قرآن مجید میں عمومی طور پر تمام رسولوں پر سلام بھیجا گیا ہے، جیسے "وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ" (اور سلام ہو رسولوں پر)۔ رسول اللہ ﷺ بحیثیتِ سید المرسلین اس عمومی سلام میں سب سے پہلے اور بالذات شامل ہیں۔
ترجمہ: "بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور سلام بھیجو جیسے سلام بھیجنے کا حق ہے۔"
رسول اللہ ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ نے پوری امت کو قیامت تک کے لیے درود و سلام بھیجنے کا مستقل اور دائمی حکم دیا:
"إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا" (بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجو)
یہ انداز صرف "سلام پیش کرنے" سے کہیں زیادہ بلند مقام کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی رحمت، فرشتوں کی استغفار اور مومنین کا دائمی سلام شامل ہے۔
رحمۃ للعالمین اور سراجاً منيراً کا مقام:
قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت اور بعثت کے مقصد کو "رحمۃ للعالمین" (تمام جہانوں کے لیے رحمت) اور "سراجاً منيراً" (روشن چراغ) قرار دیا گیا ہے۔ انبیاء کی پیدائش پر سلام ان کی سلامتی اور عصمت کی گواہی ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور ذاتِ مبارکہ کو بذاتِ خود پوری انسانیت کے لیے سلامتی اور رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
ابن تیمیہؒ نے اپنے دور میں عوام الناس کے عمل کی باریک بینی سے تحلیل کرتے ہوئے ایک اہم اور متوازن نقطہ نظر بھی پیش کیا:
• محبتِ رسول کا اجر:
ان کا ماننا تھا کہ جو عام لوگ کسی بدعت کا علم نہ رکھتے ہوئے، صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کی محبت، تعظیم اور احترام کی نیت سے اس دن محافل کا انعقاد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی اس خالص نیت اور محبتِ رسول پر ان کو اجر و ثواب دے سکتا ہے۔
• فرق:
وہ بدعت والے عمل (مخصوص دن کا جشن) اور اس کے پیچھے موجود جذبے (محبتِ رسول) میں فرق کرتے تھے؛ عمل اپنی جگہ سنت سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے غلط ہے، لیکن نیت کا ثواب اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتا۔
خلاصہ:
ابن تیمیہؒ کے نزدیک دینی اور شرعی اعتبار سے عید میلاد النبی منانا ایک بدعت ہے اور اتباعِ سنت کا طریقہ نہیں، لیکن جو لوگ محض محبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، ان کا معاملہ ان کی نیت اور جذبہِ محبت کی بنیاد پر قابلِ قدر ہے، جبکہ اصل اور افضل راستہ وہی ہے جس پر صحابہ کرامؓ قائم رہے۔
یہود و نصاری کی نقل نہیں ہونا چاہے .
خرافات اور غیر اسلامی رسومات سے پرہیز ہو، چاہے دینی یا کلچرل ایونٹ ہو۔
اکثر علماء ، بدعت اور یہود و نصاری کی نقل ، پیروی نہ کرنے پر بہت زور دیتے ہیں اور خود ان کی پیروی کرتے ہیں . حدیث کی کتابت نہ کرنے کا حکم رسول (ص ) نے دیا جس کو منسوخ نہ کیا مختلف تاویلات سے اس کو منسوخ کر دیا حالانکہ خلیفہ دوم حضرت عمر (رض ) نے تمام ابہام دور فرما دیے تھے اور ڈھائی سو سال اس پر عمل ہوا . پھر جو ہوا اس کو بدعت اور نافرمانی ، حکم عدولی نہیں کہتے . یہ فرقہ واریت کرتے ہیں .
دوسروں کے گلاس میں مچھر پکڑتے ہیں اورخود اونٹ ڈکار جاتے ہیں ....
تفصیل : Urdu: https://tinyurl.com/DeenMeenDhoka