یہہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ مذہبی اور سیاسی نظریات جو بظاھرصاف جھوٹ اور ناقابل یقین نظر اتے ہہیں حریت انگیز طور پر سچے نظریات بن جاتے ہیں . یه کیسے ممکن ہے ؟ آیے دیکھتے ہیں :
جھوٹےاور لغو بیانات کی قبولیت کو فروغ دینے والا بنیادی محرک وہ ہے جسے امریکی ماہرِ تعلیم ڈین کہان (Dan Kahan) "شناخت کی حفاظت کرنے والی ادراکیت" (identity-protective cognition) کا نام دیتے ہیں۔ کہان کے مطابق، جب سیاسی (یا مذہبی) شناخت کسی گروہ (یا فرقہ ) کے ساتھ مضبوطی سے جڑ جاتی ہے، تو افراد معلومات کی جانچ اس کی معروضی سچائی کو پرکھنے کے لیے نہیں کرتے، بلکہ گروہ کے اندر اپنی حیثیت اور مقام کو محفوظ رکھنے کے لیے کرتے ہیں۔ گروہ کے قائد کے کسی لغو دعوے کو تسلیم کرنا، اس گروہ کے ساتھ فرد کی وفاداری کی توثیق کرتا ہے، جبکہ اس دعوے کو رد کرنے کا مطلب مذہبی یا سیاسی مخالفین کے ساتھ کھڑا ہونا سمجھا جاتا ہے۔
امریکی پروفیسر برائے نفسیات و عصبی علوم جے وان باویل (Jay Van Bavel) کی زیرِ قیادت ہونے والی تحقیق یہ تجویز کرتی ہے کہ اس سلسلے میں سیاسی (یا مذہبی) وفاداری ایک "ادراکی فلٹر" (cognitive filter) کا کام کرتی ہے۔ یہ بنیادی تنقیدی سوچ پر غالب آ جاتی ہے اور ایسے نفسیاتی فوائد فراہم کرتی ہے جو کسی گروہ سے وابستگی کے احساس کو مزید مضبوط کرتے ہیں—حتیٰ کہ اس وقت بھی جب قائد کا دعویٰ حقیقت کے بالکل برعکس ہو۔
الگورتھم پر مبنی پلیٹ فارمز کے ابھار نے معلومات کی سچائی پرکھنے والے پاسبانوں (gatekeepers) کے کردار کو تدریجاً ختم کر دیا ہے۔ مختلف تحقاقات سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بیان کا بار بار سامنے آنا اس کی بظاہر سچائی کے تاثر کو بڑھا دیتا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ کتنا ہی ناقابلِ یقین کیوں نہ ہو۔ سوشل میڈیا کے الگورتھم اشتعال انگیز مواد کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کی توجہ اور شمولیت کو بڑھاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بیہودہ دعوے ڈیجیٹل گونج خانوں (echo chambers) میں لاکھوں بار دہرائے جاتے ہیں۔
غلط معلومات پر ماہرینِ نفسیات گورڈن پینیکُک (Gordon Pennycook) اور ڈیوڈ رینڈ (David Rand) کی تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ کسی بات کی تکرار قارئین کی تجزیاتی حس کو کمزور کر دیتی ہے، جس سے بیانات مضحکہ خیز سے مانوس، اور بالآخر معقول و سچی معلوم ہونے لگتی ہیں۔ بعض تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ سیاسی (یا مذہبی) شخصیات، بالخصوص معاصر عوام پسند (populists)، اتفاقاً لغو باتیں نہیں کرتے۔ وہ انہیں حکمتِ عملی کے تحت استعمال کرتے ہیں۔ رینڈ کارپوریشن (Rand Corporation) کے اپنے معلوماتی حربوں سے متعلق تحقیقی مقالے میں، محققین کرسٹوفر پال اور میریم میتھیوز نے اس "حکمتِ عملی پر مبنی ذہنی انتشار" کو بیان کرنے کے لیے "جھوٹ کا فوارہ" (firehose of falsehood) کی اصطلاح وضع کی۔
عوامی جگہوں پر مسلسل اور واضح طور پر بیہودہ دعوؤں کی بوچھاڑ کا مقصد لازمی طور پر ہر کسی کو اس جھوٹ کے سچ ہونے کا یقین دلانا نہیں ہوتا۔ اس کا استعمال عوام کی تنقیدی سوچ کی صلاحیت کو تھکا کر شل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ جب سیاسی یا مذہبی شخصیات باقاعدگی سے لغو باتیں اگلتی ہیں، تو حقائق کی تصدیق کرنے والے (fact-checkers) بھی عاجز آ جاتے ہیں۔
عالمی تحقیقی نیٹ ورک "ایویڈنس ان گورننس اینڈ پالیسی" کے ماہرینِ تعلیم نے دیکھا کہ سیاسی و مذہبی شخصیات—جیسے ٹرمپ—جو تصحیح کو سختی سے 'فیک نیوز' کہہ کر مسترد کرتے ہیں، وہ مین اسٹریم میڈیا اور حقائق کی تصحیح کرنے والوں پر شک و شبہات پیدا کر کے عوامی حمایت اور توجہ برقرار رکھتے ہیں۔ اگرچہ باآوازِ بلند بات کرنے والے عوام پسند رہنماؤں کا اب بھی خوب مذاق اڑایا جاتا ہے، لیکن جب وہ باقاعدگی سے حد درجہ نامعقول حدوں کو پار کر جاتے ہیں، تو طنز و مزاح بھی اپنا اثر کھو دیتا ہے۔
جرمن امریکی سیاسی مفکر حنّاہ آرنڈٹ (Hannah Arendt) نے اپنی کتاب 'ٹوٹلیٹیرینزم کے سرچشمے' (The Origins of Totalitarianism) میں لکھا تھا کہ مطلق العنان حکومت کی بہترین رعایا وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق ہی ختم ہو چکا ہو۔ جب حقیقی ماہرین اور ریاستی اداروں پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے، تو ماہرین کے اتفاقِ رائے کو سچائی کا معیار نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے بجائے، مہارت کو ایک قائم شدہ نظام (establishment) کی سازش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس ماحول میں، کسی 'نظام مخالف' سیاسی یا مذہبی شخصیت کا لغو بیان جہالت نہیں بلکہ 'کرپٹ نظام' کے خلاف ایک 'بہادرانہ بغاوت' محسوس ہوتا ہے۔
بیہودہ سیاسی (یا مذہبی) بیانات کے تمسخر سے ان پر ایمان لانے کا یہ سفر، حقیقت پر مبنی سیاست (یا مذہب) سے شناخت پر مبنی سیاست (یا مذہب) کی طرف تحویل کی علامت ہے۔ جب کوئی لغو دعویٰ کیا جاتا ہے، تو وہ قائد کی طرف سے زمین میں گاڑے گئے ایک پرچم کی مانند کام کرتا ہے۔ پیروکار اسے اس فلٹر سے نہیں پرکھتے کہ آیا یہ منطقی طور پر سچ ہے یا نہیں۔ اس کے بجائے، وہ اپنی توانائی اس سوچ پر صرف کرتے ہیں کہ اس دعوے کو قبول یا رد کرنے کی صورت میں ان کا تعلق کس فریق سے ہوگا۔
جب تک سوشل میڈیا الگورتھم کے متحرک محرکات تبدیل نہیں ہوتے اور مشترکہ اداروں پر اعتماد بحال نہیں ہوتا، سیاسی اور مذہبی بیہودگی محض ایک مزاحیہ جملہ بن کر ختم نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے، یہ ترغیب و تحریص کے ایک خطرناک حربے کے طور پر مزید مضبوط ہوتی جائے گی۔
اقتباسات / ترمیم شدہ متن (اصل مضمون: "اسموکرز کارنر: فرید پراچہ ، سیاسی بیہودگی کا دور"، شائع شدہ: روزنامہ ڈان، ای او ایس، 27 ستمبر 2026ء)
جھوٹے نظریات جو تاویلات کے زور پر سچ ثابت کیے جاتے ہیں ان کا علاج قرآن نے بتلا یا ہے- مگر روزانہ تلاوت کے باوجود اس پر بہت کم عمل کیا جاتا ہے .
قران میں دو قسم کی آیات ہیں، "محکم" یا پکی آیات ان کا صرف ایک مطلب ہوتا ہے (3:7) اور وہ آیات جن پر شبہ کیا جا سکتا ہے، تاویلات سے ایک سے زیادہ مطلب نکالے جا سکتے ہے، صراط مستقیم "محکم آیات" پر چلنے سے ہے دوسرا راستہ گمراہی کا ہے جس سیے بچنا ضروری ہے، یہی امتحان ہے اس کے علاوہ قران زور دیتا ہے :
١. عقل کا استعمال :
"اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والے جانوروں میں سب سے بدتر وہ بہرے اور گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔" (الأنفال: 22)
٢. بزرگوں، سیاسی یا مذہبی رہنماووں کی اندھی تقلید کی ممانعت
علماء کی دو اقسام ہیں ، "علماء سو" اور "علماء حق" ، ان کی پہچان ؟ جو قرآن پر عمل کرے وہ ٹھیک ہے ، جو تاویلات پر تکیہ کرے وہ مشکوک ہے اس سے بچو .
9:31 — علماء اور راہبوں کو اللہ کے سوا رب بنانے کا ذکر۔
33:67 — قیامت کے دن پیروکاروں کا کہنا کہ ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی پیروی کی۔
2:166–167 — قیامت کے دن پیشوا اور پیروکار ایک دوسرے سے براءت کا اظہار کریں گے۔
14:21 — کمزور لوگ متکبر رہنماؤں سے مدد طلب کریں گے۔
38:60–61 — جہنم میں باہمی ملامت۔
2:170 — آباؤ اجداد کی اندھی پیروی پر تنقید۔
5:104 — آباؤ اجداد کے طریقے پر اصرار۔
43:22–23 — قدیم آبائی روایت کو وحی پر ترجیح دینے کا ذکر۔
31:21 — آباؤ اجداد کی پیروی، خواہ شیطان کی طرف بلانے والی ہو۔
٣. اللہ کے سامنے انفرادی جواب دہی
19:95 — ہر شخص قیامت کے دن اللہ کے سامنے اکیلا آئے گا۔
6:94 — ہر شخص اللہ کے سامنے فرداً فرداً آئے گا۔
31:33 — قیامت کے دن نہ باپ اولاد کے کام آئے گا نہ اولاد باپ کے۔
35:18 — کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
80:34–37 — انسان اپنے قریبی ترین رشتہ داروں سے بھی اس دن بھاگے گا۔
ہم لوگ دوسرے کاموں پر وقت صرف کرتے ہیں مگر دین کے معاملہ میں دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں. عام معلومات کی حد تک درست ہے مگر نظریات ؟ ہمارے پاس اس ابدی زندگی کے لیے وقت نہیں کہ خود معلوم کر سکیں کہ قران میں ہدایات موجود ہیں جو ہم روزانہ تلاوت کرتے ہیں مگر عمل دوسروں کی بات پر کرتے ہیں جس کی کوئی سند قرآن نے نہیں دی نہ ان کو نامزد کیا نہ اس کی سند ہے جو صرف قرآن کی ہے باقی خود نامزد ہووے ، وہ حساب کتاب میں شامل ہوں گے نہ ذمہ داری لیں گے . عجیب بات ہے !
https://Quran1book.blogspot.com