وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن36:17) اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہے
- Home
- انڈکس
- قرآن - سوال
- متواتر احادیث
- Notes
- عظیم تحریف
- رسالة التجديد - تعارف
- حیرت انگیز
- 1 اللہ،1رسول، 1 کتاب
- تفکر کا انداز جدید
- کلید قرآن
- ام السنہ
- قرآن 19جوابات
- علم الحديث اصول
- سود اور کاغذی کرنسی
- مسلم کیوں؟
- قرآن- عقل و شعور
- مجموعہ حدیث
- دعوة دین کامل
- (Critical Inquiry) تحقیق انتقادی
- مقدمہ: تجديد الإسلام
- احکام القرآن
- ختمِ نبوت اور قادیانیت
- شفاعت اور شریعت
- تجديد ایمان
- مصادر الإسلام
- تصوف Sufism
- اجماع ممنوعہ
- راہ نجات
- قرآن کا زندہ معجزہ
- مقصد حیات: کامیاب ناکام ؟
- قرآن متروک العمل
- اہم آیات قرآن
- اہم احادیث
- مغالطے
- احادیث کتابت ممانعت
- وحی غیر متلو
- رسول اللہ ﷺ میعار حدیث
- سنت , حدیث، متواتر حدیث
- وصیت رسول ﷺ سنت خلفاء راشدین
- بدعة ضَلَالَۃٌ’
- خلفاء راشدین, کتابت حدیث
- یہود و نصاری کی تقلید
- قرآن: کتابت حدیث
- فقیہ و محدثین
- کتمان حق
- قرآن ، حدیث " توریت و تلمود"
- سوال و جواب (Q & A)
- آخری رسول اور آخری کتاب
- تجدید اسلام - آغاز
- موضوع - تھم
- تحقیق - خلاصہ
- تحقیق کے اہم نقاط و نتائج
- خلاصہ
- تجديد الإسلام (eBook)
- References ریفرنس
- قرآن مضامین
- English Site
- اختتامیہ
- شیعہ اصلاحات
- سوشل میڈیا
- رابطہ Contact
رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)
انڈکس رسالة التجديد
صراط مستقیم : https://tinyurl.com/SirateMustaqem مصنوعی ذہانت سے ...
مصنوعی ذہانت سے "تدوین حدیث " پرمکالمہ
مصنوعی ذہانت نیا دور: کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟
قرآن مجید: حق و باطل کی واحد کسوٹی - الفرقان
قرآن ، فرقان موجود ہے :
سورۃ الانبیاء (21:18): "بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ"
"بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے باطل نابود ہو جاتا ہے۔"
"بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر الفرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب) نازل کی تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے خبردار کرنے والا بنے۔" (سورۃ الفرقان 25:1)
جھوٹ کیسے سچ بن جاتا ہے؟ اس سے بچاؤ
یہہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ مذہبی اور سیاسی نظریات جو بظاھرصاف جھوٹ اور ناقابل یقین نظر اتے ہہیں حریت انگیز طور پر سچے نظریات بن جاتے ہیں اگرچہ ہمارے پاس حق اور باطل کی پیچان کرنے کی کسوٹی ، فرقان ، قرآن موجود ہہے جو اکثر روزانہ تلاوت کیا جاتا ہے مگر عمل علماء سو کی باتوں پر کیا جاتا ہے. روز محشر ہر انسان کو اکیلے جواب دینا ہوگا . یہہ کیسے ممکن ہے ؟ آیے دیکھتے ہیں :
اطاعت اور اتباع رسول اللہ ﷺ کا قرآنی فلسفہ اور کتب حدیث
انڈکس رسالة التجديد
صراط مستقیم : https://tinyurl.com/SirateMustaqem - مصنوعی ذہانت سے "تدوین حدیث " پرمکالمہ
- مصنوعی ذہانت (AI )- نیا دور: کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟
- قرآن ہی فرقان ، حق و باطل کی کسوٹی
- کتاب : فریب مقدس/ Pious Deceit / الْكَذِبُ الْمُقَدَّسُ
- جنت کا شارٹ کٹ
- اطاعت اور اتباع رسول اللہ ﷺ کا قرآنی فلسفہ اور کتب حدیث
- دین اسلام میں ہزار سالہ عظیم فریب (فریب مقدس" سے "ماخوز مضامین )
- علم الحديث کے سنہری اصول: https://bit.ly/Hadith-Basics
- مصنوعی ذہانت سے "تدوین حدیث " پرمکالمہ
- مصنوعی ذہانت (AI )- نیا دور: کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟
- قرآن ہی فرقان ، حق و باطل کی کسوٹی
- کتاب : فریب مقدس/ Pious Deceit / الْكَذِبُ الْمُقَدَّسُ
- جنت کا شارٹ کٹ
- اطاعت اور اتباع رسول اللہ ﷺ کا قرآنی فلسفہ اور کتب حدیث
- دین اسلام میں ہزار سالہ عظیم فریب (فریب مقدس" سے "ماخوز مضامین )
- علم الحديث کے سنہری اصول: https://bit.ly/Hadith-Basics
جنت کا شارٹ کٹ
«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»
فریب مقدس Pious Deceit الْكَذِبُ الْمُقَدَّسُ
دین اسلام میں ہزار سالہ عظیم فریب : یہود و نصاریٰ کے راستہ پر ...(منتخب مضامین - مقدس فریب )
گہرے مطالعہ اور علمی تحقیق کے بعد یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امت کے فکر و عمل میں پچھلے ہزار سال سے زائد عرصے میں ایک بڑا بنیادی تغیر رونما ہوا ہے۔
جو دینِ کامل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ چھوڑ کر گئے تھے—اور جس پر رسول اللہ ﷺ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کا اجتماعی فکری و عملی تسلسل تقریباً تین صدیوں تک قائم رہا—بعد کے ادوار میں اس کے فہم اور ترجیحات کو بدل دیا گیا۔
اگرچہ بدلتے حالات اور فروعی معاملات میں "جزوی فہم و تطبیق" کی گنجائش موجود ہوتی ہے، مگر دین کی بنیاد اور اس کے اصل خدوخال میں کسی قسم کا تغیر، درحقیقت اساسِ دین کی تبدیلی ہے—جو کہ ایک مکمل اور محفوظ دین میں بالکل ممکن نہیں۔
اس اہم اور بنیادی موضوع کا مختصر تحقیقی خلاصہ ذیل میں پیشِ خدمت ہے۔ تفصیلی علمی دلائل، قرآنی نصوص اور مستند تاریخی شواہد دیے گئے لنک پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں تاکہ معاملے کے تمام پہلوؤں کو درست تناظر میں سمجھا جا سکے۔
1۔ قرآن بہترین حدیث
قرآنِ کریم خود کو "احسن الحدیث" کہتا ہے اور کسی اور حدیث پر ایمان کی ممانعت ہے— (39:23)، (52:34)، (56:81)، (53:59)، (68:44)، اور (77:50)— رسول اللہ ﷺ بھی ہر خطبہ سے پہلے قرآن کو "بہترین حدیث" کہتے تھے۔ اس لیئے کلام رسول اللہ ﷺ کو "حدیث رسول اللہ ﷺ " یا قرآن کا لفظ "اسوہ حسنہ" کہنا مناسب ہے۔
2۔ ممانعت تدوین حدیث، یهود و نصاری کی پیروی کی ممانعت اور گمراہی
رسول اللہ ﷺ نے امت کو خبردار فرمایا کہ تم پچھلی امتوں (یہود و نصاریٰ) کی روش پر اس حد تک اندھا دھند چلو گے کہ اگر وہ کسی گوہ کے تنگ سوراخ میں بھی گھسے ہوں گے تو تم بھی ان کی پیروی کرو گے۔
رسول اللہ ﷺ نے کلامِ الٰہی کے علاوہ کچھ (احادیث) کو تحریر کرنے سے صراحةً منع فرمایا تھا (مسلم: 3004، الخطیب البغدادی: 33, 34) اور متنبہ فرمایا تھا کہ؛
"پہلی امتیں کتابِ الٰہی کے علاوہ دیگر کتب تحریر کر کے گمراہ ہوئیں"
ممانعت اور انتباہ کے باوجود مسلمان یہودونصاری کے راستہ پر چل پڑے۔
3 ابدی علت و منسوخی
حقیقی کیمیا : ثابت شدہ احادیث نبوی ﷺ کی جستجو- علم الحدیث کے سات مجوزہ سنہری اصول اور احادیث کی تدوین نو (القواعد الذهبية السبع المقترحة في علم الحديث) Seven Golden Rules of Science of Hadith and Recompilation of Hadith literature
علم الحدیث کے سات مجوزہ سنہری اصول
یہ سوال بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ خلفاء راشدین نے قرآن کو جمع کیا تدوین کی مگر احادیث کو چھوڑ دیا
جبکہ راویان زندہ تھے، کیوں؟
حضرت عمر (رضی الله ) نے ایک ماہ غوروفکر، صحابہ سے مشورے اور استخارے کے بعد حدیث کی کتابت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وجہ وہی تھی جو رسول اللہ ﷺ نے قرآن کے علاوہ لکھنے سے منع فرماتے کہی؛ کہ پہلی اقوام (یہود و نصاری) کتاب اللہ کے علاوہ کتب (تلمود ، عہدنامہ جدید) لکھ کر گمراہ ہوئے ۔ کچھ مستثنات تھیں مگر استثنا سے اصل حکم منسوخ نہیں ہوتا، تیمم, وضو کو منسوخ نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ۔ حضرت عمر (رضی الله ) نے کہا کہ میں قرآن کے ساتھ مشنا (تالمود کی کتاب) نہیں بننے دوں گا اور تمام ابہام دور ہو گیے ۔باقی خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام نے اتفاق کیا اور دو تین صدیاں گزر گئیں تمام راویان فوت ہو گئیے۔ لیکن پھر رسول اللہ ﷺ ، خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام کی حکم عدولی ہوئی تاویلات کے زور پر (جو منع ہیں-3:7)اب ایک قرآن تارک العمل (محجھور 25:30) اور 170 کتب حدیث ہیں۔ یہ مذہبی تاریخ کا ایک بہت بڑا "فریب" ہے. حیرت ہے کہ بارہ سو سال گزر گئے جو بولا اس کو دبا دیا گیا . (تفصیل : فریب مقدس )
اسوہ حسنہ (سنت) متواتر: اسوہ حسنہ ( احادیث) - 150
"متواتر اسوہ " جس کو عام، غلط طور پر متواتر حدیث کہتے ہیں . اس کے اللہ کے رسول ﷺ کا کلام ہونے میں کافی امکان ہوتا ہے قرآن کے علاوہ سب کچھ ظنی الثبوت ہوتا ہے۔مگر اس کے رسول ﷺ سے ثابت ہونے کا غالب گمان (Strong probability) ہوتا ہے، راوی انسان ہے اور اس سے غلطی کا ایک معمولی سا امکان رہتا ہے۔
متواترکا انکار کرنا درست نہیں ہے کیونکہ یہ دین کی ایسی حقیقت ہے جس میں شک کم ہے عملی طور پر منتقلی سے غلطی کا امکان نہیں جیسے صلوات نسل در نسل منتقل ہوتی ہے معمولی فرق ہے ۔عبادات میں درستی ہے باقی روایت کا تجزیہ ضروری ہے . احادیث کے ذخیرے میں صحیح احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کتبِ احادیث (بخاری، مسلم وغیرہ) کا بڑا حصہ ٩٩% اسی پر مشتمل ہے۔
جن کو "صحیح احادیث" کہتے ہیں وہ ظنی ہیں مگر "متواتر حدیث " تھوڑی ہیں . جب تک دیے گیے اصولوں کی بنیاد پر کام مکمل نہیں ہوتا "متواتراحادیث " سے فائدہ لیا جا سکتا ہے.
قرآن: 99 سوال و جواب
3۔قرآن مجید کلام الٰہی ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ 2:2)
4۔اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر15:9)
5.قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)
6۔قرآن کو واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں (یوسف18:1,2)۔
7۔ باطل نہ اس کلام کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (الفصلت 41:42)
8۔یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ42:17)
9۔یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)
10۔ تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)
11۔قرآن کریم لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)
12۔یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)
14.تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)
یہ الله کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل سچی پڑھ کر سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے، (الجاثية45:6)
15.وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٧﴾ يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (الجاثية45:7)
ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے (-جو آیات الہیٰ سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر نا حق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے گویاکہ اس نے سنا ہی نہیں پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو (الجاثية45:7,8)
16.هَـٰذَا هُدًى ۖوَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ (الجاثية45:11)
“یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)
اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے اور (اس میں) مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے (16:89)
اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں قرآن مجید کی حیثیت بیان کی ہے- جو کچھ قرآن مجید کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے وہ کسی دوسری کتاب کے بارے میں نہیں کہا۔ قرآن مجید کے سوا کسی اور مذہبی کتاب، کسی پیغمبرسے منسوب کلام، کسی عالم اور محقق کی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ اس طرح کی کوئی بات نہیں کہتے۔ اس لیے جو کوئی بھی قرآن کی آیات مبارکہ کے بارے میں شک شبہ ، تامل کرے ، اگر مگراور من گھڑت تاویلوں سے ان کو بے اثر کرنے کی کوشش کرے تو وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ وہ الله کی نافرمانی کی جرأت کر رہا ہے۔ اصحاب سبت کا واقعہ ایک سبق ہے- (قرآن 7:163,166, 2:65,66).
قرآن کا عملی نمونہ سنت رسول اللہ صلعم میں موجود ہے ۔۔۔ وہ وحی نہیں علم و حکمت wisdom ہے جو الله نے عطا کی ، آپ نے اجتہاد سے مطلب بیان کیا جہاں الله نے ضروری سمجھا تصحیح فرمائی یہ تواتر سے صدیوں سے نسلدر نسل منتقل ہو رہی ہے ،مگر اس کو قرآن سے چیک کرنا ضروری ہے -
"در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے " (33:21)
میلاد النبی صلعم
قرآن مجید میں عمومی طور پر تمام رسولوں پر سلام بھیجا گیا ہے، جیسے "وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ" (اور سلام ہو رسولوں پر)۔ رسول اللہ ﷺ بحیثیتِ سید المرسلین اس عمومی سلام میں سب سے پہلے اور بالذات شامل ہیں۔
ترجمہ: "بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور سلام بھیجو جیسے سلام بھیجنے کا حق ہے۔"
رسول اللہ ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ نے پوری امت کو قیامت تک کے لیے درود و سلام بھیجنے کا مستقل اور دائمی حکم دیا:
"إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا" (بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجو)
یہ انداز صرف "سلام پیش کرنے" سے کہیں زیادہ بلند مقام کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی رحمت، فرشتوں کی استغفار اور مومنین کا دائمی سلام شامل ہے۔
رحمۃ للعالمین اور سراجاً منيراً کا مقام:
قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت اور بعثت کے مقصد کو "رحمۃ للعالمین" (تمام جہانوں کے لیے رحمت) اور "سراجاً منيراً" (روشن چراغ) قرار دیا گیا ہے۔ انبیاء کی پیدائش پر سلام ان کی سلامتی اور عصمت کی گواہی ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور ذاتِ مبارکہ کو بذاتِ خود پوری انسانیت کے لیے سلامتی اور رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
ابن تیمیہؒ نے اپنے دور میں عوام الناس کے عمل کی باریک بینی سے تحلیل کرتے ہوئے ایک اہم اور متوازن نقطہ نظر بھی پیش کیا:
• محبتِ رسول کا اجر:
ان کا ماننا تھا کہ جو عام لوگ کسی بدعت کا علم نہ رکھتے ہوئے، صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کی محبت، تعظیم اور احترام کی نیت سے اس دن محافل کا انعقاد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی اس خالص نیت اور محبتِ رسول پر ان کو اجر و ثواب دے سکتا ہے۔
• فرق:
وہ بدعت والے عمل (مخصوص دن کا جشن) اور اس کے پیچھے موجود جذبے (محبتِ رسول) میں فرق کرتے تھے؛ عمل اپنی جگہ سنت سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے غلط ہے، لیکن نیت کا ثواب اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتا۔
خلاصہ:
ابن تیمیہؒ کے نزدیک دینی اور شرعی اعتبار سے عید میلاد النبی منانا ایک بدعت ہے اور اتباعِ سنت کا طریقہ نہیں، لیکن جو لوگ محض محبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، ان کا معاملہ ان کی نیت اور جذبہِ محبت کی بنیاد پر قابلِ قدر ہے، جبکہ اصل اور افضل راستہ وہی ہے جس پر صحابہ کرامؓ قائم رہے۔
یہود و نصاری کی نقل نہیں ہونا چاہے .
خرافات اور غیر اسلامی رسومات سے پرہیز ہو، چاہے دینی یا کلچرل ایونٹ ہو۔
اکثر علماء ، بدعت اور یہود و نصاری کی نقل ، پیروی نہ کرنے پر بہت زور دیتے ہیں اور خود ان کی پیروی کرتے ہیں . حدیث کی کتابت نہ کرنے کا حکم رسول (ص ) نے دیا جس کو منسوخ نہ کیا مختلف تاویلات سے اس کو منسوخ کر دیا حالانکہ خلیفہ دوم حضرت عمر (رض ) نے تمام ابہام دور فرما دیے تھے اور ڈھائی سو سال اس پر عمل ہوا . پھر جو ہوا اس کو بدعت اور نافرمانی ، حکم عدولی نہیں کہتے . یہ فرقہ واریت کرتے ہیں .
دوسروں کے گلاس میں مچھر پکڑتے ہیں اورخود اونٹ ڈکار جاتے ہیں ....
-
اسلام کے عقائد و تعلیمات کو قرآن کی آیات محکمات اور سنت ثابتہ یعنی الله تعالی اور ر...
-
فریب مقدس -Pious Deceit - الْكَذِبُ الْمُقَدَّسُ ایگزیکٹو سمری اسلام کی بنیاد قرآن پر ہے جو اللہ کا کلام ہے، ہر طرح کی تبدی...
-
علم الحدیث کے سات مجوزہ سنہری اصول یہ سوال بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ خلفاء راشدین نے قرآن کو جمع کیا تدوین کی مگر احادیث کو چھوڑ دیا ...
پوسٹ لسٹ
-
►
2024
(6)
- ► August 2024 (1)
- ► March 2024 (3)
- ► January 2024 (1)
-
►
2023
(3)
- ► March 2023 (1)
- ► February 2023 (1)
-
►
2020
(136)
- ► September 2020 (1)
- ► April 2020 (1)
- ► February 2020 (1)
- ► January 2020 (2)
-
►
2018
(1)
- ► September 2018 (1)




