رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

عظیم تحریف The Great Betrayal

قربانی اور ناخن بال کا کاٹنا 
امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے نزدیک ذوالحجہ کے چاند کے بعد بھی بال اور ناخن کاٹنا بالکل مباح (جائز) ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ ان کے نزدیک حج کے علاوہ عام دنوں میں انسان پر ایسی پابندیاں عائد نہیں ہوتیں۔ 》》》》

  
ایگزیکٹو سمری 
اسلام کی بنیاد دو چیزوں پر ہے: قرآن اور رسول اللہ ﷺ  کی صحیح سنت۔ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ہر طرح کی تبدیلی سے محفوظ ہے، جبکہ سنت وہ اعمال و اقوال ہیں جو بہت سے صحابہؓ نے براہ راست دیکھے یا سنے۔ احادیث اگرچہ اہم ہیں لیکن ان کی صحت کو پرکھنا ضروری ہے کیونکہ منافقین نے جعلی روایات گھڑی ہیں.

رسول الل نے صاف الفاظ میں حدیث لکھنے سے منع فرمایا: "میرے پاس سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو"۔ .اگرچہ چند ایک مستثنیات ملتی ہیں، لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سمیت متعدد فقیہ صحابہ کرام کو حدیث لکھنے سے انکار اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ پابندی مستقل اور دائمی نوعیت کی تھی۔

اس کی دو اہم وجوہات تھیں: پہلی یہ کہ قرآن اور حدیث کے درمیان فرق واضح رہے، کاتب وحی کا گروپ الگ تھا اس لینے یہ امکان ممکن نہیں تھا ۔ دوسری یہ کہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن کے ساتھ دوسری کتابیں نہ بنائی جائیں۔ حضرت عمرؓ نے بھی سنت لکھنے سے اس لیے گریز کیا کہ کہیں لوگ قرآن کو چھوڑ کر صرف حدیث میں نہ پڑ جائیں۔

پہلی صدی ہجری تک صحابہؓ نے احادیث لکھنے سے پرہیز کیا۔ لیکن بعد میں سیاسی اور فرقہ وارانہ اختلافات کی وجہ سے حدیث کی کتابیں لکھی جانے لگیں۔ امام ابو حنیفہؒ جیسے بڑے عالم بھی حدیث کی کتاب نہیں لکھی، جو سنت نبوی کی پابندی تھی۔

آج ہمیں چاہیے کہ قرآن کو اصل معیار بنائیں، احادیث کو قرآن کی روشنی میں پرکھیں، اور جدید ٹیکنالوجی سے تحقیق کریں۔ رسول اللہ  کا فرمان یاد رکھیں: "جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ جہنم میں جائے گا"۔ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔

بریگیڈیئر آفتاب خان (ریٹائرڈ) نے اس موضوع پر گہری تحقیق کی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ان کا   درج زیل مضمون  پڑھیں اور ویب سائٹس  وزٹ کریں-