اہل تشیع میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کہ بدعات سے سخت نالاں ہیں- بدعات نے ان کے دین کا حلیہ بگاڑ رکھا ہے- پڑھے لکھے مہذب شیعہ افراد کا فرض ہے کہ اپنے فقہ کو جاہل مولویوں اور ذاکرین جنہوں نے دین کو کمائی کا ذریعہ معاش بنا رکھ ہے، بدعات اور خرافات سے پاک کریں- اس طرح سے وہ الله ، رسول اللہ ﷺ ، ائمہ اکرام اور اہل بیت کی قربت کے امیدوار ہو سکتے ہیں اور مسلمانوں کے اتحاد میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں- کچھ اقدامات درہ ذیل ہیں، مگر ان کو خود کوشش کرنا ہو گی -
اہلسنت کے مقدسات کی توہین پر سید علی خامنائی کا فتوی :
اہلسنت برادران کے مقدسات کی توہین اور اہانت حرام ہے اور پیغمبر اسلام (ص) کی زوجہ پر الزام اس سےکہیں زیادہ سخت و سنگین ہے اور یہ امر تمام انبیاء (ع) کی ازواج بالخصوص پیغمبر اسلام (ص) کی ازواج کے لئے ممنوع اور ممتنع ہے۔
وقد سمع قوما من أصحابه يسبون أهل الشام أيام حربهم بصفين
إِنِّي أَكْرَه لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ - ولَكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ أَعْمَالَهُمْ وذَكَرْتُمْ حَالَهُمْ - كَانَ أَصْوَبَ فِي الْقَوْلِ وأَبْلَغَ فِي الْعُذْرِ - وقُلْتُمْ مَكَانَ سَبِّكُمْ إِيَّاهُمْ - اللَّهُمَّ احْقِنْ دِمَاءَنَا ودِمَاءَهُمْ - وأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وبَيْنِهِمْ واهْدِهِمْ مِنْ ضَلَالَتِهِمْ - حَتَّى يَعْرِفَ الْحَقَّ مَنْ جَهِلَه - ويَرْعَوِيَ عَنِ الْغَيِّ والْعُدْوَانِ مَنْ لَهِجَ بِه
۔ [نہج البلاغہ ٢٠٦]فرمان امام علی (علیہ السلام) : "میں تمہارے لئے اس بات کو نا پسند کرتا ہوں کہ تم گالیاں دینے والے ہو جائو۔ بہترین بات یہ ہے کہ تم ان کے اعمال اورحالات کاتذکرہ کرو تاکہ بات بھی صحیح رہے اورحجت بھی تمام ہو جائے اور پھر گالیاں دینے کے بجائے یہ دعا کرو کہ یا اللہ! ہم سب کے خونوں کومفحوظ کردے اور ہمارے معاملات کی اصلاح کردے اور انہیں گمراہی سے ہدایت کیراستہ پر لگادے تاکہ ناواقف لوگ حق سے با خبر ہو جائیں اور حرف باطل کہنے والے اپنی گمراہی اور سرکشی سے بازآجائیں"
[نہج البلاغہ خطبہ : ٢٠٦]حضرت علی (رضى الله عنها) کا تفرقہ سے بچنے اور اکثریت کے ساتھ ہونے کا حکم :
"نہج البلاغہ" حضرت علی ابن ابی طالب (رضى الله عنها) کے خطبات اور اقوال کی مستند شیعہ کتاب سمجھی جاتی ہے، اس میں خطبہ نمبر 126 میں لکھا ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب (رضى الله عنها) نیں فرمایا :
" میرے بارے میں گمان کرنے والوں کی دو اقسام برباد ہو جائیں گے ،جو لوگ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور محبت کی شدت ان کو سیدھے راستے سے سے دور لے جاتی ہے، اور وہ لوگ جو مجھ سے بہت زیادہ نفرت کرتے ہیں اور نفرت کی شدت ان کو سیدھے راستے سے دور لے جاتی ہے . میرے حوالے سے سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جو درمیان کا راستہ اختیار کریں لہٰذا ان لوگوں کے ساتھ ہو جائیں اور مسلمانوں کی عظیم اکثریت کے ساتھ ہوجاؤ کیونکہ الله کے حفاظت اتحاد میں ہے . تم لوگ تفرقے سے بچو.جو گروپ سے الگ تھلگ ہوتا ہے وہ شیطان کا آسان شکار ہوتا ہے. جیسے جو بھیڑ گلے سے علیحدہ ہوتی ہے بھیڑے کے لے آسان شکار ہوتی ہے . ہوشیار! جو بھی اس راستے [فرقہ واریت کے] پر بلاتا ہے چاہے وہ میرے نام کے گروپ سے ہو اس کو قتل کرو. [ خطبہ نمبر 126 /127 "نہج البلاغہ" حضرت علی ابن ابی طالب (رضى الله عنها) کے خطبات اور اقوال کی مستند کتاب ترجمہ و مفہوم]
نوٹ : خبردار : قتل کا اختیار صرف قانون کے مطابق اسلامی حکومت کے قاضی اور عدلیہ کو ہے . فساد فی الارض ممنوع ہے .
امام خمینی کا خونی ماتم کی ممانعت کے بارے میں فتوی
امام خمینی نے خونی ماتم کی ممانعت کے بارے میں ایک فتویہ جاری کیا اور کربلا کے تعزیہ کی اجازت کو مشروط بناتے ہوئے اسلام کو نقصان نہ پہنچانے کا مشورہ دیا - اس کے بعد آیت اللہ شاہد سید محمد باقر صدر اور آیت اللہ شاہد مرتضی مطہری ، نیز دور اندیشی کے حامل علماء کے ایک گروپ نے اس فیصلے کی حمایت کی اور خونی ماتم کی مذمت کی۔
شاہد آیت اللہ مطہری نے اپنی کتاب ہوزہ و روحانیات میں اس بحث کا ذکر کیا ہے:
خونی ماتم اپنی موجودہ شکل میں عقلی یا مذہبی پشت پناہی نہیں رکھتا۔ یہ بدعت کی واضح مثال ہے۔ کم از کم ، موجودہ دور میں یہ شیعہ ازم پر سوال اٹھانے کا سبب بنتا ہے۔
وہ پروگرام ، عمل جن کا امام حسین علیہ السلام کے مقاصد سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ استرا ، بلیڈ اور تالے ہیں۔ بلیڈ سے سر پر ضرب لگانا وہی ہے۔ یہ ایک غلطی ہے۔ کچھ لوگ بلیڈ لیتے ہیں اور اپنے سروں پر خون بہاتے ہیں - کس کے لیے؟ یہ عمل ماتم نہیں ہے۔
شاہد سید عبدالکریم ہاشمی-نجاد نے شیعہ عقیدے پر خون ماتم کے برے اثرات کے بارے میں لکھا ہے: آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا:
ہمارے پیارے سوگواروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے کاموں سے پرہیز کریں جس سے مذہب خراب نظر آئے گا ان کے جسم پر چوٹ لگی ہے۔ یہ بدعت کی واضح مثال ہے۔
خونی ماتم کے حوالے سے امام خامنہ ای کے فتوی پر عمل کرنے پر علماء کی تلقین
ابنا فارسی نے پیش لفظ یوں(یہ اسکا ترجمہ ہے) لکھا تھا:
عزاداری اور ماتم کے مراسم میں قمہ زنی کرنا ، تالوں اور زنجیروں سے جکڑنا، سر اور سینے کو خون آلود کرنا ، زیارت میں سینہ خیز چلنا اور اس قسم کے طریقوں پر مبنی عزاداری کرنا بے شک اسلام اور بالخصوص اپنے مذہب کی اہانت کا سبب بن جاتے ہیں خاص کر موجودہ دور میں جس میں مسلمانوں کے کردار اور رفتار کا باریک بینی کے ساتھ تحقیق کیا جاتا ہے اور اس پر اسلام کے بارے میں قضاوت کی جاتی ہے ۔ اسلئے مقام معظم رھبری دامت برکاتہ نے امت اسلامی کو ارشاد کرتے ہوئے اس قسم کے مسائل کے بارے میں حکم فرمایا کہ ایسا کام مذھب کی توہین ہے اسے ترک کیا جانا چاہئے اور کئ بار قمہ زنی ترک کرنے اور حسینی مجلس میں خرافات کو ترک کرنے کی تاکید کرتے رہے اور سال ۱۳۸۸ ہجری شمسی(مطابق۲۰۰۹م)مبلغوں کے ملاقات کے دوران آپ نے اس موضوع پر ایک بار پھر تاکید فرمائی ہے ۔ اب چونکہ تاسوعا اور عاشورا نزدیک ہے جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے معظم فقہا کی نظر کا بھی دورہ کرتے ہیں ۔ حوزہ علمیہ قم کے چند فاضل طالبعلموں نے مقام معظم رھبری کے بیانات کے سلسلے میں خط کے ذریعہ بعض علما اور جامعہ مدرسین کے ارکان سے استفتا کیا ہوا تھا ، انہوں نے اپنی نظرات کو بشرح ذیل اعلان کیا ۔ آج یاد دہانی کے لئے اور ہر قسم کے خرافات سے پرہیز کرنے کے لئے اور مخالف کے ہاتھوں بہانہ نہ دینے کے غرض سے اسکا گرداں کرتے ہیں۔
حضرت آیت اﷲسیستانی کا فتوی:
حضرت آیت اﷲ العظمی سیستانی مدظلہ العالی کی خدمت میں امام خامنہ ای کی طرف سے عزاداری کے حوالے سے صادر کئے گئے مذکورہ احکامات کے دائرہ کار سے متعلق سوال کیا اور وہاں سے جواب آیا کہ <<حضرت آیت اللہ سیستانی کے مطابق معاشرے کے نظم کے حوالے سے فقیہ عادل مقبول کا حکم تمام مؤمنین کے ساتھ ساتھ باقی مجتہدین پر بھی نافذ العمل ہے
شہید سید عبد الکریم ہاشمی نژاد نے بھی شیعت کے چہرے کو مسخ کرنے میں قمہ زنی کے برے اثرات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
انتہائی افسوس کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں عقیدت ظاہر کرنے کے لیے کچھ ایسے کام انجام دئے جاتے ہیں جو آج کی دنیا کے سامنے شرمندگی اور حقارت کا باعث بنتے ہیں۔
امام خمینی (رح) کی رحلت کے بعد جب قمہ زنی نے پھر غیر معمولی طور پر زور پکڑ لیا اور دشمن کے میڈیا اور خبری اداروں کے لئے ان مناظر سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا راستہ ہموار ہو گیا تاکہ وہ اس طریقہ سے شیعت پر کاری ضرب لگا سکیں تو رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے محرم الحرام کی آمد کے موقع پرکہ کیلویہ و بویراحمد(یاسوج) کے علماء کے مجمع میں اپنی ایک تقریر میں مراسم عزاداری کو پوری شان و شوکت کے ساتھ منعقد کرنے اور قمہ زنی کے واقعہ کے گمراہ کن اور انحرافی ہونے پر زوردیا اور مطالبہ کیا کہ اس طرح کی توہین آمیز حرکات سے عزاداری کے مقدس پلیٹ فارم کو پاک کیا جائے۔
اس تقریر کے منتشر ہونے اور قمہ زنی کی حرمت پر مبنی آپ کی طرف سے حکم کے صادر ہو جانے کے بعد حوزہ علمیہ کے بعض مراجع اور فقہی شخصیتوں نے جدید فتوے صادر فرمائے اور بعض نے اپنے گذشتہ فتوے سے عدول کرتے ہوئے کہ جو قمہ زنی کے جواز یا استحباب پر تھا نیا فتوی دیا اور فرمایا کہ رہبر معظم انقلاب کے موجودہ حکم کی پیروی اور اس کا اتباع واجب و لازم ہے اور قمہ زنی حرام ہے ۔
شیخ الفقہاء و المجتہدین آیت اللہ العظمیٰ اراکی قدس سرہ جو آیت اللہ العظمیٰ گلپائیگانی کی رحلت کے بعد عالم تشیع کے مرجع تقلید جانے جاتے تھے نے اس کے باوجود کہ اپنے پہلے فتوے میں قمہ زنی کو عزاداری حسینی کا مصداق قرار دیا ہوا تھا سے عدول کرتے ہوئے نیا فتویٰ صادر کیا اور ولی امر مسلمین کے حکم جو عزاداری محرم میں خرافات پر مبنی اعمال سے پرہیز کرنے کے لئے ہے، کی اطاعت کو لازمی قرار دے دیا۔
حضرت آیت اللہ فاضل لنکرانی نے بھی اپنے فتوے میں فرمایا: ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد دنیا کے اکثر علاقوں میں اسلام اور شیعت کی طرف جو رجحان پیدا ہوا ہے اور اسلامی ایران کو عالم اسلام کا ام القریٰ پہچانا جانے لگا ہے اور ایرانی قوم کے اعمال و افعال اسلام کے حاکی اور نمونہ کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں ان چیزوں کے پیش نظر ضروری ہے سید الشہداء ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کی عزاداری کے حوالے سے اس طرح عمل کیا جائے کہ آپ کے تئیں اور آپ کے مقصد کی نسبت زیادہ رجحان اور جھکاؤ پیدا ہو۔ واضح ہے کہ ایسے ماحول میں، قمہ زنی کا مسئلہ نہ صرف کوئی مثبت تاثیر نہیں رکھتا، بلکہ مخالفین کے نزدیک مورد قبول نہ ہونے اور ان کی سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے اس کے برے اثرات رونما ہوں گے۔ لہذا ضروری ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے دین کے پیروکار اس سے اجتناب کریں۔
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی فرماتے ہیں: امام حسین(ع) کی عزاداری کا قیام بہترین شعائر میں سے ہے۔ لیکن وہ چیزیں جو بدن کو ضرر پہنچاتی ہیں یا مذہب کی توہین کا باعث بنتی ہیں ان سے پرہیز کیا جائے۔
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کی تقریر کا اقتباس :
’’وہ چیزیں جو دین کا حصہ نہیں ہیں انہیں دین کا جزء بناتے ہیں عزاداری میں مداخلت کرتے ہیں عزاداری کی شکل و صورت کو بدل دے رہے ہیں قمہ زنی کا مسئلہ جو کسی زمانے میں حتیٰ معصومین کے زمانے میں نہیں تھا اس کو لا کر رائج کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو غیروں کی نظروں میں بیہودہ ظاہر کریں قمہ زنی کے مناظر، جو بچے کے سر پر مارتا ہے، اپنے سر پر مارتا ہے، سفید لباس پورا خون سے لپ پت، کو دکھایا جا رہا ہے یہ جو میں کہہ رہا ہوں کہ غیروں کا ہاتھ اس میں ہے ایک موثق آدمی نے نقل کیا ہے۔ اس نے کہا کہ مشہد میں ایک سال ہم نے دیکھا کہ ایک بیرونی سفارتخانے کی طرف سے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے بعض عزاداروں کے درمیان نئے قمہ تقسیم کئے سب بہترین چمکدار، کیا اس غیر ملکی سفارتخانے کا دل ہمارے لیے جلا کہ ہم عزاداری کریں یا یہ دکھانا چاہ رہا ہے کہ یہ لوگ درندہ ہیں؟ سید الشہداء کی عزاداری تقرب الہی کے بہترین عمل میں سے ہے، کیمیا ہے، مشکلات کے حل ہونے کا ذریعہ ہے، لیکن اس کام سے پرہیز کریں جو لوگوں کو اسلام سے دور کرے‘‘۔
علمائے اعلام اور مراجع تقلید کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ ہر وہ عمل جو اسلام کی توہین کا باعث بنے حرام ہے اور اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ بطور مثال اس استفتاء کے بارے میں فقہاء کے جواب کہ جس میں عزاداری کے دوران بعض توہین آمیز حرکتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کی طرف توجہ کریں:
حضرت آیت اللہ بہجت نے اس استفتاء کے جواب میں جو عزاداری کے انعقاد کے طریقے اور ان کاموں کے بارے میں جو خونریزی کا باعث بنتے ہیں آپ سے پوچھا، توفرمایا:
اگر مقدسات کی توہین کا باعث بنیں تو جائز نہیں ہے۔
آیت اللہ سیستانی نے بھی ایسے ہی سوال کے جواب میں فرمایا:
ایسے کاموں سے اجتناب کیا جائے جو عزاداری کو خدشہ دار کرتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ صافی گلپائیگانی بھی فرماتے ہیں:
وہ کام جو مذہب کی توہین کا سبب بنے اس سے پرہیز کیا جائے۔
وہ استفتاء جو آیت اللہ العظمیٰ خوئی سے شائع ہوا ہے اس میں اس طرح کے اعمال کے جواز کو عزاداری امام حسین علیہ السلام میں اس بات سے مشروط کیا ہے کہ وہ توہین اور ہتک حرمت کا باعث نہ بنیں۔ آپ ایک اور استفتاء میں ’’عزاداری میں توہین‘‘ جو اکثر مراجع کے فتووں میں بیان ہوا ہے کی تشریح میں فرماتے ہیں: توہین اور ہتک سے مراد وہ چیز ہے جو عرف میں مذہب کے ہلکا ہونے کا سبب بنے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے عزاداری میں اس طرح کے اعمال کے ارتکاب کے حوالے سے فرمایا:
وہ چیز جو اسلام کی توہین اور عزاداری کی حرمت کو پامال کرنے کا سبب بنے جائز نہیں ہے امید کی جاتی ہے کہ قمہ زنی اور اس طرح کی چیزوں سے پرہیز کیا جائے۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے بھی مقدمۃً عزاداری کے فلسفہ کو بیان کرتے ہوئے تحریر کیا: ضروری ہے عزاداری کی رسومات میں زینبی کردار پیش کیا جائے یعنی عزاداری کو اسلامی منطق کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے اور ہر وہ عمل جو دین مقدس کو غیر منطقی ظاہر کرے اس سے پرہیز کیا جانا چاہیے، محترم اور قابل قدر عزادار بجائے اس کے کہ چھوری کو اپنے سروں پر ماریں اس فکر میں رہیں کہ چھوری اسلام کے ان دشمنوں کے سروں پر ماریں جنہوں نے ان کی زمینوں کو غصب کیا اور انہیں کمزور بنایا ان کے مال و منال کو لوٹا اور آخر کار ہر روز ایک نئے حربے کے ساتھ ان کی اسلامی زندگی کو خطرے سے دوچار کر دیا۔
بعض مراجع تقلید جیسے آیت اللہ شیخ جواد تبریزی نے بھی عزاداری کی شرط کو اہل بیت(ع) پر ڈھائے گئے مصائب پر غم و اندوہ کا اظہار،نام دیتے ہوئے کہا: سید الشہداء اور اہل بیت(ع) و اصحاب اہل بیت (ع) کے غم میں قمہ زنی کا داخل ہونا یقینی نہیں ہے۔ لہذا سزاوار ہے مومنین ایسے امور انجام دیں جن کا عزاداری میں شامل ہونا یقینی ہے۔ جیسے گریہ کرنا، ماتم کرنا، جلوس عزا نکالنا، وغیرہ
بدعت
بدعت دین سے کسی چیز کو کم کرنے یا اس میں کوئی چیز اضافہ کرنے کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ سُنّت ان تعلیمات کو کہا جاتا ہے جو قرآن اور اہل بیتؑ کی روایات میں ذکر ہوئی ہیں۔ لہذا بدعت سنت کے متضاد ہے۔ تمام شیعہ اور سنی فقہا بدعت کو حرام سمجھتے ہیں۔
روایات میں بدعت کو کفر اور شرک کے مصادیق میں سے شمار کیا ہے۔ دعت گناہِ کبیرہ ہے جس کا حرام ہونا مذہب کی ضرورت ہے اور جو اس لیے کبیرہ ہے کہ مسلسل روایتوں میں اس کے لیے عذاب کا وعدہ ملتا ہے اور چونکہ اصل بات مانی ہوئی اور ظاہر ہے اس لیے صرف چند روایتوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے:
پیغمبر خدا نے فرمایا ہے کہ "ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے"۔
(وسائل الشیعہ کتاب امر بالمعروف باب ۴۰)
امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں "جو بدعت کرنے والے کے نزدیک گیا اور جس نے اس کا احترام کیا اس نے بلاشبہ دین اسلام کو بگاڑنے کی کوشش کی۔" (وسائل الشیعہ)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) بدعت کو گناہِ کبیرہ شمار کرتے ہیں کیونکہ رسول خدا نے فرمایا: "جو بدعت کرنے والے سے خوش ہو کر اور ہنس کر ملا اس نے بلاشبہ اپنا دین بگاڑا۔" (سفینة البحار جلد ۱ ص ۶۳)
حضرت پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "میرے بعد جب تم کسی شکی اور بدعتی کو دیکھو تو اس سے دُور رہو۔ اسے بہت زیادہ بُرا بھلا کہو، اسے گالیاں سناؤ، طعنہ دو، اسے تھکا دو، عاجز کر دو تاکہ تمہیں جواب نہ دے پائے، لوگ اس سے اسلام میں بگاڑ کے سوا اور کوئی امید نہ رکھیں، اس سے چوکنا رہیں، اس کی بدعتیں نہ سیکھیں تاکہ خدا تمہارے لیے اس کام کے عوض نیکیاں لکھے اور آخرت میں تمہارے درجے بلند کرے۔" (وسائل الشیعہ باب ۳۹)
علّامہ مجلسی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
"شکیوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے دین میں شک کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی اس غلطی کی بدولت شک میں ڈالتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ شکیوں سے وہ لوگ مراد ہیں جن کا دین فاسد گمان اور وہم پر قائم ہے جیسے اہل خلاف کے علماء اور ممکن ہے کہ ان سے مراد بدکار، کھلم کھلا گناہ کرنے والے اور دین کے بارے میں منہ پھٹ لوگ ہوں کیونکہ یہی بات اس کا سبب ہے کہ لوگ ان کے دیندار ہونے میں شک کرتے ہیں اور ان کے عقیدے کی کمزوری کی علامت ہے۔
بدعت کیا ہے؟
علّامہ مجلسی فرماتے ہیں: "امت میں جو باتیں حضرت رسولِ خدا کے بعد شروع کی گئی ہوں وہ بدعت (ایجاد) ہیں۔ اس کے بارے میں کوئی خاص یا عام نص موجود نہیں ہے۔ اور نہ خصوصیت یا عمومیت کے ساتھ اس سے منع کیا گیا ہے جو کچھ عام طور پر ہوتا ہے وہ بدعت نہیں ہے جیسے مدرسہ بنانا وغیرہ کیونکہ مومن کو سکونت اور مدد دینا عام باتوں میں شامل ہے اور جیسے علمی کتابیں تصنیف اور تالیف کرنا جو شرعی علوم کی مدد ہے یا جیسے وہ لباس جو پیغمبر خدا کے زمانے میں رائج نہیں تھے یا نئی غذائیں جو عام لوگوں میں پسندیدہ اور مرغوب ہیں اور ان سے منع نہیں کیا گیا ہے۔
ہاں جو عام لباس یا غذا کے طور پر ہوا اگر اسے خصوصیت دیں اور کہیں کہ اس خاص طریقے سے خدا نے اس کا حکم دیا ہے تو یہ بدعت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ نماز جو سب سے اچھا عمل ہے اور جس کا ادا کرنا ہر حال میں مستحب ہے اگر چند رکعتوں کو کسی خاص وجہ سے مخصوص کر دیا جائے یا کسی مخصوص وقت سے وابستہ کر دیا جائے تو بدعت ہو گی۔
بدعت یعنی خدا کا حکم تبدیل کر د ینا
اس لحاظ سے بدعت کے معنی خدا کے دین کو بدلنا اور اپنا ناقص رائے اور عقل سے اس میں کچھ بڑھانا یا اس سے کچھ گھٹانا ہے چاہے اصول میں ہو چاہے فروع میں
۔ (اصول کافی فضل العلم باب ۲۰)حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) یہ بھی فرماتے ہیں: "محمد کا حلال قیامت تک ہمیشہ حلال رہے گا اور ان کا حرام روزِ قیامت تک برابر حرام رہے گا۔ ان کے سوا کوئی اور پیغمبر نہیں ہے اور ان کے علاوہ (قیامت تک) اور کوئی نہیں آئے گا اور حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو بدعت کرتا ہے وہ اس کی بدولت سنت کو ختم کر دیتا ہے۔" (اصول کافی کتاب فضل العلم باب ۲۰)
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) یہ بھی فرماتے ہیں: "جو شخص لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے حالانکہ ان کے درمیان اس سے زیادہ عقلمند شخص موجود ہوتا ہے وہ شخص بدعتی اور بہکانے والا ہے۔"
(سفینة البحار جلد ۲ ص۲۲۰)۔
Why do some Catholics Christians self-flagellate?
بعض کیتھولک عیسائی کیوں خونی ماتم اور سینہ کوبی کرتے ہیں؟
The late Pope John Paul II would whip himself, according to a nun who helped to look after him. So how common is this practice in the Catholic faith?
"We would hear the sound of the blows," says Sister Tobiana Sobodka, who was in the next room to Pope John Paul II at his summer residence in Castel Gandolfo, near Rome.
ترجمہ:
مرحوم پوپ جان پال II خود کو پیٹتا تھا ،ایک نن کے مطابق جو اس کی دیکھ بھال کرنے میں مدد کرتی تھی کہ کیتھولک ایمان میں یہ عمل اپنے آپ کو ازیت دینا یا کوڑون سے پیٹنا کتنا عام ہے؟
روم شہر کے قریب کاسٹل گاندولو میں اپنے موسم گرما میں رہائش پذیر پوپ جان پال II کے اگلے کمرے میں تھا جو بہن ٹوبانا سووبدوکا کہتے ہیں، "ہم نے پیٹنےکی آوازیں سنیں"
جسمانی طور پر گناہ کے لئے افسوس ظاہر کرنے کے لئے ایک جسمانی تناسب کے طور پر، جسم پرجلد پر مارنا یا چوٹ لگانا ہے، زیادہ تر اکثرخون نکلتا ہے.
کیتھولک مؤرخ پروفیسر مائیکل والش کہتے ہیں کہ کیتھولک وزارت کے بعض حصوں میں یہ 1960 کی دہائی تک وسیع پیمانے پر عمل تھا لیکن آج غیر معمولی ہے.
انہوں نے کہا کہ بحیرہ روم کے ممالک میں لین کے مقدس ہفتہ کے دوران عارضی مقاصد کے دوران علامتی مقاصد کے لئے علامتی طور پر عمل کیا جاتا ہے، وہ ایک یاد دہانی کے طور پر کہ یسوع مسیح مصیبت سے پہلے پیٹا گیا تھا.
لیکن فلپائن جیسے کچھ ممالک میں، یسوع مسیح کے مصیبت کی یہ دوبارہ منسوب جذبہ کے کھیل کو بلایا جاتا ہے - زیادہ انتہائی شکل لے سکتا ہے اور خون کو روک سکتا ہے.
ابتدائی عیسائیوں کو یہ خیال تھا کہ جسم خراب تھا اور اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت تھی یہ کافی آسان طریقہ ہے، اب ہم اس سے زیادہ سمجھتے ہیں کہ ایسی طرز عمل صحت مند نہیں ہیں. "