ہے۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام پر سلام:
وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا (سورۃ مریم، آیت 15)
ترجمہ: "اور ان پر سلامتی ہے جس دن وہ پیدا ہوئے، جس دن وہ وفات پائیں گے، اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے۔"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سلام (ان کی اپنی زبان سے):
وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (سورۃ مریم، آیت 33)
ترجمہ: "اور مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا، جس دن میں مروں گا، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا۔"

قرآن مجید میں عمومی طور پر تمام رسولوں پر سلام بھیجا گیا ہے، جیسے "وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ" (اور سلام ہو رسولوں پر)۔ رسول اللہ ﷺ بحیثیتِ سید المرسلین اس عمومی سلام میں سب سے پہلے اور بالذات شامل ہیں۔

رسول الله پر صلوات (درود شریف) پھیجنے کا حکم ہے :
 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (سورۃ الاحزاب، آیت 56)

ترجمہ: "بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور سلام بھیجو جیسے سلام بھیجنے کا حق ہے۔"

رسول اللہ ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ نے پوری امت کو قیامت تک کے لیے درود و سلام بھیجنے کا مستقل اور دائمی حکم دیا: 

"إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا" (بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجو)

 یہ انداز صرف "سلام پیش کرنے" سے کہیں زیادہ بلند مقام کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی رحمت، فرشتوں کی استغفار اور مومنین کا دائمی سلام شامل ہے۔

​رحمۃ للعالمین اور سراجاً منيراً کا مقام:

قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت اور بعثت کے مقصد کو "رحمۃ للعالمین" (تمام جہانوں کے لیے رحمت) اور "سراجاً منيراً" (روشن چراغ) قرار دیا گیا ہے۔ انبیاء کی پیدائش پر سلام ان کی سلامتی اور عصمت کی گواہی ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور ذاتِ مبارکہ کو بذاتِ خود پوری انسانیت کے لیے سلامتی اور رحمت بنا کر بھیجا گیا۔

. حسنِ نیت اور اجتہادی نیت پر اجر:

 ابن تیمیہؒ نے اپنے دور میں عوام الناس کے عمل کی باریک بینی سے تحلیل کرتے ہوئے ایک اہم اور متوازن نقطہ نظر بھی پیش کیا:
 • محبتِ رسول کا اجر: 

ان کا ماننا تھا کہ جو عام لوگ کسی بدعت کا علم نہ رکھتے ہوئے، صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کی محبت، تعظیم اور احترام کی نیت سے اس دن محافل کا انعقاد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی اس خالص نیت اور محبتِ رسول پر ان کو اجر و ثواب دے سکتا ہے۔
 • فرق: 

وہ بدعت والے عمل (مخصوص دن کا جشن) اور اس کے پیچھے موجود جذبے (محبتِ رسول) میں فرق کرتے تھے؛ عمل اپنی جگہ سنت سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے غلط ہے، لیکن نیت کا ثواب اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتا۔

خلاصہ: 

ابن تیمیہؒ کے نزدیک دینی اور شرعی اعتبار سے عید میلاد النبی منانا ایک بدعت ہے اور اتباعِ سنت کا طریقہ نہیں، لیکن جو لوگ محض محبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، ان کا معاملہ ان کی نیت اور جذبہِ محبت کی بنیاد پر قابلِ قدر ہے، جبکہ اصل اور افضل راستہ وہی ہے جس پر صحابہ کرامؓ قائم رہے۔

یہود و نصاری کی نقل نہیں ہونا چاہے .

خرافات اور غیر اسلامی رسومات سے پرہیز ہو،  چاہے دینی یا کلچرل ایونٹ ہو۔ 

اکثر علماء ، بدعت اور یہود و نصاری کی نقل ،  پیروی نہ کرنے پر بہت زور دیتے ہیں اور خود ان کی پیروی کرتے ہیں . حدیث کی کتابت نہ کرنے کا حکم رسول (ص ) نے دیا جس کو منسوخ نہ کیا مختلف تاویلات سے اس کو منسوخ کر دیا حالانکہ خلیفہ دوم حضرت عمر (رض ) نے تمام ابہام دور فرما دیے تھے اور ڈھائی سو سال اس پر عمل ہوا . پھر جو ہوا اس کو بدعت اور نافرمانی ،  حکم عدولی نہیں کہتے . یہ فرقہ واریت کرتے ہیں .
دوسروں کے گلاس میں مچھر پکڑتے ہیں اورخود اونٹ ڈکار جاتے ہیں ....

ایک نقطہ نظر : کلچرل اور مذہبی ایونٹ

یہ ایک انتہائی اہم اور فکر انگیز زاویہ ہے جو اس پورے مسئلے کی نوعیت کو تبدیل کر دیتا ہے۔ اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو اس نقطہ نظر کے علمی و منطقی اثرات درج ذیل ہیں:

. کلچرل اور مذہبی ایونٹ میں فرق:
جب کسی عمل کو مذہبی عبادت یا شریعت کا حکم تسلیم کرنے کے بجائے 'ثقافتی/کلچرل تقریب' مانا جاتا ہے، تو اس پر 'بدعت' یا 'ثواب و عذاب' کے شرعی قوانین اس طرح لاگو نہیں ہوتے جیسے عبادت پر ہوتے ہیں۔ بسنت، بیساکھی یا نوروز کی طرح یہ بھی ایک موسمی، تاریخی یا سماجی اظہار بن جاتا ہے۔

. روائیتی بیانیے سے تصادم:
مسئلہ یہیں پیدا ہوتا ہے کہ اسے کلچرل ایونٹ ماننے کے باوجود، عملاً اس کے ساتھ مذہبی اور عبادتی رنگ وابستہ کیا جاتا ہے۔
• اگر یہ صرف ایک ثقافتی ایونٹ ہے، تو اس کے نہ کرنے والوں پر دینی حوالے سے کوئی فتویٰ یا اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
• لیکن جب اسے ثواب کی نیت سے کیا جائے، مخصوص اذکار، عبادات اور دینی شعائر کے طور پر منایا جائے، تو یہ کلچر کی حد سے نکل کر شریعت میں دخل اندازی بن جاتا ہے۔

. قرآنی اصول اور تحریف کا سدِ باب:
دینِ اسلام میں عبادت اور ثواب کی تمام بنیادیں قرآن اور سنتِ ثابتہ پر قائم ہیں۔
• اگر کوئی انسان اسے محض ایک تاریخی یا خوشی کا سماجی اظہار (کلچر) سمجھ کر کرتا ہے اور اسے ثواب یا دین کا لازمی حصہ قرار نہیں دیتا، تو یہ اس کا ایک سماجی عمل ہے۔
• لیکن جب کسی کلچرل عمل کو 'دین' کا درجہ دے دیا جائے یا اس کے ساتھ ثواب کا عقیدہ جوڑ دیا جائے، تو یہ تحریف اور دین میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

. تاریخی حقیقت:
تاریخی طور پر بھی اگر دیکھا جائے تو میلاد کا جشن پہلی اور دوسری صدی ہجری (دورِ صحابہ و تابعین) میں موجود نہیں تھا۔ یہ بعد کی صدیوں میں حکمرانوں اور عوام کے ذریعہ ایک سماجی و ثقافتی انداز میں شروع ہوا، جس نے رفتہ رفتہ مذہبی صورت اختیار کر لی۔

رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار نہ صرف جائز ہے بلکہ یہ ایمان کی بنیادی روح اور جزوِ اعظم ہے۔ اسے بدعت کے نزاع میں الجھانا یا اسی تناظر میں دیکھنا اصل علمی اور قرآنی حقیقت سے دور ہونا ہے۔ اس پر کوئی بات کرنے پر بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ 
. محبتِ رسول اصلِ ایمان ہے:
قرآن مجید میں ارشاد ہے: "قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ... أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ... فَتَرَبَّصُوا" (کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے... اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت تمام دنیوی تعلقات پر مقدم ہونی چاہیے۔ مستند روایات میں بھی یہی مضمون ملتا ہے کہ انسان اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک رسول اللہ ﷺ اسے تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں۔
. محبت اور بدعت کا علمی فرق:
بدعت کا تعلق دین میں کسی نئی 'عبادت' يا 'شرعی حکم' کو اپنی طرف سے داخل کرنے یا گھڑنے سے ہے۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ سے محبت ایک 'قلبی کیفیّت' اور 'ایمانی تقاضا' ہے۔ محبت کا اظہار جب تک قرآن و سنت کی واضح حدود (مثلاً شرک، غلو یا خلافِ شرع امور) سے پاک ہو، وہ مطلقاً محمود اور مطلوب ہے۔
. محبتِ رسول کے حقیقی مظاہر:
محبت کا سچا اور حقیقی اظہار درج ذیل بنیادوں پر ہوتا ہے:
. رسول اللہ ﷺ کی کامل اطاعت اور اسوہ حسنیٰ کی پیروی۔
. آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجنا، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دیا ہے۔
. آپ ﷺ کی تعظیم، توقیر اور دین کی نصرت کرنا۔
. آپ ﷺ کے لائے ہوئے پیغام (قرآن مجید) کو سچائی کے ساتھ تھامنا اور اس پر عمل پیرا ہونا۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کوئی خود ساختہ طریقہ یا بدعت نہیں، بلکہ دینِ اسلام کا عین تقاضا اور روح ہے۔ اس کا اصل جواز اور سند خود قرآن مجید کی نصِ صریح ہے۔
خلاصہ:
اگر میلاد کو صرف ایک 'ثقافتی یا سماجی ایونٹ' سمجھا جائے تو اس کی شرعی حیثیت بسنت یا نوروز جیسے دیگر سماجی تہواروں کی طرح ہوگی۔ لیکن اسے "مذہبی ثواب" یا "دینی عید" بنانا ہی وہ بنیادی نقطہ ہے جہاں سے یہ تنازع پیدا ہوتا ہے، کیونکہ دین کے احکام صرف وحی اور سنتِ ثابتہ سے طے ہوتے ہیں، کلچر یا روایات سے نہیں۔

ابن تیمیہؒ کا نظریہ بہت متوازن ہے 
ان کے نزدیک دینی اور شرعی اعتبار سے عید میلاد النبی منانا ایک بدعت ہے اور اتباعِ سنت کا طریقہ نہیں، لیکن جو لوگ محض محبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، ان کا معاملہ ان کی نیت اور جذبہِ محبت کی بنیاد پر قابلِ قدر ہے، جبکہ اصل اور افضل راستہ وہی ہے جس پر صحابہ کرامؓ قائم رہے۔
یا اس کو کلچرل ایونٹ رکھیں منائیں یا نہ منائیں مذہبی ایونٹ نہ رکھیں . تقریبا ہر گھر میں Birth Day منانیں کا رواج ہے کچھ لوگ نہیں مناتے اس پر غور کی ضرورت ہے .

☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly