رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

زوال پذیرمعاشرہ میں ہمارا کردار

حالات بہت خراب ہیں کرپشن بہت ہوگئی ہے، یہ ایک کامن تھیم ہے[1a]، لیکن اس میں ہمارا کتنا حصہ ہے بھول جاتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے آخری کتاب ھدائیت آخری رسول محمد ﷺ پر نازل فرما کر سلسلہ نبوت ختم کردیا۔ قرآن اور نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ نے واضح کردیا کہ ھدائیت صرف قرآن سے ہے باقی تمام راستے گمراہی کے ہیں:
نبی کریم  ﷺ  نے ارشاد فرمایا: 
"اللہ کی کتاب میں ہدایت اور نور ہے، جو اسے پکڑے گا وہ ہدایت پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہ ہوجائے گا۔"[1]

’’جو شخص غیر قرآن میں ہدایت کا متلاشی ہوگا اللہ اس کو گمراہ کردے گا، وہ (قرآن) اللہ تعالیٰ کی ایک مضبوط رسی ہے اور وہ ایک محکم اور مضبوط ذکر ہے اور وہ ایک سیدھا راستہ ہے …‘[2]

اس کا یہ مطلب نہیں کہ سنت و حدیث کی اہمیت نہیں رسول اللہ ﷺ قرآن کا عملی نمونہ تھے ان کی سنت و حدیث پر عمل قرآن ہی پر عمل کرنا ہے۔ لیکن جس طرح قرآن کو محفوظ کیا اس طرح باقی مواد محفوظ نہ ہو ا- یہ کوئی غلطی نہیں بلکہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی ھدایات اور پلان کے عین مطابق تھا، یہود و نصاری کتاب اللہ کے علاوہ دوسری کتب لکھ کر گمراہ ہوئے، یہ غلطی آخری امت مسملہ نے نہیں دہرانی تھی تاکہ قرآن، کتاب اللہ کی سپریمیسی برقرار رہے [4] -
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث کی قبولیت کو قرآن، سنت و عقل سے مشروط فرما کر کسی غلطفہمی کا دروازہ ہمیشہ کے لئیے بند کردیا۔ [3] لیکن اس پر عمل نہ کرنے سے وہی ہوا جس کا خدشہ تھا اب ہزاروں لاکھوں قسم کی متضاد احادیث پھیل چکی ہیں، ہر فرقہ کے پاس اپنی پسندیدہ احادیث موجود ہیں۔ لوگ "صحیح "حدیث کو صحیح سمجھتے ہیں جبکہ "صحیح حدیث" کا مطلب سلسلہ اسناد ان کے معیار کے مطابق صحیح ہونے پر ہے متن کی کوئی تحقیق گارنٹی نہیں اسی لئیے کئی متن قرآن مخالف ہیں۔ کیا یہ دھوکہ نہیں؟ پانی کی بوتل پر اگر برانڈ نیم "خالص" کا لیبل لگا لیں اور اندر عام نلکے کا پانی بھر دیں، عوام سمجھیں کہ "خالص" پانی ہے یہ دھوکہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق "احادیث کی تدوین نو" سے یہ مسئلہ آج بھی ختم یوسکتا ہے. 1200 سال سے کسی کو کیوں خیال نہ آیا؟ ‏اس لئیے کہ جنہوں نے یہ کام کرنا ہے وہ اسٹیک ہولڈر ہیں (stakes are high) پھر فرقہ بازی کا خاتمہ ہو جائے گا جو فرقہ پرست لوگوں کوہرگز ہرگز قبول نہیں، ان کا کاروبار بند ہوجائیے گا قرآن کی ساری تعلیمات کا مرکز ایمان اور عمل صالح ہے جو جنت کے حصول کی بنیاد ہے، ہر نفس اپنے اعمال پر گروی (رہن) ہے۔ اللہ غفور الرحیم ہے اور غلطیوں، گناہوں کو توبہ اور نیک اعمال سے بخش دیتا ہے مگر حقوق العباد کی بخشش متعلقہ فرد یا افراد سے تلافی ، معافی کے بغیر ممکن نہیں۔ حساب کتاب کے بعد زیادتی کرنے والے، مال غصب کرنے والے، ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دی جائیں گی اور کم ہوئیں تو مظلوموں کے گناہ بھی اس کے کھاتے میں ڈال کر جہنم رسید کردیا جائیے گا۔ یہ بتلانے کی بجائے صرف آدھا سچ بتایا جاتا ہے اور عوام کو جہالت و لاعلمی سے جہنم کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔ ایسی ضعیف، من گھڑت احادیث جو معمولی سی بات پر سارے گناہوں کی بخشش کی , ڈھیروں ثواب کی خبر دیتی ہیں، اور قرآن و سنت، شریعت ، اللہ کے انصاف کے برخلاف پیں, درست کیسے ہو سکتی ہیں؟ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ کی سزا جہنم کی آگ ہے۔ لوگ بجائیے اس کے کہ عمل صالح کریں، بداعمالیوں ، گناہوں میں مصروف رہتے ہیں کہ گناہوں کی بخشش تو ہو ہی جائے گی، اور مساجد بھی نمازیوں سے بھری ہیں. سوشل مییڈیا پر خوب عام معافی کی ضعیف پوسٹ شئیر کی جاتی ہیں بغیر تحقیق اور خوفناک نتائیج کے۔ اگر تحقیق ممکن نہیں تو بہتر ہے کہ قرآن کی آیات شئیر کریں، کوئی شک۔ کوئی خطرہ نہیں ، ثواب لازم ملے گا نتیجہ آج کل مذھب پیربہت زور ہے ، درود و سلام نعت خوانی کی محافل پر زور ہے، مساجد بھری رہتی ہیں ، رمضان کا بہت اہتمام ہے ، صدقہ خیرات بہت ہے, سوشل میڈیا پر قرآن و حدیث کی پوسٹس کی بھر مار ہے- لیکن معاشرہ میں ظلم ، بے حیائی، بے حسی، جھوٹ، کرپشن، رشوت، نانصافی، ناپ تول اور کاروبار میں دھوکہ بازی عام ہے- حقوق اللہ اور حقوق العباد[1a] کا آپس میں گہرا تعلق ہے- عبادات (حقوق الله) سے حاصل شدہ نیکیاں حساب کتاب کے بعد، حقوق العباد غصب کرنے پر مظلوم کی مل جائیں گیں اور مفلس کو جہنم میں دال دیا جاینے گا- ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہے کہ معاشرہ کو خراب کرنے یا درست کرنے میں ہمارا کتنا حصہ ہے؟ اور اب ہم کو کیا کرنا ہے!
اللہ ہمارے گناہ معاف فرمائے ، توبہ قبول کرے، قرآن کے راستہ ، صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق فرمائے۔ آمین
[2] ‘(رواہ حضرت علیؓ، ماخوز، ترمذی 2906)

زوال پذیرمعاشرہ میں ہمارا کردار: https://bit.ly/Zowal

~~~~~~~~~~~~


الله تعالی کا مقصد تخلیق  کائنات  

اختیار اور امتحان

تخلیق خلیفہ آدم ، روح ، علم ، ابلیس کا انکار اور جہنم 

الله تعالی نے تخلیق کائنات وتخلیق آدم کیوں کی؟

اس سوال کے جواب کو سمجھنے سے دنیا و آخرت میں کامیابی کا راستہ واضح ہو جاتا ہے-

قرآن میں تخلیق کاینات و آدم کا مقصد بیان کیا گیا ہے، خلاصہ : 

 وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ ‎﴿١٦﴾‏ 

ہم نے اِس آسمان اور زمین کو اور جو کچھ بھی ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے(21:16).

رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں" انہوں نے عرض کیا: "کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں" فرمایا: "میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے" الله تعالی نے خود آدم کو مٹی سے بنایا پھر اس میں اپنی روح پھونک  دی- اللہ نے آدمؑ کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا "اگر تمہارا خیال صحیح ہے کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ" وہ نہ بتلا سکے- پھر اللہ نے آدمؑ سے کہا: "تم اِنہیں اِن چیزوں کے نام بتاؤ" جب اس نے ان کو اُن سب کے نام بتا دیے-  پھر جب اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کے آگے جھک جاؤ، تو سب جھک گئے، مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا - اللہ  نے فرمایا "اچھا تو یہاں سے نکل جا، تو مردود ہےاور تیرے اوپر یوم الجزاء تک میری لعنت ہے" وہ بولا "ا ے میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس وقت تک کے لیے مہلت دے دے جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے" فرمایا، "اچھا، تجھے اُس روز تک کی مہلت ہے جس کا وقت مجھے معلوم ہے" اس نے کہا "تیری عزت کی قسم، میں اِن سب لوگو ں کو بہکا کر رہوں گا، ما سوا  تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے خالص کر لیا ہے" فرمایا "تو حق یہ ہے، اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں کہ میں جہنم کو تجھ سے اور اُن سب لوگوں سے بھر دوں گا جو اِن میں سے تیری پیروی کریں گے" (مفھوم  ماخوز قرآن: 2:30,34 ,  38:71,85)

اللہ نے فرمایا : تم دونوں ، یعنی انسان اور شیطان یہاں سے نیچے اتر جاؤ ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے پھر اگر تمہیں میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا ، وہ نہ گمراہ ہوگا ، اور نہ کسی مشکل میں گرفتار ہوگا-  اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے (20:123,124)

میثاق الست

عالم ارواح میں تخلیق آدم کے بعد اللہ نے آدم کی ساری اولاد کو حاضر کیا تھا، اور ان کو خود اپنے اوپر گواہ بنایا تھا، اور پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا تھا کہ : کیوں نہیں ؟ ہم سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔  اور یہ اقرار ہم نے اس لیے لیا تھا تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکیں کہ : ہم تو اس بات سے بیخبر تھے۔ (مفہوم سورۃ نمبر 7 الأعراف، آیت نمبر 172)

 اکثر انسان اس واقعے کو ایک عہد کی شکل میں تو بھول چکے ہیں، ہر بات یاد نہیں رہتی جیسے پیدائیش اور اس سے قبل شکم مادر کا دور۔  مگر کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ یاد نہ رہنے کے باوجود اپنا طبعی اثر چھوڑ جاتے ہیں، یہ اثر آج بھی دنیا کے اکثر وبیشتر انسانوں میں موجود ہے جیسا کہ کچھ افریقی اور آسٹریلوی قبائل جو کہ اس کائنات کے ایک پیدا کرنے والے پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی عظمت وکبریائی کے گن گاتے ہیں۔  اللہ تعالیٰ  کی عظمت و محبت ہر انسان کی فطرت میں سمائی ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کبھی فطرت سے دور کرنے والے بیرونی عوامل دور ہوتے ہیں تو انسان توحید حق کی طرف اس طرح دوڑتا ہے جیسے اس کو اپنی کھوئی ہوئی پونجی اچانک مل گئی ہو۔ اس کے علاوہ اللہ نے رسول ، نبی اور کتب نازل فرمائیں تاکہ انسان ھدائیت پر قائیم رہ سکے۔ اس کے باوجود جو لوگ ابلیس کی پیروی میں گمراہی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو جہنم کے حقدار ہیں۔

پھر انسان کو الله تعالی نے برائی اور نیکی کا شعور دیا, یقیناوہ شخص کامیاب ہوگا جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا اور نامراد وہ ہوگا جو نفس کو  گناہ میں دھنسا دے

‏ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ‎﴿١٦٥﴾‏

وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں زیادہ بلند درجے دیے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اسی میں تمہاری آزمائش کرے بے شک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے (6:165)

الله تعالی  نے اس امانت (خلافت) کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے-اِس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مَردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے (73،33:72) 

 انسان کے بار امانت اٹھانے کا انجام یہ ہوگا کہ نوع انسانی میں دو فریق ہوجائیں گے، ایک کفار و منافق وغیرہ جو اطاعت الٰہیہ سے سرکش ہو کر امانت کے ضائع کرنے والے ہوگئے، ان کو عذاب دیا جائے گا، دوسرے مومنین و مومنات جو اطاعت احکام شرعیہ کے ذریعہ حق امانت ادا کرچکے، ان کے ساتھ رحمت و مغفرت کا معاملہ ہوگا۔

قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام >>>

☆☆☆ 🌹🌹🌹📖🕋🕌🌹🌹🌹☆☆☆
رساله التجديد 
وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (القرآن  36:17)
اور ہمارے ذمہ صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے
   Our mission is only to convey the message clearly
زوال پذیرمعاشرہ میں ہمارا کردار: https://bit.ly/Zowal

پوسٹ لسٹ