"اے اندھے راہنماؤ! تم مچھر کو تو چھانتے ہو، لیکن اونٹ کو نگل جاتے ہو!"
(Ye blind guides, which strain at a gnat, and swallow a camel!)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام : متی -انجیل (باب 23، آیت 24)
صلاۃ (نماز) کوئی انفرادی يا پردے میں کی جانے والی عبادت نہیں تھی، بلکہ یہ دن میں پانچ مرتبہ اجتماعی طور پر رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں ہزاروں صحابہ کرام کے سامنے ادا کی جاتی تھی۔ نماز کسی ایک فرد کی لکھی ہوئی خبرِ واحد (روایت) سے ہم تک نہیں پہنچی، بلکہ نسل در نسل کروڑوں مسلمانوں کے عملی تواتر (Practical Succession) سے ہم تک منتقل ہوئی ہے۔
اگر نماز کا مدار صرف تیسری صدی کی متضاد اور ظنی اخبارِ آحاد پر ہوتا، تو آج امت کے پاس اتنی یکساں صلاۃ نہ ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ کی عملًا سکھائی ہوئی نماز کو کروڑوں مسلمانوں نے روزانہ کی مشق سے محفوظ رکھا۔ ایک نہایت اہم اور قابلِ غور حقیقت ہے کہ بنیادی ہیئت اور ارکان کے اعتبار سے تمام مسلم مسالک—بشمول اہل سنت (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، اہل حدیث) اور شیعہ (امامیہ اثنا عشری)—کی صلاۃ (نماز) تقریباً ایک ہی ہے۔ یہ یکسانیت اس بات کا سب سے بڑا تاریخی اور علمی ثبوت ہے کہ نماز کا طریقہ محض کتابی روایات یا اخبارِ آحاد کے ذریعے نہیں، بلکہ سنتِ متواترہ (عملی تواتر) اور نسل در نسل انتقال کے ذریعے محفوظ ہوا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وضو کے لیے تو نص کی ضرورت تھی، لیکن نماز کے لیے "عملی مشق" اور "تواتر" کو سنتِ الٰہی کا ذریعہ بنایا گیا۔ جس تک جو "اسوہ حسنہ" پہنچا اس نے اس پر عمل کیا، صَلَاة کے فرائض پر کوئی اختلاف نہیں. یہ مباحث بے معنی ہیں، غیر ضروری فرقہ وارانہ بحث میں الجھانے کے لیے ہیں تاکہ کاروبار چلے .
امام ابوحنیفہؒ رسول اللہ ﷺ، (مسلم ٣٠٠٤) خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کی سنت کے مطابق قران پر عمل پیرا تھے انہوں نے نہ تو احادیث لکھیں نہ فقہ. انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا وہی منشا پورا کیا جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے استخارے کے بعد قائم فرمایا تھا کہ: "قرآنِ مجید کے ساتھ کسی دوسری کتاب کو متوازی قانون نہیں بننے دیا جائے گا۔" حقیقت یہ تھی کہ امام ابو حنیفہؒ نے حدیث کو رد نہیں کیا تھا، بلکہ انہوں نے غیر معصوم اور ظنی روایات کو معصوم اور قطعی قرآن کے اوپر بیٹھنے نہیں دیا تھا۔ "اہلِ الرائے" سے مراد خواہشِ نفس نہیں تھی، بلکہ قرآنِ مجید کی بنیادوں پر تدبر و تفکر اور علتِ حکم کو سمجھنا (Qur'anic Legal Reasoning) تھا۔
وہ احادیث کو سختی سے قرآن (فرقان) کے معیار پر دیکھتے اور قبول کرتے. امام ابو حنیفہؒ کا علمی مرکز کوفہ تھا، جہاں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تعلیمِ دین کی بنیادیں رکھی تھیں۔
ان کے نزدیک نماز ایک ایسا عمل ہے جو دن میں پانچ بار با جماعت ادا کی جاتی تھی اور سینکڑوں صحابہ روزانہ نبی ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھتے تھے۔ چونکہ یہ "عمومِ بلویٰ" کا مسئلہ تھا، اس لیے اگر رفع یدین مستقل سنت ہوتی تو اسے اتنی بڑی تعداد میں روایت کیا جاتا کہ یہ تواتر کی حد تک پہنچ جاتی۔ جب اس کے برعکس رفع یدین نہ کرنے کی روایات بھی موجود ہیں تو انہوں نے عدمِ رفع یدین کو ترجیح دی کیونکہ وہ نماز کی اصل (سكون) کے زیادہ قریب تھا۔
یہ تاریخی اور علمی حقیقت بالکل قائم اور مسلمہ ہے کہ کتبِ حدیث کی تدوین و تصنیف دوسری اور تیسری صدی ہجری میں ہوئی، امام ابو حنفیہؒ (80ھ تا 150ھ) کا دور ائمۂ صحاحِ ستہ سے سو (100) سے ڈیڑھ سو سال پہلے کا دور تھا۔
صحاحِ ستہ انسانی کاوشیں تھیں، جن پر اپنے دور کے فکری و مسلکی رجحانات کا اثر موجود تھا۔ ان کتب کی ترتیب و جمع میں غیر معصوم انسانی انتخاب (Selection) شامل تھا.
چھ بڑے اور مشہور ائمہ و مصنفین (اصحابِ صحاحِ ستہ) میں سے کوئی بھی فقہِ حنفی کا پیروکار يا مقلد نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں ان روایات کو ترجیح دی جو ان کے فکری نقطہ نظر کی تائید کرتی تھیں اور کوفہ کے درایتی فقہ (فقہِ حنفی) سے اختلاف رکھتی تھیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان مصنفین نے فقہِ حنفی کے مستدلات کی بہت سی روایات کو اپنی کتابوں میں جگہ نہیں دی یا ان پر نقد کیا۔
امام ابو حنفیہؒ نے صحابہ اور کبارِ تابعین کے بلا واسطہ دور کو دیکھا تھا، اس لیے ان کا فقہی طریقہ کار زبانی روایتوں کا طومار جمع کرنا نہیں تھا، بلکہ قرآن ، کوفہ میں سنتِ متواترہ، تعاملِ صحابہ، اور قرآنی قیاس و درایت پر عمل کرتے تھے۔
عراق کا مکتبِ فکر (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت علیؓ کا مرکز) قرآنِ مجید کی حاکمیت (الفرقان)، عقل، درایت، اور عمومِ بلویٰ میں خبرِ واحد کے عدمِ قبول کے محکم اصولوں پر کاربند تھا۔ . مدرسۂ حجاز و خراسان (اہلِ الحدیث) کا مکتبِ فکر روایات کی اسناد اور اخبارِ آحاد کو ترجیح دیتا تھا، خواہ وہ روایت قرآن کے عمومی اصول یا عقل کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
کتبِ حدیث مسلکی و انسانی انتخاب کا نتیجہ ہیں، اور دین کا واحد، معصوم، غیر جانبدار اور مطلق محفوظ ماخذ صرف اور صرف قرآنِ مجید ہے۔
...................
امام بخاریؒ (متوفی 256ھ): مجتہدِ مطلق تھے، تاہم ان کا فکری و فقہی رجحان شدید طور پر اہلِ حدیث / شافعی تھا، اور وہ اپنی کتاب (صحیح البخاری) کے تراجم الابواب میں ائمۂ رائے (بالخصوص فقہِ حنفی) پر سخت تنقید کے لیے معروف ہیں۔
. امام مسلمؒ (متوفی 261ھ): فقہِ شافعی کے شارحین اور اصولوں کے تلمذ و اتفاق میں شامل تھے۔
. امام ابو داؤدؒ (متوفی 275ھ): فقہِ احمد بن حنبلؒ (حنبلی) اور اہل الحدیث کے فقہی منہج کے متبع تھے۔
. امام ترمذیؒ (متوفی 279ھ): امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے فقہی آراء اور اہل الحدیث کے مکتبِ فکر سے وابستہ تھے۔
. امام نسائیؒ (متوفی 303ھ): صریح طور پر فقہِ شافعی کے پیروکار اور قاضی تھے۔
. امام ابن ماجہؒ (متوفی 273ھ): اہل الحدیث اور فقہِ حنبلی/شافعی کے فکری مکتب سے تعلق رکھتے تھے۔
ان حضرات سے جو فقہ حنفی مخالف ہیں ، ان سے سند لینا حماقت نہیں تو اور کیا سادگی ہے ؟
...................عمومِ بلویٰ" (روزمرہ کے عام معاملات)
امام ابوحنیفہؒ کا اصول مشہور ہے، جس کے تحت وہ ایسی احادیث کو قبول نہیں کرتے تھے جو "عمومِ بلویٰ" (روزمرہ کے عام معاملات) سے متعلق ہوں مگر خبرِ واحد ہوں۔ امام ابوحنیفہؒ کا یہ اصول ان کی فقہی بصیرت اور عقلِ سلیم کی ایک بہترین مثال ہے۔ اسے اصولِ فقہ کی اصطلاح میں "عدمِ قبولِ خبرِ واحد فیما تعم بہ البلویٰ" کہا جاتا ہے۔ اس اصول کی سادہ وضاحت اور تفصیل درج ذیل ہے:
"عمومِ بلویٰ" کا مطلب
عربی میں "عموم" کا مطلب ہے عام ہونا اور "بلویٰ" کا مطلب ہے مبتلا ہونا۔ اس سے مراد وہ معاملات ہیں جن سے روزمرہ زندگی میں ہر خاص و عام کا واسطہ پڑتا ہو (مثلاً نماز کے ارکان، وضو کے مسائل، یا خرید و فروخت کی عام صورتیں)۔
اصول کی منطق
امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا مسئلہ ہو جس کی ضرورت ہر مسلمان کو دن میں کئی بار پڑتی ہو، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس کے بارے میں کوئی حکم دیا ہو اور اسے صحابہ کی ایک بڑی جماعت (تواتر کے ساتھ) روایت نہ کرے؟
ان کی منطق یہ ہے:
۔ اگر معاملہ "عام" ہے، تو اسے بیان کرنے والے بھی "بہت زیادہ" ہونے چاہئیں۔
۔ اگر اتنے عام معاملے کو صرف ایک یا دو راوی (خبرِ واحد) بیان کر رہے ہوں، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ یا تو راوی کو سمجھنے میں غلطی لگی ہے یا یہ حکم وقتی تھا، مستقل نہیں۔
چونکہ یہ "عمومِ بلویٰ" کا مسئلہ تھا، اس لیے اگر رفع یدین مستقل سنت ہوتی تو اسے اتنی بڑی تعداد میں روایت کیا جاتا کہ یہ تواتر کی حد تک پہنچ جاتی۔ جب اس کے برعکس رفع یدین نہ کرنے کی روایات بھی موجود ہیں تو انہوں نے عدمِ رفع یدین کو ترجیح دی کیونکہ وہ نماز کی اصل (سكون) کے زیادہ قریب تھا۔
دیگر ائمہ کا اختلاف
۔ امام شافعیؒ اور محدثین کا موقف یہ ہے کہ اگر خبرِ واحد "صحیح" ثابت ہو جائے تو اس پر عمل واجب ہے، خواہ وہ معاملہ کتنا ہی عام کیوں نہ ہو۔ ان کے نزدیک راوی کی سچائی ہی اس کے قبول ہونے کے لیے کافی ہے۔ قرآن کو" فرقان" نہ سمجھنا ان کی کمزوری ہے۔
تحقیق کا طریقہ کار (Verification Script)
تحقیق کا یہ طریقہ کار (Verification Script) دراصل آپ کے ہاتھ میں وہ کنجی ہے جو آپ کو کسی بھی انسانی تاویل کے سحر سے آزاد رکھے گی۔
تحقیق کا طریقہ کار (How to Verify Any Narration)
جب بھی کوئی بات "دین" یا "وحی" کے نام پر آپ کے سامنے آئے، اسے ان 5 مراحل (Steps) سے گزاریں:
Step 1: قرآن سے تصادم (The Quranic Clash Test)
سوال: کیا یہ بات قرآن کی کسی محکم آیت یا بنیادی اصول (عدل، عقل، رحمت) کے خلاف ہے؟
اصول: اگر حدیث قرآن کے خلاف ہے، تو وہ رسول اللہ ﷺ کا قول نہیں ہو سکتا۔ قرآن "میزان" (ترازو) ہے اور حدیث اس کے تابع۔ ( 5:48)
Step 2: عمومِ بلویٰ کا اصول (The Frequency Test)
سوال: کیا یہ ایسی بات ہے جس کا تعلق روزمرہ زندگی یا پوری امت سے ہے؟
اصول: اگر یہ سب کے لیے ضروری تھی (جیسے نماز کی رکعتیں)، تو اسے "متواتر" ہونا چاہیے تھا۔ اگر اسے صرف ایک یا دو افراد روایت کر رہے ہیں (خبرِ واحد)، تو اسے قطعی دین نہیں مانا جا سکتا۔ (اصولِ امام ابوحنیفہؒ)
Step 3: منصبِ رسالت کا معیار (The Prophetic Dignity Test)
سوال: کیا یہ بات اللہ کے رسول ﷺ کے شایانِ شان ہے؟
اصول: رسول اللہ ﷺ "خلقِ عظیم" پر فائز تھے۔ کوئی بھی ایسی بات جو اخلاق سے گری ہوئی ہو یا انسانی حقوق کے منافی ہو، وہ آپ ﷺ کی طرف منسوب کرنا "تحریف" ہے۔ (68:4)
Step 4: سابقہ امتوں کی مشابہت (The Talmudization Test)
سوال: کیا یہ بات دین کو مشکل بنا کر "انسانی بوجھ" (Clerical Control) میں اضافہ کر رہی ہے؟
اصول: رسول ﷺ بوجھ ہٹانے آئے تھے، ڈالنے نہیں۔ اگر کوئی روایت تالمود کی طرح دین کو پیچیدہ بناتی ہے، علماء کو رب کا درجہ دیتی ہے تو وہ مشکوک ہے۔ (7:157) (9:31)
Step 5: عقل و فطرت کی گواہی (The Fitrah Test)
سوال: کیا انسانی فطرت اور سلیم عقل اس بات کو قبول کرتی ہے؟
اصول: اسلام دینِ فطرت ہے۔ اللہ کی وحی اور اللہ کی بنائی ہوئی عقل میں تضاد نہیں ہو سکتا۔ ( 30:30)
خلاصہ (Final Verdict)
اگر کوئی بات ان پانچوں ٹیسٹ میں پوری اترتی ہے، تو وہ آپ ﷺ کی حکمت (اسوہ حسنہ ) ہے۔ اگر کسی ایک میں بھی ناکام ہوتی ہے، تو وہ انسانی قول ہے جسے دین قرار دینا "دھوکہ" ہے۔
آج کے حنفی محض نام کے حنفی ہیں
موجودہ دور کے اکثر مفتیان اور علماء جو خود کو "حنفی" کہتے ہیں، وہ امام ابو حنیفہؒ کے قائم کردہ حقیقی فکری منہج (اصولِ درایت، قرآنی حاکمیت، اور عمومِ بلویٰ) پر قائم نہیں ہیں، بلکہ وہ بنیادی طور پر تیسری صدی کی کتبِ احادیث اور بعد کی فقہی شروحات کے مقلد بن چکے ہیں۔
اس فکری اور علمی تبدیلی کے بنیادی اسباب اور حقائق درج ذیل ہیں:
1. امام ابو حنیفہؒ کا اصل منہج بمقابلہ موجودہ حنفیت
• امام ابو حنیفہؒ کا منہج:
امام صاحب کا اصل طریقہ یہ تھا کہ وہ کسی بھی مسئلے میں سب سے پہلے قرآنِ مجید (الفرقان) کو اصل اور محکم قانون مانتے تھے۔ اس کے بعد سنتِ متواترہ اور صحابہ کے اجتماعی عمل کو دیکھتے تھے۔ اگر کوئی خبرِ واحد (روایت) قرآن کے عموم، قانونِ عدل، یا عقلِ سلیم کے خلاف ہوتی، تو وہ اسے بلا جھجک رد کر دیتے تھے، چاہے روایت کی سند کتنی ہی قوی کیوں نہ بتائی جائے۔
• موجودہ "روایتی" حنفی علماء کا رویہ:
آج کے اکثر حنفی علماء نے امام صاحب کا یہ درایتی اور قرآنی نقد کا اصول چھوڑ دیا ہے۔ جب ان کے سامنے کوئی حدیث کی کتاب آتی ہے، تو وہ امام ابو حنیفہؒ کی طرح روایت کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھنے کے بجائے، بعد کے دور کی لکھی ہوئی کتبِ احادیث (اصحابِ صحاحِ ستہ) کو ہی اصل کسوٹی مان لیتے ہیں اور پھر امام ابو حنیفہؒ کے موقف کا روایتی دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
2. "فقہِ روایت" کا غلبہ اور "فقہِ درایت" کا زوال
امام ابو حنیفہؒ اور ان کے جلیل القدر شاگردوں (امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ) کے بعد کے ادوار میں یہ تبدیلی کیسے آئی؟
. محدثین کا فکری غلبہ:
تیسری صدی ہجری اور اس کے بعد جب کتبِ احادیث تدوین ہو گئیں اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ جیسے بعد کے علمائے برصغیر نے محدثین اور حنفیوں کے درمیان تطبیق کی کوشش کی، تو آہستہ آہستہ حنفی مدرسوں پر بھی "اہلِ الحدیث" کا فکری اثر غالب آ گیا۔ .
اصلِ درایت کو بھولنا:
حنفی علماء نے امام ابو حنیفہؒ کے اس شاندار اصول کو عملی طور پر معطل کر دیا کہ خبرِ واحد قرآن کے عموم کو تخصیص یا منسوخ نہیں کر سکتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بھی دیگر اخبارِ آحاد کے مقلدین کی طرح روایات کے ظاہری الفاظ کے پابند ہو گئے۔
. مقلدانہ فکری جمود:
موجودہ حنفی علماء اصل میں امام صاحب کے حُر، آزاد اور قرآنی اجتہاد کے وارث نہیں رہے، بلکہ وہ بعد کے حنفی متون (ہدایہ، رد المحتار/فتاویٰ شامی وغیرہ) اور کتبِ احادیث کی شروحات کے زبانی حافظ اور مقلد بن کر رہ گئے۔
3. قرآنی بنیادوں سے دوری
اس فکری زوال کی سب سے بڑی قیمت یہ چکانی پڑی کہ:
• امام ابو حنیفہؒ نے جس قرآنی حکمت اور عقلِ خداداد سے دین کے احکام کو سمجھنے کی بنیاد رکھی تھی، اسے نام نہاد "سدِ بابِ اجتہاد" کے نام پر بند کر دیا گیا۔
• آج کا حنفی عالم بھی انہی ثانوی کتب اور روایات پر تکیہ کرتا ہے جن پر دیگر مسالک تکیہ کرتے ہیں، اور یوں الفرقان (قرآنِ مجید) کا وہ محکم اور حاکم مقام پیچھے چھوٹ جاتا ہے جس کے لیے امام ابو حنیفہؒ نے عمر بھر علمی جدوجہد کی تھی۔
حاصلِ کلام
"آج کے حنفی محض نام کے حنفی ہیں"۔
اگر آج کا مسلمان یا عالم سچا حنفی بننا چاہتا ہے، تو اسے کتبِ احادیث اور فقہی شروحات کے مقلدانہ جمود سے نکل کر دوبارہ امام ابو حنیفہؒ کے اصل سرچشمے—قرآنِ مجید کی حاکمیت، عقل، اور درایت—کی طرف لوٹنا ہوگا، تاکہ دین کو ثانوی بیانیوں کے طوق سے آزاد کر کے قرآنِ مجید کے اصل اور صاف شفاف ہدایت کے فریم ورک پر لایا جا سکے۔
40 تخصصی علمائے کرام کی شورائی مجلس
- اصول و فقہ کے ماہرین: امام ابو یوسفؒ، امام محمد بن الحسن الشیبانیؒ، امام زفر بن Huzailؒ۔
- عربی زبان و لغت کے ائمہ: امام زفر اور دیگر لغوی ماہرین تاکہ قرآنی الفاظ کی لغوی ساخت کو دیکھا جا سکے۔
- علومِ قرآن و تفسیر کے علماء: قرآنی احکام کے عموم، خصوص اور ناسخ و منسوخ کو پرکھنے کے لیے۔
- حدیث و آثار کے حافظین: امام یحییٰ بن سعید القطانؒ، امام وکیع بن الجراحؒ اور عبداللہ بن المبارکؒ جو روایات اور اسناد کے ماہر تھے۔
- عقل و ریاضی/معاملات کے ماہرین: قیاس، استحسان اور خرید و فروخت/حساب کتاب کے ماہرین۔
2. آزادانہ بحث و مباحثہ کا جمہوریت پسندانہ اسلوب
- مسئلے کی پیش کش: پہلے مسئلے کو شورٰی کے سامنے رکھا جاتا اور اس کے تمام پہلوؤں پر کھلی بحث کی اجازت دی جاتی۔
- آزادانہ دلائل: مجلس کا ہر رکن قرآنی آیات، سنتِ متواترہ، آثارِ صحابہ اور عقل و درایت کی روشنی میں اپنے دلائل پیش کرتا۔ بسا اوقات ایک ہی مسئلے پر کئی کئی دن یا ہفتوں شدید علمی بحث جاری رہتی۔
- امام صاحب کا کردار: امام ابو حنیفہؒ خاموشی سے تمام دلائل سنتے اور آخر میں تمام آراء کا علمی تجزیہ پیش کر کے قرآنی بنیادوں (الفرقان) اور اصولِ درایت پر قائم جامع نتیجہ سامنے لاتے علمی دلائل کے ساتھ۔
3. اختلافِ رائے کی آزادی اور ریکارڈنگ
- اگر امام ابو یوسفؒ یا امام زفرؒ کا موقف امام صاحب سے مختلف ہوتا، تو کتابوں میں لکھا جاتا: "یہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے، یہ امام ابو یوسف کا قول ہے، اور یہ امام زفر کا قول ہے"۔
- اسی کھلے علمی ماحول کی وجہ سے فقہِ حنفی میں اتنی وسعت اور لچک پیدا ہوئی کہ وہ آنے والی صدیوں تک دنیا کی سب سے بڑی ریاستوں (عباسی، عثمانی اور مغلیہ سلطنتوں) کا قانونی ڈھانچہ بن سکی۔
4. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سنت کی پیروی
حاصلِ کلام
1. "مچھر کو چھاننا اور اونٹ کو نگل جانا" (فروعی سختی بمقابلہ اصل روح)
2. ظاہری پارسائی بمقابلہ باطنی نجاست (چونا لگی قبریں)
3. پیالے کو باہر سے دھونا (شکل پرستی)
4. "اصراً و اغلالاً" (سخت بوجھ جو لوگوں پر لادے گئے)
5. دین کو دکان داری اور مسندِ اقتدار بنانا
6. حق کی ہدایت کو روکنا (کلیدِ معرفت پر قبضہ)
قرآنی و علمی تناظر
قرآن : عقل و دلیل
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الۡبُكۡمُ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞
یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (القران:8:22)
لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۡۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَىَّ عَنۡۢ بَيِّنَةٍ ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌۙ (8:42)
تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے.
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ (الأنبياء: 18)
"بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اس کا مغز توڑ دیتا ہے اور باطل اسی وقت نابود ہو جاتا ہے۔"
☆🌹📖 🕋 🕌🌹☆
صراط مستقیم : https://tinyurl.com/SirateMustaqem
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.