خلاصہ
ختم نبوت : جواب لاجواب (خلاصہ)
ختم نبوت ایک اہم معامله ہے جس پر اسلام میں صفر تحمل (zero tolerance) ہے۔
مگر کیوں؟
اس لینے کہ اسلام دین کامل ہے (5:3) قرآن و سنت موجود ہے- اب کوئی نیا نبی یا رسول 'دین کامل' کو'ناکامل' ہی کر سکتا ہے، جس کی قطعا ضرورت نہیں- جب 'مسلمہ کزاب' نے نبوت کادعوی کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو مسترد کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رضی الله) نے نئی خلافت کے باوجود سب سے پہلے جھوٹے نبی کے خلاف جہاد کر کہ اسے جہنم واصل کیا، فتنہ کو کچل دیا۔ امام ابو حنیفہ (رح) نے فرمایا کہ؛ "جو مدعی نبوت سے علامت طلب کریگا، کافر ہو جائے گا، کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے "لانبی بعدی" میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ لہذا علامت طلب کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا".
اسلام کیا ہے ؟
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے برسرعام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال وجواب کی صورت میں دین اسلام کی تعلیم دی جس کے مطابق اسلام کے چھ بنیادی عقائد اور پانچ ستون ہیں جو قرآن کی آیات محکمات سے ثابت ہیں- حضرت جبرائیل علیہ السلام اور قرآن نے کسی اور نبی، رسول اور کتاب وحی پر ایمان کا حکم نہیں دیا بلکہ رسول اللہ ﷺ کو "خاتم النبین" قرارد ے دیا- لہٰذا اب کوئی نبی ، رسول نہ آئے گا نہ ہی کتاب وحی نازل ہوگی، نہ ہی کسی رسول اللہ ﷺ یا نبی پر ایمان لانے کا حکم ہوا۔ اب اگر کوئی شخص قرآن کی آیات محکمات کو چھوڑ کر دوسری آیات کی تاویلات سے اپنے آپ کو نبی ثابت کرنے کی کوشش کرے تو وہ کذاب گمراہ ہے- اس طرح سے نیے عقائد و احکام نہیں بنایے جا سکتے- محمد رسول اللهﷺ آخری پیغمبرہیں، وحی کے سلسلہ کا آپ پر اختتام ہوا اور قرآن آخری مکمل محفوظ کتاب ہے۔اب اسلام "دین کامل" میں کسی تبدیلی سے، دین اسلام نہیں اس کی بھونڈی نقل ہی بن سکتی ہے، جس پر اسلام کا لیبل، نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ ایران میں ہوا پھر پاکستان میں-
اسلام اپنی شناخت ( Identity) پر بہت حساس ہے، قرآن نے شناخت عطا کی اوردین کا نام "اسلام" رکھا، پیروکارمسلم - اسلام میں شرک کی سختی سے ممانعت ہے، اللہ کے تحت کتاب اللہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ ان کا بھی کوئی شراکت دار نہیں-
صرف مسلمان Muslim Only >>>>
امریکی فلاسفر 'فوکویاما' نے اپنی کتاب میں "شناخت" کے تصور، عصری سیاست اور معاشرے پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے مطابق 'شناخت' (Identity) ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے، افراد ذاتی اور گروہی دونوں سطحوں پر اپنی شناخت کی پہچان اور احترام کے خواہاں ہیں۔ پہچان کی یہ ضرورت انسانی رویے کا ایک اہم محرک ہے۔ 'پیمائش شدہ شناخت کی سیاست' (Measured Identity Politics) کسی مخصوص شناختی گروہ کے لیے پہچان اور وقار کا باعث ہوتی ہے، جب کہ "سٹیرائڈز پر شناخت کی سیاست" (Identity politics on steroids) انتہائی پولرائزیشن (polarisation) اور ناراضگی (resentment) کی خصوصیت ہے جو تنازعہ اور تقسیم کا باعث بن سکتی ہے۔ مزید >> اسلام کی شناخت (identity)، وقار , قادیانیت اور فرانسس فوکویاما کی" پولیٹکس آف ریزنٹمنٹ"
ناجائیزاولاد ورا ثت اوردوسرے جائیزمعاشرتی حقوق سے محروم ہوتی ہے وہ شناخت کی تلاش میں کسی کا نام استعمال کرے تو قابل گرفت،اسے قبول نہیں کیا جاتا-
اسی طرح اگر کوئی شخص مذھب کے اندرمذھب ایجاد کر تا ہے تو وہ تاویلوں سے جھوٹا جوازتو گھڑ لیتا ہے مگر اسے معاشرہ میں قبولیت نہیں ہوتی اس کے لیے سند اور نئے نام کی ضرورت پڑتی ہے- اسلام نے اس طرح کے تمام چور دروازے بند کر دیے ہیں (قرآن 3:7 , 33:40)
ایران میں بہاءالدین نے نبوت کا دعوی کیا مگر عوام نے قبول نہ کیا، 'اسلام' کے نام کا لیبل استعمال نہ کر سکا "بہائی" مزہب اس کی شناخت بن گیا- اگرچہ "بہائی" قرآن کو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بھی مانتے ہیں، کلمہ (شھادہ) بھی پڑھتے ہیں، مگر تاویلں کرتے ہیں۔ زندیق ہیں- ان کی اپنی عبادت گاہیں اور اپنے طریقے ہیں۔ (مزید ...)
"کوکا کولا" صرف ایک برانڈ ہے جس کی نقل پر قانون سزا دیتا ہے۔ ہاں اپنی پراڈکٹ اپنے مختلف نام سے مارکیٹ کرنے کی اجازت ہے-
کافر : تمام غیرمسلم کافر کہلاتے ہیں جیسے عیسائی، یہودی، ہندو وغیرہ۔ ان کی اپنی شناخت اور اپنی عبادت گاہیں ہیں جہاں عبادت کی آزادی ہے- مگر وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے جبکہ ان کے کچھ لوگ صدیوں تک مسلمانوں کے محکوم رہے۔
منافق: بظاھر مسلمان ہوتے ہے مگر دل سےنہیں، اور دلوں کا احوال صرف اللہ کو معلوم، اس لیے منافقوں کا معامله اللہ کے اختیار میں ہے، ہم ان سے بظاھر مسلمانوں جیسا ہو سلوک کرتے ہیں-
زندیق: اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو اپنے مسلمان ہونے کا تو اقرار کرتا ہو مگر احکام شرعیہ میں تاویلاتِ باطلہ کرتا ہو- زندیق اپنے کفر کو چھپاتا ہے اور اپنے فاسد عقیدہ کو بڑھاوا دیتا ہے اور اسے صحیح شکل میں پیش کرتا ہے- یہ بہت خطرناک لوگ ہیں یہ مسلمانوں سے ان کی شناخت بھی چھیننا چاہتے ہیں-
زند یق کافر ہیں مگر اپنے کفر کو اسلام کہتے ہیں بلکہ قرآن کریم کی آیات سے، احادیث طیبہ سے، صحابہ کے ارشادات سے اور بزرگانِ دین کے اقوال سے توڑ موڑ کر اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ناجائز بچہ کا مسئلہ شناِخت کا ہوتا ہے، legitimacy کا ہوتا ہے، جس کے نہ ہونے سے وراثت اوردوسرے جائیزمعاشرتی حقوق سے محروم رہتی ہے وہ شناخت کی تلاش میں کسی کا نام استعمال کرے تو قابل گرفت، اسے قبول نہیں کیا جاتا-
اسی طرح جھوٹے نبی کے پیروکار(زندیق) بہاءالدین کے پیرو کاروں طرح اپنی الگ شناخت (بہائی) قبول کرنے کی بجایے "اسلام" پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، "اسلام" کا نام استمال کرنا چاہتے ہیں- جس طرح یہود عیسائیت پرقابض ہیں یہی مثال دہرانا چاہتے ہیں۔ یہ ہے اصل تنازعہ شناِخت کا، ورنہ ان کو اپنی عبادات اور مزہب کی مکمل آزادی حاصل ہے، اسلام , "کفر" کی (idenity) کیسے قبول کرسکتا ہے؟ ناممکن، یہ لوگ یا تو اسلام قبول کریں یا اپنی الگ شناخت!
اسلام کی شناخت پر قبضہ ممکن نہیں، اس کی بھرپور مزاحمت جاری رہے گی- مسلمان جان قربان کردیں گے مگر " محمد رسول اللہ " کے دین پر کسی جھوٹے نبی کے پیرو کاروں کو قابض نہیں ہونے دیں گے۔
یہ بات سب کو اچھی طرح سمجھنا ہوگی کہ اسلام کا نام، شناخت کسی زندیق، گمراہ کو نہیں مل سکتی، "اسلام" صرف اس دین کا نام , شناخت (identity) ہے جو حدیث جبرائیل میں بیان کردہ چھ بنیادی اصولوں اور پانچ ستونوں جن کئ بنیاد قرآن کی "آیات محکمات" پر ہے، صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں جس کی تصدیق ان کا عمل ہے۔ تاویلوں سے کفریہ عقائد و نظریات کو "اسلام" میں شامل کرنے کی کوششیں، 1400 سو سال قبل قرآن ( 3:7) مسترد کرچکا ہے، یہی قرآن کا معجزہ ہے جو "الفرقان" ، حق و باطل کی کسوٹی ہے۔
مزید ۔۔۔ ختمِ نبوت: تحقیقی جائیزہ 》》》
خبر دار
پاکستان کے تمام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے- قانون کو ہاتھ میں لینا، فتنہ و فساد حرام ہے- پرامن دعوه و تبلیغ سے اصلاح کی کوشش کریں باقی الله اور یوم آخرت پر چھوڑیں-
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن36:17)
اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہے
☆ ☆ ☆ ☆ ☆
***
پاکستانی دستور، قوانین اور قادیانی مسئلہ