رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

Master Key 4 Quran کلید قرآن

مسلمانوں میں فرقہ واریت اور گمراہی کی اصل وجہ قرآن کی سورہ آل عمران کی آیت نمر سات پی عمل نہ کرنا ہے- یہ آیت قرآن کے احکام کی بنیاد فراہم کرتی ہے، اور آیات قرآن کی ایسی آیات جن کے ایک سے زیادہ معنی ہو سکتے ہیں اور تاویلیں کی جا سکتی ہیں اس طریقہ سے احکام و عقائد اخذ کرنے سے منع فرمایا دیا- مگر جب الله تعالی کے احکام کو نذر انداز کیا جاتا ہے تو گمراہی کے سوا کچھ نہیں ملتا-
 قرآن راہ ھدایت اور راہ نجات ہے، جو شخص طالب حق ہو اور یہ جاننے کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہو کہ وہ کس راہ پر چلے اور کس راہ پر نہ چلے، اس کے لیے قرآن کی "آیات محکمات" ہی اصل مرجع ہیں اور فطرةً انہی پر اس کی توجہ مرکوز ہوگی اور وہ زیادہ تر انہی سے فائدہ اٹھانے میں مشغول رہے گا۔  محکم پکی اور پختہ چیز کو کہتے ہیں۔ 
هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ‎﴿٧﴾
“It is God who has revealed the Book to you in which some verses are clear statements (which accept no interpretation) and these are the fundamental ideas of the Book, while other verses may have several possibilities. Those whose hearts are perverse, follow the unclear statements in pursuit of their own mischievous goals by interpreting them in a way that will suit their own purpose. No one knows its true interpretations except God and those who have a firm grounding in knowledge say, "We believe in it. All its verses are from our Lord." No one can grasp this fact except the people of reason.” (Quran;3:7)
”آیات محکمات (clear ,decisive, ,precise) سے مراد وہ آیات ہیں، جن کی زبان بالکل صاف ہے، جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے، جن کے الفاظ معنی و مدعا پر صاف اور صریح دلالت کرتے ہیں، جنہیں تاویلات کا تختہ مشق بنانے کا موقع مشکل ہی سے کسی کو مل سکتا ہے۔ یہ آیات ”کتاب کی اصل بنیاد ہیں“ ، یعنی قرآن جس غرض کے لیے نازل ہوا ہے، اس غرض کو یہی آیتیں پورا کرتی ہیں۔ انہی میں اسلام کی طرف دنیا کی دعوت دی گئی ہے، انہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں فرمائی گئی ہیں، انہی میں گمراہیوں کی تردید اور راہ راست کی توضیح کی گئی ہے۔ انہی میں دین کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ انہی میں عقائد، عبادات، اخلاق، فرائض اور امر و نہی کے احکام ارشاد ہوئے ہیں۔
قرآن میں دوسری قسم، "آیات متشابہات" (ambiguous, unspecificallegorical)، یعنی وہ آیات جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے >>>>>>

المُحْكَمَاتُ

Lane's Arabic-English Lexicon
مُحْكَمٌ [pass. part. n. of أَحْكَمَهُ;] applied to a building [&c.,] Made, or rendered, firm, stable, strong, solid, compact, &c.; held to be secure from falling to pieces. (KT.) B2: And hence, A passage, or portion, of the Kur-án of which the meaning is secured (أُحْكِمَ) from change, and alteration, and peculiarization, and interpretation not according to the obvious import, and abrogation. (KT.) And سُورَةٌ مُحْكَمَةٌ A chapter of the Kur-án not abrogated. (K.) And الآيَاتُ المُحْكَمَاتُ, [see Kur iii. 5, where it is opposed to آيَاتٌ مُتَشَابِهَاتٌ,] The portion commencing with قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ [Kur vi. 152], to the end of the chapter: or the verses that are rendered free from defect or imperfection, so that the hearer thereof does not need to interpret them otherwise than according to their obvious import; such as the stories of the prophets; (K;) or so that they are preserved from being susceptible of several meanings. (Bd in iii. 5.) And المُحْكَمُ The portion of the Kur-án called المُفَصَّلُ [q. v.]; because nought thereof has been abrogated: or, as some say, what is unequivocal, or unambiguous; because its perspicuity is made free from defect, or imperfection, and it requires nothing else [to explain it]. (TA.) مَحْكَمَةٌ A place of judging; a tribunal; a court of justice.]

 مُتَشَابِهَاتٌ 

See also مُشْتَبِهٌ. B3: مُتَشَابِهَاتٌ in the Kuran iii. 7 means Verses that are equivocal, or ambiguous; i. e. susceptible of different interpretations: (Kshaf Zmakhashri) or verses unintelligible; such as the commencements [of many] of the chapters: (Tafseer Jalaleen Al Syauti) or the مُتَشَابِه in the Kuran is that of which the meaning is not to be learned from its words; and this is of two sorts; one is that of which the meaning is known by referring it to what is termed مُحْكَم [q. v.]; and the other is that of which the knowledge of its real meaning is not attainable in any way: (Taj AlAroos) or it means what is not understood without repeated consideration: (Taj Alaroos. فسر:)

مُشَبَّهٌ: [see its verb: B2: and] see مُشْتَبِهٌ. B3: Also, applied to the plant called نَصِىّ, Becoming yellow. (TA.) مُشَبِّهٌ: [see its verb: B2: and] see مَشْتَبِهٌ.

مَشَابِهُ: see شَبَهٌ, of which it is said to be an anomalous pl. مُشْتَبِهٌ [part. n. of 8, q. v.]. مُشْتَبِهَاتٌ, (S,) and ↓ مُشَبِّهَاتٌ, [thus agreeably with an explanation of its verb by IAar, (see 8, last sentence,)] (JK,) or أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ, and ↓ مُشَبَّهَةٌ like مُعَظَّمَةٌ, (K,) Things, or affairs, that are confused or dubious [by reason of their resembling one another or from any other cause]: (JKSK:) [and uncertain: (see an ex. of مُشَبَّه in this sense in a verse cited voce سَنَفَ:)]

↓ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِه ٍ, in the Kur [vi. 99], means resembling one another so that they become confounded, or confused, or dubious, and not resembling one another &c. (TA.) مُتَشَابِهٌ Consimilar, or conformable, in its several parts: thus مُتَشَابِهًا means in the Kur xxxix. 24. (Jel.) And مُتَشَابِهَاتٌ Things like, or resembling, one another. (JKS.) 
ترجمہ : 
مُشْتَبِهٌ بھی دیکھیں۔ ب3: مُتَشَابِهَاتٌ قرآن (3:7) میں  سے مراد وہ آیات ہیں جو متضاد، یا مبہم ہیں(ایک سے زیادہ تشریح ممکن ؛ مبہم۔: "اس کے ریمارکس کی متضاد نوعیت"۔). e مختلف تشریحات کے لیے حساس: (زمخشری،  تفسیر کشاف ) یا ناقابل فہم آیات؛ جیسا کہ بہت سی سورہ کے آغاز: (تفسیر جلالین، السیوطی) 
یا قرآن میں مُتَشَابِه وہ ہے جس کے معنی اس کے الفاظ سے نہیں سیکھے جاتے۔ اور یہ دو طرح کا ہے۔
(١) ایک وہ ہے جس کا مفہوم مُحْكَم [آیات] کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔
(٢) اور دوسرا وہ ہے جس کے حقیقی معنی کا علم کسی طرح بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا: (تاج العروس ) یا اس کا مطلب ہے جو بار بار غور و فکر کے بغیر سمجھ میں نہیں آتا: (تاج العروس )

(Khatme Nabuwat) ختمِ نبوت: تحقیقی جائزہ



 

خلاصہ 

ختم نبوت : جواب لاجواب (خلاصہ) ختم نبوت ایک اہم معامله ہے جس پر اسلام میں صفر تحمل (zero tolerance) ہے۔
مگر کیوں؟
اس لینے کہ اسلام دین کامل ہے (5:3) قرآن و سنت موجود ہے- اب کوئی نیا نبی یا رسول 'دین کامل' کو'ناکامل' ہی کر سکتا ہے، جس کی قطعا ضرورت نہیں- جب 'مسلمہ کزاب' نے نبوت کادعوی کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو مسترد کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رضی الله) نے نئی خلافت کے باوجود سب سے پہلے جھوٹے نبی کے خلاف جہاد کر کہ اسے جہنم واصل کیا، فتنہ کو کچل دیا۔ امام ابو حنیفہ (رح) نے فرمایا کہ؛ "جو مدعی نبوت سے علامت طلب کریگا، کافر ہو جائے گا، کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے "لانبی بعدی" میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ لہذا علامت طلب کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا".
اسلام کیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے برسرعام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال وجواب کی صورت میں دین اسلام کی تعلیم دی جس کے مطابق اسلام کے چھ بنیادی عقائد اور پانچ ستون ہیں جو قرآن کی آیات محکمات سے ثابت ہیں- حضرت جبرائیل علیہ السلام اور قرآن نے کسی اور نبی، رسول اور کتاب وحی پر ایمان کا حکم نہیں دیا بلکہ رسول اللہ ﷺ کو "خاتم النبین" قرارد ے دیا- لہٰذا اب کوئی نبی ، رسول نہ آئے گا نہ ہی کتاب وحی نازل ہوگی، نہ ہی کسی رسول اللہ ﷺ یا نبی پر ایمان لانے کا حکم ہوا۔ اب اگر کوئی شخص قرآن کی آیات محکمات کو چھوڑ کر دوسری آیات کی تاویلات سے اپنے آپ کو نبی ثابت کرنے کی کوشش کرے تو وہ کذاب گمراہ ہے- اس طرح سے نیے عقائد و احکام نہیں بنایے جا سکتے- محمد رسول اللهﷺ آخری پیغمبرہیں، وحی کے سلسلہ کا آپ پر اختتام ہوا اور قرآن آخری مکمل محفوظ کتاب ہے۔
اب اسلام "دین کامل" میں کسی تبدیلی سے، دین اسلام نہیں اس کی بھونڈی نقل ہی بن سکتی ہے، جس پر اسلام کا لیبل، نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ ایران میں ہوا پھر پاکستان میں-
اسلام اپنی شناخت ( Identity) پر بہت حساس ہے، قرآن نے شناخت عطا کی اوردین کا نام "اسلام" رکھا، پیروکارمسلم - اسلام میں شرک کی سختی سے ممانعت ہے، اللہ کے تحت کتاب اللہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ ان کا بھی کوئی شراکت دار نہیں-
صرف مسلمان Muslim Only >>>> امریکی فلاسفر 'فوکویاما' نے اپنی کتاب میں "شناخت" کے تصور، عصری سیاست اور معاشرے پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے مطابق 'شناخت' (Identity) ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے، افراد ذاتی اور گروہی دونوں سطحوں پر اپنی شناخت کی پہچان اور احترام کے خواہاں ہیں۔ پہچان کی یہ ضرورت انسانی رویے کا ایک اہم محرک ہے۔ 'پیمائش شدہ شناخت کی سیاست' (Measured Identity Politics) کسی مخصوص شناختی گروہ کے لیے پہچان اور وقار کا باعث ہوتی ہے، جب کہ "سٹیرائڈز پر شناخت کی سیاست" (Identity politics on steroids) انتہائی پولرائزیشن (polarisation) اور ناراضگی (resentment) کی خصوصیت ہے جو تنازعہ اور تقسیم کا باعث بن سکتی ہے۔
 مزید >> اسلام کی شناخت (identity)، وقار , قادیانیت اور فرانسس فوکویاما کی" پولیٹکس آف ریزنٹمنٹ" 
ناجائیزاولاد ورا ثت اوردوسرے جائیزمعاشرتی حقوق سے محروم ہوتی ہے وہ شناخت کی تلاش میں کسی کا نام استعمال کرے تو قابل گرفت،اسے قبول نہیں کیا جاتا- اسی طرح اگر کوئی شخص مذھب کے اندرمذھب ایجاد کر تا ہے تو وہ تاویلوں سے جھوٹا جوازتو گھڑ لیتا ہے مگر اسے معاشرہ میں قبولیت نہیں ہوتی اس کے لیے سند اور نئے نام کی ضرورت پڑتی ہے- اسلام نے اس طرح کے تمام چور دروازے بند کر دیے ہیں (قرآن 3:7 , 33:40) ایران میں بہاءالدین نے نبوت کا دعوی کیا مگر عوام نے قبول نہ کیا، 'اسلام' کے نام کا لیبل استعمال نہ کر سکا "بہائی" مزہب اس کی شناخت بن گیا- اگرچہ "بہائی" قرآن کو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بھی مانتے ہیں، کلمہ (شھادہ) بھی پڑھتے ہیں، مگر تاویلں کرتے ہیں۔ زندیق ہیں- ان کی اپنی عبادت گاہیں اور اپنے طریقے ہیں۔ (مزید ...)
"کوکا کولا" صرف ایک برانڈ ہے جس کی نقل پر قانون سزا دیتا ہے۔ ہاں اپنی پراڈکٹ اپنے مختلف نام سے مارکیٹ کرنے کی اجازت ہے-
کافر : تمام غیرمسلم کافر کہلاتے ہیں جیسے عیسائی، یہودی، ہندو وغیرہ۔ ان کی اپنی شناخت اور اپنی عبادت گاہیں ہیں جہاں عبادت کی آزادی ہے- مگر وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے جبکہ ان کے کچھ لوگ صدیوں تک مسلمانوں کے محکوم رہے۔
منافق: بظاھر مسلمان ہوتے ہے مگر دل سےنہیں، اور دلوں کا احوال صرف اللہ کو معلوم، اس لیے منافقوں کا معامله اللہ کے اختیار میں ہے، ہم ان سے بظاھر مسلمانوں جیسا ہو سلوک کرتے ہیں-
زندیق: اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو اپنے مسلمان ہونے کا تو اقرار کرتا ہو مگر احکام شرعیہ میں تاویلاتِ باطلہ کرتا ہو- زندیق اپنے کفر کو چھپاتا ہے اور اپنے فاسد عقیدہ کو بڑھاوا دیتا ہے اور اسے صحیح شکل میں پیش کرتا ہے- یہ بہت خطرناک لوگ ہیں یہ مسلمانوں سے ان کی شناخت بھی چھیننا چاہتے ہیں-
زند یق کافر ہیں مگر اپنے کفر کو اسلام کہتے ہیں بلکہ قرآن کریم کی آیات سے، احادیث طیبہ سے، صحابہ کے ارشادات سے اور بزرگانِ دین کے اقوال سے توڑ موڑ کر اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ناجائز بچہ کا مسئلہ شناِخت کا ہوتا ہے، legitimacy کا ہوتا ہے، جس کے نہ ہونے سے وراثت اوردوسرے جائیزمعاشرتی حقوق سے محروم رہتی ہے وہ شناخت کی تلاش میں کسی کا نام استعمال کرے تو قابل گرفت، اسے قبول نہیں کیا جاتا- اسی طرح جھوٹے نبی کے پیروکار(زندیق) بہاءالدین کے پیرو کاروں طرح اپنی الگ شناخت (بہائی) قبول کرنے کی بجایے "اسلام" پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، "اسلام" کا نام استمال کرنا چاہتے ہیں- جس طرح یہود عیسائیت پرقابض ہیں یہی مثال دہرانا چاہتے ہیں۔ یہ ہے اصل تنازعہ شناِخت کا، ورنہ ان کو اپنی عبادات اور مزہب کی مکمل آزادی حاصل ہے، اسلام , "کفر" کی (idenity) کیسے قبول کرسکتا ہے؟ ناممکن، یہ لوگ یا تو اسلام قبول کریں یا اپنی الگ شناخت! اسلام کی شناخت پر قبضہ ممکن نہیں، اس کی بھرپور مزاحمت جاری رہے گی- مسلمان جان قربان کردیں گے مگر " محمد رسول اللہ " کے دین پر کسی جھوٹے نبی کے پیرو کاروں کو قابض نہیں ہونے دیں گے۔ یہ بات سب کو اچھی طرح سمجھنا ہوگی کہ اسلام کا نام، شناخت کسی زندیق، گمراہ کو نہیں مل سکتی، "اسلام" صرف اس دین کا نام , شناخت (identity) ہے جو حدیث جبرائیل میں بیان کردہ چھ بنیادی اصولوں اور پانچ ستونوں جن کئ بنیاد قرآن کی "آیات محکمات" پر ہے، صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں جس کی تصدیق ان کا عمل ہے۔ تاویلوں سے کفریہ عقائد و نظریات کو "اسلام" میں شامل کرنے کی کوششیں، 1400 سو سال قبل قرآن ( 3:7) مسترد کرچکا ہے، یہی قرآن کا معجزہ ہے جو "الفرقان" ، حق و باطل کی کسوٹی ہے۔ مزید ۔۔۔ ختمِ نبوت: تحقیقی جائیزہ 》》》
مزید ۔۔۔ ختمِ نبوت: تحقیقی جائیزہ 》》》 https://bit.ly/KhatmeNabuwat

خبر دار

پاکستان کے تمام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے- قانون کو ہاتھ میں لینا، فتنہ و فساد حرام ہے- پرامن دعوه و تبلیغ سے اصلاح کی کوشش کریں باقی الله اور یوم آخرت پر چھوڑیں-

وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن36:17) 

اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہے

 ☆ ☆ ☆ ☆ ☆

***

پاکستانی دستور، قوانین اور قادیانی مسئلہ


  1. False Prophets and Preachers  https://bit.ly/FakeProphet
  2. Evolution of Schism : https://bit.ly/Schism-Islam
  1. ختمِ نبوت: تحقیقی جائزہ: https://bit.ly/KhatmeNabuwat  (here)
  2.  قادیانوں سے ایک سوال (جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ) / قادیانیوں سے نفرت کیوں؟ 
  3. رسالت اور نبوت - فرق اور مماثلت 
  4. کیا اللہ کو ہمارے ایمان سے کوئی دشمنی ہے ؟
  5. ابن عربی ختم نبوت اور قادیانیت
  6. قادیانیت اور "فنا فی الرسول" کا غیر قرانی نظریہ
  7. The Qadyani Apostasy Fitnah- History and Background
  8. Ahmadiyya (Qadianis) Cult – Perversion of Christianity and Islam
  9. قادیانی فتنہ   
  10. قادیانیت کینسر
  11. پاکستان میں قادیانیوں کے بطورِ اقلیت حقوق
  12.  قادنیت پر اکثر پوچھے جانےوالےسوالات اور جوابات (FAQs) 
  13. قادیانی دلائل: کلمہ ، توحید اور قرآن
  14.  اساس قادیانیت
  15. قومی اسمبلی میں قادیانیت کا مقدمہ (Must read)
  16. فتنہ قادیانیت کے تابوت میں پہلی کیل-مقدمہ بهاولپور
  17. مرزا غلام احمد قادیانی کا مختصرتعارف 
  18. ختم نبوت – ذوالفقار علی بھٹو کی قومی اسمبلی میں تقریر
  19. ہپاکستانی دستور، قوانین اور قادیانی مسئلہ
  20. المسیح الدجال - گمراہ کن دعوے
  21. حیات،وفات مسیح منکرین ختم نبوت قادیانیت کی جڑ کا خاتمہ
  22.  حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تثلیث نبوت [Trinity of Prophethood]
  23. ختم نبوت اور قادیانی فتنه:  تحقیقی جائزہ (تفہیم القرآن )
  24. المہدی کی حقیقت 
  25. قادیانیت اور اسلام  
  26. آخری اینٹ / Last Brick
  27.  تثلیث نبوت  (Trinity of Prophet)
  28. اسلام کی شناخت (identity)، وقار , قادیانیت اور فرانسس فوکویاما کی" پولیٹکس آف ریزنٹمنٹ" 
  29. قادنیات ویڈیوز پلے لسٹ 
  30. محمدیہ پاکٹ بک (بجواب احمدیہ پاکٹ بک ) یونیکوڈ ٹیکسٹ  
تصوف اور قادیانتت
  1. اسلام ، ایمان ، احسان  کیا ہے؟ [حدیث ِجبرائیل اُمّ السنۃ]
  2.  صوفی ازم- قادیانت کی مآں
  3. کتاب ڈاون لوڈ : شریعت و طریقت : مولانا عبد لرحمان کیلانی (رح)
  4. ابن عربی ختم نبوت اور قادیانیت
ختم نبوت – تحقیقی جائزہ
( تفہیم القرآن )
انڈکس

ختم نبوّت

ضمیمہ (تفہیم القرآن) تفسیر سورۂ احزاب آیات چالیس

سورۂ احزاب آیات #40

#1 لُغت کی رُو سے خاتم النبیین کے معنی

#2 ختم نبوّت کے بَارے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشادات

#3 صحابۂ کرام کا اِجماع

#4 تمام علمائے اُمّت کا اجماع

#5 کیا اللہ کو ہمارے ایمان سے کوئی دشمنی ہے ؟

#6 اب نبی کی آخر ضرورت کیا ہے ؟

#7 نئی نبوّت اب اُمّت کے لیے رَحمت نہیں بلکہ لعنت ہے

#8 ’’مسیح مَوعُود‘‘ کی حقیقت

#9 احادیث درباب نزولِ عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السّلام


أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge

ختم نبوت – تحقیقی جائزہ -2

محمدیہ پاکٹ بک (بجواب احمدیہ پاکٹ بک ) یونیکوڈ ٹیکسٹ
  1. مرزا صاحب کے چند ایک دعاوی

  2. خدائی کے دعوے

  3. مرزا صاحب کے چند ایک مضحکہ خیز اور گول مول الہامات

  4. دلائل کذب مرزا

  5. مرزا صاحب کی غلط پیشگوئیاں

  6. پیشگوئیوں کے متعلق مرزائیوں کے چند ایک خود ساختہ معیار اور اخبار انبیاء پر اعتراضات کا جواب

  7. کاذب ہونے پر دوسری دلیل علاماتِ مسیح موعود

  8. کاذب ہونے پر تیسری دلیل

  9. کاذب ہونے پر چوتھی دلیل

  10. کذب مرزا پر پانچویں دلیل

  11. مرزائی پاکٹ بک کے جھوٹے اعتراضوں کا جواب

  12. کاذب ہونے پر چھٹی دلیل مراقِ مرزا

  13. کاذب ہونے پر ساتویں دلیل

  14. کاذب ہونے پر آٹھویں دلیل

  15. کاذب ہونے پر نویں دلیل

  16. ضمیمہ توہین مسیح علیہ السلام

  17. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین

  18. دلائل مرزائیہ کا جواب

  19. مرزا صاحب کی پیش گوئیاں

  20. مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اور اس کی قرآن دانی

  21. مرزائیت اور عیسائیت

  22. مرزا صاحب قادیانی کا توبہ نامہ

  23. قادیانی عقائد

  24. بشارت اسمہ احمد

  25. مرزا صاحب کے کاذب ہونے پر گیارہوں دلیل

  26. ختم نبوت کا ثبوت از قرآن

  27. ختم نبوت کا ثبوت ازاحادیث

  28. احادیث نبویہ اور مرزائی اعتراضات

  29. حدیث قصر نبوت اور مرزائی اعتراض

  30. اجرائے نبوت پر مرزائی دلائل کے جوابات

  31. احادیث نبویہ کے متعلق مرزائی اعتراضات کے جوابات

  32. اقوال، مرزا متعلقہ ختم نبوت

  33. مسئلہ ختم نبوت میں مرزا صاحب کی دو رنگی

  34. ضمیمہ علمیہ برختم نبوت

  35. حیات مسیح علیہ السلام

~~~~~~~~~~~

وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)

اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے

جو اس پیغام ، دعوہ کو جتنا پھیلائے اللہ اس کو اتنا ہی زیادہ اجرعطا فرمائے، اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت حوض کوثر پر عطا فرمائے۔ آمین

https://bit.ly/AhkamAlQuraan

Tejdeed@gmail.com


اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾

"آپ دعوت دیجیے اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور اس طریقے سے ان سے بحث کیجیے جو نہایت عمدہ ہو ۔ بلاشبہ تمہارا رب اسے بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور ہدایت پر قائم لوگوں کو بھی خوب جانتاہے" (قرآن: 16:125)

☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله تجديد الاسلام
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly

قرآن (33:40) نے ختم نبوت کا حکم جاری کر دیا مگر قادیانی اس کو نہیں مانتے تاویلوں سے مسترد کرتے ہیں- وہ نبوت کی دو اقسام کا خود ساختہ عقیدہ رکھتے ہیں: (ا) مشروع، یعنی "شریعت والی نبوت" جو کہ حضرت محمد رسول اللهﷺ پر ختم ہو گی مگر امت محمدیہ میں (٢)"ظلی یا بروزی نبوت" جاری ہے ختم نہیں ہوئی-
جب ان سے "قرآن و سنت" سے "نبوت کی ان دو اقسام" کا ثبوت مانگا جاتا ہے تو وہ کوئی ریفرنس پیش نہیں کر سکتے کیونکہ قرآن (33:40) اور احادیث میں یہ واضح ہے کہ نبوت ختم ہو چکی رسول اللہ ﷺ نے واضح کر دیا کہ وہ خود عمارت نبوت میں آخری اینٹ تھے ، وحی ، الہام وغیرہ بھی ختم اب صرف مبشرات یعنی سچے خواب باقی ہیں-
بات "غیر تشریعی نبوت" تک نہیں رہتی، بلکہ مرزا صاحب مسیح موعود، بروزی مسیح، مہدی اور بالآخر "فنا فی الرسول" ہو کر عین محمد ﷺ بن گئے( معازاللہ) اسی لے "کلمہ شہادہ" تبدیل نہیں کرتے اور جو ان کا یہ  عقیدہ قبول نہ کرے اسے پکا کافر ، جہنمی ، فا حشہ ماں کی اولاد کی مغلظ گالی دیتے ہیں یہ سب کچھ مرزا صاحب کے اپنے بیانات اور تحریروں میں موجود ہے، ان کے پوتے مرزا طاہر کا بیان پاکستان قومی اسمبلی کی 1974 کاروائی  میں موجود ہے۔

الله تعالی کی آخری مکمل اور محفوظ  کتاب، قرآن سے یہ ثابت  ہوتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللهﷺ خاتم النبیین ہیں ان کے بعد کوئی نبی یا رسول دنیا میں کسی بھی حثیت سے نہیں آیے گا- قرآن ، فرقان ہے حق اور باطل کی پہچان کرتا ہے- جو کہتا ہے کہ میں مسیح ، مہدی، نبی  ہوں-  اس کے یہ دعوے قرآن سے باطل ثابت ہوتے ہیں۔ 

صدیوں سے مسلمانوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قبل قیامت نزول اور امام حضرت مہدی کی آمد  کے نظریات پرعلماء کا احادیث و روایات کی بنیاد پر اجماع ہے- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی  اور حضرت امام مہدی کی آمد کا قرآن کی کسی "محکم آیت" میں ذکر نہیں ملتا- حضرت مسیح علیہ السلام کا بروز قیامت اللہ تعالی سے مکالمہ میں ، رفع کے بعد کے حالات سے لاعلمی ظاہر کرنا (5:117)اہل علم اس کا جائزہ لے سکتے ہیں-  احادیث میں ان کے نزول کا تذکرہ ہے لیکن وہ بحیثیت امتی محمد رسول اللہ ہوں گے، خلیفہ ، عادل حکمران کے طور پر حکومت کریں گے اور اسلام کو سربلند کریں گے- حضرت مہدی نبی نہیں بلکہ اللہ تعالی کے مقرب و برگزیدہ بندے ہوں گے، مجدد کامل اور ایک عادل کا درجہ رکھتے ہیں قیامت سے قبل دنیا میں آئیں گے اور دنیا کو ظلم سے نجات دلائیں گے، ناانصافی اور جبر کا خاتمہ کر دیں گے- علماء کے مطابق حضرت عیسیٰ ابن مریم مسیح علیہ السلام نبی یا رسول کی حیثیت سے نہیں آئیں گے نہ ہی ان پر وحی نازل ہوگی- آپ محمد رسول الل  کے امتی کی حثیت سے بطور خلیفہ تشریف لائیں گے تاکہ دجال کا خاتمہ کریں اور عدل و انصاف سے حکومت کریں، اسلام کا دنیا میں غلبہ قائم کرکہ وفات پا کر رسول اللہ ﷺ کے قریب دفن ہوں

حضرت عیسی مسیح علیہ السلام  کو اللہ تعالی نے زندہ اٹھا لیا یا وفات دی یہ  معاملہ اصل موضوع کو divert  کرنے کے لییے منکرین ختم نبوت ( قادیانی / اہل تثلیث)  اچھالتے ہیں، اسے اپنے مذھب کی جڑ قرار دیتے ہیں اس تحقیق سے وہ جڑ، دلائل کی شمشیر سے کاٹ دی گئی-

قادیانی حضرات جو حضرت محمد بن عبداللہ رسول اللهﷺ  کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ، مسیح مثیل، مہدی وغیرہ سمجھتے ہیں، ان سب کو اسلام کو واپسی کی دعوت ہے تاکہ آخرت اور دنیا میں فلاح پائیں۔ "رسالہ تجدید السلام" پر تحقیقی مضامین کا مطالعہ کریں ۔۔۔ مسلسل اللہ سے گمراہی سے بچاو اور هدایت کی دعا کرتے رہیں، صرف الله تعالی ہی ھدائیت دے سکتا ہے ۔ جزاک اللہ