رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

صراط مستقیم : https://tinyurl.com/SirateMustaqem     مصنوعی ذہانت سے ...

مصنوعی ذہانت سے "تدوین حدیث " پرمکالمہ

مصنوعی ذہانت AI سے "تدوین حدیث " پر ایک مکالمہ (Dialogue ) 10 اکتوبر 2026 کو ہوا جواس میں شامل ہے  لنک پیش خدمت ہے (سوالات کو بھی کھولنا اور پڑھنا ضروری ہے).
یہ یاد رہے کہ مصنوئی ذہانت کی رسائی پندر سو سال میں لکھی گیئ لاکھوں کتاب تک ہے جن کو پڑھنا  کسی انسان کے لیے ممکن نہیں،  اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے ،  مگر خیال رہے کہ یہ روایتی نظریات کو پیش کرتی ہے ان کی اپنی پالیسی ہے مگر اس کو اگر مختلف موضوعات پر اپنے علم کے مطابق سوالات پیش کریں اور حقیقت بیان کرنے کا کہیں تو کھل کر بات کرتے ہیں . کسی ایک اپپ App پر یقین نہ کریں دوسری App سے چیک کریں مگر صرف سچ کی تلاش کریں فرقہ وارانہ نظریات سے دور رہیں ورنہ "مصنوعی ذہانت" اپ کے فرقہ و نظریات کے مطابق آپ کی مرضی کا جواب دے گی ،  آخر ان کو بھی اپنا مال بچنا ہے  یہ بزنس ہے  ورنہ ان کو ہم سے یا اسلام سے کیا فائدہ ؟ 
 آپ کا مقصد سچ اور علم کی تلاش ہے. قرآن میں سب کچھ ہے اور تاریخ واضح ہے ،  ہماری آنکھوں اور عقل پر پردے پڑے ہیں .... یہ گمراہی کا کام کس نے ہزار،  بارہ سو سال تک کیا ؟  اور کر رہے ہیں ؟ اصلاح نہیں کرتے بلکہ گمراہی کا دفاع کرتے ہیں ؟  علامہ اقبال نے ایک شعر میں بیان کر دیا ....

مصنوعی ذہانت نیا دور: کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟

تاریخ کا یہ سبق نہایت تلخ اور سبق آموز ہے کہ جب یورپ میں صنعتی انقلاب برپا ہو رہا تھا، تو خلافتِ عثمانیہ (ترکی) یورپ کی سرحد پر واقع ہونے کے باوجود داخلی بگاڑ، جمود اور سیاسی و مذہبی کشمکش میں الجھا رہا۔ جدید ٹیکنالوجی، مشین اور سائنسی علوم کو اپنانے میں تاخیر کی وجہ سے وہ عظیم سلطنت معاشی اور فوجی طور پر مفلوج ہوئی اور بالآخر پارہ پارہ ہو گئی۔ اس کے برعکس، ایشیا کے دوسرے کنارے پر جاپان نے 1868ء کے "میجی انقلاب" (Meiji Restoration) کے بعد تمام تر داخلی اختلافات کو بالائے طاق رکھا اور ... >>>

قرآن مجید: حق و باطل کی واحد کسوٹی - الفرقان

 انسان جب افکار و نظریات، تاریخ کی روایات اور مذہبی بیانیوں کے جنگل میں بھٹکتا ہے، تو اسے ایک ایسی غیر متزلزل اور حتمی بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے جو سچ کو جھوٹ سے اور حق کو باطل سے الگ کر سکے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی اسی علمی و فکری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قرآنِ مجید کو "الفرقان" یعنی "حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی کسوٹی" بنا کر نازل فرمایا۔ قران کی تدوین بہت احتیاط سے مرحلہ وار رسول اللہ ﷺ اور  بتدریج خلفاء راشدین کی نگرانی میں ہوئی اور اس پر ان کا عملی اجماع رہا جس پر دو ،  تین صدی عمل ہوا. پھر تاویلات کے زور پر  رسول اللہ ﷺ،  خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام کے حکم اور عمل کی خلاف درزی ہوئی. یہ اسلامی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے جس کو واپس ہونا ضروری ہے اور اس کی تحقیق بھی ضروری ہے کہ کون ہیرو اور کون ویلن؟ 
قرآن کے کاتب وحی تھے ،  آیات کے نزول پر تلاوت ، زبانی یاد کرنا ،  رسول اللہ ﷺ کی چیکنگ ،  حضرت جبرائیل کی نگرانی میں دہرائی ، حضرت عمر (ر ض)  کا قرآن کا فوری اکٹھا کرنا ،  محفوظ کرنا اور حضرت عثمان (ر ض) کا کاتب وحی کی نگرانی میں کمیٹی اور ان کے حافظ ہونے کے باوجود،  ہر آیات پر دو چشم دید گواہان. یہ نظام اور احتیاط اور دوسری طرف ایک مجھول شخص صدیوں بعد ایسی روایت بناے جو قرآن کو عملی طور پر منسوخ کر دے ،  اس کو علماء حق ،  من گھڑت ،  موضوع،  ضعیف کہیں اور کوئی اس کو حسن ، صحیح کا سرٹیفیکٹ دے. (ملاحضہ : جنت کا  شارٹ کٹ ). یہ دین کے ساتھ  کھلواڑ  نہیں تو اور کیا ہے ؟   رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ان لوگوں کے حوالے نہیں کیا کہ من مانی کریں ،  واضح روشن راستہ   صراط مستقیم پر چھوڑا ، قرآن کی واضح محکم آیات ہی احکام ہہیں باقی تاویلات کی کوئی حقیقت نہیں (3:7). 

  قرآن ،  فرقان موجود ہے :

 سورۃ الانبیاء (21:18): "بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ"

"بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے باطل نابود ہو جاتا ہے۔"

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا"
"بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر الفرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب) نازل کی تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے خبردار کرنے والا بنے۔" (سورۃ الفرقان 25:1)

جھوٹ کیسے سچ بن جاتا ہے؟ اس سے بچاؤ

یہہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ مذہبی اور سیاسی نظریات جو بظاھرصاف جھوٹ اور ناقابل یقین نظر اتے ہہیں حریت  انگیز طور پر سچے نظریات بن جاتے ہیں  اگرچہ ہمارے پاس حق اور باطل کی پیچان کرنے کی کسوٹی ، فرقان ،  قرآن موجود ہہے جو اکثر روزانہ تلاوت کیا جاتا ہے مگر عمل علماء سو کی باتوں پر کیا جاتا ہے. روز محشر ہر انسان کو اکیلے جواب دینا ہوگا . یہہ کیسے ممکن ہے ؟ آیے دیکھتے ہیں :

اطاعت اور اتباع رسول اللہ ﷺ کا قرآنی فلسفہ اور کتب حدیث


قرآن مجید کے اصطلاحی، لغوی اور قانونی نظام میں 'اطاعت' اور 'اتباع' دو بالکل مختلف علمی، عسکری اور شریعت ساز تصورات ہیں، جن کا گہرا تعلق قانون کی مکتوب شکل، حاکم کی نوعیت اور انسانی عمل کے دائرہ کار سے ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ، معانی اور اسلوب کے گہرے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں مختلف علمی اور عملی ابعاد کو محیط ہیں، جن کو خلط ملط کرنے سے شریعت کا اصل مرکزہ (Center of Gravity) تبدیل ہو جاتا ہے۔ روائیتی بیانیہ کے خلط ملط کردہ تصورات سے ہٹ کر، اگر انہیں خالص قرآنی اور عقلی(8:22) بنیادوں پر سمجھا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے >>>>>>>Read more »

جنت کا شارٹ کٹ

 عوام میں کسی متبادل نظام یا شارٹ کٹ کا نظریہ بہت پاپولر ہے. ہم چاہتے ہیں کہ جنت آسانی سے بغیر کسی خاص اچھے عمل کے مل جائے. اس انسانی کمزوری سے لوگوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور ان کو بے وقوف بنایا.اصلی اور جعلی احادیث اور تاویلات جو منع (٣ :٧ )ہیں  کا خوب استعمال کیا گیا. ایک روایت بہت مشہور ہے :

«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»

اس کا تجزیہ کرتے ہیں کہ اس طرح کی موضوع (من گھڑت) روآیات انسان کو گمراہ کرتی ہیں یا ہدایت پر رکھتی ہیں ؟Read more »

فریب مقدس Pious Deceit الْكَذِبُ الْمُقَدَّسُ

فریب مقدس -Pious Deceit - الْكَذِبُ الْمُقَدَّسُ  

ایگزیکٹو سمری 
اسلام کی بنیاد قرآن پر ہے جو اللہ کا کلام ہے، ہر طرح کی تبدیلی سے محفوظ ہے،   رسول اللہ ﷺ  کا "اسوہ" وہ عمل ہے جس پر عبادات کی شکل میں عملی طور پر نسل در نسل متواتر عمل ہو رہا ہے۔ یہ کسی تحریر کا محتاج نہیں۔ آپ کے وہ اعمال و اقوال جو بہت سے صحابہؓ نے براہ راست دیکھے یا سنے اگرچہ اہم ہیں لیکن ان کی صحت کو پرکھنا ضروری ہے کیونکہ منافقین نے جعلی روایات گھڑی ہیں.
علمی نوٹ:  صدیوں کے فکری غبار کو صاف کرنے کے لیے قارئین سے گزارش ہے کہ وہ پہلے مقالہ "مقدس فریب" کا مطالعہ فرمائیں۔ اس سے آپ کے ذہن میں ابھرنے والے اکثر سوالات کے جوابات خود بخود واضح ہو جائیں گے۔ دینِ حق کی فہم حاصل کرنا اور اپنے طور پر مزید تحقیق کرنا ہر مسلمان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس یہود و نصاریٰ کے پر فریب  راستہ پر چلنے کی شدید مزاحمت کی تھی، مگر وہ وقت کے حکمرانوں اور مذہبی طبقے کے گٹھ جوڑ (Collaboration) کے آگے ٹھہر نہ سکے۔ اگر اس کے باوجود کسی مقام پر مزید وضاحت درکار ہو، تو سوالات ضرور اٹھائیے۔ ذہن میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہنے دیں، کیونکہ ہمارا مقصد کسی قسم کی فرقہ واریت نہیں، بلکہ صرف گمراہی سے بچاؤ اور اس خالص حق اور دینِ اسلام کی تلاش ہے جو رسول اللہ ﷺ بنی نوع انسان کے لیے چھوڑ گئے تھے.>>>>>>>\

دین اسلام میں ہزار سالہ عظیم فریب : یہود و نصاریٰ کے راستہ پر ...(منتخب مضامین - مقدس فریب )


ازالہِ شبہات: فرمانِ رسول ﷺ، تدوینِ حدیث اور تاریخِ امت کا ایک تحقیقی جائزہ

گہرے مطالعہ اور علمی تحقیق کے بعد یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امت کے فکر و عمل میں پچھلے ہزار سال سے زائد عرصے میں ایک بڑا بنیادی تغیر رونما ہوا ہے۔

جو دینِ کامل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ چھوڑ کر گئے تھے—اور جس پر رسول اللہ ﷺ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کا اجتماعی فکری و عملی تسلسل تقریباً تین صدیوں تک قائم رہا—بعد کے ادوار میں اس کے فہم اور ترجیحات کو بدل دیا گیا۔

اگرچہ بدلتے حالات اور فروعی معاملات میں "جزوی فہم و تطبیق" کی گنجائش موجود ہوتی ہے، مگر دین کی بنیاد اور اس کے اصل خدوخال میں کسی قسم کا تغیر، درحقیقت اساسِ دین کی تبدیلی ہے—جو کہ ایک مکمل اور محفوظ دین میں بالکل ممکن نہیں۔

اس اہم اور بنیادی موضوع کا مختصر تحقیقی خلاصہ ذیل میں پیشِ خدمت ہے۔ تفصیلی علمی دلائل، قرآنی نصوص اور مستند تاریخی شواہد دیے گئے لنک پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں تاکہ معاملے کے تمام پہلوؤں کو درست تناظر میں سمجھا جا سکے۔

1۔ قرآن بہترین حدیث

قرآنِ کریم خود کو "احسن الحدیث" کہتا ہے اور کسی اور حدیث پر ایمان کی ممانعت ہے— (39:23)، (52:34)، (56:81)، (53:59)، (68:44)، اور (77:50)— رسول اللہ ﷺ بھی ہر خطبہ سے پہلے قرآن کو "بہترین حدیث" کہتے تھے۔ اس لیئے  کلام  رسول اللہ ﷺ کو "حدیث  رسول اللہ ﷺ " یا قرآن کا لفظ "اسوہ حسنہ" کہنا مناسب ہے۔

2۔ ممانعت تدوین حدیث، یهود و نصاری کی پیروی کی ممانعت اور گمراہی

رسول اللہ ﷺ نے امت کو خبردار فرمایا کہ تم پچھلی امتوں (یہود و نصاریٰ) کی روش پر اس حد تک اندھا دھند چلو گے کہ اگر وہ کسی گوہ کے تنگ سوراخ میں بھی گھسے ہوں گے تو تم بھی ان کی پیروی کرو گے۔

رسول اللہ ﷺ نے کلامِ الٰہی کے علاوہ کچھ (احادیث) کو تحریر کرنے سے صراحةً منع فرمایا تھا (مسلم: 3004، الخطیب البغدادی: 33, 34) اور متنبہ فرمایا تھا کہ؛

 "پہلی امتیں کتابِ الٰہی کے علاوہ دیگر کتب تحریر کر کے گمراہ ہوئیں"

ممانعت اور انتباہ کے باوجود مسلمان یہودونصاری کے راستہ پر چل پڑے۔ 

3 ابدی علت و منسوخی

حقیقی کیمیا : ثابت شدہ احادیث نبوی ﷺ کی جستجو- علم الحدیث کے سات مجوزہ سنہری اصول اور احادیث کی تدوین نو (القواعد الذهبية السبع المقترحة في علم الحديث) Seven Golden Rules of Science of Hadith and Recompilation of Hadith literature

 علم الحدیث کے سات مجوزہ سنہری اصول 

یہ سوال بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ خلفاء راشدین نے قرآن کو جمع کیا تدوین کی مگر احادیث کو چھوڑ دیا

جبکہ راویان زندہ تھے،  کیوں؟ 

حضرت عمر (رضی الله ) نے ایک ماہ غوروفکر، صحابہ سے مشورے اور استخارے کے بعد حدیث کی کتابت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وجہ وہی تھی جو  رسول اللہ ﷺ  نے قرآن کے علاوہ لکھنے سے منع فرماتے کہی؛ کہ پہلی اقوام (یہود و نصاری) کتاب اللہ کے علاوہ کتب (تلمود ، عہدنامہ جدید) لکھ کر گمراہ ہوئے ۔ کچھ مستثنات تھیں مگر استثنا سے اصل حکم منسوخ نہیں ہوتا، تیمم, وضو کو منسوخ نہیں کرتا۔  رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ۔ حضرت عمر (رضی الله ) نے کہا کہ میں قرآن کے ساتھ مشنا (تالمود کی کتاب) نہیں بننے دوں گا اور تمام ابہام دور ہو گیے ۔باقی خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام  نے اتفاق کیا اور دو تین صدیاں گزر گئیں تمام راویان فوت ہو گئیے۔ لیکن پھر  رسول اللہ ﷺ ، خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام کی حکم عدولی ہوئی تاویلات کے زور پر (جو منع ہیں-3:7)اب ایک قرآن تارک العمل (محجھور 25:30)  اور 170 کتب حدیث ہیں۔ یہ مذہبی تاریخ کا ایک بہت بڑا "فریب" ہے. حیرت ہے کہ بارہ سو سال گزر گئے جو بولا اس کو دبا دیا گیا . (تفصیل : فریب مقدس )

کیا مسلمان اس فریب مقدس میں بارہ سو سال سے جی رہے ہیں ؟ کسی کو اس نافرمانی سے بچاؤ کا خیال نہیں آیا ؟ یہ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی سراسر گمراہی نہیں ہے ؟ کیا دین اسلام صرف نماز روزہ ، عبادات کا نام ہے ؟

  تعارف

 

الْكَذِبُ الْمُقَدَّسُ-Deceit - Deceit - اہم مضامین - فریب مقدس

اسوہ حسنہ (سنت) متواتر: اسوہ حسنہ ( احادیث) - 150



 "متواتر اسوہ " جس کو عام، غلط طور پر متواتر حدیث کہتے ہیں . اس کے اللہ کے رسول ﷺ کا کلام ہونے میں کافی امکان ہوتا ہے قرآن کے علاوہ سب کچھ ظنی الثبوت ہوتا ہے۔مگر اس کے رسول ﷺ سے ثابت ہونے کا غالب گمان (Strong probability) ہوتا ہے، راوی انسان ہے اور اس سے غلطی کا ایک معمولی سا امکان رہتا ہے۔

متواترکا انکار کرنا درست نہیں ہے کیونکہ یہ دین کی ایسی حقیقت ہے جس میں شک کم ہے عملی طور پر منتقلی سے غلطی کا امکان نہیں جیسے صلوات نسل در نسل منتقل ہوتی ہے معمولی فرق ہے ۔عبادات میں درستی ہے باقی روایت کا تجزیہ ضروری ہے . احادیث کے ذخیرے میں صحیح احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کتبِ احادیث (بخاری، مسلم وغیرہ) کا بڑا حصہ ٩٩% اسی پر مشتمل ہے۔

جن کو "صحیح احادیث" کہتے ہیں وہ ظنی ہیں مگر "متواتر حدیث " تھوڑی ہیں . جب تک دیے گیے اصولوں کی بنیاد پر کام مکمل نہیں ہوتا  "متواتراحادیث " سے فائدہ لیا جا سکتا ہے.

<<<<<Read / Download as G-Doc >>>

قرآن: 99 سوال و جواب

 
آخری کتاب ہدایت: قرآن کا تعارف قرآن سے:
کسی مسلمان کو قرآن مجید کے تعارف کی ضرورت نہیں، مختصر تعارف <<ادھر پڑھ>> سکتے ہیں-  کچھ آیات یاد دہانی کے لیے پیش ہیں-  قرآن کے متعلق الله نے واضح  کر دیا کہ :
1۔ قرآن مجید رب العالمین کا نازل کردہ کلام حق ہے (آل عمران 3:60)  یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے (قرآن 2:2)
2.قران کوکوئی تبدیل نہیں کر سکتا  رسول اللہ ﷺ بھی نہیں، رب کی نافرمانی پر سخت عذاب (قرآن 10:15)
3۔قرآن مجید کلام الٰہی ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ 2:2)
4۔اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر15:9)
5.قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)
6۔قرآن کو واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں (یوسف18:1,2)۔
7۔ باطل نہ اس کلام کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (الفصلت 41:42)
8۔یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ42:17)
9۔یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)
10۔ تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)
11۔قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)
12۔یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)
14.تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)
یہ الله کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل سچی پڑھ کر سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے، (الجاثية45:6)
15.وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٧﴾ يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ  (الجاثية45:7)
ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے (-جو آیات الہیٰ سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر نا حق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے گویاکہ اس نے سنا ہی نہیں پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو  (الجاثية45:7,8)
16.هَـٰذَا هُدًى ۖوَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ  (الجاثية45:11)
17. قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)
“یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)
اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے اور (اس میں) مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے (16:89)
اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں قرآن مجید کی حیثیت بیان کی ہے- جو کچھ قرآن مجید کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے وہ کسی دوسری کتاب کے بارے میں نہیں کہا۔ قرآن مجید کے سوا کسی اور مذہبی کتاب، کسی پیغمبرسے منسوب کلام، کسی عالم اور محقق کی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ اس طرح کی کوئی بات نہیں کہتے۔ اس لیے جو کوئی بھی قرآن کی آیات مبارکہ کے بارے میں شک شبہ ، تامل کرے ، اگر مگراور من گھڑت تاویلوں سے ان کو بے اثر کرنے کی کوشش کرے تو وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ وہ الله کی نافرمانی کی جرأت کر رہا ہے۔ اصحاب سبت  کا واقعہ ایک سبق ہے- (قرآن 7:163,166, 2:65,66).
قرآن کا عملی نمونہ سنت رسول اللہ صلعم میں موجود ہے ۔۔۔ وہ وحی نہیں علم و حکمت wisdom  ہے جو الله نے عطا کی ، آپ نے اجتہاد سے مطلب بیان کیا جہاں الله نے ضروری سمجھا تصحیح فرمائی یہ تواتر سے صدیوں سے نسلدر نسل منتقل ہو رہی ہے ،مگر اس کو قرآن سے چیک کرنا ضروری ہے -
"در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے " (33:21)

مشرق وسطی - مزہبی جنگ جہاد یا علاقائی بالادستی


کچھ سوالات مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال اور "جہاد" کے قرآنی تصور کے درمیان ایک گہرا تضاد واضح کرتے ہیں۔ اگر ہم روائیتی بیانیہ سے ہٹ کر خالص قرآنی اصولوں اور بین الاقوامی سیاست (جیو پولیٹکس) کی بنیاد پر ان کا تجزیہ کریں، تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے:

میلاد النبی صلعم


سورۃ مریم میں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام دونوں کی ولادت اور ان کے پاکیزہ کردار کا ذکر کرتے ہوئے سلام پیش کیا گیا ہے۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام پر سلام:
وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا (سورۃ مریم، آیت 15)
ترجمہ: "اور ان پر سلامتی ہے جس دن وہ پیدا ہوئے، جس دن وہ وفات پائیں گے، اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے۔"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سلام (ان کی اپنی زبان سے):
وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (سورۃ مریم، آیت 33)
ترجمہ: "اور مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا، جس دن میں مروں گا، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا۔"

قرآن مجید میں عمومی طور پر تمام رسولوں پر سلام بھیجا گیا ہے، جیسے "وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ" (اور سلام ہو رسولوں پر)۔ رسول اللہ ﷺ بحیثیتِ سید المرسلین اس عمومی سلام میں سب سے پہلے اور بالذات شامل ہیں۔

رسول الله پر صلوات (درود شریف) پھیجنے کا حکم ہے :
 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (سورۃ الاحزاب، آیت 56)

ترجمہ: "بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور سلام بھیجو جیسے سلام بھیجنے کا حق ہے۔"

رسول اللہ ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ نے پوری امت کو قیامت تک کے لیے درود و سلام بھیجنے کا مستقل اور دائمی حکم دیا: 

"إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا" (بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجو)

 یہ انداز صرف "سلام پیش کرنے" سے کہیں زیادہ بلند مقام کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی رحمت، فرشتوں کی استغفار اور مومنین کا دائمی سلام شامل ہے۔

​رحمۃ للعالمین اور سراجاً منيراً کا مقام:

قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت اور بعثت کے مقصد کو "رحمۃ للعالمین" (تمام جہانوں کے لیے رحمت) اور "سراجاً منيراً" (روشن چراغ) قرار دیا گیا ہے۔ انبیاء کی پیدائش پر سلام ان کی سلامتی اور عصمت کی گواہی ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور ذاتِ مبارکہ کو بذاتِ خود پوری انسانیت کے لیے سلامتی اور رحمت بنا کر بھیجا گیا۔

. حسنِ نیت اور اجتہادی نیت پر اجر:

 ابن تیمیہؒ نے اپنے دور میں عوام الناس کے عمل کی باریک بینی سے تحلیل کرتے ہوئے ایک اہم اور متوازن نقطہ نظر بھی پیش کیا:
 • محبتِ رسول کا اجر: 

ان کا ماننا تھا کہ جو عام لوگ کسی بدعت کا علم نہ رکھتے ہوئے، صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کی محبت، تعظیم اور احترام کی نیت سے اس دن محافل کا انعقاد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی اس خالص نیت اور محبتِ رسول پر ان کو اجر و ثواب دے سکتا ہے۔
 • فرق: 

وہ بدعت والے عمل (مخصوص دن کا جشن) اور اس کے پیچھے موجود جذبے (محبتِ رسول) میں فرق کرتے تھے؛ عمل اپنی جگہ سنت سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے غلط ہے، لیکن نیت کا ثواب اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتا۔

خلاصہ: 

ابن تیمیہؒ کے نزدیک دینی اور شرعی اعتبار سے عید میلاد النبی منانا ایک بدعت ہے اور اتباعِ سنت کا طریقہ نہیں، لیکن جو لوگ محض محبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، ان کا معاملہ ان کی نیت اور جذبہِ محبت کی بنیاد پر قابلِ قدر ہے، جبکہ اصل اور افضل راستہ وہی ہے جس پر صحابہ کرامؓ قائم رہے۔

یہود و نصاری کی نقل نہیں ہونا چاہے .

خرافات اور غیر اسلامی رسومات سے پرہیز ہو،  چاہے دینی یا کلچرل ایونٹ ہو۔ 

اکثر علماء ، بدعت اور یہود و نصاری کی نقل ،  پیروی نہ کرنے پر بہت زور دیتے ہیں اور خود ان کی پیروی کرتے ہیں . حدیث کی کتابت نہ کرنے کا حکم رسول (ص ) نے دیا جس کو منسوخ نہ کیا مختلف تاویلات سے اس کو منسوخ کر دیا حالانکہ خلیفہ دوم حضرت عمر (رض ) نے تمام ابہام دور فرما دیے تھے اور ڈھائی سو سال اس پر عمل ہوا . پھر جو ہوا اس کو بدعت اور نافرمانی ،  حکم عدولی نہیں کہتے . یہ فرقہ واریت کرتے ہیں .
دوسروں کے گلاس میں مچھر پکڑتے ہیں اورخود اونٹ ڈکار جاتے ہیں ....

ایک نقطہ نظر : کلچرل اور مذہبی ایونٹ

یہ ایک انتہائی اہم اور فکر انگیز زاویہ ہے جو اس پورے مسئلے کی نوعیت کو تبدیل کر دیتا ہے۔ اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو اس نقطہ نظر کے علمی و منطقی اثرات درج ذیل ہیں:

. کلچرل اور مذہبی ایونٹ میں فرق:
جب کسی عمل کو مذہبی عبادت یا شریعت کا حکم تسلیم کرنے کے بجائے 'ثقافتی/کلچرل تقریب' مانا جاتا ہے، تو اس پر 'بدعت' یا 'ثواب و عذاب' کے شرعی قوانین اس طرح لاگو نہیں ہوتے جیسے عبادت پر ہوتے ہیں۔ بسنت، بیساکھی یا نوروز کی طرح یہ بھی ایک موسمی، تاریخی یا سماجی اظہار بن جاتا ہے۔

. روائیتی بیانیے سے تصادم:
مسئلہ یہیں پیدا ہوتا ہے کہ اسے کلچرل ایونٹ ماننے کے باوجود، عملاً اس کے ساتھ مذہبی اور عبادتی رنگ وابستہ کیا جاتا ہے۔
• اگر یہ صرف ایک ثقافتی ایونٹ ہے، تو اس کے نہ کرنے والوں پر دینی حوالے سے کوئی فتویٰ یا اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
• لیکن جب اسے ثواب کی نیت سے کیا جائے، مخصوص اذکار، عبادات اور دینی شعائر کے طور پر منایا جائے، تو یہ کلچر کی حد سے نکل کر شریعت میں دخل اندازی بن جاتا ہے۔

. قرآنی اصول اور تحریف کا سدِ باب:
دینِ اسلام میں عبادت اور ثواب کی تمام بنیادیں قرآن اور سنتِ ثابتہ پر قائم ہیں۔
• اگر کوئی انسان اسے محض ایک تاریخی یا خوشی کا سماجی اظہار (کلچر) سمجھ کر کرتا ہے اور اسے ثواب یا دین کا لازمی حصہ قرار نہیں دیتا، تو یہ اس کا ایک سماجی عمل ہے۔
• لیکن جب کسی کلچرل عمل کو 'دین' کا درجہ دے دیا جائے یا اس کے ساتھ ثواب کا عقیدہ جوڑ دیا جائے، تو یہ تحریف اور دین میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

. تاریخی حقیقت:
تاریخی طور پر بھی اگر دیکھا جائے تو میلاد کا جشن پہلی اور دوسری صدی ہجری (دورِ صحابہ و تابعین) میں موجود نہیں تھا۔ یہ بعد کی صدیوں میں حکمرانوں اور عوام کے ذریعہ ایک سماجی و ثقافتی انداز میں شروع ہوا، جس نے رفتہ رفتہ مذہبی صورت اختیار کر لی۔

رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار نہ صرف جائز ہے بلکہ یہ ایمان کی بنیادی روح اور جزوِ اعظم ہے۔ اسے بدعت کے نزاع میں الجھانا یا اسی تناظر میں دیکھنا اصل علمی اور قرآنی حقیقت سے دور ہونا ہے۔ اس پر کوئی بات کرنے پر بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ 
. محبتِ رسول اصلِ ایمان ہے:
قرآن مجید میں ارشاد ہے: "قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ... أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ... فَتَرَبَّصُوا" (کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے... اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت تمام دنیوی تعلقات پر مقدم ہونی چاہیے۔ مستند روایات میں بھی یہی مضمون ملتا ہے کہ انسان اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک رسول اللہ ﷺ اسے تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں۔
. محبت اور بدعت کا علمی فرق:
بدعت کا تعلق دین میں کسی نئی 'عبادت' يا 'شرعی حکم' کو اپنی طرف سے داخل کرنے یا گھڑنے سے ہے۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ سے محبت ایک 'قلبی کیفیّت' اور 'ایمانی تقاضا' ہے۔ محبت کا اظہار جب تک قرآن و سنت کی واضح حدود (مثلاً شرک، غلو یا خلافِ شرع امور) سے پاک ہو، وہ مطلقاً محمود اور مطلوب ہے۔
. محبتِ رسول کے حقیقی مظاہر:
محبت کا سچا اور حقیقی اظہار درج ذیل بنیادوں پر ہوتا ہے:
. رسول اللہ ﷺ کی کامل اطاعت اور اسوہ حسنیٰ کی پیروی۔
. آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجنا، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دیا ہے۔
. آپ ﷺ کی تعظیم، توقیر اور دین کی نصرت کرنا۔
. آپ ﷺ کے لائے ہوئے پیغام (قرآن مجید) کو سچائی کے ساتھ تھامنا اور اس پر عمل پیرا ہونا۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کوئی خود ساختہ طریقہ یا بدعت نہیں، بلکہ دینِ اسلام کا عین تقاضا اور روح ہے۔ اس کا اصل جواز اور سند خود قرآن مجید کی نصِ صریح ہے۔
خلاصہ:
اگر میلاد کو صرف ایک 'ثقافتی یا سماجی ایونٹ' سمجھا جائے تو اس کی شرعی حیثیت بسنت یا نوروز جیسے دیگر سماجی تہواروں کی طرح ہوگی۔ لیکن اسے "مذہبی ثواب" یا "دینی عید" بنانا ہی وہ بنیادی نقطہ ہے جہاں سے یہ تنازع پیدا ہوتا ہے، کیونکہ دین کے احکام صرف وحی اور سنتِ ثابتہ سے طے ہوتے ہیں، کلچر یا روایات سے نہیں۔

ابن تیمیہؒ کا نظریہ بہت متوازن ہے 
ان کے نزدیک دینی اور شرعی اعتبار سے عید میلاد النبی منانا ایک بدعت ہے اور اتباعِ سنت کا طریقہ نہیں، لیکن جو لوگ محض محبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، ان کا معاملہ ان کی نیت اور جذبہِ محبت کی بنیاد پر قابلِ قدر ہے، جبکہ اصل اور افضل راستہ وہی ہے جس پر صحابہ کرامؓ قائم رہے۔
یا اس کو کلچرل ایونٹ رکھیں منائیں یا نہ منائیں مذہبی ایونٹ نہ رکھیں . تقریبا ہر گھر میں Birth Day منانیں کا رواج ہے کچھ لوگ نہیں مناتے اس پر غور کی ضرورت ہے .

☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly

پوسٹ لسٹ