قرآن مجید کے اصطلاحی، لغوی اور قانونی نظام میں 'اطاعت' اور 'اتباع' دو بالکل مختلف علمی، عسکری اور شریعت ساز تصورات ہیں، جن کا گہرا تعلق قانون کی مکتوب شکل، حاکم کی نوعیت اور انسانی عمل کے دائرہ کار سے ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ، معانی اور اسلوب کے گہرے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں مختلف علمی اور عملی ابعاد کو محیط ہیں، جن کو خلط ملط کرنے سے شریعت کا اصل مرکزہ (Center of Gravity) تبدیل ہو جاتا ہے۔ روائیتی بیانیہ کے خلط ملط کردہ تصورات سے ہٹ کر، اگر انہیں خالص قرآنی اور عقلی(8:22) بنیادوں پر سمجھا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔
1۔ لغوی و قرآنی تفریق اور ان کا بنیادی دائرہ کار
الف) اطاعت (Obedience)
اطاعت کا مادہ "طوع" ہے، جس کا لغوی مطلب ہے خوشی، رغبت اور رضا مندی سے کسی کے حکم کو تسلیم کرنا، اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اور اس کی فرمانبرداری کا طوق گردن میں ڈالنا۔
• حکم اور قانون کی پابندی:
اطاعت کا تعلق بنیادی طور پر کسی صاحبِ اختیار (Authority) کے صریح، واضح اور مکتوب احکامات، قوانین، فرائض، حدود اور جاری کردہ ضوابط پر من وعن عمل کرنے سے ہے۔ یہ ایک منصبی، قانونی اور انتظامی ضرورت کا نام ہے۔
• قرآنی دائرہ کار:
قرآن مجید میں جہاں قانون، حدود اللہ اور حتمی ضابطوں کا ذکر آتا ہے، وہاں اطاعت کا حکم صادر کیا گیا ہے، جیسے اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت۔
• رسول کی اطاعت کی حقیقت:
قرآن مجید نے خود اس بات کو بالکل صاف کر دیا ہے کہ رسول کی اپنی کوئی مستقل یا الگ شریعت نہیں ہوتی، بلکہ وہ دین کے متعلق جو کچھ بھی حکم دیتا ہے، وہ اللہ ہی کا حکم ہوتا ہے (ذاتی اور معاشرتی معاملات اس سے الگ ہیں)۔ چنانچہ سورہ النساء میں فرمایا گیا: "مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ" (النساء: 80) یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ ہی کی اطاعت کی۔ رسول چونکہ وحیِ الہیٰ (قرآن مجید) کا پیغامبر اور اس کا پہلا مفسر و مجسم نمونہ ہوتا ہے، اس لیے کتاب کو لانے والے کی اطاعت کے بغیر خود کتاب پر عمل ممکن نہیں ہوتا۔ جب تک رسول دنیائے فانی میں موجود تھے، ان کا ہر شرعی فیصلہ، ہر عدالتی حکم اور ہر تصفیہ واجب الاطاعت تھا ......... Read more »
• قرآنی مثال:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ... (النساء: 59)
(اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی...)
یہاں اطاعت کا حکم اس لیے ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ اللہ کے مکتوب اور قانونی احکامات (وحی) کو نافذ کرنے والے مقتدر حاکم اور صاحبِ منصب ہیں۔
ب) اتباع (Following / Tracking / Imitation)
اتباع کا مادہ "تبع" ہے، جس کے لغوی معنی ہیں کسی کے پیچھے پیچھے چلنا، کسی کے چھوڑے ہوئے نقوشِ قدم (Footsteps) کی کھوج لگانا، اس کو ٹریک کرنا یا کسی کو اپنا مثالی نمونۂ عمل (Role Model) بنا کر اس کی روش اختیار کر لینا، یعنی جہاں جہاں متبوع کا قدم پڑے، وہیں اپنا قدم رکھنا۔
• طریقہ کار اور اسوہ کی پیروی:
اتباع صرف کسی جامد یا صریح حکم نامے کو ماننے کا نام نہیں، بلکہ صاحبِ امر کے پورے طریقے، اس کی چال ڈھال، اس کے انداز، اس کی مجموعی روش اور راستے پر چلنے کا نام ہے۔
• محبت اور قلبی تعلق:
اتباع میں قانون کی پاسداری سے بڑھ کر ایک گہرا قلبی, شعوری اور ارادی تعلق شامل ہوتا ہے۔ انسان جس کی عظمت سے متاثر ہوتا ہے یا جس سے سچی محبت کرتا ہے، اس کے پیچھے چلتا ہے۔
• قرآنی مثالیں:
...وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الاعراف: 157)
(...اور انہوں نے اس نور (قرآن) کی اتباع کی جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں)
نور یا کتاب کی "اطاعت" (زندہ حاکم کے طور پر) نہیں ہوتی، بلکہ اس کے دکھائے ہوئے راستے پر "اتباع" (پیچھے چلنا) ہوتا ہے۔
اسی طرح محبت کے ذیل میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ... (آل عمران: 31)
(اے رسول! کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا)۔
علمی خلاصۂ تفریق:
• اطاعت کا تعلق براہِ راست "حکم" (Command) سے ہے، جبکہ اتباع کا تعلق "راستے اور طریقے" (Path/Pattern) سے ہے۔
• اطاعت میں قانون اور ضابطے کی پاسداری کا پہلو نمایاں ہوتا ہے، جبکہ اتباع میں محبت، اسوہ اور کامل پیروی کا پہلو شامل ہوتا ہے۔
• ہر اتباع کرنے والا لازمی طور پر اطاعت گزار بھی ہوتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر اطاعت گزار (جو صرف بیرونی خوف یا مجبوری میں حکم مان رہا ہو) ہر معاملے میں دل کی رغبت سے مکمل اتباع (نقشِ قدم کی پیروی) بھی کر رہا ہو۔
2۔ اطاعت کا قانونی ڈھانچہ اور اس کے تین لازمی عناصر
عقلِ سلیم، قانونِ شریعت اور زبانِ عرب کے مسلمہ اصولوں کے مطابق، اطاعت (Obedience) کے مادی وجود اور نفاذ کے لیے تین عناصر کا بیک وقت موجود ہونا لازمی ہے:
(1) آمر (حکم دینے والا)، (2) امر (حکم)، اور (3) مأمور (حکم کا مخاطب)۔
1. آمر (حکم دینے والا)، (Ruler / Authority):
حکم دینے والی وہ متحرک ہستی جو صاحبِ امر ہو اور جس کے پاس اطاعت کروانے کا قانونی منصب یا مقتدر اختیار ہو۔
2. مأمور (Subject):
وہ فرد، امت یا گروہ جس پر وہ حکم نافذ ہوتا ہے اور جس کے ذمہ فرمانبرداری لازم کی گئی ہو۔
3. حکم/ امر (Command / Law):
وہ صریح، واضح اور مکتوب ضابطہ، قانون یا آرڈر جو حاکم کی طرف سے صادر کیا گیا ہو۔
اطاعت چونکہ ایک منصبی، متحرک اور قانونی تعلق کا نام ہے، اس لیے اس میں حاکم کی حیات، ظاہری موجودگی یا اس کے منصب کا برقرار رہنا شرطِ اول ہے۔ اگر ان تینوں میں سے ایک عنصر بھی مفقود یا غائب ہو جائے، تو قانون کی زبان میں "اطاعت" کا لفظ لاگو ہی نہیں ہو سکتا۔ جب حاکم یا اس کا متحرک منصب موجود نہ رہے، تو براہِ راست اطاعت کا وہ قانونی تعلق تبدیل ہو جاتا ہے۔
3۔ قانونِ فطرت: زندہ کی اطاعت اور مرحوم کی اتباع
اطاعت اور اتباع کا یہ جوہری فرق قانونِ فطرت اور الٰہی ضابطے کے عین مطابق ہے:
• اطاعت "زندہ" کی ہوتی ہے:
ایک حاکم جب تک اپنے منصب پر زندہ اور موجود ہے، اس کی "اطاعت" کی جاتی ہے کیونکہ وہ نئے حالات و واقعات کے مطابق نئے احکامات جاری کر سکتا ہے، ممانعت کر سکتا ہے، تصحیح کر سکتا ہے اور حدود مقرر کر سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب تک ظاہری حیات میں موجود تھے، صحابہ کرام پر آپ ﷺ کی "اطاعت" فرض تھی کیونکہ آپ بحیثیتِ حاکم اور ریاست کے سربراہ ان کے سامنے موجود تھے اور روزمرہ کے معاملات میں براہِ راست فیصلے فرما رہے تھے۔ اب جب رسول اللہ ﷺ جسمانی طور پر موجود نہیں ہیں تو وہ نیا حکم نہیں دے سکتے، جبکہ اللہ تعالیٰ "حیّ" یعنی ہمیشہ زندہ ہے اور اس کا مکتوب کلام (قرآن) ہمارے پاس موجود ہے جس کے احکامات پر عمل ہوتا ہے۔
• اتباع کے لیے دو عناصر کافی ہیں:
اتباع (Following) کے معاملے میں بنیادی طور پر دو ہی عناصر محور ہوتے ہیں؛ ایک متبع (پیروی کرنے والا) اور دوسرا متبع (وہ راستہ، نقشِ قدم، اسوہ یا طریقہ کار جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے)۔ اتباع کے لیے اس ہستی کا جسمانی طور پر دنیا میں موجود ہونا شرط نہیں ہے۔ اگر وہ ہستی دنیا سے تشریف لے جا چکی ہو (فوت ہو چکی ہو)، تب بھی ان کا چھوڑا ہوا اسوہ، قائمہ طریقہ اور نقوشِ قدم محفوظ شکل میں موجود ہوتے ہیں۔ پیروی کرنے والا ان کے اسی طریقے اور نقشِ قدم کو دیکھ کر ان کے پیچھے چلتا ہے۔
• اصطلاحات کی تبدیلی:
قرآن مجید میں خود قرآن کو ہی "حدیث" (احسن الحدیث) کہا گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ بھی ہر خطبے سے قبل قرآن کو ہی "بہترین حدیث" فرمایا کرتے تھے۔ بعد کے ادوار میں نہ جانے یہ اہم اصطلاحات کس نے اور کب تبدیل کر دیں۔ چنانچہ اب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ان کے اسوۂ حسنہ کی "اتباع" ہوتی ہے جو کہ ایک عملی نظام ہے ( صَلَاة اور عبادات) ۔ پس زندگی میں رسول اللہ ﷺ اور اللہ کی اطاعت تھی، اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد اطاعت صرف اللہ کی ہوتی ہے اس کے قرآن سے، اور اتباع حضرت ابراہیم علیہ السلام اور رسول اللہ ﷺ کے "اسوۂ حسنہ" پر عمل کرنے سے ہوتی ہے۔
اس استنباط کی روشنی میں حدیث کی حیثیت یہ بنتی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ، منہج اور عملی زندگی کو سمجھنے کا ایک اہم تاریخی ماخذ ہے جو ظنی ہے ۔ تاہم امت پر دائمی واجب الاطاعت احکام کا اصل ماخذ اللہ کا محفوظ کلام، یعنی قرآن ہے، جسے رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی طرف سے پہنچایا اور یہ محفوظ ، یقینی ہے، ظنی نہیں.
4۔ حضرت ابراہیمؑ اور رسول اللہ ﷺ کی مشترکہ قرآنی مثالیں
قرآن مجید نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور رسول اللہ ﷺ دونوں کے اسوۂ مبارکہ کو ایک ہی میزان میں رکھ کر اس اصطلاحی اور قانونی فرق کی حتمی تصدیق فرمائی ہے کہ جو ہستیاں فوت ہو چکی ہوں، ان کی اطاعت نہیں بلکہ صرف اتباع ہوتی ہے۔
جب ہم قرآن مجید کا موازنہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں جلیل القدرا نبیاء کے تاریخی نقشِ قدم اور ملت کی پیروی کے لیے ہمیشہ اتباع (Follow/Track) کا لفظ منتخب کیا ہے، نہ کہ اطاعت کا۔
1) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے اتباع کا قرآنی ضابطہ:
حضرت ابراہیم علیہ السلام چونکہ ایک تاریخی مقتدر کے طور پر رخصت ہو چکے ہیں، اس لیے قرآن نے ان کے طریقے کی پیروی کے لیے براہِ راست "اتباع" کا حکم صادر فرمایا اور "اطاعت" کا لفظ استعمال نہیں کیا:
• ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا... (النحل: 123)
(پھر ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ آپ ابراہیم کے طریقے کی اتباع کریں جو بالکل یکسو تھے)۔
• وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْہَهُ Lِلَّهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا... (النساء: 125)
(اور اس شخص سے بہتر کس کا دین ہو سکتا ہے جس نے اپنا رخ اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ نیکوکار ہو، اور اس نے ابراہیم کے طریقے کی اتباع کی جو یکسو تھے...)۔
• خود حضرت ابراہیمؑ کا اپنا بیان بھی قرآن نے یوں نقل فرمایا جب انہوں نے اپنے والد کو دعوت دی تھی:
يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا Lَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا (مریم: 43)
(اے میرے باپ! میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، پس آپ میری اتباع کریں (میرے پیچھے چلیں)، میں آپ کو سیدھا راستہ دکھاؤں گا)۔
2) رسول اللہ ﷺ کے لیے اتباع کا وہی بعینہٖ ضابطہ:
یہی الٰہی اصول خود رسول اللہ ﷺ کی ذات اور ان کے چھوڑے ہوئے مکتوب نور (قرآن) پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب ظاہری حیات کا دور گزر جائے اور قائمہ اسوہ باقی رہ جائے تو امت کو "اتباع" کا حکم دیا گیا:
• قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ... (آل عمران: 31)
(آپ کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا...)۔
• ...وَانْصُرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الاعراف: 157)
(...اور انہوں نے اس نور (قرآن) کی اتباع کی جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں)۔
• خود رسول اللہ ﷺ کو بھی اپنی ذات کے لیے یہی مکتوب ضابطہ پانے کا حکم تھا کہ وہ وحی الٰہی کے تابع رہیں:
اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ... (الانعام: 106)
(آپ خود اس چیز کی اتباع کیجیے جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر وحی کی گئی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں)۔
5۔ حدیث نہیں عمل کی ضرورت: کتابتِ حدیث کی ممانعت کی اصل حکمت
رسول اللہ ﷺ کا احادیث کو مستقل کتابی شکل میں لکھنے سے سختی سے منع فرمانا (جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے: "مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو"، اور تقیید العلم اور مسند احمد کی مستند روایات سے بھی یہی ثابت ہے) اسی قرآنی اور قانونی حکمت پر مبنی تھا۔ اگرچہ کچھ وقتی استثنائی اجازتیں موجود تھیں (کمزور حافظے والے بعض صحابہ کے لیے ذاتی نوٹس بنانے کی حد تک)، مگر اجتماعی سطح پر کتابتِ حدیث کی ممانعت کا یہ بنیادی اور اصولی حکم کبھی منسوخ نہیں ہوا۔ اس ابہام کی دوری اور مزید تصدیق خلیفہ اول کے عمل، خلیفہ راشد دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، اور باقی خلفاء راشدین کے علاوہ دو صدی سے زائد کے عملی تعامل سے ہوتی ہے۔
اس ممانعت کے پیچھے نہایت گہری قرآنی حکمتیں اور تحریف کا سدِ باب مقصود تھا:
• تحریف کا سدِ باب:
اللہ تعالیٰ کا یہ ابدی قانون ہے کہ پہلی اقوام اور امتیں (یہود و نصاریٰ) اسی لیے گمراہ ہوئیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کے علاوہ تفسیری روایات اور انسانی اقوال پر مشتمل دوسری کتب لکھ کر انہیں مستقل قانون بنا لیا اور اصل کتابِ الٰہی کو متروک (مہجور) کر کے دین کو مسخ کر دیا۔ اسلام کو اس تحریف سے بچانے کے لیے ضروری تھا کہ وحیِ الٰہی (جو کہ صرف اور صرف قرآن مجید ہے) کو بالکل خالص، ممتاز اور ممیز رکھا جائے۔ آپ ﷺ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بخوبی جانتے تھے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے زبانی ارشادات، نجی گفتگو اور وقتی فیصلوں کو بھی لکھ کر ایک مستقل مکتوب قانون یا متوازی الہامی کتاب بنا دیا گیا، تو امتِ مسلمہ بھی پہلی امتوں کی طرح قرآن کو چھوڑ کر ان انسانی مکتوبات کی "اطاعت" میں الجھ جائے گی۔
• متواتر اور غیر متواتر کا فرق:
قرآن مجید "متواتر" ہے، یعنی یہ امت کے تواترِ عملی، تعامل اور لاکھوں انسانوں کی زبانی و تحریری منتقلی سے ہم تک پہنچا ہے اور اس کو ریکارڈ کرنے کا پورا ایک باقاعدہ سرکاری نظام موجود تھا، جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ نے لیا ہے۔ اس کے برعکس، بعد کے ادوار میں جمع کی جانے والی ظنی روایات (اخبارِ آحاد) لوگوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے ذاتی شوق سے اکثر اپنے الفاظ و معانی میں لکھیں، جن کے لیے نہ تو کوئی سرکاری چیکنگ کا نظام تھا اور نہ ہی تدوین کا منظم طریقہ۔ رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدین کی صریح حکم عدولی کرتے ہوئے، دو ڈھائی صدی بعد ان روایتی کتب کی تدوین کی گئی، یہی وجہ ہے کہ یہ کتب سندی اضطراب اور انسانی خطاؤں سے پاک نہیں ہیں۔ بغیر کسی مستند اور متواتر سند کے کسی بات کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا صریح تحریف کے زمرے میں آتا ہے۔
آپ ﷺ نے صرف حفظ اور زبانی بیان (Oral Transmission) کی اجازت اس لیے دی تاکہ اخلاقی عمل، حکمت اور فہم کا تذکرہ نسل در نسل زبانی طور پر منتقل ہوتا رہے ("نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا...")، لیکن وہ ایک جامد، متوازی خدائی قانون کی مکتوب شکل اختیار نہ کرے۔ اصل ضرورت "روایتیں جمع کرنے اور کتب لکھنے" کی نہیں تھی، بلکہ اس زبانی علم کو "عمل" میں ڈھالنے کی تھی۔
چنانچہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے "اسوۂ حسنہ" پر عمل کا حکم جو رسول اللہ ﷺ کو ہوا، وہ عملی صورت (جیسے صلاة اور دیگر مناسک و عبادات جن کی تفصیل قرآن نے صراحت سے نہیں دی) میں نسل در نسل عملاً محفوظ چلا آ رہا تھا، نہ کہ کسی تحریر میں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا "اسوۂ حسنہ" بھی امت کے اجتماعی عمل اور تواترِ عملی کی شکل میں عملاً محفوظ ہے، جس پر عبادات کی شکل میں نسل در نسل عمل ہو رہا ہے اور یہی آپ ﷺ کی حقیقی اطاعت و اتباع ہے۔ اس کی حفاظت کا طریقہ صرف عمل، حفظ اور بیان تھا، تحریر نہیں۔
اللہ کی اطاعت دائمی ہے، کیونکہ اللہ ہمیشہ زندہ ہیں (حی) اور ان کا کلام، قرآن، محفوظ ہے۔ رسول ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں امت پر آپ کی اطاعت اور اتباع دونوں لازم تھیں۔ اطاعت کا مفہوم آپ کے اوامر و نواہی اور فیصلوں کی براہِ راست تعمیل تھا، جبکہ اتباع سے مراد آپ کے اسوہ، منہج اور طریقِ زندگی کی پیروی تھی۔ آپ کے وصال کے بعد چونکہ آپ سے براہِ راست نئے احکام نہیں لیے جا سکتے، اس لیے آپ کے اسوہ اور منہج کی اتباع ہمیشہ امت کی ذمہ داری رہے گی، جبکہ آپ کے ذریعے پہنچائے گئے اللہ کے احکام (قرآن) کی اطاعت دائمی رہے گی۔ (تفسیری استنباط)
اطاعت اور اتباع کا قرآنی فلسفہ- حاصلِ بحث
• مقدمہ:
قرآن مجید میں اطاعت اور اتباع دو الگ اصطلاحات ہیں۔ اطاعت کا تعلق زندہ حاکم اور صریح حکم سے ہے، جبکہ اتباع کا تعلق رخصت ہو جانے والی شخصیت کے نقشِ قدم اور مکتوب نور (قرآن) سے ہے۔
• اطاعت کا قانونی دائرہ:
اطاعت کے لیے ،آمر (حکم دینے والا)، امر (حکم)، اور مأمور (حکم کا مخاطب)، تینوں کی موجودگی شرط ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ظاہری حیات میں مسلمانوں کے لیے حاکمِ وقت تھے، چنانچہ ان کی اطاعت دین کا حصہ تھی۔ اب قران جو آپ کے منہ سے نکلا محفوظ ہہے یقینی ہے اس کی اطاعت لازم ہے جو آپ کی اطاعت ہی ہے کہ آپ ﷺ چلتا پھرتا قرآن تھے. حدیث مواد ظنی ہے جو تحریف سے پاک نہیں اور رسول اللہ ﷺ و خلفاء راشدین کے احکام کیے خلاف ڈھائی تین صدی کے بعد کتب کی صورت میں تحریر ہوا جبکہ آپ نے حفظ وبیان کی اجازت دی تھی .
• وفاتِ نبوی اور اتباع کا دور:
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد، زندہ حاکم کی اطاعت کا مادہ تبدیل ہو کر اللہ کی آخری کتاب اور رسول کے "اسوۂ حسنہ" کی اتباع میں بدل گیا۔ اب دین کا واحد محفوظ اور مکتوب ماخذ صرف قرآنِ مجید ہے، جو آپ ﷺ کا چھوڑا ہوا ابدی معجزہ ہے۔ اب رسول ﷺ کی اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس دین، ان حدود اور اس کتاب پر قائم رہیں جو انہوں نے اللہ کے حکم سے ہمیں دیں۔
• کتابتِ حدیث کی ممانعت کی اصل حکمت:
رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ (احادیث) کو لکھنے سے منع فرمانا اور صرف زبانی حفظ و بیان کی حد تک رکھنا، اسی قرآنی فلسفے پر مبنی تھا۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ اگر اسوہ حسنہ (احادیث) کو بھی لکھ کر مکتوب قانون بنا دیا گیا، تو لوگ قرآن کی اتباع چھوڑ کر ان انسانی مکتوبات کی "اطاعت" شروع کر دیں گے، جس سے دین کا مرکزہ (Center of Gravity) بدل جائے گا۔
خلاصۂ بحث:
پچھلی امتوں نے اپنے انبیاء کے بعد تفسیری روایات کو لکھ کر مستقل قانون بنا لیا اور گمراہ ہوئیں (تلمود، عہد نامہ جدید کی 23 کتب) ۔ مسلمانوں کو روایات کی کتابت کی بھول بھلیوں سے نکل کر، رسول اللہ ﷺ کے اصل عمل، اسوۂ حسنہ اور قرآن کی زندہ اتباع کی طرف لوٹنا ہوگا، کیونکہ احسن الحدیث تو صرف قرآن ہے۔ نجات حدیث کی کتابیں (170) جمع کرنے اور ان کے لفظی اختلافات میں الجھنے میں نہیں، بلکہ قرآنی احکامات پر عمل کرنے اور رسول اللہ ﷺ کے عملی اقدامات پر عبادات کی شکل میں نسل در نسل قائم رہنے میں ہے۔ جو روایت یا بیانیہ قرآن کے ترازو اور اصولوں پر پورا نہ اترے، وہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان یا دین کی بنیاد ہرگز نہیں ہو سکتا۔ بعد کے ادوار (دوسری اور تیسری صدی ہجری) میں لکھی جانے والی روایتی کتب کے خود ساختہ مکتوب احکامات جو کہ ظنی ہیں (جن میں ملاوٹ بھی ہے) کو رسول کا قائم مقام بنا کر ان کی "اطاعت" کرنا، قرآن کے قائم کردہ اس ابدی ضابطۂ اتباع کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عقل، تدبر اور تفکر اور قرآن
قرآن مجید نے اندھی تقلید، روایتی جمود اور عقیدت پرستی کا رد کرنے کے لیے صرف اور صرف کلامِ الٰہی (قرآن) پر عقل، تدبر اور تفکر استعمال کرنے کو لازم قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ اس کتاب کے نازل کرنے کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ انسان اپنے فکری دریچے کھول کر اس کے قوانین پر غور کرے۔
قرآن پر تدبر (Pondering the Core Meanings)
قرآن مجید نے ان لوگوں پر سخت ترین ملامت کی ہے جو اس آخری وحی پر غور نہیں کرتے اور ان کے دل روایتی بیانیوں کے لاک میں بند ہو چکے ہیں:
• سورہ محمد (آیت 24):
اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا
"تو کیا وہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں"۔
• سورہ النساء (آیت 82):
اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ؕ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا
"تو کیا وہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے"۔
• سورہ ص (آیت 29):
قرآن کے نزول کا مقصدِ وحید ہی یہ بیان کیا گیا ہے:
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْۤا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ
"یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ وہ اس کی آیات پر تدبر کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں"۔
• سورہ المؤمنون (آیت 68):
اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَاءَهُمْ مَّا لَمْ يَأْتِ اٰبَاءَهُمُ الْاَوَّلِيْن
"تو کیا انہوں نے اس کلام (قول) پر تدبر نہیں کیا؟ یا ان کے پاس وہ چیز آئی ہے جو ان کے پہلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی؟"
2۔ قرآن کی آیات پر تفکر (Deep Thinking)
رسول اللہ ﷺ کا بنیادی منصب مکتوب وحی کو عام انسانوں کے سامنے کھول کر بیان کرنا تھا تاکہ وہ اس مکتوب متن پر تفکر کریں، نہ کہ متوازی کتابیں تیار کریں:
• سورہ النحل (آیت 44):
...وَاَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ
"...اور ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر (قرآن) نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے واضح کر دیں جو ان کی طرف اتارا گیا ہے اور تاکہ وہ (اس قرآن پر) تفکر کریں"۔
• سورہ الحشر (آیت 21):
کلامِ الٰہی کی فکری اور قانونی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ ۗ وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ
"اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم اسے دیکھتے کہ اللہ کے خوف سے جھک جاتا اور پھٹ جاتا، اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ تفکر کریں"۔
3۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے عقل کا استعمال (Reasoning and Intellect)
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو عربی زبان میں اور ایک خاص اسلوب میں نازل ہی اس لیے کیا تاکہ انسان اپنی عقل کو معطل نہ کرے:
• سورہ یوسف (آیت 2):
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ
"بیشک ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو"۔
• سورہ الزخرف (آیت 3):
اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ
"بیشک ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو"۔
• سورہ الدخان (آیت 58):
فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ
"پس ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں آسان کر دیا ہے تاکہ وہ سمجھیں اور نصیحت پکڑیں"۔
علمی خلاصہ:
ان صریح آیات سے یہ قرآنی ضابطہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید کا مطلوبہ رویہ اندھی عقیدت یا محض لفظی تلاوت نہیں ہے۔ اللہ کے نزدیک جو شخص قرآن کو پڑھتے ہوئے عقل، تدبر اور تفکر کا استعمال نہیں کرتا، وہ اس الٰہی کتاب کے مقصدِ نزول ہی کو فوت کر رہا ہے۔ روایتی بھول بھلیوں سے بچنے اور خالص دین تک پہنچنے کا واحد الٰہی اور محفوظ راستہ یہ ہے کہ مکتوب وحی (قرآن) پر براہِ راست عقل کی کسوٹی کے ساتھ تدبر کیا جائے۔
☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن 36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
Our mission is only to convey the message clearly