رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

مصنوعی ذہانت نیا دور: کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟

تاریخ کا یہ سبق نہایت تلخ اور سبق آموز ہے کہ دو صدی قبل جب یورپ میں صنعتی انقلاب برپا ہو رہا تھا، تو خلافتِ عثمانیہ (ترکی) یورپ کی سرحد پر واقع ہونے کے باوجود داخلی بگاڑ، جمود اور سیاسی و مذہبی کشمکش میں الجھا رہا۔ جدید ٹیکنالوجی، مشین اور سائنسی علوم کو اپنانے میں تاخیر کی وجہ سے وہ عظیم سلطنت معاشی اور فوجی طور پر مفلوج ہوئی اور بالآخر پارہ پارہ ہو گئی۔ اس کے برعکس، ایشیا کے دوسرے کنارے پر جاپان نے 1868ء کے "میجی انقلاب" (Meiji Restoration) کے بعد تمام تر داخلی اختلافات کو بالائے طاق رکھا۔ >>>

جھوٹ کیسے سچ بن جاتا ہے؟ اس سے بچاؤ


یہہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ مذہبی اور سیاسی نظریات جو بظاھرصاف جھوٹ اور ناقابل یقین نظر اتے ہہیں حریت انگیز طور پر سچے نظریات بن جاتے ہیں .  یه کیسے ممکن ہے ؟ آیے دیکھتے ہیں :

اطاعت اور اتباع رسول اللہ ﷺ کا قرآنی فلسفہ اور کتب حدیث


قرآن مجید کے اصطلاحی، لغوی اور قانونی نظام میں 'اطاعت' اور 'اتباع' دو بالکل مختلف علمی، عسکری اور شریعت ساز تصورات ہیں، جن کا گہرا تعلق قانون کی مکتوب شکل، حاکم کی نوعیت اور انسانی عمل کے دائرہ کار سے ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ، معانی اور اسلوب کے گہرے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں مختلف علمی اور عملی ابعاد کو محیط ہیں، جن کو خلط ملط کرنے سے شریعت کا اصل مرکزہ (Center of Gravity) تبدیل ہو جاتا ہے۔ روائیتی بیانیہ کے خلط ملط کردہ تصورات سے ہٹ کر، اگر انہیں خالص قرآنی اور عقلی(8:22) بنیادوں پر سمجھا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔

1۔ لغوی و قرآنی تفریق اور ان کا بنیادی دائرہ کار
الف) اطاعت (Obedience)
اطاعت کا مادہ "طوع" ہے، جس کا لغوی مطلب ہے خوشی، رغبت اور رضا مندی سے کسی کے حکم کو تسلیم کرنا، اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اور اس کی فرمانبرداری کا طوق گردن میں ڈالنا۔
• حکم اور قانون کی پابندی:
اطاعت کا تعلق بنیادی طور پر کسی صاحبِ اختیار (Authority) کے صریح، واضح اور مکتوب احکامات، قوانین، فرائض، حدود اور جاری کردہ ضوابط پر من وعن عمل کرنے سے ہے۔ یہ ایک منصبی، قانونی اور انتظامی ضرورت کا نام ہے۔
• قرآنی دائرہ کار:
قرآن مجید میں جہاں قانون، حدود اللہ اور حتمی ضابطوں کا ذکر آتا ہے، وہاں اطاعت کا حکم صادر کیا گیا ہے، جیسے اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت۔
• رسول کی اطاعت کی حقیقت:
قرآن مجید نے خود اس بات کو بالکل صاف کر دیا ہے کہ رسول کی اپنی کوئی مستقل یا الگ شریعت نہیں ہوتی، بلکہ وہ دین کے متعلق جو کچھ بھی حکم دیتا ہے، وہ اللہ ہی کا حکم ہوتا ہے (ذاتی اور معاشرتی معاملات اس سے الگ ہیں)۔ چنانچہ سورہ النساء میں فرمایا گیا: "مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ" (النساء: 80) یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ ہی کی اطاعت کی۔ رسول چونکہ وحیِ الہیٰ (قرآن مجید) کا پیغامبر اور اس کا پہلا مفسر و مجسم نمونہ ہوتا ہے، اس لیے کتاب کو لانے والے کی اطاعت کے بغیر خود کتاب پر عمل ممکن نہیں ہوتا۔ جب تک رسول دنیائے فانی میں موجود تھے، ان کا ہر شرعی فیصلہ، ہر عدالتی حکم اور ہر تصفیہ واجب الاطاعت تھا ......... Read more »

جنت کا شارٹ کٹ

آیت الکرسی کی تلاوت پر جنت
 عوام میں کسی متبادل نظام یا شارٹ کٹ کا نظریہ بہت پاپولر ہے. ہم چاہتے ہیں کہ جنت آسانی سے بغیر کسی خاص اچھے عمل کے مل جائے. اس انسانی کمزوری سے لوگوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور ان کو بے وقوف بنایا.اصلی اور جعلی احادیث اور تاویلات جو منع (٣ :٧ )ہیں  کا خوب استعمال کیا گیا. ایک روایت بہت مشہور ہے :

«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»

اس کا تجزیہ کرتے ہیں کہ اس طرح کی موضوع (من گھڑت) روآیات انسان کو گمراہ کرتی ہیں یا ہدایت پر رکھتی ہیں ؟  
 اللہ کے اپنی مخلوق سے پیاراور مغفرت کے نظریہ کو خوب اچھالا گیا کہ قرآن صرف تلاوت اور ثواب تک محدود گیا. ایسا لگتا ہے کہ جیسے دو شریعتیں ہیں ایک تلاوت اور دوسری آسان عملی شریعت. یہ   قرآن کے نظریہ کو کھلا چیلنج ہے جس کی اصلاح ضروری ہے۔ قرآن کے مطابق دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اخرت اس کا حتمی نتیجہ ہے۔  موت کے بعد برزخ ، یوم حساب ، جزا و سزا ، معافی اور بخشش کا نظام قرآن میں بیان ہے جس کی تفصیل  رسول اللہ ﷺ  نے بھی بیان فرمائی۔ اس پر اسلام کے نظام کی بنیاد ہے ۔ قرآن  نے عقل کے استعمال پر بہت زور دیا جس کو ہم بھلا چکے ہیں۔ کیا نجات بہت آسان ہے کہ بآسانی مل جائے ؟ 
"نجات نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو بھی برا کام کرے گا اس کی سزا پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی پائے گا نہ مددگار۔ اور جو صالح اعمال کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہوگی۔". (النساء: ۱۲۳ - ۱۲۴)
قرآن ، فرقان ہے ، حق و باطل میں فرق کرنے کی کسوٹی ہے:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ (الأنبياء: 18) 
"بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اس کا مغز توڑ دیتا ہے اور باطل اسی وقت نابود ہو جاتا ہے۔"

​قرآن مجید کا نظامِ جزا و سزا درج ذیل محکم اصولوں پر قائم ہے:

 

https://tinyurl.com/Shortcut2Jannah