رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

مصنوعی ذہانت نیا دور: کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟

تاریخ کا یہ سبق نہایت تلخ اور سبق آموز ہے کہ دو صدی قبل جب یورپ میں صنعتی انقلاب برپا ہو رہا تھا، تو خلافتِ عثمانیہ (ترکی) یورپ کی سرحد پر واقع ہونے کے باوجود داخلی بگاڑ، جمود اور سیاسی و مذہبی کشمکش میں الجھا رہا۔ جدید ٹیکنالوجی، مشین اور سائنسی علوم کو اپنانے میں تاخیر کی وجہ سے وہ عظیم سلطنت معاشی اور فوجی طور پر مفلوج ہوئی اور بالآخر پارہ پارہ ہو گئی۔ اس کے برعکس، ایشیا کے دوسرے کنارے پر جاپان نے 1868ء کے "میجی انقلاب" (Meiji Restoration) کے بعد تمام تر داخلی اختلافات کو بالائے طاق رکھا۔ >>>

انہوں نے سائنسی علوم، صنعتی تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کو ہنگامی بنیادوں پر اپنایا اور محض چند دہائیوں میں ایک ایسی عالمی و صنعتی طاقت بن کر ابھرے جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔

یہ تاریخ کا ایک نہایت تابناک اور سبق آموز واقعہ ہے۔ 1453ء میں جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ (استنبول) پر فتح حاصل کی، تو یہ محض جذبے اور عددی برتری کی بنا پر نہیں تھا، بلکہ اس دور کی جدید ترین ٹیکنالوجی، جدید ترین عسکری سائنس اور جدید ترین آلات کے استعمال کا نتیجہ تھا۔

سلطان نے وقت کی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں ذرا سی بھی ہچکچاہٹ نہ دکھائی:

. شاہی توپ (The Dardanelles / Basilic Gun):

سلطان نے ہنگرین ماہرِ دھات کاری اور انجنئیر اوربان (Urban) کی خدمات حاصل کیں، جس نے اس دور کی دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین برنز کی توپ ڈیزائن کی۔ یہ وہ عظیم الشان ٹیکنالوجی تھی جس نے قسطنطنیہ کی ان ناممکن سمجھی جانے والی تھیوڈوسیئن فصیلوں (Theodosian Walls) کو پاش پاش کر دیا جنہیں ہزار سال تک کوئی حملہ آور نہ توڑ سکا تھا۔

. خشکی پر جہاز چلانے کی جدید ترین انجینئرنگ:

جب بازنطینیوں نے شاخِ زریں (Golden Horn) کے سمندری راستے کو لوہے کی موٹی زنجیروں سے بند کر دیا، تو سلطان نے روایتی طریقہ سوچنے کے بجائے حیران کن انجینئرنگ کا مظاہرہ کیا۔ اس نے ایک ہی رات میں 70 کے قریب جنگی جہازوں کو لکڑی کے تختوں اور چربی کے مساج سے خشکی اور پہاڑوں کے اوپر سے گھسیٹ کر دوسری طرف سمندر میں اتار دیا۔

. مستقبل کی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی کی قدر:

سلطان محمد فاتح صرف ایک مذہبی یا عسکری قائد نہیں تھا، بلکہ وہ ریاضی، جغرافیہ، انجینئرنگ اور کئی زبانوں کا ماہر تھا۔ اس نے ثابت کیا کہ دنیا میں کامیابی اور غلبہ حاصل کرنے کے لیے ایمان کے ساتھ ساتھ وقت کی جدید ترین سائنس اور ٹیکنالوجی کی قیادت شرطِ اول ہے۔

آج کے لیے سبق

سلطان محمد فاتح کی فتح یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ:

• فتح اور کامیابی ٹیکنالوجی کی قیادت میں ہے: اگر سلطان محمد فاتح اپنے دور کی جدید ترین سائنس اور توپ خانے کی ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کرتا، تو قسطنطنیہ کی فتح ناممکن رہتی۔

• آج کی "شاہی توپ" یعنی AI: جس طرح 15ویں صدی میں بارود اور بڑی توپیں جدید طاقت کا معیار تھیں، آج 21ویں صدی میں مصنوعی ذہانت (AI)، الگورتھم اور سپر کمپیوٹنگ ہی اس دور کی جدید ترین "شاہی توپ" ہیں۔

• غلامی سے آزادی کا واحد راستہ: اگر امتِ مسلمہ نے اپنے دور کے شاہی اوربان جیسے ماہرین، ڈیٹا سائنسدانوں اور تکنیکی صلاحیتوں کی سرپرستی نہ کی اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں پیش رفت نہ کی، تو ہم دورِ حاضر کی فصیلوں کے باہر محض تماشائی بنے رہیں گے۔

سلطان کا راستہ یہی بتاتا ہے کہ قرآنی فکر اور ایمان کی اصل روح جدید ترین علم اور تکنیکی برتری کو حاصل کر کے باوقار بننے میں ہے۔


آج مصنوعی ذہانت (AI) کا دور بعینہٖ وہی تاریخی موڑ ہے:

. فرقہ واریت اور باہمی تنازعات کی تباہ کاری:

مسلمان ممالک کا اپنی تمام تر توانائیاں، وسائل اور صلاحیتیں آپس  کی جنگوں، مسلک پرستی اور 'روائیتی بیانیے' کی بحثوں میں ضائع کر دینا خود کشی کے مترادف ہے۔ جب تک امت اس فکری و مسلکی جمود سے باہر نہیں نکلتی، وہ جدید دنیا کی قیادت تو درکنار، اپنے وجود کا دفاع بھی نہیں کر سکے گی۔

. قرآن اور جدت و تسخیرِ کائنات:

قرآنِ مجید غلامی، جمود اور اندھی تقلید کی سخت نفی کرتا ہے اور عقل، تدبر اور تسخیرِ کائنات کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اس نے اپنے حکم سے سب کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے۔ یقیناً اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔" (سورۃ الجاثیہ 45:13)

جدید علوم، سائنسی تحقیق اور مصنوعی ذہانت کا حصول درحقیقت اسی قرآنی جذبے کی عملی شکل ہے تاکہ قومیں کسی کی محتاج اور غلام نہ بنیں۔

. آج کا ہدف:

مصنوعی ذہانت محض ایک ایپ یا سافٹ ویئر نہیں، بلکہ آنے والے دور کی معاشی و دفاعی سیادت کا نام ہے۔ اگر مسلمان ممالک اب بھی ڈیٹا سائنس، سپر کمپیوٹنگ، الگورتھم کی تیاری اور جدید تعلیم کو ترجیح نہیں بنائیں گے، تو وہ فکری اور معاشی طور پر پھر سے غیروں کے غلام بن جائیں گے۔

وقت کی شدید ضرورت ہے کہ باہمی تفرقات اور برتری کی جنگوں میں وقت اورریسورز ضایع کرنے کی بجایے اپنے عوام کی بھلائی پر خرچ کریں اور جدید علوم، تحقیق اور AI کے میدان میں خود کفالت حاصل کی جائے، تاکہ تاریخ کی وہ دردناک غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے۔

مصنوعی ذہانت AI سے با خبر رہنے کے لیے ....

جنت کا شارٹ کٹ :https://tinyurl.com/Shortcut2Jannah

☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly