ابن تیمیہؒ نے اپنے دور میں عوام الناس کے عمل کی باریک بینی سے تحلیل کرتے ہوئے ایک اہم اور متوازن نقطہ نظر بھی پیش کیا:
• محبتِ رسول کا اجر:
ان کا ماننا تھا کہ جو عام لوگ کسی بدعت کا علم نہ رکھتے ہوئے، صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کی محبت، تعظیم اور احترام کی نیت سے اس دن محافل کا انعقاد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی اس خالص نیت اور محبتِ رسول پر ان کو اجر و ثواب دے سکتا ہے۔
• فرق:
وہ بدعت والے عمل (مخصوص دن کا جشن) اور اس کے پیچھے موجود جذبے (محبتِ رسول) میں فرق کرتے تھے؛ عمل اپنی جگہ سنت سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے غلط ہے، لیکن نیت کا ثواب اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتا۔
ابن تیمیہؒ کے نزدیک دینی اور شرعی اعتبار سے عید میلاد النبی منانا ایک بدعت ہے اور اتباعِ سنت کا طریقہ نہیں، لیکن جو لوگ محض محبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، ان کا معاملہ ان کی نیت اور جذبہِ محبت کی بنیاد پر قابلِ قدر ہے، جبکہ اصل اور افضل راستہ وہی ہے جس پر صحابہ کرامؓ قائم رہے۔
یہود و نصاری کی نقل نہیں ہونا چاہے .
اکثر علماء ، بدعت اور یہود و نصاری کی نقل ، پیروی نہ کرنے پر بہت زور دیتے ہیں اور خود ان کی پیروی کرتے ہیں . حدیث کی کتابت نہ کرنے کا حکم رسول (ص ) نے دیا جس کو منسوخ نہ کیا مختلف تاویلات سے اس کو منسوخ کر دیا حالانکہ خلیفہ دوم حضرت عمر (رض ) نے تمام ابہام دور فرما دیے تھے اور ڈھائی سو سال اس پر عمل ہوا . پھر جو ہوا اس کو بدعت اور نافرمانی ، حکم عدولی نہیں کہتے . یہ فرقہ واریت کرتے ہیں .
دوسروں کے گلاس میں مچھر پکڑتے ہیں اورخود اونٹ ڈکار جاتے ہیں ....
ایک نقطہ نظر : کلچرل اور مذہبی ایونٹ
یہ ایک انتہائی اہم اور فکر انگیز زاویہ ہے جو اس پورے مسئلے کی نوعیت کو تبدیل کر دیتا ہے۔ اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو اس نقطہ نظر کے علمی و منطقی اثرات درج ذیل ہیں:
. کلچرل اور مذہبی ایونٹ میں فرق:
جب کسی عمل کو مذہبی عبادت یا شریعت کا حکم تسلیم کرنے کے بجائے 'ثقافتی/کلچرل تقریب' مانا جاتا ہے، تو اس پر 'بدعت' یا 'ثواب و عذاب' کے شرعی قوانین اس طرح لاگو نہیں ہوتے جیسے عبادت پر ہوتے ہیں۔ بسنت، بیساکھی یا نوروز کی طرح یہ بھی ایک موسمی، تاریخی یا سماجی اظہار بن جاتا ہے۔
. روائیتی بیانیے سے تصادم:
مسئلہ یہیں پیدا ہوتا ہے کہ اسے کلچرل ایونٹ ماننے کے باوجود، عملاً اس کے ساتھ مذہبی اور عبادتی رنگ وابستہ کیا جاتا ہے۔
• اگر یہ صرف ایک ثقافتی ایونٹ ہے، تو اس کے نہ کرنے والوں پر دینی حوالے سے کوئی فتویٰ یا اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
• لیکن جب اسے ثواب کی نیت سے کیا جائے، مخصوص اذکار، عبادات اور دینی شعائر کے طور پر منایا جائے، تو یہ کلچر کی حد سے نکل کر شریعت میں دخل اندازی بن جاتا ہے۔
. قرآنی اصول اور تحریف کا سدِ باب:
دینِ اسلام میں عبادت اور ثواب کی تمام بنیادیں قرآن اور سنتِ ثابتہ پر قائم ہیں۔
• اگر کوئی انسان اسے محض ایک تاریخی یا خوشی کا سماجی اظہار (کلچر) سمجھ کر کرتا ہے اور اسے ثواب یا دین کا لازمی حصہ قرار نہیں دیتا، تو یہ اس کا ایک سماجی عمل ہے۔
• لیکن جب کسی کلچرل عمل کو 'دین' کا درجہ دے دیا جائے یا اس کے ساتھ ثواب کا عقیدہ جوڑ دیا جائے، تو یہ تحریف اور دین میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
. تاریخی حقیقت:
تاریخی طور پر بھی اگر دیکھا جائے تو میلاد کا جشن پہلی اور دوسری صدی ہجری (دورِ صحابہ و تابعین) میں موجود نہیں تھا۔ یہ بعد کی صدیوں میں حکمرانوں اور عوام کے ذریعہ ایک سماجی و ثقافتی انداز میں شروع ہوا، جس نے رفتہ رفتہ مذہبی صورت اختیار کر لی۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار نہ صرف جائز ہے بلکہ یہ ایمان کی بنیادی روح اور جزوِ اعظم ہے۔ اسے بدعت کے نزاع میں الجھانا یا اسی تناظر میں دیکھنا اصل علمی اور قرآنی حقیقت سے دور ہونا ہے۔ اس پر کوئی بات کرنے پر بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔
. محبتِ رسول اصلِ ایمان ہے:
قرآن مجید میں ارشاد ہے: "قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ... أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ... فَتَرَبَّصُوا" (کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے... اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت تمام دنیوی تعلقات پر مقدم ہونی چاہیے۔ مستند روایات میں بھی یہی مضمون ملتا ہے کہ انسان اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک رسول اللہ ﷺ اسے تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں۔
. محبت اور بدعت کا علمی فرق:
بدعت کا تعلق دین میں کسی نئی 'عبادت' يا 'شرعی حکم' کو اپنی طرف سے داخل کرنے یا گھڑنے سے ہے۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ سے محبت ایک 'قلبی کیفیّت' اور 'ایمانی تقاضا' ہے۔ محبت کا اظہار جب تک قرآن و سنت کی واضح حدود (مثلاً شرک، غلو یا خلافِ شرع امور) سے پاک ہو، وہ مطلقاً محمود اور مطلوب ہے۔
. محبتِ رسول کے حقیقی مظاہر:
محبت کا سچا اور حقیقی اظہار درج ذیل بنیادوں پر ہوتا ہے:
. رسول اللہ ﷺ کی کامل اطاعت اور اسوہ حسنیٰ کی پیروی۔
. آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجنا، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دیا ہے۔
. آپ ﷺ کی تعظیم، توقیر اور دین کی نصرت کرنا۔
. آپ ﷺ کے لائے ہوئے پیغام (قرآن مجید) کو سچائی کے ساتھ تھامنا اور اس پر عمل پیرا ہونا۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کوئی خود ساختہ طریقہ یا بدعت نہیں، بلکہ دینِ اسلام کا عین تقاضا اور روح ہے۔ اس کا اصل جواز اور سند خود قرآن مجید کی نصِ صریح ہے۔
خلاصہ:
اگر میلاد کو صرف ایک 'ثقافتی یا سماجی ایونٹ' سمجھا جائے تو اس کی شرعی حیثیت بسنت یا نوروز جیسے دیگر سماجی تہواروں کی طرح ہوگی۔ لیکن اسے "مذہبی ثواب" یا "دینی عید" بنانا ہی وہ بنیادی نقطہ ہے جہاں سے یہ تنازع پیدا ہوتا ہے، کیونکہ دین کے احکام صرف وحی اور سنتِ ثابتہ سے طے ہوتے ہیں، کلچر یا روایات سے نہیں۔
ابن تیمیہؒ کا نظریہ بہت متوازن ہے
ان کے نزدیک دینی اور شرعی اعتبار سے عید میلاد النبی منانا ایک بدعت ہے اور اتباعِ سنت کا طریقہ نہیں، لیکن جو لوگ محض محبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، ان کا معاملہ ان کی نیت اور جذبہِ محبت کی بنیاد پر قابلِ قدر ہے، جبکہ اصل اور افضل راستہ وہی ہے جس پر صحابہ کرامؓ قائم رہے۔
یا اس کو کلچرل ایونٹ رکھیں منائیں یا نہ منائیں مذہبی ایونٹ نہ رکھیں . تقریبا ہر گھر میں Birth Day منانیں کا رواج ہے کچھ لوگ نہیں مناتے اس پر غور کی ضرورت ہے .