رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

ایران - مزہبی جنگ جہاد یا علاقائی بالادستی


کچھ سوالات مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال اور "جہاد" کے قرآنی تصور کے درمیان ایک گہرا تضاد واضح کرتے ہیں۔ اگر ہم روائیتی بیانیہ سے ہٹ کر خالص قرآنی اصولوں اور بین الاقوامی سیاست (جیو پولیٹکس) کی بنیاد پر ان کا تجزیہ کریں، تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے:

ایران کے "جہادِ آزادیِ القدس" کے بیانیے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے اس کے مختلف تزویراتی (Strategic) اور مذہبی پہلوؤں کو دیکھنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1۔ نظریاتی اور مذہبی بیانیہ

• ایران القدس کی آزادی کو محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مذہبی فریضہ قرار دیتا ہے۔

• انقلابِ ایران کے بعد امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو "یومِ القدس" کے طور پر منانے کا آغاز کیا تاکہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر زندہ رکھا جا سکے۔

• ان کے نزدیک اسرائیل کا قیام ایک "سرطانی پھوڑا" ہے جسے جڑ سے اکھاڑنا ضروری ہے۔

یہ بہت پرکشش اقدام ہیں مگر دوسرے عرب مسلم ممالک کو ساتھ ملا کر نہیں بلکہ خود اکیلے کرنا ان کی نیت اور خلوص پر سوال اٹھاتا ہے . ابھی تک نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا.

بجاے عرب ممالک سے مل کر کسی اتحاد سے مشترکہ کوشش کرنے کے اس نے خود بندو بست کیا ہے . ایران کے لیے جہادِ القدس کی حقیقت دو رخی ہے: ایک طرف یہ ان کے انقلابی نظریے کا بنیادی ستون ہے، اور دوسری طرف یہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی قوت منوانے کا ایک اہم سیاسی ہتھیار ہے۔

2۔ "محورِ مزاحمت" (Axis of Resistance) کا قیام: ایران نے القدس کے نام پر خطے میں ایک عسکری نیٹ ورک تیار کیا ہے جسے وہ "محورِ مزاحمت" کہتے ہیں۔ اس میں شامل ہیں:١  حزب اللہ (لبنان): جو اسرائیل کے خلاف فرنٹ لائن فورس کا کام کرتی ہے۔٢ ) حماس اور اسلامی جہاد (فلسطین): جنہیں ایران مالی اور عسکری امداد فراہم کرتا ہے۔٣ ) حوثی (یمن): جو بحیرہ احمر میں اسرائیل سے وابستہ بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
3۔ فورسِ قدس (Quds Force)؛ • پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا ایک مخصوص ونگ "فورسِ قدس" کے نام سے قائم ہے جس کا ظاہری مقصد بیت المقدس کی آزادی ہے۔ اس فورس کا کام بیرونِ ملک ایرانی اثر و رسوخ بڑھانا اور اسرائیل مخالف گروہوں کی تربیت و اسلحہ فراہم کرنا ہے۔
کیا کوئی ملک اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جس کو ایران نے بھی دسخط کر رکھے ہیں اس کی اجازت دیتا ہے ؟  اگر نہیں تو امریکہ ، اسرایئل جو معاہدات  کو پرواہ نہیں کرتے اور ایک اسلامی ملک جس کو قرآن معاہدات   کی پابندی کا حکم دیتا ہے ان میں کوئی فرق ہے ؟ 

4۔ سیاسی اور تزویراتی مقاصد

ناقدین کے نزدیک ایران کے اس جہاد کے پیچھے کچھ سیاسی حقائق بھی ہیں:

علاقائی بالادستی: القدس کا نعرہ ایران کو عرب دنیا میں مقبولیت حاصل کرنے اور وہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔

دفاعی ڈھال: ایران اسرائیل کے خلاف براہِ راست جنگ کے بجائے ان گروہوں (Proxies) کو استعمال کرتا ہے تاکہ جنگ ایران کی سرزمین تک نہ پہنچے۔

5۔ عملی اقدامات اور چیلنجز

• ایران نے 2024 میں تاریخ میں پہلی بار اپنی زمین سے اسرائیل پر براہِ راست میزائل اور ڈرون حملے (آپریشن سچی بات) کیے، جسے اس نے القدس کی سمت ایک قدم قرار دیا۔ تاہم، بہت سے تجزیہ کار اسے محض ایک "نپی تلی کارروائی" قرار دیتے ہیں جس کا مقصد اپنی ساکھ بچانا تھا۔

ایران کے لیے جہادِ القدس کی حقیقت دو رخی ہے: ایک طرف یہ ان کے انقلابی نظریے کا بنیادی ستون ہے، اور دوسری طرف یہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی قوت منوانے کا ایک اہم سیاسی ہتھیار ہے۔


ریاست کے اندر ریاست اور جنگیں

تلخ حقائیق-1

1۔ لبنان میں حزب اللہ اور ریاست کے اندر ریاست

لبنان میں ایک مخصوص گروہ کو مسلح کرنا اور اسے ریاست کے متوازی کھڑا کرنا اسلامی اصولِ حکمرانی اور بین الاقوامی قانون، دونوں کے لحاظ سے "توسیع پسندی" (Expansionism) کے زمرے میں آتا ہے۔ قرآن مجید "اولو الامر" (مرکزی اتھارٹی) کی اطاعت کا حکم دیتا ہے تاکہ معاشرے میں انتشار نہ پھیلے۔ جب ایک بیرونی طاقت کسی ملک کے اندر اپنی وفادار ملیشیا بناتی ہے، تو اس کا مقصد اکثر دفاعِ اسلام سے زیادہ اپنے نظریاتی اور تزویراتی (Strategic) اثر و رسوخ کو بڑھانا ہوتا ہے۔

2۔ شام کی خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ رنگ

شام میں ایک مخصوص اقلیتی گروہ کی بقا کے لیے مداخلت کرنا اور اس کے نتیجے میں لاکھوں سنی مسلمانوں کا بے گھر ہونا یا قتل ہونا، کسی بھی صورت "جہاد" کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ پاکستانی نوجوانوں کو جہاد کے نام پر بھرتی کیا استعمال کیا . قرآن تو مظلوم کی حمایت کا حکم دیتا ہے، ظالم حکمران کی نہیں۔ یہاں جنگ کا محرک "مذہبی فریضہ" نہیں بلکہ ایک سیاسی اتحادی کو بچانا تھا تاکہ ایران کی رسائی بحیرہ روم تک برقرار رہے۔ اسے "جہاد" کہنا قرآن کے تصورِ عدل کی نفی ہے۔

3۔ عراق اور یمن میں مداخلت

عراق اور یمن (حوثی تحریک) میں مداخلت کو بھی ایران اپنے دفاعی حصار کا حصہ قرار دیتا ہے۔ تاہم، جب جنگ کا ایندھن مسلمان ہی بن رہے ہوں اور ایک فرقے کو دوسرے پر ترجیح دی جا رہی ہو، تو یہ "فتنہ" کے زمرے میں آتا ہے جسے مٹانے کا حکم قرآن نے دیا تھا۔ یمن میں انسانی المیہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اقتدار کی جنگ ہے، نہ کہ کوئی مقدس فریضہ۔

4۔ حماس کی سپورٹ اور زمینی حقائق

حماس کو سپورٹ کرنے کے حوالے سے یہ نکتہ اہم ہے کہ وہاں عملی طور پر زمین بچانے کے بجائے اسے صرف ایک "پراکسی" کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اگر کوئی ریاست واقعی جہاد یا مظلوم کی مدد کا دعویٰ کرتی ہے، تو اس کا مقصد مظلوم کو زمین دلانا اور امن قائم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے مسلسل جنگ کی آگ میں جھونک کر دور بیٹھ کر تماشہ دیکھنا۔ کشمیر کے مظلوم لوگ بھارت کے حوالہ ؟

5۔انڈیا سے دوستی اور کشمیر

انڈیا کو چاہ بہار دینا، شریک پارنرشپ دینا ، کلبھوشن کو پاکستان بھیجنا اور پھر پاکسران حملہ بھی کرنا ، جس کا فوری جواب مل گیا ، کیا ہے؟ 

1پاکستان پر ایرانی حملہ (16 جنوری 2024)

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے "پنجگور" (کوہِ سبز) میں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے "جیش العدل" نامی تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جو ایران میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھی.

 نقصان: پاکستان کے مطابق اس غیر اشتعال انگیز حملے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین لڑکیاں زخمی ہوئیں۔

2۔ پاکستان کا ردِعمل اور سفارتی اقدامات

پاکستان نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور ایرانی سفیر (جو اس وقت ایران میں تھے) کو پاکستان آنے سے روک دیا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اس کے پاس اس "غیر قانونی" عمل کا جواب دینے کا حق محفوظ ہے۔

3۔ پاکستان کا جوابی حملہ: آپریشن "مرگ بر سرمچار" (18 جنوری 2024)

ایرانی حملے کے ٹھیک دو دن بعد، پاکستان کی مسلح افواج نے ایران کے صوبے "سیستان و بلوچستان" میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ حملے کیے۔  پاکستان نے کہا کہ اس نے "سرمچاروں" (بلوچ علیحدگی پسندوں) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جو پاکستان میں حملوں کے لیے ایرانی سرزمین استعمال کر رہے تھے. اس آپریشن میں جے ایف-17 (JF-17) اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا تھا۔

4۔ کشیدگی کا خاتمہ (ڈی ایسکیلیشن): حملوں کے فوراً بعد دونوں ممالک نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا: 19 جنوری 2024 تک دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کر لیا۔ چند ہی دنوں میں دونوں ممالک کے سفیر اپنی اپنی ذمہ داریوں پر واپس آگئے اور حالات معمول پر آگئے۔

 یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا کہ ایران اور پاکستان نے ایک دوسرے کی سرزمین پر براہِ راست فوجی کارروائی کی، تاہم دونوں اطراف سے یہ واضح کیا گیا کہ ان کا ہدف ایک دوسرے کی ریاست یا عوام نہیں بلکہ "دہشت گرد گروہ" تھے۔

حاصلِ کلام: کیا یہ جہاد ہے؟

اگر ہم ان تمام اقدامات کو اکھٹا کر کے دیکھیں، تو یہ قومی مفادات کی جنگ (National Interest War) تو ہو سکتی ہے، لیکن اسے "جہاد فی سبیل اللہ" قرار دینا مشکل ہے کیونکہ:

1 مقصد: یہاں مقصد اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے بجائے علاقائی بالادستی (Regional Hegemony) نظر آتا ہے۔ اسرایئل اب بھی دندناتا پھرتا ہے نقصان مسلمانوں کا ہوا-

2 طریقہ کار: مسلمانوں کا خون بہانا اور انہیں بے گھر کرنا جہاد کے اخلاقی ضوابط کے خلاف ہے۔

3 فرقہ واریت: جہاد رنگ، نسل یا فرقے سے بالاتر ہو کر صرف حق اور انصاف کے لیے ہوتا ہے۔

یہ نکتہ درست ہے کہ چاہے وہ ایران کی پراکسیز ہوں یا انڈیا کی جارحیت، جب تک مقاصد میں "حق اور انصاف" کے بجائے "اقتدار اور تخریب" شامل ہوگی، اسے کسی صورت مقدس نہیں مانا جا سکتا۔

قرآنی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اللہ نے زمین پر خلافت اور اقتدار کو "عدل اور تقویٰ" سے جوڑا ہے، نہ کہ کسی خاص نسل یا گروہ کی ہٹ دھرمی سے۔ اگرچہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اسے بائبل کی پیشگوئیوں کا نام دیتے ہیں، لیکن انسانی سطح پر یہ:

1 توسیع پسندی (Expansionism) ہے۔

2 نسل پرستی (Apartheid) ہے۔

3 ظلم ہے، جسے مذہب کا لبادہ پہنایا گیا ہے۔

​تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاست کو مسخ شدہ مذہبی پیشگوئیوں کے تابع کیا گیا، اس کا نتیجہ صرف انسانیت کی تباہی اور خونریزی کی صورت میں نکلا۔ یہ "مذہبی جنگ" دراصل طاقت کے حصول کا ایک ذریعہ بن چکی ہے۔

اگر ایران واقعی سنجیدہ ہے تو مسمانوں کا بلاک بنائیے اور مل کر اسرائیل و امریکہ کو مجبور کریں کہ پرامن حل نکالیں مگر ایران کا رویہ اور اقدامات اس کی نفی کرتے ہیں۔

مختصر یہ کہ یہ ریاستوں کی آپسی سرد جنگ ہے جس میں مذہب کو ایک "ٹول" (آلے) کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔


تلخ حقائیق-2

پراکسی جنگوں کا بجٹ

ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی پراکسیز (لبنان، شام، عراق، اور یمن) پر کیے جانے والے اخراجات کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی اداروں اور تھنک ٹینکس نے جو اعداد و شمار جمع کیے ہیں، وہ حیران کن ہیں۔ ان اخراجات کا ایک بڑا حصہ براہِ راست نقدی، اسلحہ، تیل اور تربیت کی صورت میں دیا جاتا رہا ہے۔

مختلف ذرائع کے مطابق ان اخراجات کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ مجموعی اخراجات کا تخمینہ

بین الاقوامی تھنک ٹینکس اور امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹس کے مطابق، 2012 سے 2020 کے درمیان ایران نے صرف شام، عراق اور یمن میں اپنی کارروائیوں پر 20 سے 30 ارب ڈالر کے درمیان رقم خرچ کی۔ کچھ آزاد ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ شام کی خانہ جنگی میں بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے ایران سالانہ 6 ارب ڈالر تک خرچ کرتا رہا ہے۔

2۔ مختلف گروپس پر سالانہ اخراجات

ایران اپنے بجٹ کا ایک خاص حصہ ان گروپوں کے لیے مختص کرتا ہے:

• حزب اللہ (لبنان): رپورٹ کے مطابق ایران حزب اللہ کو سالانہ 700 ملین ڈالر (تقریباً 70 کروڑ ڈالر) فراہم کرتا ہے۔

• حماس اور اسلامی جہاد (فلسطین): ان گروپوں کو سالانہ 100 ملین ڈالر کے قریب امداد دی جاتی رہی ہے۔

• حوثی (یمن): یمن میں حوثیوں کو زیادہ تر اسلحہ اور تکنیکی مدد دی جاتی ہے، جس کی مالیت کروڑوں ڈالرز میں بتائی جاتی ہے۔

• عراقی ملیشیا: عراق میں موجود مختلف گروپس (جیسے الحشد الشعبی کے کچھ دھڑے) کو بھی بھاری مالی اور عسکری امداد دی جاتی ہے۔

3۔ معاشی اثرات اور عوامی ردِ عمل

یہ یاد رہے کہ یہ تمام اخراجات ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران خود سخت عالمی پابندیوں کا شکار تھا اور اس کی اپنی معیشت زوال پذیر تھی۔

• تیل کی آمدن کا استعمال: ایران نے اپنی تیل کی آمدن کا ایک بڑا حصہ "روائیتی بیانیہ" کے تحت سرحدوں سے باہر اثر و رسوخ بڑھانے پر لگایا۔

• داخلی احتجاج: ایران کے اندر کئی بار ایسے مظاہرے ہوئے جن میں عوام نے یہ نعرے لگائے: "نہ غزہ، نہ لبنان، میری جان صرف ایران"۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی عوام ان بھاری اخراجات کو اپنی معاشی بدحالی کی ایک بڑی وجہ سمجھتے ہیں۔

4۔ کیا یہ سرمایہ کاری سود مند رہی؟

سیاسی طور پر ایران نے ایک "زمینی پل" (Land Bridge) تو بنا لیا جو تہران سے بیروت تک جاتا ہے، لیکن اس کی قیمت اس نے اپنی معیشت کی تباہی اور خطے میں شدید فرقہ وارانہ خلیج کی صورت میں چکائی۔ اگر یہی اربوں ڈالر ایران کی اپنی صنعت اور عوام کی فلاح پر خرچ ہوتے، تو شاید آج ایران ایک مختلف معاشی قوت ہوتا۔تلخ

تلخ حقائق-3

امت مسلمہ پر اثرات

ان پراکسی جنگوں اور مخصوص نظریاتی بیانیے نے مسلم امہ کو جس طرح تقسیم کیا ہے، اس کے اثرات انتہائی گہرے اور تلخ ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

اس تقسیم کے چند بڑے پہلو یہ ہیں:

1۔فرقہ وارانہ خلیج (Sectarian Divide)

پراکسی جنگوں نے سیاست کو مذہب اور فرقے کا رنگ دے دیا۔ جہاں کہیں بھی مداخلت ہوئی، وہاں "شیعہ بمقابلہ سنی" کا ایک ایسا بیانیہ کھڑا کر دیا گیا جس نے صدیوں سے ساتھ رہنے والے مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ شام، عراق اور یمن کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں مسلمان ہی مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوا۔

2۔ بیرونی قوتوں کے لیے راستہ ہموار ہونا

جب مسلم ممالک آپس میں دست و گریبان ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف "پراکسیز" استعمال کرتے ہیں، تو بیرونی طاقتوں (جیسے امریکہ، اسرائیل اور روس) کو مداخلت کا سنہری موقع مل جاتا ہے۔ وہ ان اندرونی اختلافات کا فائدہ اٹھا کر اپنے اسلحے بیچتے ہیں اور خطے کے وسائل پر قبضہ برقرار رکھتے ہیں۔

3۔ ترجیحات کی تبدیلی

مسلم دنیا کا اصل مسئلہ معیشت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ان جنگوں کی وجہ سے اربوں ڈالر، جو عوام کی فلاح پر خرچ ہونے تھے، وہ بارود اور انسانی جانیں لینے پر ضائع ہو گئے۔

حاصلِ کلام

قرآن مجید کا حکم ہے: "اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو" (آل عمران: 103)۔

لیکن آج کی صورتحال یہ ہے کہ:

• ریاستیں اپنے جغرافیائی اور سیاسی مفادات کو "مقدس" بنا کر پیش کرتی ہیں۔

• "روائیتی بیانیہ" کے ذریعے نوجوانوں کو جذباتی کر کے دوسروں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

• اتحادِ امت کا تصور صرف تقریروں تک محدود رہ گیا ہے، جبکہ زمین پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

حقیقی اتحاد تبھی ممکن ہے جب مسلمان ممالک اپنی سرحدوں کے اندر مداخلت بند کریں اور فرقہ وارانہ شناخت کے بجائے خالص قرآنی عدل اور انسانی حقوق کو اپنی پالیسی کی بنیاد بنائیں۔


تلخ حقائق-4

مذہبی جنگ 

جب ہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو دیکھتے ہیں، تو وہاں صرف سیاسی یا معاشی مفادات نہیں بلکہ ایک گہرا "مذہبی بیانیہ" بھی کارفرما نظر آتا ہے۔

اسرائیل اور امریکی نیو کانز (Neo-Conservatives) کے گٹھ جوڑ کو درج ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:

1۔ صیہونی ریاست اور بائبل کا بیانیہ

اسرائیل کے قیام اور اس کی توسیع پسندی کے پیچھے ایک بڑا طبقہ "ارضِ مقدس" (Promised Land) کے اس تصور کو بنیاد بناتا ہے جو ان کے بقول بائبل میں موجود ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی سرحدیں نیل سے فرات تک ہونی چاہئیں۔ یہ خالصتاً ایک مذہبی ایجنڈا ہے جسے وہ سیاسی مقصد کے طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

2۔ امریکی نیو کانز اور مسیحی صیہونیت

امریکہ میں ایک طاقتور گروہ (Christian Zionists) کا یہ عقیدہ ہے کہ جب تک اسرائیل اپنی پوری طاقت کے ساتھ قائم نہیں ہوگا اور وہاں "تیسرا ہیکل" (Third Temple) تعمیر نہیں ہوگا، تب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد نہیں ہوگی۔

• یہ گروہ اسرائیل کی ہر جارحیت کو "خدا کا منصوبہ" سمجھ کر سپورٹ کرتا ہے۔

• ان کے لیے یہ کوئی علاقائی جنگ نہیں بلکہ ایک "مقدس جنگ" (Holy War) ہے جو مسیح کی آمد کے لیے راستہ ہموار کر رہی ہے۔

3۔ برتری کی جنگ: مذہبی یا سیاسی؟

ظاہر میں یہ جنگ ایک جدید ریاست کی سلامتی اور برتری کی نظر آتی ہے، لیکن اس کی بنیادیں ان قدیم پیشگوئیوں پر رکھی گئی ہیں:

• تزویراتی برتری: اسرائیل کو خطے میں سب سے طاقتور رکھنا امریکہ کی پالیسی ہے، جس میں نیو کانز کا بڑا ہاتھ ہے۔

• مذہبی جواز: جب اسرائیل فلسطین میں بستیاں بساتا ہے یا لبنان پر حملہ کرتا ہے، تو وہ اسے دفاع کے بجائے اپنی مذہبی "میراث" قرار دیتا ہے۔


اسرائیل کا مسجدِ اقصیٰ (جسے وہ ٹیمپل ماؤنٹ یا کوہِ ہیکل کہتے ہیں) پر دعویٰ بنیادی طور پر مذہبی تاریخ، آثارِ قدیمہ اور قوم پرستی پر مبنی ہے۔ ان کے اہم دلائل درج ذیل ہیں:

1۔ مذہبی اور تاریخی بنیاد (ہیکلِ سلیمانی)

یہودی عقیدے کے مطابق یہ مقام زمین کا مقدس ترین حصہ ہے۔

• ان کا ماننا ہے کہ اسی جگہ پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے پہلا ہیکل (First Temple) تعمیر کیا تھا جسے بابل کے بادشاہ بخت نصر نے تباہ کیا۔

• اس کے بعد یہاں دوسرا ہیکل (Second Temple) تعمیر ہوا جسے 70 عیسوی میں رومیوں نے منہدم کر دیا۔

• یہودی روایات کے مطابق "قدس الاقداس" (Holy of Holies) اسی چٹان کے نیچے واقع تھا جہاں اب قبتہ الصخرہ (Dome of the Rock) موجود ہے۔

2۔ دیوارِ گریہ (Wailing Wall)

مسجدِ اقصیٰ کی مغربی دیوار کا نچلا حصہ، جسے مسلمان دیوارِ براق کہتے ہیں، یہودیوں کے نزدیک ان کے قدیم ہیکل کی باقیات ہے۔

• یہ ان کے لیے دنیا کی مقدس ترین جگہ ہے جہاں وہ کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں۔

• اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ دیوار ان کے قدیم مذہبی ورثے کی علامت ہے جو مسلمانوں کی آمد سے سینکڑوں سال پہلے سے وہاں موجود ہے۔

3۔ آثارِ قدیمہ (Archaeology)

اسرائیل کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کے نیچے اور ارد گرد مسلسل کھدائی کی جاتی ہے۔

• ان کا دعویٰ ہے کہ کھدائی کے دوران ملنے والے سکے، مٹی کے برتن اور کتبے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہاں قدیم دور میں یہودی ریاست اور ان کی عبادت گاہیں قائم تھیں۔

• وہ ان دریافتوں کو اپنے حقِ ملکیت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

4۔ سیاسی اور تزویراتی دعویٰ

1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا۔

• اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا "ابدی اور غیر منقسم دارالحکومت" قرار دیتا ہے۔

• اگرچہ انتظامی طور پر انتظام اردن کے وقف کے پاس ہے، لیکن سیکورٹی اور رسائی کا مکمل کنٹرول اسرائیلی افواج کے ہاتھ میں ہے۔

5۔ ٹیمپل ماؤنٹ گروپس کا مطالبہ

اسرائیل کے اندر کچھ انتہا پسند مذہبی گروہ اب یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ وہاں "تیسرا ہیکل" تعمیر کیا جائے۔

• وہ موجودہ 'اسٹیٹس کو' (جس کے تحت یہودی وہاں صرف دورہ کر سکتے ہیں، عبادت نہیں) کو ختم کر کے وہاں باقاعدہ یہودی عبادت گاہ بنانا چاہتے ہیں۔

شیخ احمد دیدات کے بائبل سے متعلق استدلال اور قرآنی تناظر کو یکجا کر کے ایک مکمل علمی خلاصہ :

1۔ بائبل کے مطابق وعدے کی تکمیل (The Past Tense)

شیخ احمد دیدات کا سب سے بڑا استدلال یہ تھا کہ بائبل کے مطابق زمین کا وعدہ کوئی 'مستقبل' کا واقعہ نہیں بلکہ ایک 'ماضی' کی حقیقت ہے جو پوری ہو چکی تھی۔

کتابِ یشوع (Joshua 21:43-45): "خداوند نے وہ تمام زمین اسرائیل کو دے دی جس کی اس نے ان کے باپ دادا سے قسم کھائی تھی۔۔۔ خداوند کے تمام اچھے وعدوں میں سے ایک بھی ادھورا نہ رہا، سب پورے ہو گئے۔"

کتابِ یشوع 21:43-45

"پس خداوند نے اسرائیل کو وہ ساری زمین دے دی جس کی اس نے ان کے باپ دادا سے قسم کھائی تھی؛ اور وہ اس کے مالک ہو گئے اور اس میں رہنے لگے۔ اور خداوند نے ان کے چاروں طرف امن دیا۔۔۔ خداوند کے ان تمام اچھے وعدوں میں سے جو اس نے اسرائیل کے گھرانے سے کیے تھے، ایک بھی ادھورا نہ رہا؛ سب پورے ہو گئے۔"

استدلال: جب بائبل خود گواہی دے رہی ہے کہ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور بنی اسرائیل اس زمین کے مالک بن کر وہاں بس گئے، تو اب ہزاروں سال بعد اسے دوبارہ "ادھورا وعدہ" بنا کر پیش کرنا مذہبی طور پر باطل ہے۔

 زمین کا وعدہ اور وقت کی قید

وہ "کتابِ استثنا" کی اس آیت سے ثابت کرتے تھے کہ یہ حکم اس وقت کے موجود لوگوں کے لیے تھا:

کتابِ استثنا 1:8

"دیکھو، میں نے یہ زمین تمہارے سامنے کر دی ہے؛ جاؤ اور اس زمین پر قبضہ کرو جس کی خداوند نے تمہارے باپ دادا سے قسم کھائی تھی۔۔۔"

دیدات کا استدلال: یہاں "جاؤ اور قبضہ کرو" کا حکم ان لوگوں کو دیا جا رہا تھا جو اس وقت موجود تھے، یہ کوئی 3000 سال بعد کا "اوپن چیک" نہیں تھا جو کسی بھی دور میں کیش کرایا جا سکے۔

2۔ مشروط حق اور عہد شکنی (Conditional Rights)

بائبل اور قرآن دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ زمین پر اقتدار یا قیام اللہ کی اطاعت سے مشروط تھا۔

بائبل (Leviticus 18:28): "تاکہ ایسا نہ ہو کہ جب تم زمین کو ناپاک کرو، تو وہ تمہیں بھی ویسے ہی اگل دے (Vomit you out) جیسے اس نے تم سے پہلے والی قوموں کو اگل دیا تھا۔"

کتابِ احبار 18:28

"تاکہ ایسا نہ ہو کہ جب تم زمین کو ناپاک کرو، تو وہ تمہیں بھی ویسے ہی اگل دے (Vomit you out) جیسے اس نے تم سے پہلے والی قوموں کو اگل دیا تھا۔"

دیدات کا استدلال: وہ کہتے تھے کہ چونکہ تم نے انبیاء کو جھٹلایا اور ظلم کیا، اس لیے زمین نے تمہیں بائبل کے قانون کے مطابق اگل دیا، اب تمہارا حق ختم ہو چکا۔

قرآنی تناظر: قرآن مجید میں بھی ذکر ہے کہ اللہ نے انہیں زمین میں داخلے کا حکم دیا (سورہ المائدہ: 21) لیکن ان کی مسلسل نافرمانیوں، انبیاء کے قتل اور عہد شکنی کے باعث ان پر ذلت مسلط کر دی گئی۔ شیخ دیدات کے مطابق، وہ روحانی اور قانونی طور پر اس حق سے محروم ہو چکے ہیں۔

3۔ نسلِ ابراہیم کا وسیع مفہوم (The Seed of Abraham)

بائبل میں وعدہ "ابراہیم کی نسل" (Seed of Abraham) سے کیا گیا ہے۔

تکنیکی نکتہ: شیخ دیدات علمی بنیادوں پر یہ واضح کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں، جن کی نسل (عرب/مسلم) بھی اس وعدے میں برابر کی شریک ہے۔

• اگر صیہونی تحریک صرف "نسل" کو بنیاد بناتی ہے، تو وہ اکیلے اس کے وارث نہیں ہو سکتے، کیونکہ بنی اسماعیل بھی اسی جدِ امجد کی اولاد ہیں۔

4۔ سیاسی صیہونیت بمقابلہ مذہبی یہودیت

شیخ دیدات یہ نکتہ اٹھاتے تھے کہ موجودہ اسرائیل ایک سیاسی تحریک (Zionism) کا نتیجہ ہے، جس نے بائبل کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر اپنے استعماری مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

• وہ کہتے تھے کہ حقیقی بائبل تو یہ کہتی ہے کہ جب تم نے خدا کی نافرمانی کی، تو تم اس زمین سے نکال دیے گئے اور اب تمہارا وہاں زبردستی واپس آنا بائبل کی پیشگوئیوں کے خلاف ہے۔

کتابِ یشوع 21:43-45

"پس خداوند نے اسرائیل کو وہ ساری زمین دے دی جس کی اس نے ان کے باپ دادا سے قسم کھائی تھی؛ اور وہ اس کے مالک ہو گئے اور اس میں رہنے لگے۔ اور خداوند نے ان کے چاروں طرف امن دیا۔۔۔ خداوند کے ان تمام اچھے وعدوں میں سے جو اس نے اسرائیل کے گھرانے سے کیے تھے، ایک بھی ادھورا نہ رہا؛ سب پورے ہو گئے۔"

خلاصہِ علمی

شیخ احمد دیدات ان آیات کو ملا کر یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ:

 1۔ بائبل کے مطابق اللہ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا تھا (یشوع 21:43)۔

 2۔ نافرمانی کی وجہ سے یہودی اس حق سے محروم کر دیے گئے (احبار 18:28)۔

 3۔ اگر حق نسل کا ہے تو بنی اسماعیل (مسلمان) بھی اس کے وارث ہیں (پیدائش 15:18)۔

زمین کا وعدہ تاریخی طور پر پورا ہو چکا تھا، موجودہ قبضہ بائبل کے احکامات کی رو سے ناجائز ہے کیونکہ وہ عہد شکنی کے مرتکب ہوئے۔ صیہونی ریاست کا قیام ایک سیاسی دھوکہ ہے جسے مذہبی لبادہ پہنایا گیا ہے۔

شیخ احمد دیدات کے مناظروں اور خطابات میں ان آیات کا استعمال اس قدر مؤثر تھا کہ بڑے بڑے پادری اور صیہونی حامی اس کا جواب دینے سے قاصر رہے۔ اس حوالے سے چند اہم ترین واقعات اور ان کے علمی حملے درج ذیل ہیں:

1۔ لبرل پادریوں اور صیہونیوں کے خلاف "کیس کلوزڈ"

شیخ دیدات اپنے مشہورِ زمانہ خطبے "Israel: A Prophetic Fulfillment ?" میں بائبل کی کتابِ یشوع (Joshua) کی آیات پیش کر کے یہ ثابت کرتے تھے کہ موجودہ اسرائیل کا قیام کوئی الٰہی پیشگوئی (Prophecy) نہیں ہے۔

• ان کا مشہور جملہ تھا: "اگر خدا نے زمین دینے کا وعدہ کیا تھا، تو وہ تو یشوع کے دور میں ہی پورا ہو چکا۔ اب آپ کس نئے وعدے کی بات کر رہے ہیں؟"

• جب مخالفین یہ کہتے کہ "خدا نے یہ زمین ابد تک کے لیے دی ہے،" تو دیدات بائبل کی ان آیات سے جواب دیتے جہاں بنی اسرائیل کی عہد شکنی کے سبب ان سے زمین چھیننے اور انہیں تتر بتر کرنے کی وعید دی گئی تھی۔

2۔ حضرت اسماعیل (ع) کا حقِ وراثت

شیخ دیدات نے اپنے مناظروں میں "عہد نامہ قدیم" (Old Testament) کی کتابِ پیدائش (Genesis 17:20) کا حوالہ دے کر مخالفین کو لاجواب کیا:  بائبل کے الفاظ: "اور اسماعیل کے حق میں بھی میں نے تیری سنی؛ دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے نہایت ہی بارآور کروں گا۔۔۔ اور میں اسے ایک بڑی قوم بناؤں گا۔"

دیدات کا استدلال: اگر خدا نے حضرت ابراہیم (ع) سے وعدہ کیا کہ ان کی نسل کو زمین ملے گی، تو اسماعیل (ع) سب سے بڑے بیٹے تھے۔ کیا خدا نے (نعوذ باللہ) اپنے وعدے میں تفریق کی؟ اگر نہیں، تو عرب (بنی اسماعیل) اس زمین کے اصل وارث ہیں جو وہاں صدیوں سے آباد رہے۔

3۔ زمین کا "اگل دیا جانا" (Vomiting out)

شیخ دیدات اکثر Leviticus 18:28 کا حوالہ دے کر اخلاقی برتری حاصل کرتے تھے۔

• وہ کہتے تھے کہ بائبل کے مطابق زمین ان لوگوں کو "اگل دیتی ہے" جو اس پر گناہ اور ظلم کرتے ہیں۔

• ان کا موقف تھا کہ موجودہ صیہونی ریاست جس طرح فلسطینیوں پر ظلم کر رہی ہے، وہ بائبل کے معیار پر بھی "ناپاک" ہے، لہذا بائبل کی رو سے بھی انہیں وہاں رہنے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں۔

4۔ صیہونیت بمقابلہ تورات (Zionism vs Torah)

شیخ دیدات نے اپنے لیکچرز میں ان یہودی گروہوں (جیسے Neturei Karta) کا حوالہ بھی دیا جو خود اسرائیل کے قیام کو بائبل کے خلاف سمجھتے ہیں۔

 وہ ثابت کرتے تھے کہ تورات کے مطابق یہودیوں کو جلاوطنی (Exile) کی سزا ملی تھی، اور اسے زبردستی ختم کر کے ریاست قائم کرنا خدا کے فیصلے کے خلاف بغاوت ہے۔

خلاصہِ اثرات

شیخ احمد دیدات کے ان دلائل کا نتیجہ یہ نکلا کہ:

• مسیحی دنیا میں "Christian Zionism" کے نظریے کو شدید دھچکا لگا۔

• مسلمانوں کو پہلی بار بائبل کے اندر سے ایسے حوالے ملے جن سے وہ مغربی میڈیا کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کر سکے۔

• انہوں نے ثابت کیا کہ اسرائیل کا مسئلہ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ہے، جسے غلط طور پر بائبل سے جوڑا جاتا ہے۔

 بائبل سے دیے گئے دلائل اور قرآن مجید کے بیانیے میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے، جو اس مسئلے کو محض ایک نسلی جھگڑے کے بجائے ایک اخلاقی اور اصولی تناظر میں پیش کرتے ہیں۔ ان دونوں مقدس کتابوں کے تقابلی مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ زمین کی وراثت کا حق کس بنیاد پر طے ہوتا ہے۔

1۔ زمین میں داخلے کا حکم اور اس کی حقیقت

بائبل کی کتابِ استثنا (1:8) میں جہاں بنی اسرائیل کو "جاؤ اور قبضہ کرو" کا حکم دیا گیا، اسے شیخ دیدات ایک خاص وقت اور نسل کے لیے مخصوص قرار دیتے تھے۔ قرآن مجید اسی واقعے کی تصدیق سورہ المائدہ (آیت 21) میں کرتا ہے، جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ "اے میری قوم! اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے"۔ شیخ دیدات کا نکتہ یہ تھا کہ دونوں کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حکم اس وقت کے موجود لوگوں کے لیے تھا جو صحرائے سینا میں بھٹک رہے تھے، نہ کہ یہ کوئی ایسا "اوپن چیک" ہے جسے 3000 سال بعد کی کوئی سیاسی تحریک کیش کرا سکے۔

2۔ وعدے کی مشروطیت اور الہٰی عہد

بائبل کی کتابِ احبار (18:28) میں یہ سخت تنبیہ موجود ہے کہ اگر تم زمین کو ناپاک کرو گے تو وہ تمہیں "اگل" دے گی۔ اسی طرح قرآن مجید سورہ البقرہ (آیت 124) میں واضح کرتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے امامت اور زمین کی وراثت چاہی تو اللہ نے دو ٹوک جواب دیا کہ "میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا"۔ شیخ دیدات اس سے یہ ثابت کرتے تھے کہ زمین پر قیام کا حق 'غیر مشروط' نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت اور عدل سے مشروط ہے۔ جب بنی اسرائیل نے ظلم کیا اور عہد توڑا، تو وہ اس الہٰی حق سے اخلاقی طور پر محروم ہو گئے۔

3۔ نسلِ ابراہیم کا وسیع مفہوم اور وراثت

بائبل کی کتابِ پیدائش (15:18) میں وعدہ "ابراہیم کی نسل" (Seed of Abraham) کے لیے ہے۔ شیخ دیدات یہاں علمی نکتہ اٹھاتے تھے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے تھے، لہذا "نسل" کی بنیاد پر بنی اسماعیل (عرب/مسلم) بھی اس کے برابر کے حقدار ہیں۔ قرآن مجید سورہ آل عمران (آیت 68) میں اس کی مزید وضاحت کرتا ہے کہ "ابراہیم سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی، اور یہ نبی (محمد ﷺ) اور وہ لوگ جو ان پر ایمان لائے"۔ یعنی وراثت کا اصل معیار 'ڈی این اے' نہیں بلکہ 'ایمان اور نظریہ' ہے۔

4۔ فساد، سزا اور جلاوطنی کا قانون

بائبل کے انبیاء نے بنی اسرائیل کو ان کے فساد کی وجہ سے جلاوطنی کی سزا کی خبر دی تھی۔ قرآن مجید سورہ بنی اسرائیل (آیات 4-5) میں اسی تاریخی حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ "ہم نے کتاب میں صاف فرما دیا تھا کہ تم زمین میں دو بار ضرور فساد مچاؤ گے۔۔۔ تو جب پہلے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے تم پر اپنے سخت لڑنے والے بندے بھیجے"۔ شیخ دیدات کے مطابق، یہ آیات ثابت کرتی ہیں کہ ان کا زمین سے نکالا جانا اللہ کا اٹل فیصلہ تھا، اور اب زبردستی واپسی دراصل اللہ کے اسی فیصلے کے خلاف بغاوت ہے۔

5۔ حتمی فیصلہ: زمین کے اصل وارث

شیخ احمد دیدات اپنی گفتگو کا اختتام ہمیشہ اس قرآنی اصول پر کرتے تھے جو سورہ الانبیاء (آیت 105) میں بیان ہوا ہے کہ "بے شک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے 'صالح' (نیک) بندے ہوں گے"۔ ان کا لبِ لباب یہ تھا کہ فلسطین کی مقدس زمین کسی خاص نسل کی جاگیر نہیں بلکہ ان لوگوں کی ہے جو وہاں اللہ کے احکامات کے مطابق امن، انصاف اور توحید کو قائم کریں۔


مسجدِ اقصیٰ پر مسلمانوں کا دعویٰ مذہبی، تاریخی اور قانونی بنیادوں پر مبنی ہے۔ اس حوالے سے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1۔ مذہبی اہمیت (قرآنی اور علمی بنیاد): مسلمانوں کے نزدیک مسجدِ اقصیٰ کی اہمیت قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل (آیت 1) سے ثابت ہے، جہاں 'مسجدِ حرام' سے 'مسجدِ اقصیٰ' تک کے سفرِ معراج کا ذکر ہے۔

• یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے، جس کی طرف رخ کر کے رسول اللہ اور صحابہ کرام نے ایک مدت تک نماز ادا کی۔احادیثِ مبارکہ کے مطابق یہ ان تین مساجد میں سے ایک ہے جن کی زیارت کے لیے سفر کرنا باعثِ برکت سمجھا جاتا ہے۔

2۔ تاریخی تسلسل

تاریخی طور پر اس مقام پر مسلمانوں کا قبضہ طویل عرصے پر محیط رہا ہے:

عہدِ فاروقی: 637 عیسوی میں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کے دور میں بیت المقدس فتح ہوا اور وہاں باقاعدہ اسلامی دور کا آغاز ہوا۔

تعمیرات: اموی دورِ حکومت میں عبدالملک بن مروان اور ولید بن عبدالملک نے مسجدِ اقصیٰ اور قبتہ الصخرہ (Dome of the Rock) کی موجودہ ڈھانچے کے مطابق تعمیر و توسیع کی۔

صلاح الدین ایوبی: صلیبی جنگوں کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے دوبارہ واگزار کرایا، جس کے بعد سے 1967 تک یہ مسلسل مسلم انتظام میں رہا۔

3۔ بین الاقوامی قانون اور موجودہ صورتحال

بین الاقوامی سطح پر مسجدِ اقصیٰ کے حوالے سے درج ذیل حقائق اہم ہیں:

اسٹیٹس کو (Status Quo): عالمی قوانین کے تحت مسجدِ اقصیٰ کا انتظام "اردن" کے وقف بورڈ کے پاس ہے، جسے "یروشلم اسلامک وقف" کہا جاتا ہے۔

یونیسکو (UNESCO): اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے کئی بار یہ قرارداد منظور کی ہے کہ مسجدِ اقصیٰ اور اس کا احاطہ (حرم الشریف) مسلمانوں کی ایک مقدس عبادت گاہ ہے اور اس کا یہودیوں کے "ٹیمپل ماؤنٹ" سے تاریخی تعلق ثابت شدہ نہیں۔

اسرائیلی قبضہ: 1967 کی جنگ کے بعد سے مشرقی یروشلم پر اسرائیل کا قبضہ ہے، جسے عالمی برادری کی اکثریت تسلیم نہیں کرتی اور اسے مقبوضہ علاقہ قرار دیتی ہے۔

مسلمانوں کا موقف

مسلمانوں کا بنیادی موقف یہ ہے کہ پورا 144 کنال کا احاطہ (جسے الحرم الشریف کہا جاتا ہے) ایک مسجد ہے اور اس پر کسی دوسرے مذہب کا کوئی حقِ ملکیت یا عبادت کا حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

اسرائیل کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ مقام اسلام سے بہت پہلے ان کا مذہبی مرکز تھا، جبکہ مسلمانوں کا موقف (جیسا کہ پہلے ذکر ہوا) یہ ہے کہ یہ مقام اب ایک خالص اسلامی وقف ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی کھدائی یا تبدیلی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

Palestine, Bible, Quran & History: https://t.co/hPfccOpnMu

حاصلِ کلام اور حقیقت

قرآنی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اللہ نے زمین پر خلافت اور اقتدار کو "عدل اور تقویٰ" سے جوڑا ہے، نہ کہ کسی خاص نسل یا گروہ کی ہٹ دھرمی سے۔ اگرچہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اسے بائبل کی پیشگوئیوں کا نام دیتے ہیں، لیکن انسانی سطح پر یہ:

1 توسیع پسندی (Expansionism) ہے۔

2 نسل پرستی (Apartheid) ہے۔

3 ظلم ہے، جسے مذہب کا لبادہ پہنایا گیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاست کو مسخ شدہ مذہبی پیشگوئیوں کے تابع کیا گیا، اس کا نتیجہ صرف انسانیت کی تباہی اور خونریزی کی صورت میں نکلا۔ یہ "مذہبی جنگ" دراصل طاقت کے حصول کا ایک ذریعہ بن چکی ہے۔تلخ حقائق -5

مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ جتنا پیچیدہ ہے، اس کا حل بھی اتنا ہی ہمہ جہت مطالبات کرتا ہے۔ اگر ہم "روائیتی بیانیہ" اور جذباتی نعروں سے ہٹ کر خالص عقلی، سیاسی اور قرآنی اصولوں کی بنیاد پر دیکھیں، تو اس کے حل کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:

1۔بیرونی مداخلت کا خاتمہ اور خود مختاری

مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اسے عالمی طاقتوں (امریکہ، روس) نے اپنی شطرنج کی بساط بنا رکھا ہے۔

حل: خطے کے ممالک کو اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے۔ جب تک عرب ممالک یا ایران اپنی بقا کے لیے بیرونی بیساکھیوں (جیسے نیو کانز یا دیگر قوتوں) پر بھروسہ کریں گے، امن خواب ہی رہے گا۔

2۔ فرقہ وارانہ شناخت سے بالا تر سیاسی ڈھانچہ

جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا، ایران اور دیگر ممالک کی پراکسی جنگوں نے امت کو تقسیم کر دیا ہے۔

• حل: ریاستوں کو "شیعہ" یا "سنی" کارڈ کھیلنے کے بجائے "شہری حقوق" اور "انصاف" کی بنیاد پر پالیسیاں بنانی ہوں گی۔ جب تک مشرقِ وسطیٰ میں حکومتیں اپنے عوام کو فرقوں میں تقسیم رکھیں گی، دشمن کو مداخلت کا موقع ملتا رہے گا۔

3۔ معاشی انضمام (Economic Integration)

یورپ نے صدیوں کی جنگوں کے بعد "یورپی یونین" بنا کر امن قائم کیا۔ مشرقِ وسطیٰ کے پاس تیل، گیس اور معدنیات کے وسیع ذخائر ہیں۔ اگر یہ ممالک ایک دوسرے کے خلاف اربوں ڈالر بارود پر خرچ کرنے کے بجائے مشترکہ منڈی (Common Market) بنائیں، تو معاشی مفادات جنگ کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ جب دبئی، تہران، ریاض اور بغداد معاشی طور پر ایک دوسرے 'سے جڑ جائیں گے، تو جنگ کسی کے مفاد میں نہیں رہے گی۔


4۔ فلسطین کا منصفانہ حل

یہ مشرقِ وسطیٰ کے ناسور کی اصل جڑ ہے۔ اسرائیل کی توسیع پسندی اور بائبل کے بیانیے پر مبنی جارحیت نے پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رکھا ہے۔

• حل: بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے مطابق فلسطینیوں کو ان کی زمین پر حقِ خودارادیت دینا ہوگا۔ جب تک ایک مظلوم قوم کو دیوار سے لگایا جاتا رہے گا، انتہا پسندی کو پنپنے کا موقع ملتا رہے گا۔

5۔ قرآنی اصولِ عدل کی واپسی

قرآن کا اصول ہے کہ "کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل چھوڑ دو"۔

• حل: مسلم ممالک کو اپنی خارجہ پالیسی "اپنے مسلک کی برتری" کے بجائے "عدل و انصاف" پر استوار کرنی ہوگی۔ اگر ایک ملک دوسرے کے اندر پراکسیز بنانا چھوڑ دے اور "اولو الامر" کے احترام کے ساتھ ساتھ عوامی امنگوں کا خیال رکھا جائے، تو داخلی انتشار ختم ہو سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا حل کسی معجزے میں نہیں، بلکہ طرزِ حکمرانی کی تبدیلی اور دشمنی کے بجائے تعاون کی پالیسی اپنانے میں ہے۔ (اختتام) AAK

................. ............. ........... ........

مشرق وسطیٰ میں مزہبی جنگ ، جہاد یا علاقائی بالادستی کی جنگ؟ تلخ حقائق:

https://quran1book.blogspot.com/2026/03/Iran.html


SalaamOne.com/Notes

https://www.facebook.com/QuranSubject

https://whatsapp.com/channel/0029VbAtmSV4dTnGU7MZ2e2n

☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly