قرآن کے مطابق دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اخرت اس کا حتمی نتیجہ ہے۔ موت کے بعد برزخ ، یوم حساب ، جزا و سزا ، معافی اور بخشش کا نظام قرآن میں بیان ہے جس کی تفصیل رسول اللہ ﷺ نے بھی بیان فرمائی۔ اس پر اسلام کے نظام کی بنیاد ہے ۔ قرآن نے عقل کے استعمال پر بہت زور دیا جس کو ہم بھلا چکے ہیں۔ کسی متبادل نظام یا شارٹ کٹ کا بیان قرآن کے نظریہ کو کھلا چیلنج ہے جس کی اصلاح ضروری ہے۔
https://tinyurl.com/Shortcut2Jannah
قرآن مجید کا نظامِ جزا و سزا درج ذیل محکم اصولوں پر قائم ہے:
. عملِ صالح کی شرط: قرآن میں جہاں بھی جنت کی بشارت ہے، وہ "إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ" (ایمان اور عملِ صالح) کے ساتھ مشروط ہے۔ 52 آیات قرآن میں 106 مرتبہ اس کی تکرار ہے اور سورۃ العصر تو اس پر ہی ہے۔
. قانونِ عدل: "وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى" (انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی)۔
. حقوق العباد اور تقویٰ: قرآن کی رو سے بندوں کے حقوق مارنا اور ظلم کرنا انسان کو جہنم کا مستحق بناتا ہے، اور محض الفاظ کا دہرانا اس کی تلافی نہیں کر سکتا۔
"آیت الکرسی" قرآن کی ایک عظیم فضیلت والی آیت ہے ، مگر یہ قرآن کے نظریہ عدل کو تبدیل نہیں کر سکتی ۔ ایک روایت مسجد میں دیوار پر چسپاں ہے:
«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»
یہ روایت قرآن سے متصادم ہے۔ تاویلوں سے کچھ بھی ثابت کیا جاسکتا ہے جس سے قرآن نے منع فرمایا کہ محکمات (پختہ) ہی دین کی بنیاد ہیں (قرآن3:7). عام مسلمان صرف روایت پڑھتا ہے نہ ہی تاویلوں کی دیوار پر جگہ ہے۔ یہ ایک متنازعہ روایت ہے۔
ائمہ جرح و تعدیل اور محدثینِ متقدمین کا موقِف
. امام دارقطنی کا کلام: امام دارقطنی نے اس حدیث کی سند پر کلام کرتے ہوئے اسے علل (مخفی علمی نقص) سے پاک قرار نہیں دیا۔ ان کے نزدیک اس کی سند میں غصن بن رزق یا دیگر ضعفاء کا واسطہ بھی بعض طرق میں آتا ہے جو روایت کو معلول (ضعیف) بناتا ہے۔
. امام ابن الجوزی: انہوں نے اس روایت کو اس کے ظاہری الفاظ اور متن کے تفرد کی وجہ سے اپنی کتاب "الموضوعات" (من گھڑت روایات کا مجموعہ) میں شمار کیا، کیونکہ ان کے نزدیک اس کا متن قرآن کے مسلمہ قوانین کے خلاف اور اس کی سند غیر مستند ہے۔
. امام ذہبی اور ابن حجر عسقلانی: حافظ ابن حجر نے "بلوغ المرام" اور "نتائج الأفكار" میں اس کی مختلف اسناد کو جمع کر کے اس کی مجموعی حالت کو "حسن" یا "صحیح" کے قریب قرار دیا ہے، لیکن انہوں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ متقدمین کی شرطِ صحت پر یہ روایت اتری نہیں بلکہ شواہد کی بنا پر قوی کی گئی ہے۔ حافظ ابن حجر اور البانی نے جب اس روایت کو "حسن" یا "صحیح" کہا، تو ان کی بنیادی نظر سند کے شواہد اور متابعات پر تھی، یعنی مختلف طرق مل کر سند کے ضعف کو دور کر رہے ہیں۔ لیکن محققین اور متقدمینِ نقاد کی نظر میں اس روایت کے متن میں شذوذ اور علت موجود ہے کیونکہ یہ نجات کے باب میں قرآن کے صریح اور متواتر قانونِ عدل سے بظاہر غیر مشروط مطابقت نہیں رکھتی۔
درایتی و علمی تجزیہ (روایت کا متون اور اصولِ حدیث سے موازنہ)
علمِ حدیث میں صرف سند کی ظاہری صحت کافی نہیں ہوتی بلکہ "عدمِ شذوذ" اور "عدمِ علت" (یعنی روایت کا بنیادی قرآنی اصولوں سے تصادم نہ ہونا) صحتِ حدیث کی لازمی شرط ہے۔
. روایت میں تفرد: اس درجے کا بڑا اجر و ثواب (کہ بندے اور جنت کے درمیان صرف موت کا فاصلہ رہ جائے) ایک ایسا عمومی معاملہ تھا جو روزانہ پانچ وقت تمام صحابہ کے سامنے پیش آتا۔ اگر رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم تمام صحابہ کو دیا ہوتا تو یہ نقلِ متواتر یا مشہور کے ذریعے ہم تک پہنچتا، نہ کہ صرف ایک شامی راوی کے تفرد کے ذریعے۔(خبر واحد)
. قرآنی نصوص سے مطابقت: سند کی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ جب اس کا متن بغیر کسی قید کے مطلق نجات کا دعویٰ کرتا ہے تو محدثین و محققین کا اصول ہے کہ خبرِ واحد (آحاد روایت) سے قرآن کے محکم اور متواتر قوانین کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔
خلاصہ
اسنادی اعتبار سے یہ روایت ائمہِ حدیث کے نزدیک "مختلف فیہ" (متنازعہ) ہے۔ متقدمینِ نقاد اس کی سند میں تفرد اور علل کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ متاخرین نے اس کے شواہد کی بنا پر اسے حسن درجے میں رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر مستقل عقیدہ یا نجات کا بلا مشروط قانون قائم نہیں کیا جا سکتا۔
عصرِ حاضر اور تاریخِ اسلام کے کئی عظیم مصلحین (جیسے شاہ ولی اللہ دہلوی، شبلی نعمانی، اور مولانا امین احسن اصلاحی) نے اس رجحان پر شدید تنقید کی کہ کس طرح "شارٹ کٹ روایات" نے امت کے عملی جذبے کو مفلوج کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانیے نے مسلمانوں کو عمل، اخلاق، عدل اور حقوق العباد کی جدوجہد سے ہٹا کر محض الفاظ کے دہرانے پر تکیہ کرنے والا بنا دیا۔
علمی دنیا میں یہ بات کبھی پوشیدہ نہیں رہی۔ قرآن کو اصل اور حاکم ماننے والے تمام محققین نے ہمیشہ یہی موقف اختیار کیا کہ قرآن کا قانونِ عدل و حساب ہی اصل دین ہے، اور کسی بھی روایت کو قرآن کے اس بنیادی ڈھانچے سے آزاد کر کے پیش کرنا خود دین کے مزاج کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
تجویز ۔۔ درخواست
1۔ آیت الکرسی اور دوسری دعائیں موجود رہیں صرف آیت الکرسی پر "متنازع حدیث" کو خاکی کاغذ لگا کر کور کر دیں۔ آیت الکرسی متبرک ، عظیم آیت ہے اس کو تلاوت کریں۔
2۔ مسجد میں کسی تحریر کو لگانے سے قبل تحقیق کر لیں کہ وہ متنازعہ نہ ہو۔
3. ایسی متنازعہ تحریریں علمی حلقوں میں بحث مباحثوں تک محدود رہیں .
مزید تفصیل درج ذیل مضامین میں .....
https://tinyurl.com/Hadith7Asool (Web )
https://tinyurl.com/DeenMeenDhoka (Web link)
..... .............. ..... .......
آیت الکرسی کی تلاوت پر جنت اور ہماری مساجد-٢
قرآن، حدیث اور نجات کے تصور کا تقابلی جائزہ
ایک آسان عمل، جنت کی ضمانت، اور قرآن کا بنیادی معیار
کتمان حق، حق سچ کو چھپانا بہت بڑا گناہ ہے اور حق بیان نہ کرنا کہ لوگوں کا ڈر ہو ، بجائے اللہ کے ڈر سے یہ بھی شرک کی ایک قسم ہے۔ اللہ ہم کو ان دونوں عظیم گناہوں سے بچائے۔
مساجد میں ایک حدیث اکثر نمایاں طور پر لکھی ہوئی نظر آتی ہے:
«مَن قرأَ آيةَ الكرسيِّ دُبُرَ كلِّ صلاةٍ مكتوبةٍ، لم يمنعْهُ مِن دخولِ الجنَّةِ إلَّا أن يموتَ»
یعنی:
«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»
یہ روایت حضرت ابو امامہؓ سے منقول ہے اور سنن النسائی الکبریٰ، طبرانی اور دیگر کتب میں آئی ہے۔
یہ حدیث بخاری اور امام مسلم نے اپنی کتب حدیث (صحیح) میں شامل نہیں کی۔
امام جوزی نے اسے "موضوع" (من گھڑت) قرار دیا۔
جبکہ دوسرے محدثین اسے اسناد کے حساب سے صحیح سمجھتے ہیں متن پر زور نہیں۔
یہ پہلی دو صدی کے بعد شام میں نمودار ہوئی۔
"موضوع حدیث" وہ حدیث جو من گھڑت، خود ساختہ اور جھوٹی ہو اور جسے گھڑ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا گیا ہو۔اسلام کے مکی یا ابتدائی مدنی دور میں اس روایت کا کوئی وجود یا تحریری سراغ نہیں ملتا۔
تابعین اور تبع تابعین کے دور (خصوصاً دوسری صدی ہجری) میں جب اسلام کا جغرافیائی پھیلاؤ ہوا، تو عوام میں رغبت پیدا کرنے کے لیے واعظین اور قصہ گو افراد نے وظائف اور ترغیب و ترہیب پر مبنی بیانیے کو فروغ دینا شروع کیا۔ یہ سوچ کہ "ایک چھوٹا سا وظیفہ کر لو اور باقی تمام شرعی و اخلاقی ذمہ داریوں سے نجات پا لو"، اسلام کے اولین دور کا مزاج ہرگز نہیں تھی، بلکہ یہ بعد کے ادوار کی مذہبی نفسیات اور آسان نجات کی تلاش کا نتیجہ ہے۔
اسلام کے ابتدائی دور میں نجات کا پیمانہ صرف ایمان اور عملِ صالح تھا، اور یہ روایت اس دور میں موجود نہیں تھی بلکہ بعد کے ادوار میں روایات کے ذخیرے کے ذریعے سامنے آئی۔
امام ابو حنیفہ اور معتزلہ:
انہوں نے خبرِ واحد (وہ حدیث جو ایک یا چند راویوں سے آئے) کو قرآن کے محکم اور عمومی قوانین کے مقابلے میں قبول کرنے سے واضح انکار کیا اور کہا کہ اگر کوئی روایت قرآن کی آیت سے ٹکرائے تو وہ ناقابلِ قبول ہے۔
امام ابن الجوزی:
انہوں نے اپنی کتاب "الموضوعات" اور "علل المتناهية" میں ایسی سینکڑوں روایات کو بے نقاب کیا جن میں معمولی عمل پر بے تحاشا ثواب اور نجات کی بشارتیں دی گئی تھیں، اور انہیں "واعظین کے جھوٹ" قرار دیا۔ یہ بھی موضوعات میں شامل ہے۔
امام الشاطبی:
انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "الموافقات" میں خبردار کیا کہ دین کے کلی اصولوں (قرآن) کو چھوڑ کر جزوی اور ضعیف روایات پر دین کی بنیاد رکھنا گمراہی کا سبب ہے۔
تساہل (نرمی) کا باضابطہ اصول:
بدقسمتی سے متأخرین کے ہاں ایک اصول قائم ہو گیا جسے "التسامح في أحاديث الفضائل" (فضائل اور ترغیب کی احادیث میں نرمی برتنا) کہا جاتا ہے۔
جبکہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ کی سزا دوزخ کی آگ ہے یہ متفقہ حدیث 62 راویان سے مروی ہے۔
علماء نے حلال و حرام کے معاملے میں تو سخت اسناد کی شرط رکھی، لیکن فضائل، وظائف اور بشارتوں کے معاملے میں روایات کو بنا کسی سخت درایتی پرکھ کے پھیلنے دیا، جس کا خمیازہ اس صورت میں نکلا کہ لوگ قرآن کے محکم قوانینِ جزا و سزا کو بھول کر صرف ترغیبی وعدوں پر تکیہ کرنے لگے۔ یہ دراصل قرآن کو ترک العمل (مھجور) کرنے کی طرف ایک قدم تھا جس کی رسول اللہ ﷺ نے تنبیہ کی تھی (قرآن25:30 ).
روایت کا اسنادی مدار:
یہ روایت امام نسائی (عمل اليوم والليلة: 100) اور امام طبرانی (المعجم الكبير: 7532) نے اس سند سے روایت کی ہے: أخبرنا الحسين بن بشر، قال: حدثنا محمد بن حمير، قال: حدثنا محمد بن زياد الألهاني، عن أبي أمامة الباهلي...
. محمد بن حمير الحمصي:
اس سند کا بنیادی اختلاف اور گفتگو اسی راوی پر مبادول ہوتی ہے۔. امام النسائی نے خود اپنی جگہ ان پر جرح کرتے ہوئے فرمایا:
"ليس بالقوي" (یہ حفظ کے لحاظ سے قوی نہیں ہیں)۔ .
امام بخاری نے فرمایا:
"كان يحفظ، فيه بعض النظر"۔.
خلاصه یہ کہ محمد بن حمير جمہور کے نزدیک حسن الحديث ہیں، لیکن اعلیٰ درجے کے ثقہ راویوں میں شمار نہیں ہوتے۔امام يحيى بن معين اور امام ابو حاتم الرازي نے انہیں "ليس به بأس" (قابلِ قبول) اور "صالح" قرار دیا۔
اسنادی و درایتی محاکمہ:
تفردِ راوی:
یہ حدیث صحابہ میں سے صرف ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے اور ان سے صرف محمد بن زیاد الألہانی کے واسطے سے مشہور ہوئی، جسے محمد بن حمیر نے نقل کیا۔ اس درجے کے اتنے بڑے وعدے (جنت میں دخول) کے لیے اتنی تفرد والی سند پر درایتی سوالات قائم ہوتے ہیں۔
متن اور قرآن کا توازن:
سند کے اعتبار سے اگرچہ بعض آئمہ نے اسے "حسن" کا درجہ دیا، لیکن درایت کے اصول پر جب اسے دیکھا جائے تو یہ روایت ایک عمل پر بغیر کسی استثناء کے جنت کا وعدہ کرتی ہے، جو قرآن کے ابدی قانونِ عمل اور جزا و سزا کے مجموعی نظام کی تائید کے بغیر ایک تمثیلی و ترغیبی اندازِ بیان ہی معلوم ہوتی ہے۔
درایت دراصل دینی متون کا وہ عقلانی و برہانی المیزان ہے جو انسان کو روایات کے ظاہری ڈھانچے سے آگے بڑھ کر ان کے اصل قرآنی اور فکری جوہر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
امام ابن الجوزی رحمه اللہ (متوفی 597ھ) نے اس روایت کو سخت جرح کا نشانہ بنایا اور اسے نا قابلِ اعتبار (غیر صحیح/باطل) قرار دیا ہے۔
• کتاب اور ریفرنس:
. کتاب: «العلل المتناهية في الأحاديث الواهية» (ناقابلِ اعتماد اور باطل احادیث کا مجموعہ) . جلد اور صفحہ: جلد 2، صفحہ 944 (طبع دار الكتب العلمية، بيروت) . حدیث نمبر: 1562 (باب: ما جاء في فضل آية الكرسي دبر الصلاة)
• امام ابن الجوزی کا جرح اور علمی تبصرہ:
امام ابن الجوزی نے اس روایت کی اسناد کو درج کرنے کے بعد اس کے مرکزی راوی محمد بن حمير اور دیگر سندوں پر شدید جرح کی اور اسے ساقط الاعتبار قرار دیا۔ انہوں نے اس حدیث کو اپنی موضوعات اور العلل المتناهية (ضعیف و باطل احادیث کی کتاب) میں درج کر کے یہ ثابت کیا کہ اس کا متن اور سند نقد و جرح سے پاک نہیں ہے۔
اس کے علاوہ امام ابن الجوزی نے اپنی دوسری معروف کتاب «كتاب الموضوعات» (گھڑی ہوئی احادیث کے مجموعے) میں بھی ایسی تمام روایات کو شامل کیا ہے جو فضائل اور وظائف کے نام پر مبالغہ آرائی پر مبنی وعدے اور بشارتیں بیان کرتی ہیں۔
تلافی اور تحریف کا سدِ باب کرنے کے لیے تمام علمائے امت اور محدثین کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ:
• کسی بھی من گھڑت (موضوع) بات کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا شدید ترین گناہ اور دین میں تحریف ہے۔
• بغیر سندِ صحیح اور تحقیق کے کسی بات کو رسول اللہ ﷺ کا فرمان کہہ کر آگے پھیلانا سخت نا جائز ہے۔
• اگر کسی حدیث کی حقیقت معلوم ہو کہ وہ موضوع ہے، تو اسے صرف لوگوں کو خبردار کرنے اور اس کا جھوٹ واضح کرنے کے علاوہ کسی مقصد کے لیے بیان نہیں کیا جا سکتا۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی (مسند احمد: 22505) درایت کا بنیادی اصول فراہم کرتا ہے کہ جو بات تمہاری اخلاقی حس، فطرت اور دل کے نور کے مطابق ہو، وہی آپ ﷺ کا ارشاد ہو سکتی ہے۔ ہر وہ منسوب روایت جو انسان کو گناہ پر جری کرے، قرآنی عدل کو معطل کرے یا حقوق العباد کو پامال کرنے کی ترغیب دے، وہ رسول اللہ ﷺ کے مقامِ بلند سے قطعی پاک ہے۔
یہ ایک متنازعہ ، مشکوک حدیث ہے جو احتیاط کی متقاضی ہے۔ اس کے بیان سے پرہیز لازم ہے۔
ایسی احادیث کے متعلق یہ کہ سکتے ہیں کہ ؛
. راوی کو سننے یا سمجھنے میں غلطی لگی ، یا
.یہ اس کے متضاد آیات قرآن و احادیث سے پہلے کی ہے ، یا
یہ قرآن کی متضاد آیات سے منسوخ ہے یا
.یہ موضوع، من گھڑت ہے
خالص علمی اور قرآنی اصولوں کی رو سے بھی وہی بات معتبر اور قابلِ قبول ہے جو مکمل طور پر مستند، متواتر اور قرآنِ مجید کے احکام و اصولوں کے عین مطابق ہو۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
آیت الکرسی کی تلاوت پر جنت اور ہماری مساجد-٣
«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»
بظاہر یہ ایک نہایت خوش کن اور آسان بشارت ہے:
پانچ فرض نمازوں کے بعد صرف ایک آیت پڑھ لیجیے اور جنت یقینی سمجھیے۔ لیکن جب اس روایت کے اصل الفاظ کو بغیر کسی اضافی شرط یا تاویل کے قرآن کے بنیادی اصولوں کے سامنے رکھا جائے تو ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا واقعی قرآن اور دوسری صحیح احادیث (اسناد+متن) کے مطابق ایک مخصوص عمل انسان کے لیے جنت کو اس حد تک یقینی بنا سکتا ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے صرف موت باقی رہ جائے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ عام مسلمان نہ محدث ہوتا ہے، نہ سندوں کا ماہر اور نہ وہ سینکڑوں کتابوں کا تقابلی مطالعہ کرسکتا ہے۔ وہ مسجد میں لکھی ہوئی بات کو عموماً دین کی معتبر تعلیم سمجھتا ہے۔ اگر کوئی متنازعہ روایت قرآن کے واضح اصول سے مختلف تاثر دے تو اس کا عوام پر اثر معمولی مسئلہ نہیں یہ کتب حدیث سے اس کا اعتبار اٹھا سکتا ہے۔
1۔ پہلے حدیث کے الفاظ کو وہی معنی دیں جو وہ کہتے ہیں
اس بحث میں سب سے اہم اصول یہ ہونا چاہیے کہ حدیث کے الفاظ میں اپنی طرف سے ایسی شرائط شامل نہ کی جائیں جو حدیث میں موجود نہیں۔
روایت کہتی ہے:
«لم يمنعه من دخول الجنة إلا أن يموت»
یعنی:
«“اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»
حدیث یہ نہیں کہتی:
- اگر وہ باقی تمام فرائض بھی ادا کرے؛
- اگر وہ کبیرہ گناہوں سے بچے؛
- اگر وہ حقوق العباد ادا کرے؛
- اگر وہ مسلسل صالح اعمال کرتا رہے؛
- یا اگر اللہ اسے معاف کردے۔
یہ شرائط بعد کی تشریح ہوسکتی ہیں، ہر ایک کی اپنی اپنی تشریح ہو سکتی ہے جو کہ اس کے مخالف یا حق میں ہو سکتی ہے، لیکن اصل حدیث کے الفاظ نہیں ہیں۔
لہٰذا اگر ہم واقعی متن کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس کے ظاہری مفہوم کو تسلیم کرنا ہوگا۔
2۔ قرآن نجات کو ایک مختصر مذہبی فارمولے میں تبدیل نہیں کرتا
قرآن کا تصورِ نجات وسیع اور اخلاقی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ»
«“یقیناً انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے۔”» سورۃ العصر 103:2–3
یہاں نجات کے لیے صرف ایک ذکر یا ایک مخصوص آیت نہیں بلکہ:
ایمان + صالح اعمال
کا راستہ بتایا گیا ہے۔
اور “عملوا الصالحات” ایک مسلسل عملی زندگی کا تصور ہے، کوئی ایک مرتبہ کیا جانے والا مذہبی فارمولا نہیں۔ جو قرآن میں تقریبا 62 مرتبہ آیا ہے۔
بلکہ انسان کی پیدائش کا مقصد ہی ایمان اور عمل صالح ہے۔ جو سورہ کہف، آیت 2 اور سورہ ملک کی آیت 2 (احسن عمل) سے واضح ہے۔
3۔ قرآن ہر نیکی اور ہر برائی کو حساب میں رکھتا ہے
قرآن کہتا ہے:
«فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ»
«“جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔”» سورۃ الزلزال 99:7–8
یہ ایک بنیادی قرآنی اصول ہے:
نیکی بھی حساب میں ہے اور برائی بھی۔
اب اگر زیر بحث حدیث کو اس کے ظاہری اور مطلق مفہوم میں لیا جائے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
فرض کریں ایک شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے، لیکن وہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، حقوق مارتا ہے، بدعنوانی کرتا ہے یا دوسرے بڑے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے۔
حدیث کے الفاظ پھر بھی کہتے ہیں:
«“اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»
قرآن کہیں ایسا عمومی استثنا نہیں دیتا کہ ایک مخصوص تلاوت کے بعد انسان کے باقی اعمال کی جواب دہی ختم ہوجائے۔
4۔ قرآن جنت کو صالح اعمال سے جوڑتا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ»
«“جنت میں داخل ہوجاؤ ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے۔”» (16:32 )
اسی طرح:
«وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ»
«“یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو، ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے تھے۔”» (43:72 )
یہاں قرآن انسان کی مجموعی عملی زندگی کو آخرت سے مربوط کرتا ہے۔
اس کے مقابل زیر بحث روایت ایک مخصوص عمل کے بارے میں انتہائی مطلق وعدہ کرتی ہے۔
یہی اصل متنی مسئلہ ہے۔
5۔ قرآن انسان کی اپنی کوشش اور ذمہ داری کو بھی اہم قرار دیتا ہے
«وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ»
«“اور انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔”» (53:39 )
یہ قرآن کا اخلاقی تصور ہے:
انسان ذمہ دار ہے، کوشش کرتا ہے، اعمال کرتا ہے اور اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرتا ہے۔
اس تصور کے مقابل اگر کوئی روایت یہ تاثر دے کہ ایک مخصوص عمل کے بعد جنت یقینی اور صرف موت باقی ہے تو کم از کم اس روایت کے متن کو قرآن کے مجموعی تصورِ نجات کے سامنے ضرور پرکھنا چاہیے۔
6۔ صحیح حدیث بھی ایک اہم تقابل پیش کرتی ہے
صحیح بخاری و مسلم میں نبی ﷺ سے منقول ہے:
«لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ»
«“کسی شخص کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا۔”»
صحابہؓ نے پوچھا:
«“یا رسول اللہ! آپ بھی نہیں؟”»
آپ ﷺ نے فرمایا:
«وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ»
«“میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ اپنے فضل اور رحمت سے مجھے ڈھانپ لے۔”»
یہ روایت واضح کرتی ہے کہ نجات کو محض ایک عمل کے میکانی نتیجے کے طور پر سمجھنا درست نہیں۔
یہاں اللہ کا فضل و رحمت بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
7۔ کیا آیت الکرسی کی فضیلت ہی قابل اعتراض ہے؟
ہرگز نہیں۔
آیت الکرسی خود قرآن کا حصہ ہے:
«اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ...»
اس کی تلاوت، تدبر اور اللہ کا ذکر کرنا یقیناً نیک عمل ہے۔
اصل سوال آیت الکرسی پڑھنے کا نہیں بلکہ اس مخصوص روایت کے اس دعوے کا ہے کہ:
«“اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»
آیت الکرسی کی عظمت ایک چیز ہے؛
اس کے ساتھ ایک مخصوص قطعی اخروی ضمانت منسوب کرنا دوسری چیز ہے۔
8۔ اس روایت کی سند بھی متفق علیہ نہیں
یہ بھی اہم ہے کہ یہ روایت بخاری و مسلم میں نہیں بلکہ دیگر کتب حدیث میں ہے۔
اس کی معروف سند:
محمد بن حمیر → محمد بن زیاد الألهاني → ابو امامہؓ → رسول اللہ ﷺ
ہے۔
روایت کی صحت کے بارے میں محدثین کا اتفاق نہیں رہا۔
بعض اہل علم، مثلاً ابن حبان اور بعد کے بعض محدثین، اسے قابل قبول یا صحیح قرار دیتے ہیں؛ جبکہ ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا۔
محمد بن حمیر کی توثیق کے بارے میں بھی محدثین کے اقوال یکساں نہیں ہیں۔
لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ: «“یہ ایک متفق علیہ قطعی صحیح حدیث ہے جس پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔”» اتفاق نہیں ہے، متنازعہ حدیث ہے۔ متفق علیہ نہیں۔
ایسا تاریخی طور پر درست نہیں۔
9۔ قرآن کی حفاظت اور حدیثی روایت کے معیار کا فرق
یہاں ایک بڑا اصولی سوال پیدا ہوتا ہے۔
قرآن کی حفاظت صرف ایک فرد کی روایت پر منحصر نہیں رہی۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں:
- وحی نازل ہوتی تھی؛
- رسول اللہ ﷺ اسے صحابہ کو سناتے تھے؛
- کاتبینِ وحی اسے لکھتے تھے؛
- صحابہ اسے حفظ کرتے تھے؛
- رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کی تلاوت ہوتی تھی؛
- جبریلؑ کے ساتھ قرآن کی مراجعت ہوتی تھی؛
- بعد میں حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں اسے باقاعدہ مجموعے میں جمع کیا گیا؛
- حضرت عثمانؓ کے زمانے میں مصاحف کو ایک معیار پر مرتب کرکے مختلف علاقوں میں بھیجا گیا۔
یعنی قرآن کی transmission میں زبانی، تحریری اور اجتماعی verification کے کئی درجے موجود تھے۔
اس کے مقابل ایک ایسی حدیث جس کی بنیادی سند ایک مخصوص واحد راوی سے گزرتی ہے، تاریخی certainty کے اسی درجے کی حامل نہیں ہوسکتی۔
یہ حدیث کو لازماً غلط ثابت نہیں کرتا، لیکن دونوں قسم کے evidence کو برابر قرار دینا بھی درست نہیں۔
10۔صرف کتابوں کی تعداد یہ ثابت نہیں کرتی کہ ہر روایت صحیح ہے۔
بلکہ اسی وسیع ذخیرے کی وجہ سے:
- صحیح، حسن، ضعیف، منقطع، معلول، شاذ، موضوع
جیسے درجات پیدا ہوئے۔
یعنی حدیثی ذخیرے کا وسیع ہونا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں ہر چیز کو یکساں طور پر رسول اللہ ﷺ کا یقینی قول نہیں سمجھا جاسکتا۔
11۔۔ “ہم شارٹ کٹ پسند کرتے ہیں؟”
یہاں ایک انسانی نفسیاتی پہلو بھی سامنے آتا ہے۔
ایک طرف قرآن کہتا ہے:
«آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» : ایمان لاؤ اور صالح اعمال کرو۔
دوسری طرف ایک روایت یہ انتہائی آسان فارمولا پیش کرتی ہے:
«ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھو → جنت کے درمیان صرف موت باقی۔»
عام انسان کے لیے دوسرا راستہ یقیناً زیادہ آسان اور پرکشش محسوس ہوسکتا ہے۔
یہاں “شارٹ کٹ” کا خطرہ پیدا ہوتا ہے:
اخلاقی جدوجہد کے بجائے ایک مخصوص مذہبی عمل کو اخروی ضمانت سمجھ لینا۔
یہ دین کی آسانی نہیں بلکہ دین کو ایک ritual formula میں تبدیل کرنے کا خطرہ ہے۔
12۔ مسجد میں لگی ہوئی اس حدیث کا عوامی اثر
یہی مسئلہ اس وقت زیادہ اہم ہوجاتا ہے جب ایسی روایت مسجد کی دیوار پر نمایاں طور پر لکھی ہو۔
عام نمازی:
- سند نہیں دیکھتا؛
- راویوں کا تعارف نہیں جانتا؛
- ابن الجوزی اور ابن حبان کا اختلاف نہیں جانتا؛
- قرآن کی تمام آیات کا تقابل نہیں کرسکتا۔
وہ صرف یہ پڑھتا ہے:
«“جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»
اس سے ایک بہت طاقتور تاثر پیدا ہوتا ہے:
«“یہ آسان ہے؛ میں یہ عمل کرلوں تو جنت یقینی ہے۔”»
اگرچہ مسجد میں لگانے والے کا مقصد یقیناً نیکی کی ترغیب دینا ہوسکتا ہے، لیکن اچھی نیت کسی متنازعہ روایت کو قطعی دینی ضمانت نہیں بنا دیتی۔
13۔ “دین آسان ہے” کا صحیح مطلب
قرآن کہتا ہے:
«يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ» 2:185
اور:
«وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ» 22:78
اسلام کی آسانی کا مطلب یہ نہیں کہ جنت کا کوئی جادوئی shortcut موجود ہے۔
آسانی کا مطلب ہے:
- اللہ نے غیر ضروری مشقت نہیں رکھی؛
- ہدایت واضح ہے؛
- توبہ کا دروازہ کھلا ہے؛
- اللہ کی رحمت وسیع ہے؛
- انسان اپنی استطاعت کے مطابق مکلف ہے۔
لیکن ساتھ ہی:
ایمان، صالح عمل، عدل، تقویٰ، توبہ اور جواب دہی بھی دین کا حصہ ہیں۔
14۔ اس روایت کے بارے میں متوازن نتیجہ
اس لیے آیت الکرسی کے بارے میں دو انتہائی موقف اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ کہنا درست نہیں:
«“آیت الکرسی پڑھنے کی کوئی خاص فضیلت نہیں ہوسکتی۔”»
اور یہ بھی درست نہیں کہ:
«“اس روایت کی وجہ سے آیت الکرسی پڑھنے والا جنتی یقینی ہے، خواہ اس کی باقی زندگی کیسی بھی ہو۔”»
زیادہ محتاط اور قرآنی معیار پر مضبوط موقف یہ ہے:
«آیت الکرسی قرآن کی عظیم آیت ہے اور اس کی تلاوت نیکی ہے۔ لیکن “ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے والے کو جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے” ایک متنازعہ حدیثی روایت ہے۔ اس کی سند پر محدثین کا اتفاق نہیں، اور اس کا ظاہری مطلق مفہوم قرآن کے جامع تصورِ ایمان، صالح اعمال، جواب دہی اور اللہ کی رحمت کے ساتھ مطابقت کا سنجیدہ مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا اسے عوام کے سامنے قطعی اور یقینی جنت کی ضمانت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔»
آخری بات
اس مسئلے کا اصل مقصد آیت الکرسی سے لوگوں کو دور کرنا نہیں، بلکہ دین میں اخروی ضمانتیں گھڑنے یا غیر یقینی روایات کو قطعی مذہبی اصول بنانے سے بچنا ہے۔
ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ راستہ یہ ہے کہ وہ قرآن کو بنیادی معیار بنائے، نیکی کو کسی ایک آسان نسخے تک محدود نہ کرے، اور ہر ایسی روایت کے بارے میں سوال کرنے کا حق محفوظ رکھے جو قرآن کے واضح اصولوں سے متصادم محسوس ہو۔
آسان دین ضرور ہے؛ لیکن آسان دین کا مطلب “آسان شارٹ کٹ” نہیں۔
دین کا قرآنی راستہ شاید مختصر الفاظ میں ہے:
«ایمان → صالح عمل → تقویٰ → توبہ → عدل → اللہ کی رحمت»
یہ راستہ مشکل کو غیر ضروری نہیں بناتا، لیکن انسان کو اپنی اخلاقی ذمہ داری سے بھی آزاد نہیں کرتا۔
تجویز ۔۔ درخواست
1۔ آیت الکرسی اور دوسری دعائیں موجود رہیں صرف آیت الکرسی پر "متنازع حدیث" کو خاکی کاغذ لگا کر کور کر دیں۔ آیت الکرسی متبرک ، عظیم آیت ہے اس کو تلاوت کریں۔
2۔ مسجد میں کسی تحریر کو لگانے سے قبل تحقیق کر لیں کہ وہ متنازعہ نہ ہو۔
3. ایسی متنازعہ تحریریں علمی حلقوں میں بحث مباحثوں تک محدود رہیں .