رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

ابن عربی ختم نبوت اور قادیانیت


دینی علمی حلقوں میں ایک ایسی بحث چل رہی ہے جس کی قرآن اور احادیث کے مطابق ختم نبوت کا معامله مستقل طور پر ختم ہونے کے بعد قطعا کوئی ضرورت نہیں- کوئی شیخ یا عالم کتنا بھی بڑا ہو اس کا بلند علمی ، روحانی مقام ہو وہ اگر قرآن و سنت کے برخلاف" ختم نبوت" کی تشریح کرتا ہے تو وہ کیسے قابل قبول ہو سکتی؟ شیخ ابن عربی کو کیا ضرورت تھی کہ وہ ایک قرآن وسنت سے طے شدہ مسلہ کو کھولیں ، نبوت کی  نیئی اقسام "نبوت عامه/ غیرتشریعی" اور" تشریعی نبوت" کی بدعة اصطلاحات ایجاد کریں پھر آخر میں لفظ 'نبوت' کے استعمال سے منع بھی فرما دیں کہ اس سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے- کیا وہ اپنی یا کسی صوفی بزرگ کی ولایت کو نبوت کے قریب ثابت کرنا چاہتے تھے؟ آخر کچھ مقصد تو ہوگا؟ لیکن مرز قادیانی جیسے لوگ اپنی پسند کے الفاظ چن لیتے ہیں اور ممنوعات کو نظرنداز کرکہ مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں-

اور اگر کسی شیخ کی شخصیت متنازعه بھی ہو ان کی تحریروں میں تحریف بھی ہو چکی ہو تو بحث لا حاصل ہے- اگرکوئی حدیث قرآن و سنت سے مطابقت نہیں رکھتی تو اسے یہ کہ کرمنسوخ،  مسترد، یا ضعیف قرار دیا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ ںے ایسی بات نہیں کہی ہوگی یہ اقوال  رسول اللہ ﷺ سے ماخوز اصولوں کی بنیاد پر ہے[1]- اس طرح کسی شیخ یا عالم کے نظریات کو بھی- امام شافعی نے 'الرساله' میں بھی اسی قسم کی بات کی ہے[2]- چونکه بحث موجود ہے اس لے دونوں طرف کے نقطۂ نظر پیش ہیں ایک ویڈیو اور باقی تحریر-

مشہور صوفی شیخ محی الدین  محمد ابن عربی[3]  الحاتمی الطائی الاندلسی (1240ء—1165ء) رحمۃ اﷲ علیہ جوکہ شیخ اکبر کے نام سے مشہور ہیں ان کی چند عبارات سے بھی دھوکہ دیا جاتا ہے اور یوں کہ اجاتا ہے کہ انہوں نے لکھا ہے صرف تشریعی نبوت کا دروازہ بند ہے اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں جو میری شریعت کے مخالف ہو،اگر کوئی ہوگا تو وہ میری شریعت کے تابع ہوگا۔[4] (الفتوحات المکیہ، جلد 2 صفحہ 3)[5]

اس پر عرض ہے کہ شیخ ابن عربی کی جن عبارات میں تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کے الفاظ ملتے ہیں اور جن سے جماعت مرزائیہ و غامدیہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ شیخ ابن عربی ایسی نبوت کے جاری ہونے کے قائل ہیں جو کوئی نئی شریعت لے کر نہ آئے، یہ بات سراسر غلط ہے، چنانچہ جب ہم شیخ ابن عربی کی دوسری عبارات کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک تشریعی نبوت سے مراد وہ نبوت ہے جو ولایت کے مقابلے میں ہے اور جسے شریعت نے نبوت کہا ہے، اور انہوں نے کمالات نبوت اور مبشرات کو غیر تشریعی نبوت فرمایا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ شریعت نے اسے نبوت نہیں کہا یعنی جو نبوت بغیر تشریع ہو وہ نبوت نہیں کہلاتی بلکہ نبوت کا اطلاق اسی وقت درست ہوتا ہے کہ جب تمام اجزائے نبوت جن میں تشریع بھی داخل ہے مکمل موجود ہوں پس کامل نبوت باقی نہیں صرف بعض اجزائے نبوت باقی ہیں جنہیں نہ شرعاً نبوت کہا جاسکتا ہے نہ عرفاً، پس اگر غیر تشریعی نبوت کو باقی بھی کہاجائے تو اس کا معنیٰ صرف یہ ہے کہ سچے خواب اور مبشرات باقی ہیں جو نہ نبوت کہلا سکتی ہے اور نہ صاحب مبشرات نبی کہلاسکتا ہے۔

ابن عربیؒ کے نزدیک ہر نبوت تشریعی ہے

 آئیے ہم شیخ ابن عربی کی عبارات سے ہی اس بات کو ثابت کرتے ہیں:

’’فما بقی للاولیاء الیوم بعد ارتفاع النبوۃ الا التعریف وانسدت ابواب الاوامر الالہیۃ والنواہی، فمن ادعاہا بعد محمد فہو مدع شریعۃ أوحی بہا الیہ سواء وافق بہا شرعنا او خالف۔‘‘

پس نبوت ختم ہوجانے کے بعد اولیاء کے لیے صرف معارف باقی رہ گئے ہیں اور اﷲ کے اوامر ونواہی کے دروازے بند ہوچکے پس اگر کوئی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ (اﷲ نے اسے کوئی حکم دیا ہے یا کسی بات سے منع کیا ہے) تو وہ مدعی شریعت ہی ہے خواہ اس کی وحی شریعت محمدیہ کے موافق ہو یا خلاف ہو (وہ مدعی شریعت ضرور ہے)۔ (الفتوحات المکیۃ، جلد 3 صفحہ 39، طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

شیخ کی اس عبارت سے واضح ہوا کہ مدعی شریعت صرف وہی نہیں جوشریعت محمدیہ کے بعدنئے احکام لے کر آئے، بلکہ وہ مدعیِ نبوت جس کا دعویٰ ہوکہ اس کی وحی شریعت محمدیہ کے بالکل مطابق ہے، وہ بھی مدعی شریعت ہے اور یہ دعویٰ بھی ختم نبوت کے منافی ہے، لہذا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد جس طرح نئی شریعت کا دعویٰ ختم نبوت کا انکار ہے اسی طرح شریعت محمدیہ کے مطابق وحی کا دعویٰ بھی ختم نبوت کا انکار ہے، اس عبارت سے واضح ہوا کہ شیخ ابن عربی کے نزدیک تشریعی نبوت سے مراد وہ نبوت ہے جسے شریعت نبوت کہے خواہ وہ نبوت نئی شریعت کی مدعی ہو یا شریعت محمدیہ کی موافقت کا دعویٰ کرے، اس طرح شیخ کے نزدیک غیر تشریعی نبوت سے مراد وہ کمالات نبوت اور کمالات ولایت ہوں گے جن پر شریعت نبوت کا اطلاق نہیں کرتی اور وہ نبوت نہیں کہلاتے۔

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے ساتھ ہی وحی منقطع ہوگئی :

’’واعلم ان لنا من اﷲ الالہام لا الوحی فان سبیل الوحی قد انقطع بموت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وقد کان الوحی قبلہ ولم یجیء خبر الہی ان بعدہ وحیاً کما قال ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک ولم یذکر وحیاً بعدہ وان لم یلزم ہذا وقد جاء الخبر النبوی الصادق فی عیسیٰ علیہ السلام وقد کان ممن اوحی الیہ قبل رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم لا یومّنا الّا مِنّا ای بسنتنا فلہ الکشف اذا نزل والالہام کما لہذہ الامۃ۔‘‘

جان لوکہ ہمارے لیے (یعنی اس امت کے لیے) اﷲ تعالی کی طرف سے صرف الہام ہے وحی نہیں۔ وحی کا سلسلہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات پر ختم ہو چکا ہے۔ آپ سے پہلے بے شک یہ وحی کا سلسلہ موجودتھا۔ اور ہمارے پاس کوئی ایسی خبر الٰہی نہیں پہنچی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی وحی ہے جیسا کہ اﷲ نے فرمایا ہے: اور وحی کی گئی تیری طرف اور تجھ سے پہلوں کی طرف۔ (الزمر:65)، اﷲ تعالی نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کسی وحی کا ذکر نہیں فرمایا۔ ہاں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سچی خبر پہنچی ہے، اور آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی طرف آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے وحی کی گئی تھی۔ آپ جب اس امت کی قیادت کریں گے تو ہماری شریعت کے مطابق عمل کریں گے۔ آپ جب نازل ہوں گے تو آپ کے لیے مرتبۂ کشف بھی ہوگا اور الہام بھی جیسا کہ یہ مقام (اولیاء) امت کے لیے ہے۔[6] (الفتوحات المکیۃ، جلد 3 صفحہ 238، طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

یہاں شیخ نے صراحت کے ساتھ اس امت میں وحی نبوت کا سلسلہ بند بتلایا ہے، اگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد وحی جاری ہوتی تو شیخ ابن عربی اس طرح اس کے بند ہونے کا ذکر نہ فرماتے، نیز یہ بھی وضاحت فرمادی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آپ کے نزول کے بعد اگر کوئی وحی اترے گی تو وہ کشف اور الہام کے معنی میں ہوگی اصطلاحی وحی نہ ہوگی جو صرف نبیوں پر آتی ہے وہ نئی شریعت کے ساتھ ہویاپرانی شریعت کے ساتھ، نیز اس تحریر سے شیخ ابن عربی کا یہ عقیدہ بھی پتہ چل گیا کہ آپ انہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے قائل ہیں جن پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے وحی نازل ہوچکی تھی، جبکہ قادیانی عقیدہ اس کے بر عکس ہے۔

نبی کا لفظ صرف اس پر بولا جائے گا جو صاحب تشریع ہو:

ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’فاخبر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان الرویا جزء من اجزاء النبوۃ فقد بقی للناس من النبوۃ ہذا وغیرہ ومع ہذا لا یُطلق اسم النبوۃ ولا النبی الا علی المشرع خاصۃ فحج ہذا الاسم لخصوص وصف معین فی النبوۃ وماحجر النبوۃ التی لیس فیہا ہذا الوصف الخاص وان کان حجر الاسم۔‘‘

نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا خواب نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔ پس نبوت میں سے لوگوں کے لئے یہ رویا وغیرہ باقی رہ گیا ہے مگر اس کے باوجود نبوت اور نبی کا نام صرف اس پر بولاجاتا ہے جو صاحب دین وشریعت ہو۔ ایک خاص وصف معین کی بناء پر اس نام (نبی) کی بندش کردی گئی ہے[7]۔ (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 276 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

شیخ ابن عربی کی یہ تحریرواضح طور پر بتلارہی ہے کہ ان کے نزدیک نبی کا لفظ صرف اس کے ساتھ خاص ہے جو صاحب دین وشریعت ہو (چاہے اسے نئی شریعت ملی ہو یا کسی پرانی شریعت پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہو) اور یہ نبوت ختم ہوچکی ہے، اب لوگوں کے لئے مبشرات وغیرہ ہی باقی رہ گئے ہیں اور ان پر نبوت کا لفظ نہیں بولا جاسکتا۔

اب کسی کا نام نبی یا رسول نہیں ہوسکتا :

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ’’ولہذا قال صلی اﷲ علیہ وسلم ان الرسالۃ والنبوۃقد انقطعت وما انقطعت الا من وجہ خاص انقطع منہا مسمی النبی والرسول ولذلک قال فلا رسول بعدی ولا نبی ثم ابقی منہا المبشرات وابقی حکم المجتہدین وازال عنہم الاسم۔‘‘

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک رسالت ونبوت ختم ہوچکی، یہ ختم ہونا ایک خاص وجہ سے ہے، اب نبی اور سول کا نام ختم ہوچکا ہے (یعنی اب کسی کو نبی یا رسول نہیں کہا جاسکتا) اسی لئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی، پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مبشرات کو باقی رکھا اور مجتہدین کے حکم کو باقی رکھا لیکن ان سے (نبی اور رسول) کا نام دور کردیا[8]۔ (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 252، طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

دیکھیے کس صراحت کے ساتھ شیخ نے لکھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد اب نبی یا رسول کا نام کسی کے لئے نہیں بولا جاسکتا، ہاں نبوت کے اجزاء یعنی اچھے خواب وغیرہ باقی ہیں (جسے شیخ نبوت کے باقی ہونے سے تعبیر کرتے ہیں) لیکن ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ صاحب مبشرات کو نبی یا رسول نہیں کہ سکتے۔

بابِ نبوت بند ہوچکا، صرف بابِ ولایت کھلا ہے:

پھر ایک جگہ اپنے شیخ ابوالعباس الصنہاجی کی ایک دعا کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں:

’’کان شیخنا ابوالعباس بن العریف الصنہاجی یقول فی دعاء ہ الہم انک سددتَ باب النبوۃ والرسالۃ دوننا ولم تسد باب الولایۃ اللّٰہم مہما عینتَ اعلی رتبۃ فی الولایۃ لاعلی ولی عندک فاجعلنی ذلک الولی فہذا من المحقین الذین طلبوا ما یمکن ان یکون حقاً لہم وان کانت النبوۃ والرسالۃ مما یستحقہ الانسان عقلاً لکون ذاتہ قابلۃ لہا لکن لما علم ان اﷲ قد سدد بابہا شرعاً وسد باب الشرائع لم یسئلہا وسال ما یستحقہ فان اﷲ ما حجر الولایۃ علینا‘‘

ہمارے شیخ ابو العباس بن عریف صنہاجی یوں دعاء فرمایا کرتے تھے:

اے اﷲ تونے نبوت ورسالت کا دروازہ تو بند فرمادیا ہے لیکن ولایت کا دروازہ بند نہیں فرمایا۔ اے اﷲ تونے اپنے جس ولی کا جو سب سے اونچا مرتبہ اپنے ہاں مقرر کر رکھا ہے مجھے وہ ولی بنادے۔ (آگے شیخ ابن عربی فرماتے ہیں) انہوں نے وہی مانگا جو ان کا حق تھا۔ اگر چہ نبوت ورسالت بھی ایسی چیز ہے کہ عقلاً انسان اس کا مستحق ہے لیکن انہیں علم تھا کہ ﷲ نے شرعاً نبوت کا دروازہ بند کردیا ہے اور شرائع کا دروازہ بھی اس لئے آپ نے نبوت نہیں مانگی بلکہ وہی مانگا جو آپ کا حق تھا۔ اﷲ نے ولایت ہم پر بند نہیں کی (جبکہ نبوت بند کردی ہے۔ ناقل)۔

(الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 97 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

جو وحی نبی اور رسول کے ساتھ خاص ہے وہ منقطع ہوچکی

اب کسی کو نبی یا رسول کا نام نہیں دیا جاسکتا :

’’وانما انقطع الوحی الخاص بالرسول والنبی من نزول الملک علی اذنہ وقلبہ وتحجیر اسم النبی والرسول۔‘‘

جو وحی نبی اور رسول کے ساتھ خاص تھی کہ فرشتہ ان کے کان یا دل پر(وحی لے کر) نازل ہوتا تھا وہ وحی بند ہوچکی، اور اب کسی کو نبی یا رسول کا نام دینا ممنوع ہوگیا۔[9] (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 253 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

شیخ ابن عربی نے اپنی اس عبارت میں بھی بتادیا کہ وہ جسے تشریعی نبوت کہتے ہیں اس سے مراد مطلق اصطلاحی نبوت ہے اور وہ یہ لفظ ولایت کے مقابلے میں بولتے ہیں، کیونکہ انہوں نے صاف طور پر فرمایا کہ نبوت ورسالت کا دروازہ تو بند ہے لیکن ولایت کا کھلا ہے۔

شیخ ابن عربیؒ کا واضح عقیدہ ختم نبوت :

شیخ ابن عربی اپنی دوسری کتاب فصوص الحکم میں اپنا عقیدہ یوں بیان فرماتے ہیں:

’’لانہ اکمل موجود فی ہذا النوع الانسانی ولہذا بُدیء بہ الامر وخُتم، فکان نبیاً وآدم بین الماء والطین ثم کان بنشئتہ خاتم النبیین۔‘‘

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نوع انسانی میں سب سے زیادہ کامل انسان ہیں، اسی لئے نبوت کا معاملہ آپ سے ہی شروع ہوا، اور آپ ہی پر ختم ہوا، آپ نبی تھے اور آدم (علیہ السلام) ہنوز آب وگِل میں تھے، پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی نشاۃ بشری کے لحاظ سے بھی خاتم النبیین ہیں (یعنی آخری نبی ہیں)[10] (فصوص الحکم، صفحہ 214، دار الکتاب العربی، بیروت)

الغرض! شیخ محیی الدین ابن عربی رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے عقیدہ کی جو وضاحت کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے فیضان ِ نبوت سے اس امت میں کمالات نبوت باقی ہیں، مبشرات (سچے خواب) بھی اجزاء نبوت میں سے ہیں اور محفوظ الہامات بھی کمالات نبوت میں سے ہیں، شریعت کے صافی چشمہ سے اجتہاد واستنباط کے ذریعے نئے نئے مسئلوں کی دریافت بھی کمالات نبوت میں سے ہے، لیکن اس کے باوجود نبی کا لفظ نہ سچے خواب دیکھنے والوں پربولا جائے گا، نہ صاحب کشف کاملین پر اور نہ ائمہ مجتہدین پر، اس امت سے نبی اور رسول کا لفظ ہمیشہ کے لیے روک دیا گیا ہے، نیز شیخ ابن عربی کے نزدیک تشریعی نبوت کی اصطلاح اس نبی کے لئے استعمال کی گئی ہے جنہیں شریعت نے نبی کہا، اور یہ لفظ آپ کی عبارات میں اولیاء یا صاحبین مبشرات وغیرہ کے مقابلے میں آیا ہے، اور شیخ کے نزدیک غیر تشریعی نبوت کی ایک خاص اصطلاح ہے جو ولایت کے مترادف ہے اور انہوں نے یہ تصریح متعدد جگہ پر فرمادی ہے کہ کسی ولی کو مقام نبوت حاصل نہیں ہوسکتا، یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ شیخ ابن عربی صرف لغوی طور پر اولیاء اﷲ کے الہامات ومبشرات کو نبوت کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں لیکن نہ کسی ولی کو نبی کی طرح مفترض الطاعۃ کہتے ہیں اور نہ ہی کسی ولی کے انکار کو کفر کہتے ہیں اور نہ ہی کسی ولی کو نبی یا رسول کے لفظ سے یادکرنا ٹھیک سمجھتے ہیں، بلکہ وہ اولیاء اﷲ کے لئے جس الہام واخبار من اﷲ کو نبوت سے تعبیر کرتے ہیں اس نبوت کو حیوانات میں بھی جاری مانتے ہیں، چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’وہذہ النبوۃ ساریۃ فی الحیوان مثل قولہ تعالی واوحی ربک الی النحل‘‘

اور یہ نبوت حیوانات میں بھی جاری ہے جیساکہ اﷲ تعالی نے فرمایا: تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی[11]۔ (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 254 طبع مصر)

بلکہ شیخ تو اس ’’لغوی‘‘ نبوت کو ہر موجود چیز میں جاری مانتے ہیں، چنانچہ ان کے الفاظ ہیں:

’’اعلم ان النبوۃ ساریۃ فی کل موجود یعلم ذلک اہل الکشف والوجود‘‘ معلوم ہوا کہ نبوت ہر موجود چیز میں جاری وساری ہے یہ بات اہل کشف خوب جانتے ہیں[12] (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 254 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

تو کیا مرزائی یا غامدی یا ابن عربی کو ’’منکر ختم نبوت‘‘ ثابت کرنے والے، شہد کی مکھی کو بھی ”غیر تشریعی نبی” کہنا شروع کردیں گے؟ یا وہ ہر حجر وشجر کو نبی پکارنا شروع کردیں گے؟۔

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی کے نام سے نہیں پکارا جاسکتا

شیخ ابن عربی ایک جگہ صاف طور پر لکھتے ہیں:’’وکذلک اسم النبی زال بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فانہ زال التشریع المنزل من عند اﷲ بالوحی بعدہ صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نبی کسی پر نہیں بولا جاسکتا، کیونکہ آپ کے بعد جو وحی تشریعی صورت میں اﷲ کی طرف سے آتی ہے ہمیشہ کے لئے ختم ہوچکی[13]۔ (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 58 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

تنقید - شیخ ابن عربی اور"الفتوحات المکیۃ"

یہاں یہ حقیقت بیان کرنا ضروری ہے کہ شیخ محیی الدین ابن عربی کے بارے میں اکابر علماء کی آراء میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے، بہت سے معروف علماء امت نے ابن عربی اور ان کی کتب پر شدید تنقید کی ہے جن میں حنبلی، شافعی، مالکی اور حنفی علماء کی کثیر تعداد شامل ہے، ڈاکٹر دغش بن شبییب العجمی نے اپنی کتاب ’’ابن عربی۔ عقیدتہ وموقف علماء المسلمین منہ من القرن السادس الی القرن الثالث عشر‘‘ میں (جو مکتبہ اہل الاثر، کویت سے طبع ہوئی) 200 سے زیادہ نام ذکر کیے ہیں جنہوں نے بلاواسطہ یا بالواسطہ ابن عربی اور ان کی تحریرات پر جرح کی ہے اور بعض نے تو بہت شدید قسم کے الفاظ بھی لکھے ہیں، ان ناموں میں ڈاکٹر عجمی نے ابن الجوزی، ابن الصلاح، ابن الحاجب، ابن دقیق العید، ابن تیمیہ، ابوحیان اندلسی، ابن ہشام، سبکی، ذہبی، ابن قیم، ابن کثیر، ابن حجر، علامہ عینی حنفی، ابن ہمام حنفی، سخاوی، صنعانی، شوکانی وغیرہ جیسے نام بھی ذکر کیے ہیں جنہوں نے ابن عربی کی عبارات اورنظریات پراعتراضات کیے ہیں، انہوں نے تقریباً 24 حنبلی، 90 شافعی، 25 مالکی اور 35حنفی مشہور ہستیوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ابن عربی یا ان کے عقائد پر تنقید کی ہے ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے تو متعدد کتب لکھیں، جیسے ’’الرد الاقوم علی ما فی فصوص الحکم‘‘ اور ’’النصوص علی الفصوص‘‘ اور ’’مولف فی الرد علی ابن عربی‘‘ اور ’’بغیۃ المرتاد فی الرد علی المتفلسفۃ والقرامطۃ والباطنیۃ اہل الالحاد من القائلین بالحلول والاتحاد‘‘ جن میں شیخ ابن عربی کے بارے میں بہت سخت الفاظ لکھے ہیں،سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی نے ’’الرد علی اباطیل کتاب فصوص الحکم‘‘ نامی کتاب لکھی، سراج بن مسافر بن زکریا المقدسی الحنفی نے ’’الرد علی ابن عربی‘‘ نامی کتاب لکھی، شمس الدین محمد بن عبدالرحمان سخاوی شافعی نے ’’القول المُنبی فی ترجمۃ ابن العربی‘‘ لکھی، اسی طرح ڈاکٹر دغش عجمی نے 64کتب ورسائل کے نام ذکر کیے ہیں جو محیی الدین ابن عربی کے رد میں لکھے گئے (بحوالہ: ابن عربی۔ عقیدتہ وموقف علماء المسلمین منہ من القرن السادس الی القرن الثالث عشر، صفحہ 713 تا 727)۔ لیکن اس سب کے باوجود ہم یہی کہتے ہیں کہ ابن عربی کی جن عبارات یا تحریرات کو لے کر ان پر جرح کی گئی ہے وہ ان کی ”شطحیات” ہیں اور انہیں صوفیاء کی خاص اصطلاحات اور خود شیخ ابن عربی کی دوسری واضح تحریرات کو سامنے رکھتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

شیخ محیی الدین ابن عربی کی تحریرات میں تحریف؟

ایک اور اہم بات کی طرف بھی توجہ دلانا ازحد ضروری ہے، شیخ ابن عربیؒ کے ترجمان خاص شیخ عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اﷲ علیہ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ شیخ ابن عربی کی کتابوں میں خفیہ طور پر بہت سے اضافے بھی کیے گئے ہیں اور ایسے عقائد ان کی طرف منسوب کیے گئے ہیں جو ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھے، چنانچہ شیخ عبدالوہاب شعرانی اپنی کتاب ”الیواقیت والجواہر” میں لکھتے ہیں کہ:۔

’’وقد اخبرنی العارف باﷲ تعالی الشیخ ابوطاہر المزنی الشاذلی رضی اﷲ عنہ ان جمیع ما فی کتب الشیخ محیی الدین مما یخالف ظاہر الشریعۃ مدسوس علیہ، قال لانہ رجل کامل باجماع المحققین والکامل لایصح شطحہ عن ظاہر الکتاب والسنۃ۔‘‘

عارف باﷲ شیخ ابوطاہر شاذلی نے مجھے بتایا کہ وہ تمام عبارات جو شیخ ابن عربی کی کتابوں میں مخالف شریعت نظر آتی ہیں سب الحاقی ہیں یعنی کسی اور کی طرف سے اضافہ شدہ ہیں، کیونکہ محققین کے مطابق وہ (ابن عربی) ایک کامل انسان تھے، اور کامل بندے کتاب وسنت کے ظاہری حکم سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کیا کرتے[14] (الیواقیت والجواہر،جلد 1 صفحہ 16، طبع دار احیاء التراث العربی، بیروت)

پھر شیخ شعرانی نے چار صفحات کے بعد یہ لکھا:۔

’’کما اخبرنی بذلک سیدی الشیخ ابوالطاہر المغربی نزیل مکۃ المشرفۃ ثم اخرج لی نسخۃ الفتوحات التی قابلہا علی نسخۃ الشیخ التی بخطہ فی مدینۃ قونیۃ فلم ار فیہا شیئاَ مما کنتُ توقفتُ فیہ وحذفتہ حین اختصرت الفتوحات‘‘

جیساکہ مجھے شیخ ابوطاہر مغربی حال نزیل مکہ مکرمہ نے بتایا، پھر انہوں نے میرے لئے فتوحات مکیہ کا وہ نسخہ نکالا جس کا انہوں نے شیخ ابن عربی کے ہاتھ سے لکھے ہوئے اس نسخہ سے تقابل کیا تھا جو قونیہ شہر میں تھا، وہ باتیں جن کے اندر میں متردد تھا اس نسخے میں بالکل نہیں تھیں، لہذا جب میں نے فتوحات مکیہ کا اختصار کیا تو ان باتوں کو حذف کردیا۔[15] (الیواقیت والجواہر، جلد 1 صفحہ 23 طبع دار احیاء التراث العربی، بیروت)

علامہ شعرانی کی اس تحقیق سے اس بات کو تقویت پہنچتی ہے کہ شیخ ابن عربی کی طرف منسوب فتوحات مکیہ ودیگر کتب میں انکار ختم نبوت کا شبہ ڈالنے والی عبارات شیخ ابن عربی کی نہیں ہوسکتیں اور وہ تمام حوالے ناقابل اعتبار ٹھہرتے ہیں۔[16]

اہم نقطۂ

 شیخ ابن عربی ہوں یا کوئی اور عالم اگر کسی تحریر میں کوئی بات خلاف قرآن و سنت پائی جاتی ہے اسے یہ کہ کرمنسوخ،  مسترد کیا جاسکتا ہے کہ انہوں ںے ایسی بات نہیں کہی ہوگی یہ اصول تو فرامین رسول اللہ ﷺ  کی روشنی میں احادیث پر بھی لاگو ہوتا ہے-  امام شافعی نے 'الرساله' میں بھی اسی قسم کی بات کی ہے[17]-

https://ahrar.org.pk/ur/naqeeb-rasala/شیخ-محیی-الدین-ابن-عربی-رحمہ-اﷲ-اور-عقی/

Links/ References

ختمِ نبوت https://bit.ly/KhatmeNabuwat


[1] علم الحديث کے سنہری اصول :  https://bit.ly/Hadith-Basics 

[4] (الفتوحات المکیہ، جلد 2 صفحہ 3)

[6] (الفتوحات المکیۃ، جلد 3 صفحہ 238، طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

[7] (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 276 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

[8] (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 252، طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

[9]  (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 253 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر

[10] (فصوص الحکم، صفحہ 214، دار الکتاب العربی، بیروت)

[11]  (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 254 طبع مصر)

[12] (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 254 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

[13] (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 58 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)

[14] (الیواقیت والجواہر،جلد 1 صفحہ 16، طبع دار احیاء التراث العربی، بیروت)

[15] (الیواقیت والجواہر، جلد 1 صفحہ 23 طبع دار احیاء التراث العربی، بیروت)

[17] علم الحديث کے سنہری اصول :  https://bit.ly/Hadith-Basics


☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly

پوسٹ لسٹ