رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

جنت کا شارٹ کٹ

آیت الکرسی کی تلاوت پر جنت
 عوام میں کسی متبادل نظام یا شارٹ کٹ کا نظریہ بہت پاپولر ہے. ہم چاہتے ہیں کہ جنت آسانی سے بغیر کسی خاص اچھے عمل کے مل جائے. اس انسانی کمزوری سے لوگوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور ان کو بے وقوف بنایا.اصلی اور جعلی احادیث اور تاویلات جو منع (٣ :٧ )ہیں  کا خوب استعمال کیا گیا. ایک روایت بہت مشہور ہے :

«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»

اس کا تجزیہ کرتے ہیں کہ اس طرح کی موضوع (من گھڑت) روآیات انسان کو گمراہ کرتی ہیں یا ہدایت پر رکھتی ہیں ؟  
 اللہ کے اپنی مخلوق سے پیاراور مغفرت کے نظریہ کو خوب اچھالا گیا کہ قرآن صرف تلاوت اور ثواب تک محدود گیا. ایسا لگتا ہے کہ جیسے دو شریعتیں ہیں ایک تلاوت اور دوسری آسان عملی شریعت. یہ   قرآن کے نظریہ کو کھلا چیلنج ہے جس کی اصلاح ضروری ہے۔ قرآن کے مطابق دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اخرت اس کا حتمی نتیجہ ہے۔  موت کے بعد برزخ ، یوم حساب ، جزا و سزا ، معافی اور بخشش کا نظام قرآن میں بیان ہے جس کی تفصیل  رسول اللہ ﷺ  نے بھی بیان فرمائی۔ اس پر اسلام کے نظام کی بنیاد ہے ۔ قرآن  نے عقل کے استعمال پر بہت زور دیا جس کو ہم بھلا چکے ہیں۔ کیا نجات بہت آسان ہے کہ بآسانی مل جائے ؟ 
"نجات نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو بھی برا کام کرے گا اس کی سزا پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی پائے گا نہ مددگار۔ اور جو صالح اعمال کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہوگی۔". (النساء: ۱۲۳ - ۱۲۴)
قرآن ، فرقان ہے ، حق و باطل میں فرق کرنے کی کسوٹی ہے:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ (الأنبياء: 18) 
"بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اس کا مغز توڑ دیتا ہے اور باطل اسی وقت نابود ہو جاتا ہے۔"

​قرآن مجید کا نظامِ جزا و سزا درج ذیل محکم اصولوں پر قائم ہے:

 

https://tinyurl.com/Shortcut2Jannah

عملِ صالح کی شرط: 

قرآن میں جہاں بھی جنت کی بشارت ہے، وہ "إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ" (ایمان اور عملِ صالح) کے ساتھ مشروط ہے۔ 52 آیات قرآن میں 106 مرتبہ اس کی تکرار ہے اور  سورۃ العصر تو اس پر ہی ہے۔ 

. قانونِ عدل: 

"وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى" (انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی)۔ اور دوسری آیات : سورة النجم 53:39، سورة النجم 53:40، سورة النجم 53:41،  ، سورة الزلزلة 99:7،  ، سورة الزلزلة 99:8، . سورة البقرة 2:286،  سورة يس 36:54،  سورة المدثر 74:38،  سورة الانفطار 82:19،  سورة آل عمران 3:182،  سورة الانعام 6:164،  سورة الاسراء 17:15، سورة فاطر 35:18،  سورة الزمر 39:7، سورة القيامة 75:13.

. حقوق العباد اور تقویٰ:

قرآن کی رو سے بندوں کے حقوق مارنا اور ظلم کرنا انسان کو جہنم کا مستحق بناتا ہے، اور محض الفاظ کا دہرانا اس کی تلافی نہیں کر سکتا۔

"آیت الکرسی" قرآن کی ایک عظیم فضیلت والی آیت ہے ، مگر یہ قرآن کے نظریہ عدل کو تبدیل نہیں کر کرتی-
ایک روایت مسجد میں دیوار پر چسپاں ہے: 

«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»

یہ روایت قرآن سے متصادم ہے۔ تاویلوں سے کچھ بھی ثابت کیا جاسکتا ہے جو اس روایت کا حصہ نہیں بحث کرنے والے کے اپنے خیالات ہیں جو کچھ بھی ہو سکتے ہیں،  مگر اس روایت کا حصہ نہیں جو زیر  بحث ہے . تاویلوں سے قرآن  نے منع فرمایا کہ محکمات (پختہ) ہی دین کی بنیاد ہیں (قرآن3:7). عام مسلمان صرف روایت پڑھتا ہے نہ ہی تاویلوں کی دیوار پر جگہ ہے۔ یہ ایک متنازعہ روایت ہے جس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے تاویلوں کی ضرورت ہے ۔ قرآن کی آیات اور  عقل اس روایت کو مسترد کرتے ہیں مگر ائمہ کے یہاں بھی متضاد آراء ہیں :

 ائمہ جرح و تعدیل اور محدثینِ متقدمین کا موقِف

​. امام دارقطنی کا کلام:

امام دارقطنی نے اس حدیث کی سند پر کلام کرتے ہوئے اسے علل (مخفی علمی نقص) سے پاک قرار نہیں دیا۔ ان کے نزدیک اس کی سند میں غصن بن رزق یا دیگر ضعفاء کا واسطہ بھی بعض طرق میں آتا ہے جو روایت کو معلول (ضعیف) بناتا ہے۔

. امام ابن الجوزی:

انہوں نے اس روایت کو اس کے ظاہری الفاظ اور متن کے تفرد کی وجہ سے اپنی کتاب "الموضوعات" (من گھڑت روایات کا مجموعہ) میں شمار کیا، کیونکہ ان کے نزدیک اس کا متن قرآن کے مسلمہ قوانین کے خلاف اور اس کی سند غیر مستند ہے۔

امام ذہبی اور ابن حجر عسقلانی: حافظ ابن حجر نے "بلوغ المرام" اور "نتائج الأفكار" میں اس کی مختلف اسناد کو جمع کر کے اس کی مجموعی حالت کو "حسن" یا "صحیح" کے قریب قرار دیا ہے، لیکن انہوں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ متقدمین کی شرطِ صحت پر یہ روایت اتری نہیں بلکہ شواہد کی بنا پر قوی کی گئی ہے۔ حافظ ابن حجر اور البانی نے جب اس روایت کو "حسن" یا "صحیح" کہا، تو ان کی بنیادی نظر سند کے شواہد اور متابعات پر تھی، یعنی مختلف طرق مل کر سند کے ضعف کو دور کر رہے ہیں۔ لیکن محققین اور متقدمینِ نقاد کی نظر میں اس روایت کے متن میں شذوذ اور علت موجود ہے کیونکہ یہ نجات کے باب میں قرآن کے صریح اور متواتر قانونِ عدل سے بظاہر غیر مشروط مطابقت نہیں رکھتی۔

درایتی و علمی تجزیہ (روایت کا متون اور اصولِ حدیث سے موازنہ)

​علمِ حدیث میں صرف سند کی ظاہری صحت کافی نہیں ہوتی بلکہ "عدمِ شذوذ" اور "عدمِ علت" (یعنی روایت کا بنیادی قرآنی اصولوں سے تصادم نہ ہونا) صحتِ حدیث کی لازمی شرط ہے۔

​. روایت میں تفرد: اس درجے کا بڑا اجر و ثواب (کہ بندے اور جنت کے درمیان صرف موت کا فاصلہ رہ جائے) ایک ایسا عمومی معاملہ تھا جو روزانہ پانچ وقت تمام صحابہ کے سامنے پیش آتا۔ اگر رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم تمام صحابہ کو دیا ہوتا تو یہ نقلِ متواتر یا مشہور کے ذریعے ہم تک پہنچتا، نہ کہ صرف ایک شامی راوی کے تفرد کے ذریعے۔(خبر واحد)

. قرآنی نصوص سے مطابقت: سند کی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ جب اس کا متن بغیر کسی قید کے مطلق نجات کا دعویٰ کرتا ہے تو محدثین و محققین کا اصول ہے کہ خبرِ واحد (آحاد روایت) سے قرآن کے محکم اور متواتر قوانین کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔

جو لوگ اس روایت کو قبول کرتے ہیں (جیسے ابن باز)، وہ اس کی اس بشارت کی وضاحت "دینی فرائض کی پابندی کرنے اور گناہِ کبیرہ سے بچنے" کی شرط کے ساتھ کرتے ہیں۔
یہ حدیث میں تحریف کی طرح ہے کہ اپنے الفاظ اس میں شامل کر دیں . اس کا مطلب ہے کہ وہ بھی اس کو نامکمل مانتے ہیں. جبکہ الفاظ کلئیر ہیں یہ زبردستی ہے. 
یہی بات علمائے کرام کے درمیان اختلاف کا بیج بنتی ہے، کیونکہ ان کی آرائ ،  الفاظ مختلف ہو سکتی ہیں، اور یوں فرقہ واریت جنم لیتی ہے۔ 
یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کے الفاظ کو ایک مطلق اور بلا شرط بشارتِ جنت کے طور پر مسجد میں پیش کرنے کے بجائے سیاق و سباق کے مطابق تشریح کی ضرورت ہے۔ لہٰذا، رسول اللہ ﷺ کا نامِ مبارک استعمال کرتے ہوئے اتنے بڑے وعدے پر مشتمل کسی بیان کو اس طرح پیش کرنا جو قران مخالف ہو درست نہیں،کہ اس کے لیے وضاحت ضروری ہے۔ 
رسول اللہ ﷺ سے منسوب ہے کہ آپ نے فرمایا: 
"اس بات کو چھوڑ دو جو تمھیں شک (یا ابہام) میں ڈالے اور اس بات کو اختیار کرو جو تمھیں شک میں نہ ڈالے۔ کیونکہ سچائی اطمینان ہے، جبکہ جھوٹ شک اور ابہام پیدا کرتا ہے"،https://sunnah.com/tirmidhi:2518 
وضاحت: ١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ شک و شبہ والی چیزوں سے اجتناب کرو، اور جس پر قلبی اطمینان ہو، اس پر عمل کرو، سچائی کو اپنا شعار بناؤ کیونکہ اس سے قلبی اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے، جب کہ جھوٹ سے دل بےقرار اور پریشان رہتا ہے۔
 اور 
"میں نے تمھیں ایک ایسی روشن اور واضح راہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی اس کے دن کی طرح روشن ہے۔ میرے بعد اس راستے سے وہی انحراف کرے گا جو ہلاک ہونے والا ہے۔"
 (Ibn Majah: 43, Ahmad: 17142). (Tirmidhi: 2518, Nasa'i: 5711)

​خلاصہ

​اسنادی اعتبار سے یہ روایت ائمہِ حدیث کے نزدیک "مختلف فیہ" (متنازعہ) ہے۔ متقدمینِ نقاد اس کی سند میں تفرد اور علل کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ متاخرین نے اس کے شواہد کی بنا پر اسے حسن درجے میں رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر مستقل عقیدہ یا نجات کا بلا مشروط قانون قائم نہیں کیا جا سکتا۔

عصرِ حاضر اور تاریخِ اسلام کے کئی عظیم مصلحین (جیسے شاہ ولی اللہ دہلوی، شبلی نعمانی، اور مولانا امین احسن اصلاحی) نے اس رجحان پر شدید تنقید کی کہ کس طرح "شارٹ کٹ روایات" نے امت کے عملی جذبے کو مفلوج کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانیے نے مسلمانوں کو عمل، اخلاق، عدل اور حقوق العباد کی جدوجہد سے ہٹا کر محض الفاظ کے دہرانے پر تکیہ کرنے والا بنا دیا۔

​علمی دنیا میں یہ بات کبھی پوشیدہ نہیں رہی۔ قرآن کو اصل اور حاکم ماننے والے تمام محققین نے ہمیشہ یہی موقف اختیار کیا کہ قرآن کا قانونِ عدل و حساب ہی اصل دین ہے، اور کسی بھی روایت کو قرآن کے اس بنیادی ڈھانچے سے آزاد کر کے پیش کرنا خود دین کے مزاج کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

 تجویز ۔۔ درخواست

1۔ آیت الکرسی اور دوسری دعائیں موجود رہیں صرف آیت الکرسی  پر "متنازع حدیث"  کو خاکی کاغذ لگا کر کور کر دیں۔ آیت الکرسی متبرک ، عظیم آیت ہے اس کو تلاوت کریں۔

2۔ مسجد میں کسی تحریر کو لگانے سے قبل تحقیق کر لیں کہ وہ متنازعہ نہ ہو۔

3. ایسی متنازعہ تحریریں علمی حلقوں میں بحث مباحثوں تک محدود رہیں .

مزید تفصیل درج ذیل مضامین میں .....

~~~~~~~~~~~~~~~~
وَأَنِ اعْبُدُونِي ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ‎﴿٦١﴾‏ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا ۖ أَفَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ ‎﴿٦٢﴾‏ هَٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ‎﴿٦٣﴾‏ (یسن :١ ٦ -٣ ٦ )
 اور میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے (61) مگر اس کے باوجود اس نے تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کر دیا کیا تم  عقل نہیں رکھتے تھے؟ (62) یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھا (63:36-63)
سیدھا راستہ اللہ کا ہے ،قرآن کا ہے ،   عقل استعمال کرو -رسول (صلعم ) پر جھوٹ منسوب کرنا جہنم کا
 ٹھکانہ ہہے چاہے نیک بات ہو . آیت الکرسی عظیم آیات ہے مگر رسول پر جھوٹ لگانا جرم ہے . یہ جہالت کی بات
 مشہور ہے کہ دین میں عقل نہ استعمال کرو ،  یہ بات قرآن کے خلاف ہے .
~~~~~~~~~~~~    

روشن اور واضح راستے پر چھوڑنے کی حدیث

قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا، لاَ يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلاَّ هَالِكٌ»

• اردو ترجمہ: "میں نے تمھیں ایک ایسی روشن اور واضح راہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی اس کے دن کی طرح روشن ہے۔ میرے بعد اس راستے سے وہی انحراف کرے گا جو ہلاک ہونے والا ہے۔" (سنن ابن ماجہ: 43، مسند احمد: 17142)

 شک و شبہ کو چھوڑ کر یقینی بات اختیار کرنے کی حدیث

«دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لاَ يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ»

• اردو ترجمہ: "اس بات کو چھوڑ دو جو تمھیں شک میں ڈالے اور اس بات کو اختیار کرو جو تمھیں شک میں نہ ڈالے۔ کیونکہ سچائی اطمینان اور سکون ہے، جبکہ جھوٹ شک اور بے چینی ہے۔" (جامع ترمذی: 2518، سنن نسائی: 5711)             ~~~~~~~~~~~~~                                                                                    

امت کا مفلس

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

“ لوگوں نے عرض کیا: مفلس ہم میں وہ ہے جس کے پاس روپیہ اور اسباب نہ ہو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مفلس میری امت میں قیامت کے دن وہ ہو گا جو نماز لائے گا، روزہ اور زکوٰۃ لیکن اس نے دنیا میں ایک کو گالی دی ہو گی، دوسرے کو بدکاری کی تہمت لگائی ہو گی، تیسرے کا مال کھا لیا ہو گا، چوتھے کا خون کیا ہو گا، پانچویں کو مارا ہو گا، پھر ان لوگوں کو (یعنی جن کو اس نے دنیا میں ستایا) اس کی نیکیا ں مل جائیں گی اور جو اس کی نیکیاں اس کے گناہ ادا ہونے سے پہلےختم ہو جائیں گی تو ان لوگوں کی برائیاں اس پر ڈالی جائیں گی آخر وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔“*(رواہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ، صحیح مسلم :6579)

حقوق العباد ، حقوق اللہ کی نیکیوں کے بدلہ میں صرف ہو جائیں گے۔ 

‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

”تم حقداروں کے حق ادا کرو گے قیامت کے دن یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا۔“

(گو جانوروں کو عذاب و ثواب نہیں پر قصاص ضرور ہو گا)۔ (صحیح مسلم 6580، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ)

https://bit.ly/Haqoq-ul-Ibaad 

بدیانت ، خائین ، کرپٹ کو جہنم کی سزا ، شفاعت اور حقوق العباد

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا اور غلول (خیانت) کا ذکر فرمایا ‘ اس جرم کی ہولناکی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تم میں کسی کو بھی قیامت کے دن اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری لدی ہوئی ہو اور وہ چلا رہی ہو یا اس کی گردن پر گھوڑا لدا ہوا ہو اور وہ چلا رہا ہو اور وہ شخص مجھ سے کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے۔

لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ میں تو (اللہ کا پیغام) تم تک پہنچا چکا تھا۔

اور اس کی گردن پر اونٹ لدا ہوا ہو اور چلا رہا ہو اور وہ شخص کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے۔ لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ :

میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا ‘ میں اللہ کا پیغام تمہیں پہنچا چکا تھا ‘

 یا (وہ اس حال میں آئے کہ) وہ اپنی گردن پر سونا ‘ چاندی ‘ اسباب لادے ہوئے ہو اور وہ مجھ سے کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمایئے ‘ لیکن میں اس سے یہ کہہ دوں کہ:

میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا ‘ میں اللہ تعالیٰ کا پیغام تمہیں پہنچا چکا تھا۔

یا اس کی گردن پر کپڑے کے ٹکڑے ہوں جو اسے حرکت دے رہے ہوں اور وہ کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ

میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا ‘ میں تو (اللہ کا پیغام) پہلے ہی پہنچا چکا تھا۔ (البخاری، 3073)

 ‏ ‏ ‏https://bit.ly/Haqoq-ul-Ibaad   /  ‏https://bit.ly/Shafat

بداعمالیاں اور شفاعت

اللہ تعالی کا یہ فرمان نظام کائینات کا ِخلاصہ ہے جسے یاد رکھیں، کبھی نہ بھولیں

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجۡتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَہُمۡ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحۡیَاہُمۡ وَ مَمَاتُہُمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ (21) وَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَ لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿45:22﴾

کیا ان لوگوں کا جو بداعمالیاں کرتے ہیں یہ گمان ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک کام کئے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہو جائے برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کر رہے ہیں ۔ اور آسمانوں اور زمین کو اللہ نے بہت ہی عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ ہر شخص اپنے (اچھے ، برے) اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا (قرآن ، الجاثیہ22 ،45:21)

قیامت کو حساب کتاب ہوگا ، اللہ عدل ، انصاف کرے گا ، کسی پر ظلم نہ ہوگا ، حقوق العباد کی کوئی معافی نہیں ، شہید کو بھی قرض معاف نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بددیانت خائین کرپٹ کی شفاعت سے انکار کر دیں گے۔ 

شفاعت شروع ہو گی جب لوگ جہنم میں سیاہ کوئلہ بن جائیں گے۔ پھر، ان پر شفاعت کے بعد جنت کا پانی ڈالا جائیے گا۔ 

کسی دھوکہ میں نہ رہیں ۔۔ گناہوں کی معافی کے وعدے صرف حقوق اللہ کے متعلق ہیں۔ اگر سمجھ نہں آ رہی تو تفصیل ملاحضہ فرمائیں 》》》》

جہنم میں کوئلہ اور شفاعت 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک دوزخ والوں کی بات ہے تو وہ لوگ جو (ہمیشہ کے لیے) اس کے باشندے ہیں نہ تو اس میں مریں گے اور نہ جئیں گے۔ لیکن تم (اہل ایمان) میں سے جن لوگوں کو گناہوں کی پاداش میں (یا آپ نے فرمایا: خطاؤں کی بنا پر) آگ کی مصیبت لاحق ہو گی تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک طرح کی موت طاری کر دے گا یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے تو سفارش کی اجازت دے دی جائے گی، پھر انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور انہیں جنت کی نہروں پر پھیلا دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے اہل جنت! ان پر پانی ڈالو تو وہ اس میں بیج کی طرح اگ آئیں گے جو سیلاب کے خس و خاشاک میں ہوتا ہے۔“ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ایسا لگتا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحرائی آبادی میں رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 459]
مطلب خود نکال لیں ..... شفاعت ایک اعزاز ہے ، (حقوق العباد کے) گناہوں کی سزا ملے گی " جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے تو سفارش کی اجازت دے دی جائے گی" ... سے ظاہر ہے .. قرآن بھی یہی کہتا ہے انصاف بھہی یہ ہے .

قرآن تارک العمل (مھجور) کیسے ہوا؟

رسول ص اور صحابہ کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے باقی گمراہی چاہے رسول صلعم کے مقدس نام کو استعمال کریں ۔۔ ارباب اختیار اور علماء سو کے ہزار سالہ گٹھ جوڑ سےجاری ۔۔ قرآن کو متروک العمل کرنے کا "مقدس فریب".. Ebooks اور مضامین 》》》https://tinyurl.com/DeenMeenDhoka

درست حدیث کی پہچان ، رسول اللہ صلعم نے فرمایا: 

"جب تم میرے حوالے سے کوئی ایسی حدیث سنو جس سے تمہارے دل شناسا ہوں تمہارے بال اور تمہاری کھال نرم ہوجائے اور تم اس سے قرب محسوس کرو تو میں اس بات کا تم سے زیادہ حقدار ہوں اور اگر کوئی ایسی بات سنو جس سے تمہارے دل نامانوس ہوں تمہارے بال اور تمہاری کھال نرم نہ ہو اور تم اس سے دوری محسوس کرو تو میں تمہاری نسبت اس سے بہت زیادہ دور ہوں۔" " [ مسند احمد: 22505]

..... .............. ..... .......

آیت الکرسی کی تلاوت پر جنت اور ہماری مساجد-٢
قرآن، حدیث اور نجات کے تصور کا تقابلی جائزہ
ایک آسان عمل، جنت کی ضمانت، اور قرآن کا بنیادی معیار

کتمان حق، حق سچ کو چھپانا بہت بڑا گناہ ہے اور حق بیان نہ کرنا کہ لوگوں کا ڈر ہو ، بجائے اللہ کے ڈر سے یہ بھی شرک کی ایک قسم ہے۔ اللہ ہم کو ان دونوں عظیم گناہوں سے بچائے۔

مساجد میں ایک حدیث اکثر نمایاں طور پر لکھی ہوئی نظر آتی ہے:

«مَن قرأَ آيةَ الكرسيِّ دُبُرَ كلِّ صلاةٍ مكتوبةٍ، لم يمنعْهُ مِن دخولِ الجنَّةِ إلَّا أن يموتَ»

یعنی:

«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»

یہ روایت حضرت ابو امامہؓ سے منقول ہے اور سنن النسائی الکبریٰ، طبرانی اور دیگر کتب میں آئی ہے۔ 

یہ حدیث بخاری اور امام مسلم  نے اپنی کتب حدیث (صحیح) میں شامل نہیں کی۔

امام جوزی  نے اسے "موضوع" (من گھڑت) قرار دیا۔ 

جبکہ دوسرے محدثین  اسے اسناد کے حساب سے  صحیح سمجھتے ہیں متن پر زور نہیں۔

یہ پہلی دو صدی کے بعد شام میں نمودار ہوئی۔  

"موضوع حدیث" وہ حدیث جو من گھڑت، خود ساختہ اور جھوٹی ہو اور جسے گھڑ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا گیا ہو۔اسلام کے مکی یا ابتدائی مدنی دور میں اس روایت کا کوئی وجود یا تحریری سراغ نہیں ملتا۔

تابعین اور تبع تابعین کے دور (خصوصاً دوسری صدی ہجری) میں جب اسلام کا جغرافیائی پھیلاؤ ہوا، تو عوام میں رغبت پیدا کرنے کے لیے واعظین اور قصہ گو افراد نے وظائف اور ترغیب و ترہیب پر مبنی بیانیے کو فروغ دینا شروع کیا۔ یہ سوچ کہ "ایک چھوٹا سا وظیفہ کر لو اور باقی تمام شرعی و اخلاقی ذمہ داریوں سے نجات پا لو"، اسلام کے اولین دور کا مزاج ہرگز نہیں تھی، بلکہ یہ بعد کے ادوار کی مذہبی نفسیات اور آسان نجات کی تلاش کا نتیجہ ہے۔

اسلام کے ابتدائی دور میں نجات کا پیمانہ صرف ایمان اور عملِ صالح تھا، اور یہ روایت اس دور میں موجود نہیں تھی بلکہ بعد کے ادوار میں روایات کے ذخیرے کے ذریعے سامنے آئی۔

​امام ابو حنیفہ اور معتزلہ:

انہوں نے خبرِ واحد (وہ حدیث جو ایک یا چند راویوں سے آئے) کو قرآن کے محکم اور عمومی قوانین کے مقابلے میں قبول کرنے سے واضح انکار کیا اور کہا کہ اگر کوئی روایت قرآن کی آیت سے ٹکرائے تو وہ ناقابلِ قبول ہے۔

​امام ابن الجوزی: 

انہوں نے اپنی کتاب "الموضوعات" اور "علل المتناهية" میں ایسی سینکڑوں روایات کو بے نقاب کیا جن میں معمولی عمل پر بے تحاشا ثواب اور نجات کی بشارتیں دی گئی تھیں، اور انہیں "واعظین کے جھوٹ" قرار دیا۔ یہ بھی موضوعات میں شامل ہے۔

​امام الشاطبی: 

انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "الموافقات" میں خبردار کیا کہ دین کے کلی اصولوں (قرآن) کو چھوڑ کر جزوی اور ضعیف روایات پر دین کی بنیاد رکھنا گمراہی کا سبب ہے۔

تساہل (نرمی) کا باضابطہ اصول: 

بدقسمتی سے متأخرین کے ہاں ایک اصول قائم ہو گیا جسے "التسامح في أحاديث الفضائل" (فضائل اور ترغیب کی احادیث میں نرمی برتنا) کہا جاتا ہے۔

جبکہ  رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ کی سزا دوزخ کی آگ ہے یہ متفقہ حدیث 62 راویان سے مروی ہے۔ 

 علماء نے حلال و حرام کے معاملے میں تو سخت اسناد کی شرط رکھی، لیکن فضائل، وظائف اور بشارتوں کے معاملے میں روایات کو بنا کسی سخت درایتی پرکھ کے پھیلنے دیا، جس کا خمیازہ اس صورت میں نکلا کہ لوگ قرآن کے محکم قوانینِ جزا و سزا کو بھول کر صرف ترغیبی وعدوں پر تکیہ کرنے لگے۔ یہ دراصل قرآن کو ترک العمل (مھجور) کرنے کی طرف ایک قدم تھا جس کی  رسول اللہ ﷺ  نے تنبیہ کی تھی (قرآن25:30 ).

روایت کا اسنادی مدار: 

یہ روایت امام نسائی (عمل اليوم والليلة: 100) اور امام طبرانی (المعجم الكبير: 7532) نے اس سند سے روایت کی ہے: أخبرنا الحسين بن بشر، قال: حدثنا محمد بن حمير، قال: حدثنا محمد بن زياد الألهاني، عن أبي أمامة الباهلي...

. محمد بن حمير الحمصي:

اس سند کا بنیادی اختلاف اور گفتگو اسی راوی پر مبادول ہوتی ہے۔.  امام النسائی نے خود اپنی جگہ ان پر جرح کرتے ہوئے فرمایا:

 "ليس بالقوي" (یہ حفظ کے لحاظ سے قوی نہیں ہیں)۔ . 

امام بخاری نے فرمایا: 

"كان يحفظ، فيه بعض النظر"۔.

خلاصه یہ کہ محمد بن حمير جمہور کے نزدیک حسن الحديث ہیں، لیکن اعلیٰ درجے کے ثقہ راویوں میں شمار نہیں ہوتے۔امام يحيى بن معين اور امام ابو حاتم الرازي نے انہیں "ليس به بأس" (قابلِ قبول) اور "صالح" قرار دیا۔ 

اسنادی و درایتی محاکمہ:  

تفردِ راوی: 

یہ حدیث صحابہ میں سے صرف ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے اور ان سے صرف محمد بن زیاد الألہانی کے واسطے سے مشہور ہوئی، جسے محمد بن حمیر نے نقل کیا۔ اس درجے کے اتنے بڑے وعدے (جنت میں دخول) کے لیے اتنی تفرد والی سند پر درایتی سوالات قائم ہوتے ہیں۔

 متن اور قرآن کا توازن: 

سند کے اعتبار سے اگرچہ بعض آئمہ نے اسے "حسن" کا درجہ دیا، لیکن درایت کے اصول پر جب اسے دیکھا جائے تو یہ روایت ایک عمل پر بغیر کسی استثناء کے جنت کا وعدہ کرتی ہے، جو قرآن کے ابدی قانونِ عمل اور جزا و سزا کے مجموعی نظام کی تائید کے بغیر ایک تمثیلی و ترغیبی اندازِ بیان ہی معلوم ہوتی ہے۔

درایت دراصل دینی متون کا وہ عقلانی و برہانی المیزان ہے جو انسان کو روایات کے ظاہری ڈھانچے سے آگے بڑھ کر ان کے اصل قرآنی اور فکری جوہر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

امام ابن الجوزی رحمه اللہ (متوفی 597ھ) نے اس روایت کو سخت جرح کا نشانہ بنایا اور اسے نا قابلِ اعتبار (غیر صحیح/باطل) قرار دیا ہے۔

• کتاب اور ریفرنس:

. کتاب: «العلل المتناهية في الأحاديث الواهية» (ناقابلِ اعتماد اور باطل احادیث کا مجموعہ) . جلد اور صفحہ: جلد 2، صفحہ 944 (طبع دار الكتب العلمية، بيروت) . حدیث نمبر: 1562 (باب: ما جاء في فضل آية الكرسي دبر الصلاة)

• امام ابن الجوزی کا جرح اور علمی تبصرہ:

امام ابن الجوزی نے اس روایت کی اسناد کو درج کرنے کے بعد اس کے مرکزی راوی محمد بن حمير اور دیگر سندوں پر شدید جرح کی اور اسے ساقط الاعتبار قرار دیا۔ انہوں نے اس حدیث کو اپنی موضوعات اور العلل المتناهية (ضعیف و باطل احادیث کی کتاب) میں درج کر کے یہ ثابت کیا کہ اس کا متن اور سند نقد و جرح سے پاک نہیں ہے۔

اس کے علاوہ امام ابن الجوزی نے اپنی دوسری معروف کتاب «كتاب الموضوعات» (گھڑی ہوئی احادیث کے مجموعے) میں بھی ایسی تمام روایات کو شامل کیا ہے جو فضائل اور وظائف کے نام پر مبالغہ آرائی پر مبنی وعدے اور بشارتیں بیان کرتی ہیں۔

تلافی اور تحریف کا سدِ باب کرنے کے لیے تمام علمائے امت اور محدثین کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ:

• کسی بھی من گھڑت (موضوع) بات کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا شدید ترین گناہ اور دین میں تحریف ہے۔

• بغیر سندِ صحیح اور تحقیق کے کسی بات کو رسول اللہ ﷺ کا فرمان کہہ کر آگے پھیلانا سخت نا جائز ہے۔ 

• اگر کسی حدیث کی حقیقت معلوم ہو کہ وہ موضوع ہے، تو اسے صرف لوگوں کو خبردار کرنے اور اس کا جھوٹ واضح کرنے کے علاوہ کسی مقصد کے لیے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی (مسند احمد: 22505) درایت کا بنیادی اصول فراہم کرتا ہے کہ جو بات تمہاری اخلاقی حس، فطرت اور دل کے نور کے مطابق ہو، وہی آپ ﷺ کا ارشاد ہو سکتی ہے۔ ہر وہ منسوب روایت جو انسان کو گناہ پر جری کرے، قرآنی عدل کو معطل کرے یا حقوق العباد کو پامال کرنے کی ترغیب دے، وہ رسول اللہ ﷺ کے مقامِ بلند سے قطعی پاک ہے۔

 یہ ایک متنازعہ ، مشکوک حدیث ہے جو احتیاط کی متقاضی ہے۔ اس کے بیان سے پرہیز لازم ہے۔ 

ایسی احادیث کے متعلق یہ کہ سکتے ہیں کہ ؛ 

. راوی کو سننے یا سمجھنے میں غلطی لگی ، یا 

.یہ اس کے متضاد آیات قرآن و احادیث سے پہلے کی ہے ، یا

یہ قرآن کی متضاد  آیات سے منسوخ ہے یا

.یہ موضوع،   من گھڑت ہے

خالص علمی اور قرآنی اصولوں کی رو سے بھی وہی بات معتبر اور قابلِ قبول ہے جو مکمل طور پر مستند، متواتر اور قرآنِ مجید کے احکام و اصولوں کے عین مطابق ہو۔

۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

آیت الکرسی کی تلاوت پر جنت اور عوام -٣

«“جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»

بظاہر یہ ایک نہایت خوش کن اور آسان بشارت ہے: 

پانچ فرض نمازوں کے بعد صرف ایک آیت پڑھ لیجیے اور جنت یقینی سمجھیے۔ لیکن جب اس روایت کے اصل الفاظ کو بغیر کسی اضافی شرط یا تاویل کے قرآن کے بنیادی اصولوں کے سامنے رکھا جائے تو ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا واقعی قرآن اور دوسری صحیح احادیث (اسناد+متن) کے مطابق ایک مخصوص عمل انسان کے لیے جنت کو اس حد تک یقینی بنا سکتا ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے صرف موت باقی رہ جائے؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ عام مسلمان نہ محدث ہوتا ہے، نہ سندوں کا ماہر اور نہ وہ سینکڑوں کتابوں کا تقابلی مطالعہ کرسکتا ہے۔ وہ مسجد میں لکھی ہوئی بات کو عموماً دین کی معتبر تعلیم سمجھتا ہے۔ اگر کوئی متنازعہ روایت قرآن کے واضح اصول سے مختلف تاثر دے تو اس کا عوام پر اثر معمولی مسئلہ نہیں یہ کتب حدیث سے اس کا اعتبار اٹھا سکتا ہے۔ 

1۔ پہلے حدیث کے الفاظ کو وہی معنی دیں جو وہ کہتے ہیں

اس بحث میں سب سے اہم اصول یہ ہونا چاہیے کہ حدیث کے الفاظ میں اپنی طرف سے ایسی شرائط شامل نہ کی جائیں جو حدیث میں موجود نہیں۔

روایت کہتی ہے:

«لم يمنعه من دخول الجنة إلا أن يموت»

یعنی:

«“اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»

حدیث یہ نہیں کہتی:

- اگر وہ باقی تمام فرائض بھی ادا کرے؛

- اگر وہ کبیرہ گناہوں سے بچے؛

- اگر وہ حقوق العباد ادا کرے؛

- اگر وہ مسلسل صالح اعمال کرتا رہے؛

- یا اگر اللہ اسے معاف کردے۔

یہ شرائط بعد کی تشریح ہوسکتی ہیں، ہر ایک کی اپنی اپنی تشریح ہو سکتی ہے جو کہ اس کے مخالف یا حق میں ہو سکتی ہے، لیکن اصل حدیث کے الفاظ نہیں ہیں۔

لہٰذا اگر ہم واقعی متن کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس کے ظاہری مفہوم کو تسلیم کرنا ہوگا۔


2۔ قرآن نجات کو ایک مختصر مذہبی فارمولے میں تبدیل نہیں کرتا

قرآن کا تصورِ نجات وسیع اور اخلاقی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۝ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ»

«“یقیناً انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے۔”» سورۃ العصر 103:2–3

یہاں نجات کے لیے صرف ایک ذکر یا ایک مخصوص آیت نہیں بلکہ:

ایمان + صالح اعمال

کا راستہ بتایا گیا ہے۔

اور “عملوا الصالحات” ایک مسلسل عملی زندگی کا تصور ہے، کوئی ایک مرتبہ کیا جانے والا مذہبی فارمولا نہیں۔ جو قرآن میں تقریبا 62 مرتبہ آیا ہے۔

بلکہ انسان کی پیدائش کا مقصد ہی ایمان اور عمل صالح ہے۔ جو سورہ کہف، آیت 2 اور سورہ ملک کی آیت 2 (احسن عمل) سے واضح ہے۔ 

3۔ قرآن ہر نیکی اور ہر برائی کو حساب میں رکھتا ہے

قرآن کہتا ہے:

«فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ»

«“جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔”» سورۃ الزلزال 99:7–8

یہ ایک بنیادی قرآنی اصول ہے:

نیکی بھی حساب میں ہے اور برائی بھی۔

اب اگر زیر بحث حدیث کو اس کے ظاہری اور مطلق مفہوم میں لیا جائے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

فرض کریں ایک شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے، لیکن وہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، حقوق مارتا ہے، بدعنوانی کرتا ہے یا دوسرے بڑے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے۔

حدیث کے الفاظ پھر بھی کہتے ہیں:

«“اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»

قرآن کہیں ایسا عمومی استثنا نہیں دیتا کہ ایک مخصوص تلاوت کے بعد انسان کے باقی اعمال کی جواب دہی ختم ہوجائے۔

4۔ قرآن جنت کو صالح اعمال سے جوڑتا ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ»

«“جنت میں داخل ہوجاؤ ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے۔”» (16:32 )

اسی طرح:

«وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ»

«“یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو، ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے تھے۔”» (43:72 )

یہاں قرآن انسان کی مجموعی عملی زندگی کو آخرت سے مربوط کرتا ہے۔

اس کے مقابل زیر بحث روایت ایک مخصوص عمل کے بارے میں انتہائی مطلق وعدہ کرتی ہے۔

یہی اصل متنی مسئلہ ہے۔

5۔ قرآن انسان کی اپنی کوشش اور ذمہ داری کو بھی اہم قرار دیتا ہے

«وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ»

«“اور انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔”» (53:39 )

یہ قرآن کا اخلاقی تصور ہے:

انسان ذمہ دار ہے، کوشش کرتا ہے، اعمال کرتا ہے اور اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرتا ہے۔

اس تصور کے مقابل اگر کوئی روایت یہ تاثر دے کہ ایک مخصوص عمل کے بعد جنت یقینی اور صرف موت باقی ہے تو کم از کم اس روایت کے متن کو قرآن کے مجموعی تصورِ نجات کے سامنے ضرور پرکھنا چاہیے۔

6۔ صحیح حدیث بھی ایک اہم تقابل پیش کرتی ہے

صحیح بخاری و مسلم میں نبی ﷺ سے منقول ہے:

«لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ»

«“کسی شخص کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا۔”»

صحابہؓ نے پوچھا:

«“یا رسول اللہ! آپ بھی نہیں؟”»

آپ ﷺ نے فرمایا:

«وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ»

«“میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ اپنے فضل اور رحمت سے مجھے ڈھانپ لے۔”»

یہ روایت واضح کرتی ہے کہ نجات کو محض ایک عمل کے میکانی نتیجے کے طور پر سمجھنا درست نہیں۔

یہاں اللہ کا فضل و رحمت بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

7۔ کیا آیت الکرسی کی فضیلت ہی قابل اعتراض ہے؟

ہرگز نہیں۔

آیت الکرسی خود قرآن کا حصہ ہے:

«اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ...»

اس کی تلاوت، تدبر اور اللہ کا ذکر کرنا یقیناً نیک عمل ہے۔

اصل سوال آیت الکرسی پڑھنے کا نہیں بلکہ اس مخصوص روایت کے اس دعوے کا ہے کہ:
«“اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»
آیت الکرسی کی عظمت ایک چیز ہے؛
اس کے ساتھ ایک مخصوص قطعی اخروی ضمانت منسوب کرنا دوسری چیز ہے۔
یہ بھی اہم ہے کہ یہ روایت بخاری و مسلم میں نہیں بلکہ دیگر کتب حدیث میں ہے۔
اس کی معروف سند:

8۔ اس روایت کی سند بھی متفق علیہ نہیں

محمد بن حمیر → محمد بن زیاد الألهاني → ابو امامہؓ → رسول اللہ ﷺ ہے۔

روایت کی صحت کے بارے میں محدثین کا اتفاق نہیں رہا۔

بعض اہل علم، مثلاً ابن حبان اور بعد کے بعض محدثین، اسے قابل قبول یا صحیح قرار دیتے ہیں؛ جبکہ ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا۔

محمد بن حمیر کی توثیق کے بارے میں بھی محدثین کے اقوال یکساں نہیں ہیں۔

لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ: «“یہ ایک متفق علیہ قطعی صحیح حدیث ہے جس پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔”» اتفاق نہیں ہے، متنازعہ حدیث ہے۔ متفق علیہ نہیں۔ 

ایسا تاریخی طور پر درست نہیں۔

9۔ قرآن کی حفاظت اور حدیثی روایت کے معیار کا فرق

یہاں ایک بڑا اصولی سوال پیدا ہوتا ہے۔

قرآن کی حفاظت صرف ایک فرد کی روایت پر منحصر نہیں رہی۔

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں:

- وحی نازل ہوتی تھی؛

- رسول اللہ ﷺ اسے صحابہ کو سناتے تھے؛

- کاتبینِ وحی اسے لکھتے تھے؛

- صحابہ اسے حفظ کرتے تھے؛

- رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کی تلاوت ہوتی تھی؛

- جبریلؑ کے ساتھ قرآن کی مراجعت ہوتی تھی؛

- بعد میں حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں اسے باقاعدہ مجموعے میں جمع کیا گیا؛

- حضرت عثمانؓ کے زمانے میں مصاحف کو ایک معیار پر مرتب کرکے مختلف علاقوں میں بھیجا گیا۔

یعنی قرآن کی transmission میں زبانی، تحریری اور اجتماعی verification کے کئی درجے موجود تھے۔

اس کے مقابل ایک ایسی حدیث جس کی بنیادی سند ایک مخصوص واحد راوی سے گزرتی ہے، تاریخی certainty کے اسی درجے کی حامل نہیں ہوسکتی۔

یہ حدیث کو لازماً غلط ثابت نہیں کرتا، لیکن دونوں قسم کے evidence کو برابر قرار دینا بھی درست نہیں۔

10۔صرف کتابوں کی تعداد یہ ثابت نہیں کرتی کہ ہر روایت صحیح ہے۔

بلکہ اسی وسیع ذخیرے کی وجہ سے:

- صحیح، حسن، ضعیف، منقطع، معلول، شاذ، موضوع , جیسے درجات پیدا ہوئے۔

یعنی حدیثی ذخیرے کا وسیع ہونا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں ہر چیز کو یکساں طور پر رسول اللہ ﷺ کا یقینی قول نہیں سمجھا جاسکتا۔

11۔۔ “ہم شارٹ کٹ پسند کرتے ہیں؟”

یہاں ایک انسانی نفسیاتی پہلو بھی سامنے آتا ہے۔

ایک طرف قرآن کہتا ہے:

«آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ»  : ایمان لاؤ اور صالح اعمال کرو۔

دوسری طرف ایک روایت یہ انتہائی آسان فارمولا پیش کرتی ہے:

«ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھو → جنت کے درمیان صرف موت باقی۔»

عام انسان کے لیے دوسرا راستہ یقیناً زیادہ آسان اور پرکشش محسوس ہوسکتا ہے۔

یہاں “شارٹ کٹ” کا خطرہ پیدا ہوتا ہے:

اخلاقی جدوجہد کے بجائے ایک مخصوص مذہبی عمل کو اخروی ضمانت سمجھ لینا۔

یہ دین کی آسانی نہیں بلکہ دین کو ایک ritual formula میں تبدیل کرنے کا خطرہ ہے۔

12۔ مسجد میں لگی ہوئی اس حدیث کا عوامی اثر

یہی مسئلہ اس وقت زیادہ اہم ہوجاتا ہے جب ایسی روایت مسجد کی دیوار پر نمایاں طور پر لکھی ہو۔

عام نمازی:

- سند نہیں دیکھتا؛

- راویوں کا تعارف نہیں جانتا؛

- ابن الجوزی اور ابن حبان کا اختلاف نہیں جانتا؛

- قرآن کی تمام آیات کا تقابل نہیں کرسکتا۔

وہ صرف یہ پڑھتا ہے:

«“جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے۔”»

اس سے ایک بہت طاقتور تاثر پیدا ہوتا ہے:

«“یہ آسان ہے؛ میں یہ عمل کرلوں تو جنت یقینی ہے۔”»

اگرچہ مسجد میں لگانے والے کا مقصد یقیناً نیکی کی ترغیب دینا ہوسکتا ہے، لیکن اچھی نیت کسی متنازعہ روایت کو قطعی دینی ضمانت نہیں بنا دیتی۔

13۔ “دین آسان ہے” کا صحیح مطلب

قرآن کہتا ہے: «يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ» 2:185

اور: «وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ»  22:78

اسلام کی آسانی کا مطلب یہ نہیں کہ جنت کا کوئی جادوئی shortcut موجود ہے۔

آسانی کا مطلب ہے:

- اللہ نے غیر ضروری مشقت نہیں رکھی؛

- ہدایت واضح ہے؛

- توبہ کا دروازہ کھلا ہے؛

- اللہ کی رحمت وسیع ہے؛

- انسان اپنی استطاعت کے مطابق مکلف ہے۔

لیکن ساتھ ہی:

ایمان، صالح عمل، عدل، تقویٰ، توبہ اور جواب دہی بھی دین کا حصہ ہیں۔

14۔ اس روایت کے بارے میں متوازن نتیجہ

اس لیے آیت الکرسی کے بارے میں دو انتہائی موقف اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔

یہ کہنا درست نہیں:

«“آیت الکرسی پڑھنے کی کوئی خاص فضیلت نہیں ہوسکتی۔”»

اور یہ بھی درست نہیں کہ:

«“اس روایت کی وجہ سے آیت الکرسی پڑھنے والا جنتی یقینی ہے، خواہ اس کی باقی زندگی کیسی بھی ہو۔”»

زیادہ محتاط اور قرآنی معیار پر مضبوط موقف یہ ہے:

«آیت الکرسی قرآن کی عظیم آیت ہے اور اس کی تلاوت نیکی ہے۔ لیکن “ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے والے کو جنت میں داخل ہونے سے صرف موت روکتی ہے” ایک متنازعہ حدیثی روایت ہے۔ اس کی سند پر محدثین کا اتفاق نہیں، اور اس کا ظاہری مطلق مفہوم قرآن کے جامع تصورِ ایمان، صالح اعمال، جواب دہی اور اللہ کی رحمت کے ساتھ مطابقت کا سنجیدہ مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا اسے عوام کے سامنے قطعی اور یقینی جنت کی ضمانت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔»

آخری بات

اس مسئلے کا اصل مقصد آیت الکرسی سے لوگوں کو دور کرنا نہیں، بلکہ دین میں اخروی ضمانتیں گھڑنے یا غیر یقینی روایات کو قطعی مذہبی اصول بنانے سے بچنا ہے۔

ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ راستہ یہ ہے کہ وہ قرآن کو بنیادی معیار بنائے، نیکی کو کسی ایک آسان نسخے تک محدود نہ کرے، اور ہر ایسی روایت کے بارے میں سوال کرنے کا حق محفوظ رکھے جو قرآن کے واضح اصولوں سے متصادم محسوس ہو۔

آسان دین ضرور ہے؛ لیکن آسان دین کا مطلب “آسان شارٹ کٹ” نہیں۔

دین کا قرآنی راستہ شاید مختصر الفاظ میں ہے:

«ایمان → صالح عمل → تقویٰ → توبہ → عدل → اللہ کی رحمت»

یہ راستہ مشکل کو غیر ضروری نہیں بناتا، لیکن انسان کو اپنی اخلاقی ذمہ داری سے بھی آزاد نہیں کرتا۔

۔ قرآن ، فرقان ہے ، حق و باطل میں فرق کرنے کی کسوٹی ہے:

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ (الأنبياء: 18) 

"بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اس کا مغز توڑ دیتا ہے اور باطل اسی وقت نابود ہو جاتا ہے۔"

 تجویز ۔۔ درخواست

1۔ آیت الکرسی اور دوسری دعائیں موجود رہیں صرف آیت الکرسی  پر "متنازع حدیث"  کو خاکی کاغذ لگا کر کور کر دیں۔ آیت الکرسی متبرک ، عظیم آیت ہے اس کو تلاوت کریں۔

2۔ مسجد میں کسی تحریر کو لگانے سے قبل تحقیق کر لیں کہ وہ متنازعہ نہ ہو۔

3. ایسی متنازعہ تحریریں علمی حلقوں میں بحث مباحثوں تک محدود رہیں .

.......... ................. .............................

جنت کا شارٹ کٹ -  من گھڑت (موضوع ) روایات 

کئی لوگ قران پر ایمان تو رکھتے ہیں اسکی تلاوت کرتے ہیں مگر ان احادیث کو ترجیح دیتے ہیں جو ان کو جنت کا شارٹ کٹ دیتی ہیں اور  قرآن کی تردید کرتی ہیں, موضوع (  من گھڑت) ہیں ۔ قرآن مجید میں ان لوگوں کے روئیے کا واضح ذکر ملتا ہے جو اللہ کی بندگی، عملِ صالح اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بجائے آسانی، شارٹ کٹس اور محض آرزوؤں یا ظنی روایات کو بنیاد بنا کر نجات کا یقین کر لیتے ہیں۔ قرآن مجید ایسی فکر کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

درج ذیل قرآنی آیات اس ذہنی رویے کو واضح کرتی ہیں:

1. محض آرزوؤں اور خوش فہمیوں پر تکیہ کرنا

اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء میں واضح فرما دیا کہ نجات کا دارومدار خواہشات یا شارٹ کٹ پر نہیں بلکہ عملِ صالح پر ہے:

 لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ ۗ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ‎﴿١٢٣﴾‏ وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا ‎ (النساء: ۱۲۳ - ۱۲۴)

"نجات نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو بھی برا کام کرے گا اس کی سزا پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی پائے گا نہ مددگار۔ اور جو صالح اعمال کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہوگی۔"

2. قرآن کے مقابلے میں ظنی اور من گھڑت باتوں کی پیروی

قرآنِ کریم کو چھوڑ کر ایسی بات کو اختیار کرنا جو دین میں بلا دلیل ہو، سورۃ النجم میں اس کا ذکر یوں ملتا ہے:

. وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا . (النجم: ۲۸) "حالانکہ ان کے پاس اس کا کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان (ظن) کی پیروی کرتے ہیں، اور یقیناً گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔"

اسی طرح سورۃ لقمان میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو دین کے نام پر لغو اور بے بنیاد باتوں کو خریدتے ہیں تاکہ لوگوں کو بغیر علم کے اللہ کے راستے سے بہکائیں:

. وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ . (لقمان: ۶) "اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کھیل تماشے (یا بے بنیاد) باتوں کو خریدتے ہیں تاکہ بغیر علم کے اللہ کے راستے سے بہکائیں اور اس کا مذاق اڑائیں، ایسے لوگوں کے لیے ذلت آمیز عذاب ہے۔"

3۔قرآن کے بجائے کسی اور بات پر ایمان لانا

اللہ تعالیٰ قرآن کی بات کے مقابلے میں کسی اور بات کو ترجیح دینے پر سوال اٹھاتا ہے:

. فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ . (المرسلات: ۵۰) "پھر اس (قرآن) کے بعد وہ کس بات (حدیث) پر ایمان لائیں گے؟"

. فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ . (الجاثية: ۶) "پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد یہ کس بات پر ایمان لاتے ہیں؟"

4۔ کتاب کے ایک حصے پر ایمان اور دوسرے کا انکار

جو لوگ اپنی پسند کی چیزوں کو پکڑ لیتے ہیں اور قرآنی احکام کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں، ان کے بارے میں ارشاد ہے:

. أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ . (البقرة: ۸۵) "کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کا انکار کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو ایسا کرے اس کی سزا اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا کی زندگی میں رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں۔"

5. سستے سودے اور خود ساختہ معافی کے مغالطے

سورۃ الاعراف میں ان لوگوں کی حالت بیان کی گئی ہے جو گناہ بھی کرتے ہیں اور ساتھ یہ دعویٰ بھی رکھتے ہیں کہ ان کو بخش دیا جائے گا:

. فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا . (الأعراف: ۱۶۹)

 "پھر ان کے بعد ایسے ناخلف جانشین آئے جو کتاب کے وارث بنے، وہ اس ادنیٰ دنیا کا مال و متاع سمیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں بخش دیا جائے گا۔"

قرآن کا بنیادی نظام عدل، تقویٰ اور عملی محنت پر قائم ہے۔ جو روایات یا تصورات قرآنی اصولوں (مثلاً عدل، جزا و سزا، اور عملِ صالح کی شرط) کے صریح خلاف ہوں، وہ قرآنِ مجید کے ان واضح نصوص کی روشنی میں مردود قرار پاتی ہیں۔

مسجد کی دیوار پر متنازع حدیث

"اور رسول کہیں گے: اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔"— القرآن 25:30 "اور اسی طرح ہم نے اسے واضح آیات کی صورت میں نازل کیا، اور بے شک اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔"— القرآن 22:16

یہ بحث کیوں؟ کوئی شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ زیرِ بحث متنازع حدیث کسی فرض عبادت کا حکم نہیں دیتی؛ اگر کوئی شخص اسے تسلیم نہ کرے تو وہ اس پر عمل نہ کرے۔ پھر اسے بحث کا موضوع بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ بظاہر یہ بات مناسب معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر گہرائی سے غور کیا جائے تو یہ مسئلہ قرآن میں بیان کردہ انسانی ذمہ داری اور اللہ کے سامنے جواب دہی کے بنیادی سوال سے تعلق رکھتا ہے (کتمان حق )۔ اس لیے اس حدیث کی صحت اور مفہوم کی تحقیق ضروری ہے، تاکہ قرآن کی حفاظت اور رسول اللہ ﷺ سے منسوب صحیح احادیث کی پہچان میں احتیاط برقرار رہے۔

شک اور ابہام رسول اللہ ﷺ سے منسوب ان ہدایات کے باوجود جن میں مشتبہ امور سے بچنے کی تاکید ملتی ہے، کسی ایسی حدیث کو مسجد کی دیوار یا عوامی مقام پر نمایاں کرنا جس کی صحت یا مفہوم پر علمی اختلاف ہو، سنجیدہ غور کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر کسی حدیث کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال، اس کی سند، متن یا درجۂ صحت سے متعلق اہم معلومات موجود ہوں تو انہیں چھپا کر صرف ایک موقف پیش کرنا حقائق چھپانے کے مترادف ہو سکتا ہے(کتمان حق )۔ قرآن بھی حق کو چھپانے سے منع کرتا ہے۔ حدیث بیان کرنے میں غلطی یا غیرمحقق روایت کا خطرہ ہمیشہ تحقیق اور احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ بعض روایات میں خود حدیث بیان کرنے کے بارے میں سخت احتیاط کی تعلیم ملتی ہے: "ہم نیک لوگوں کو کسی معاملے میں حدیث کے بارے میں جتنا غلط بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھتے۔" "کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کرتا پھرے۔" "میری امت کے آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو تمہیں ایسی باتیں بیان کریں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباؤ اجداد نے؛ لہٰذا ان سے محتاط رہو اور ان سے دور رہو۔" ایک روایت میں یہ مفہوم بھی منقول ہے کہ اگر میری طرف منسوب کوئی حدیث تمہارے دل کو مانوس لگے، تمہارے جسم پر اس کا اثر ہو اور تمہیں اس سے قربت محسوس ہو تو اسے قبول کرنے کی نسبت زیادہ مناسب ہے؛ لیکن اگر وہ تمہارے دل کو اجنبی لگے، جسم پر اس کا اثر نہ ہو اور تم اس سے دوری محسوس کرو تو رسول اللہ ﷺ اس سے زیادہ دور ہیں۔ پھر متنازع حدیث کو عوامی طور پر نمایاں کرنے کی ممکنہ وجوہ کیا ہو سکتی ہیں؟

1۔ علماء اور مذہبی پیشواؤں پر اندھا اعتماد قدیم اور موجودہ مذہبی علماء پر اس طرح اعتماد کرنا کہ وہ لازماً درست ہوں، قطعی نہیں ہو سکتا جبکہ قیامت کے دن ہر انسان کو خود اللہ کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ اپنے فرائضِ رسالت کے بارے میں گواہ ہوں گے کہ انہوں نے پیغام پہنچا دیا تھا۔ علماء حضرات درست فیصلہ کرنے میں اپنے علم کے مطابق مدگار ہو سکتے ہیں مگر انسان کی بنیادی ذمہ داری نہہیں لے سکتے .وہ ا انسان ہیں ان کی کوتاہی گمراہی کا باعث بن سکتی ہے .

2۔ مشروط قبولیت جو لوگ زیرِ بحث روایت کو صحیح مانتے ہیں، ان میں سے بعض اس کی تشریح یا کچھ شرائط کے ساتھ اسے قبول کرتے ہیں۔ ایسی تشریح شاید حدیث کے الفاظ کو قرآن کے وسیع تر اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہو۔ لیکن اگر وہ شرط یا وضاحت مسجد کی دیوار پر موجود اصل عبارت میں شامل نہ ہو تو عام آدمی کے سامنے صرف ایک ادھورا تاثر پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی دینی رہنمائی جو مختلف علماء کی مختلف تشریحات پر منحصر ہو، عوامی سطح پر بغیر وضاحت کے پیش کی جانی چاہیے؟

3۔ عقل و تدبر کا استعمال نہ کرنا قرآن انسان کو حق و باطل میں امتیاز کرنے اور غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "بے شک اللہ کے نزدیک بدترین جاندار وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔"— القرآن 8:22

4۔ لاعلمی کی غلطی اگر کوئی شخص لاعلمی یا غلط فہمی کی وجہ سے غلطی کرے تو وہ اللہ سے معافی مانگ سکتا ہے اور آئندہ تحقیق و احتیاط اختیار کر سکتا ہے۔

5۔ قرآن کو کمزور کرنے کی دانستہ کوشش یہ ایک ممکنہ مفروضہ ہو سکتا ہے، لیکن کسی خاص فرد یا ادارے کے بارے میں ایسا دعویٰ کرنے کے لیے واضح ثبوت درکار ہوگا۔

6۔ احادیث کو مشکوک بنانے کی دانستہ کوشش

یہ بھی ایک ممکنہ مفروضہ ہے، مگر کسی مخصوص شخص یا گروہ کی نیت کے بارے میں ثبوت کے بغیر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

7۔ حدیث کے ذریعے قرآنی مفاہیم تبدیل کرنا اگر کسی حدیث کا مفہوم قرآن کے کسی واضح اصول سے متصادم سمجھا جائے تو اس کے متن، سند، مفہوم اور تطبیق پر علمی تحقیق ضروری ہے۔ محض روایت موجود ہونے کی بنیاد پر مسئلہ ختم نہیں ہو جاتا۔

8۔ دو شریعتوں کا عملی تاثر اگر قرآن کو صرف تلاوت کے لیے اور روایات کو عملی دین کے اصل ماخذ کے طور پر استعمال کیا جائے تو ایک ناقد کو یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ عملی طور پر دو الگ دینی نظام قائم ہو گئے ہیں۔ تاہم "دو شریعتوں کا وجود" ایک استدلالی تعبیر ہے، کوئی ثابت شدہ تاریخی fact نہیں؛ اسے اسی حیثیت سے بیان کرنا چاہیے۔

9۔ مذہبی علماء کو غیر معمولی دینی اختیار دینا قرآن 9:31 میں یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں کہتا ہے کہ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔ اس آیت کی روشنی میں یہ سوال ضرور اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا انسانوں کو اللہ کے حکم کے مقابلے میں مطلق مذہبی اختیار دیا جا رہا ہے؟ لیکن یہ کہنا کہ موجودہ علماء جان بوجھ کر جعلی احادیث کو فروغ دیتے ہیں تاکہ قرآن اور رسول ﷺ کو کمزور کیا جائے، ایک بہت سنگین نیت کا دعویٰ ہے اور اس کے لیے مخصوص اور مضبوط ثبوت ضروری ہے۔

علماء اور مذہبی رہنماؤں کی اندھی پیروی قرآن میں درج ذیل مقامات اس موضوع پر غور کی دعوت دیتے ہیں: 9:31 — علماء اور راہبوں کو اللہ کے سوا رب بنانے کا ذکر۔ 33:67 — قیامت کے دن پیروکاروں کا کہنا کہ ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی پیروی کی۔ 2:166–167 — قیامت کے دن پیشوا اور پیروکار ایک دوسرے سے براءت کا اظہار کریں گے۔ 14:21 — کمزور لوگ متکبر رہنماؤں سے مدد طلب کریں گے۔ 38:60–61 — جہنم میں باہمی ملامت۔ 2:170 — آباؤ اجداد کی اندھی پیروی پر تنقید۔ 5:104 — آباؤ اجداد کے طریقے پر اصرار۔ 43:22–23 — قدیم آبائی روایت کو وحی پر ترجیح دینے کا ذکر۔ 31:21 — آباؤ اجداد کی پیروی، خواہ شیطان کی طرف بلانے والی ہو۔

حق کو چھپانا — کتمانِ حق قرآن میں حق کو باطل کے ساتھ ملانے اور حق کو چھپانے سے منع کیا گیا ہے: 2:42 3:71 7:33

اللہ کے سامنے انفرادی جواب دہی 19:95 — ہر شخص قیامت کے دن اللہ کے سامنے اکیلا آئے گا۔ 6:94 — ہر شخص اللہ کے سامنے فرداً فرداً آئے گا۔ 31:33 — قیامت کے دن نہ باپ اولاد کے کام آئے گا نہ اولاد باپ کے۔ 35:18 — کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ 80:34–37 — انسان اپنے قریبی ترین رشتہ داروں سے بھی اس دن بھاگے گا۔

قیامت کے دن رسول ﷺ کی شکایت "اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔"— 25:30 کیا ایک فرد کی بیان کردہ زیر بحث ، قرآن سے متصادم، حدیث یہ کوشش تو نہیں ؟

رسول ﷺ بطور گواہ 4:41 — ہر امت پر ایک گواہ اور رسول ﷺ کو اپنی امت پر گواہ بنانے کا ذکر۔ 16:89 — ہر امت پر اسی میں سے گواہ اور رسول ﷺ کو گواہ بنانے کا ذکر۔ 5:92 — رسول کی ذمہ داری واضح پیغام پہنچانا ہے۔ 24:54 — رسول پر صرف واضح طور پر پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔

فرقہ بندی اور مذہبی تقسیم سے متعلق قرآنی ہدایات

کچھ لوگ متنازع حدیث کو تسلیم کریں اور کچھ نہہیں کہ قرآن کے بر خلاف ہے تو فرقہ واریت جنم لیتی ہے 3:103 — اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے سے بچنے کا حکم۔ 3:105 — واضح دلائل آنے کے بعد اختلاف اور تفرقہ اختیار کرنے سے تنبیہ۔ 6:159 — دین کو فرقوں میں تقسیم کرنے والوں سے رسول ﷺ کی براءت کا ذکر۔ 30:31–32 — دین کو فرقوں میں تقسیم کرنے سے تنبیہ۔ 42:13 — دین قائم کرنے اور اس میں تفرقہ نہ کرنے کی ہدایت۔ 23:52–53 — ایک امت ہونے کے باوجود لوگوں کا اپنے دین کو ٹکڑوں میں تقسیم کر لینا۔ 21:92–93 — ایک امت کا تصور اور بعد میں لوگوں کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا۔ 8:46 — باہمی نزاع اور اختلاف سے کمزوری اور قوت کے زائل ہونے کی تنبیہ۔


.....................

☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly