رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

ہزاروں احدیث کے راوی صحابہ حضرت ابو ھریرہ، عبدللہ بن عبّاس ، عبدللہ بن مسعود ، عبداللہ بن عمر، زيد بن ثابت، ابو سعید خضری (رضی الله عنہم ) کا پابندی کتابت احادیث پر مرتے دم تک عمل


 رسول اللہ ﷺ کے حکم پر جید صحابہ ، مفسرین قرآن ، عالم دین اور ہزاروں احادیث کے حافظ، راویان ومحدثین جنہوں نے مرتے دم تک عمل کیا، نہ حدیث لکھی نہ کتاب لکھی اور منع فرماتے رہے کہ وہ حکم  رسول اللہ ﷺ کے پابند تھے-  حضرت ابو ھریرہ( 5374 احادیث)[28] ، عبدللہ بن عبّاس (2660) ، عبدللہ بن مسعود[29]( 800)[30]، عبداللہ بن عمر(2630) ، زيد بن ثابت، کاتب وحی  (92)، ابو سعید خضری[31] (1170) (رضی الله تعالی عنہم ) اگریہ صحابہ حدیث کی کتب لکھتے تو وہ مصدقہ ہوتیں جبکہ دوسرے راوی بھی زندہ تھے، اس طرح سے وہ ہزاروں احادیث حفظ کرنے کی مشکل سے بچ جاتے - اگر ان صحابہ اکرام  کو حدیث کی کتب لکھنے پر پابندی کا علم نہ تھا تو ان کی احادیث کیسے قبول ہو سکتی ہیں؟ ان کی احادیث نکال دیں تو باقی کیا رہ جاتا ہے؟ اور زید بن ثابت (رضی الله) تو کاتب وحی اور قرآن مدون کرنے والے ہیں ، پھران کا مدون  قرآن کیسے قبول کریں گے؟ بہت صحابہ تو حدیث لکھنا بھی مکروہ سمجھتے تھے، کچھ کو حافظہ کمزوری پر اجازت ملی کچھ کو انکار۔ ان عظیم صحابہ اکرام کی سنت و عمل شہادت دیتے ہیں کہ کتاب حدیث  مدون کرنا ممنوع ہے-

 رسول اللہ ﷺ نے حدیث لکھنے سے منع فرمایا اپر پھرکچھ کو حافظہ کمزوری پر اجازت دی، کچھ کو اجازت نہ دی (اہم نقطہ، ان کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے، یہ علماء  کتب لکھ سکتے تھے )[32] اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاتا ہے-[33] کیا بعد کے لوگ رسول اللہ ﷺ ، خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام (رضی الله)  سے زیادہ علم رکھتے ہیں کہ ان کے حکم کو رد کرنے کے لیے دلیلیں تلاش کرتے پھرتے ہیں؟ خطیب البغدادی[34]،[35] نے اس موضوع پر احادیث کو اکٹھا کیا ہے لیکن وہ بھی  رسول اللہ ﷺ کی وصیت[36] اور اس پر  خلفاء راشدین[37] کے  "اجماع" کا ذکر بھی نہیں کرتے ، کیونکہ اس طرح تو بدعة کے جواز میں  سب دلائل ختم ہو جاتے ہیں

احادیث پر احادیث - تقييد العلم للخطيب البغدادي [https://quran1book.blogspot.com/2020/10/hadith-ban.html]

[ https://wp.me/scyQCZ-forbid]  Prohibition of Hadith Book Writing ]


امام ابوحنیفہ (رح) نے حدیث کی کتاب مدون کیوں نہ کی؟

امام ابوحنیفہ (رح) (پیدائئش 80 ھ) کی لاکھوں احادیث تک پہنچ تھئ شاگردوں اور ساتھیوں سے مشاورت سے فقہ مرتب کیا. ان کے 97 طالب علم[38] حدیث کے مشہور عالم تھے ، اور ان کی بیان کردہ احادیث صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور حدیث کی دیگر مشہور کتابوں میں مرتب کی گئیں۔ امام بدرالدین العینی[39] نے 260 طالب علموں کو شامل کیا جنہوں نے امام ابو حنیفہ (رح) سے حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ مگر انہوں نے حدیث کی کتاب نہیں لکھی- وہ سنت  رسول اللہ ﷺ، سنت خلفا راشدین و صحابہ پر سختی سے کاربند تھے۔

دوسری صدی حجرہ میں بدعة کا آغاز ہوا اور احادیث کی کتب لکھی جانے لگیں ، آج 75 کتب احادیث ہیں ، یہود و نصاری کو پیچھے چھوڑ دیا اور فرمان و سنت  رسول اللہ ﷺ ، سنت خلفاء راشدین کو دانتوں سے پکڑنے کی بجایے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا- یہ لوگ دین اسلام پر قابض ہو گۓ، فرقہ بازی، اور بدعة سے اسلام کا چیرہ مسخ کر دیا اور آج کسی کو معلوم نہیں کہ کیا ہوا تھا؟ یہ دھوکہ مسیحیت میں سینٹ پال کے دھوکے کی یاد تازہ کرتا ہے- اکثر مسلمانوں کو یہ بھی  معلوم نہیں کہ سینٹ پال کا دھوکہ[40]،[41] کیا تھا؟ 1400 سال گزرگئے کسی نے کوشش نہ کی کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: "کیا تم الله  کی کتاب کے علاوہ کوئی اور کتاب چاہتے ہو؟ اس  سے پہلے قومیں  (یہود و نصاری) صرف اس لیے گمراہ ہوئیں کہ انہوں نے کتاب الله کے ساتھ کتابیں لکھیں"[42]  رسول اللہ ﷺ کے فرمان کو چھپانے کی کوشش کی، حدیث کی مشہور کتب میں شامل نہ کیا، تجزیہ تو دور کی بات ہے- جو لوگ مسئلے کا حصہ ہیں وہ کیسے حل دے سکتے ہیں؟

How can those who are part of the problem give a solution?

یہ  من گھڑت کہانی صدیوں سے پھیلا دی کہ پہلے قرآن اور حدیث مکس ہونے کا خدشہ تھا تو پابندی تھی بعد میں پابندی ختم ہو گی- یہ کھلم کھلا جھوٹ جس کوئی سند نہیں،حضرت ابو ھریرہ  (رضی الله)  7 یا 8 حجرہ کو مسلمانوں میں شامل ہوے اور صرف دو(2) ، سوا دوسال رسول اللہ ﷺ (وفات 10ھ) کے نزدیک رہے، ان کو  رسول اللہ ﷺ نے حدیث لکھنے سے منع فرمایا یہ اسلام کا آخری دور تھا جب قرآن کو نازل ہوتے ہوے 20 سال ہو چکے تھے- نیک لوگوں کا جھوٹ بولنا عام ہے (مسلم 40)[43]-  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی، جسے وہ جانتا ہے، پھر اس نے اسے چھپایا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔“[44]- بہت جھوٹ پکڑے ہیں تفصیل موجود ہے:

1.   من گھڑت داستانوں سے حقائق  مسخ ، رسول اللہﷺ کی حکم عدولی[45]

2 سینٹ پال ، سینٹ پطرس اور امام بخاری (رح ) کے خواب[46]

3. .آیات قرآن اور علم حق کو چھپانا سنگین جرم[47]

Read more:
  1. Companions Implemented ban on Hadith Writing till death-6
  2. Prophetﷺ forbids Writing Book, except Qur’an -1 (Abu Hurairah)
  3. Prophetﷺ forbids Writing, Book except Qur’an-2 (Abu Said al-Khudri)
  4. Hadith Writing was forbidden, except Qur’an-3 (Abdullah bin Masood)
  5. Writing Allowed: Individual Permissions for weak memory. State matters, Correspondence, Taxation, Records, other matters & Knowledge (4).
  6. Difference in Hadith writing (private notes)and “Hadith Book writing
  7. Permission Not Granted to some Companions to Write (5)
  8. The Will of Prophet & Sunnah of Caliphs [Abi Dawud 4607]
  9. Bidʻah (بدعة‎)
Foot Notes

https://www.facebook.com/IslamiRevival

 أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ﷺ

 🔰  تجديد الإسلام کی ضرورت و اہمیت 🔰


الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ

آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے کامل (perfect) کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے(قرآن 5:3)

[1]  اسلام, دین کامل کے بنیادی اصول و ارکان جن کی بنیاد قرآن اور حدیث جبرئیل ہے ان میں قرآن اور تمام پہلی کتب انبیاء پر ایمان ضروری ہے، کسی اور کتاب کا کوئی زکر نہیں یہود کی تلمود اور مسیحیوں کی انجیل کے علاوہ تیئیس کتب کا بھی ذکر نہیں اور "کتب حدیث"  پر بھی ایمان  کا ذکر نہیں.  بلکہ قرآن نے اپنے علاوہ کسی اور "کتاب حدیث" پر ایمان سے منع کردیا :  اللہ نے بہترین حدیث ( أَحْسَنَ الْحَدِيثِ) اس کتاب (قرآن) کی شکل میں نازل کیا ہے(قرآن 39:23)، فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (اب اِس (قرآن) کے بعد اور کونسی حدیث پر یہ ایمان لائیں؟) ( المرسلات 77:50)، (الجاثية45:6)،(الأعراف 7:185)

[2]   اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اپنے ان رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو پہلے اتاردی اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا (قرآن :4:136) (2:285)

[3]  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "کیا تم الله  کی کتاب کے علاوہ کوئی اور کتاب چاہتے ہو؟ اس  سے پہلے قومیں  (یہود و صاری) صرف اس لیے گمراہ ہوئیں کہ انہوں نے کتاب الله کے ساتھ کتابیں لکھیں" [رقم الحديث : ٣٣, تقييد العلم للخطيب]

[4]   خلفاء راشدین نے بھی کتب حدیث مدون نہ کیں، صرف قرآن مدون کیا ،  رسول اللہ ﷺ نے وصیت میں سنت خلفا راشدین پر سختی سے کاربند رہنے اور بدعة سے بچنے کا حکم فرمایا (ابی داوود 4607, ترمزی 266 )

یہ کہنا کہ حدیث کی کتب تو بعد میں لکھی گیئں تو پھر بدعت کیا ہوتی ہے؟ کیا اللہ کو مستقبل کا علم نہیں؟ علم ہے، اسی لیے قرآن، سنت و حدیث میں قرآن کے علاوہ کسی کتاب سے منع کر دیا گیا- یہ ہے قرآن کا معجزہ !

[5]  افسوس کہ قرآن ، سنت و حدیث رسول اللہ ﷺ اور سنت خلفاء راشدین کے برخلاف پہلی  صدی کے بعد حدیث کی کتب لکھ کر نافرمانی و بدعة سے کامل دین اسلام کو "نا کامل" کرنے (زوال) کی کوششوں کا آغاز ہوا، نفاق ، فرقہ واریت نے مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا - یہ اللہ کی رسی قرآن کو نظر انداز کر انے سے ہوا: "اور رسول کہے گا کہ "اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو ترک کردیا تھا" (سورة الفرقان،25:30﴾

لہذا  تجديد الإسلام: ، بدعة سے پاک اسلام وقت کی اہم، ضرورت ہے تاکہ اسلام اپنی مکمل فکری، روحانی ، اخلاقی طاقت سے امت مسلمہ اور بنی نوع انسان کی رہنمائی کر سکے- دعوہ اورمکالمہ کے ذریعہ پہلی صدی حجرہ کے اسلام "احیاء دین کامل" کی جدوجہد کریں-

حدیث  کے بیان و ترسیل  کا مجوزہ طریقہ

کلام الله، قرآن کو اس کی اصل حیثیت کے مطابق ترجیح کی بحالی کا مطلب یہ نہیں کہ حدیث کی اہمیت نہیں- “تجدید الاسلام” کی بنیاد "أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ" پر ہے-  ایک مسلمان اپنے محبوب اور پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب الفاظ، اقوال (احادیث) اور عمل (سنت) سے بھی محبت رکھتا ہے لیکن حقیقی محبت کا اظہار اطاعت  رسول اللہ ﷺ  ہے نہ کہ نافرمانی قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم “ کتب حدیث” کی ممانعت کرتے ہیں لیکن وہ احادیث جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ معیارکے مطابق ہوں ان کی ترسیل بذریعه حفظ و بیان مستحب اور باعث ثواب ہے- "أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ" کی روشنی میں حکمت اورعقل و شعور کا تقاضا ہے کہ  جب تک "اجماع"  قائم نہیں ہو جاتا، اتحاد امت (وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُو) کی خاطر بحالت مجبوری (اضْطُر) وضع موجود  (statues-que) میں اچانک تبدیلی نامناسب اقدام ہوگا- رسول اللہ ﷺ نے کچھ صحابہ کو حفظ کی کمزوری پر انفرادی طور پر ذاتی نوٹس کی اجازت دی اور کچھ کو انکار- اس سے احادیث کے انفرادی طور پر ذاتی نوٹس بزریعہ قلم کاغذ یا ڈیجیٹل نوٹس کا جواز ممکن ہے- انتشار سے بچتےہوۓ انفرادی طور پر اصول دین کے مطابق ایمان کو درست رکھتے ہوۓ رسول اللہ ﷺ کے قائم کردہ معیارکے مطابق علماء اور ماہرین جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعہ درست احادیث کی ممکنہ ترسیل کا شرعی جائزہ لے سکتے ہیں- جبکہ اجماع کی پرامن فکری جدوجہد (Peaceful intellectual struggle) بزریعہ دعوه و مکالمہ بھی جاری رہے-

https://bit.ly/Tejdeed-Islam

http://SalaamOne.com/Revival

https://Quran1book.blogspot.com

https://Quran1book.wordpress.com

https://twitter.com/SalaamOne

پوسٹ لسٹ