رساله تجديد الاسلام (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَﷺ)

انڈکس رسالة التجديد

 قرآن کی روشنی میں انداز فکروعمل میں مثبت تبدیلی "رسالة التجديد" ہے- دین ...

‎قرآن احسن الحدیث



*"مَا كَانَ حَدِيۡثًا يُّفۡتَـرٰى" :  قرآن کوئی من گھڑت حدیث نہیں بلکہ احسن الحدیث ہے جو مکمل ہدائیت ہے، ہر چیز کی تفصیل موجود ہے جس کی دین میں انسان کو ضرورت ہے عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت، حکومت، سیاست وغیرہ انسانی زندگی کے ہر انفرادی یا اجتماعی حال سے متعلق احکام و ہدایات اس میں موجود ہیں، تدبر و تفکر کرنے والے عقلمندوں کے لئیے*

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَـقَدۡ كَانَ فِىۡ قَصَصِهِمۡ عِبۡرَةٌ لِّاُولِى الۡاَلۡبَابِ‌ؕ مَا كَانَ حَدِيۡثًا يُّفۡتَـرٰى وَلٰـكِنۡ تَصۡدِيۡقَ الَّذِىۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيۡلَ كُلِّ شَىۡءٍ وَّهُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ۞
 (القرآن - سورۃ نمبر 12 يوسف, آیت نمبر 111)
ترجمہ:
"اگلے لوگوں کے ان قصّوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔(12:111)
 
*مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ*
یعنی یہ حدیث (قرآن) کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں بلکہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں .

*وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤ ْمِنُوْنَ*

 یعنی ہر اس چیز کی تفصیل جو انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ضروری ہے، بعض لوگ " ہر چیز کی تفصیل " سے مراد خواہ مخواہ دنیا بھر کی چیزوں کی تفصیل لے لیتے ہیں، اور پھر انکو یہ پریشانی پیش آتی ہے کہ قرآن میں جنگلات اور طب اور ریاضی اور دوسرے علوم و فنون کے متعلق کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ (تفہیم القرآن)

 یہ حدیث (قرآن) تفصیل ہے ہر چیز کی مراد یہ ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے جس کی دین میں انسان کو ضرورت ہے عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت، حکومت، سیاست وغیرہ انسانی زندگی کے ہر انفرادی یا اجتماعی حال سے متعلق احکام و ہدایات اس میں موجود ہیں اور فرمایا کہ: یہ قرآن ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے اس میں ایمان لانے والوں کی تخصیص اس لئے کی گئی کہ اس کا نفع ایمان والوں ہی کو پہنچ سکتا ہے کافروں کے لئے بھی اگرچہ قرآن رحمت اور ہدایت ہی ہے مگر ان کی اپنی بدعملی اور نافرمانی کے سبب یہ رحمت و ہدایت ان کے لئے وبال بن گئی . (معارف القرآن)

افسوس کہ کچھ مسلمان  اپنے مخصوص فرقہ وارنہ نظریات کو درست ثابت کرنے کے لئئے  قرآن کے مکمل ہدایت کے دعوی کو غلط ثابت کرنے کے لئیے کہتے ہیں کہ :
*نماز کا طریقہ قرآن میں کدھر ہے؟* 
یہ سوال سب سے پہلے مشرکین مکہ کو پوچھنا چاہیئے تھا ، مگر نہیں پوچھا کیونکہ وہ پہلے سے سنت ابراہیمی و سنت اسماعیل علیہ السلام سے نماز سے واقف تھے جو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاری رہی اور اسی طرح اور سنتیں بھی جبکہ ضرورت کے مطابق جہاں ضروری تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درست فرمایا ۔  

قرآن میں ، لِيُقِيۡمُوۡا الصَّلٰوةَ ۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا موجود ہے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے وقت سے اقامت الصلوات کا سلسلہ عملی طور پر جاری تھا جو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جاری رکھا۔ اسلام کوئی نیا ایجاد کردہ دین نہیں، ابدی دین ہے جو سنت ابراہیمی اور سنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر قائیم ہے۔ کچھ لوگ صرف قرآن پر زور دیتے ہیں اور سنت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اللہ نے کتاب کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بھیجا جو عملی قران تھے۔ ان کی سنت تواتر سے محفوظ ہے۔ 
حصرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قرآن میں ثبوت ہے جو قرآن سمجھتے ہیں صرف تلاوت نہیں کرتے:
رَبَّنَاۤ اِنِّىۡۤ اَسۡكَنۡتُ مِنۡ ذُرِّيَّتِىۡ بِوَادٍ غَيۡرِ ذِىۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَيۡتِكَ الۡمُحَرَّمِۙ رَبَّنَا لِيُقِيۡمُوۡا الصَّلٰوةَ فَاجۡعَلۡ اَ فۡـئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهۡوِىۡۤ اِلَيۡهِمۡ وَارۡزُقۡهُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡكُرُوۡنَ‏ ۞ (قرآن 14:37)
ترجمہ:
اے پروردگار ! میں نے اپنی اولاد میدان (مکّہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لا بسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ تو لوگوں کے دلوں کے ایسا کردیں کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میووں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں۔

لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَاب 
یعنی ان حضرات کے قصوں میں عقل والوں کے لئے بڑی عبرت ہے،
اس سے مراد تمام انبیاء (علیہم السلام) کے قصے جو قرآن میں مذکور ہیں وہ بھی ہو سکتے ہیں اور خاص حضرت یوسف ؑ کا قصہ جو اس سورة میں بیان ہوا ہے وہ بھی کیونکہ اس واقعہ میں یہ بات پوری طرح روشن ہو کر سامنے آگئی کہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کی کس کس طرح سے تائید ونصرت ہوتی ہے کہ کنویں سے نکال کر ایک تخت سلطنت پر اور بدنامی سے نکال کر نیک نامی کی انتہا پر پہنچا دیئے جاتے ہیں اور مکرو فریب کرنے والوں کا انجام ذلت و رسوائی ہوتا ہے .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قرآن نہیں چاہتا ہے کہ کوئی بھی دوسری کتاب یا حدیث پر ایمان لایا جایے، سوائے قرآن کے ، جس کو بہترین حدیث کہا ،کچھ آیات اورترجمہ [اکثرمترجمین "حدیث" مروجہ معنی چھپاتے ہیں  , لفظ "حدیث" کےتمام معنی شامل ہیں: 

(1) .اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَ قُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ (قرآن 39:23)

اللہ نے بہترین حدیث ( أَحْسَنَ الْحَدِيثِ) اس کتاب (قرآن) کی شکل میں نازل کیا ہے جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں کہ ان سے خوف خدا رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس کے بعد ان کے جسم اور دل یاد خدا کے لئے نرم ہوجاتے ہیں یہی اللہ کی واقعی ہدایت ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرمادیتا ہے اور جس کو وہ گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے (قرآن 39:23)

(2.) .تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)

یہ الله کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل سچی پڑھ کر سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے، (الجاثية45:6)

(3) .فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)

اب اِس (قرآن) کے بعد اور کونسی حدیث پر یہ ایمان لائیں؟ ( المرسلات 77:50)

(4). فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (الأعراف 7:185)

پھر(قرآن) کے بعد کس حدیث پر یہ لوگ ایمان لائيں گے (الأعراف 7:185)

(5) اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّـهِ حَدِيثًا ﴿٨٧﴾ 

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ تم سب کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہہ نہیں، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی حدیث اور کس کی ہوسکتی ہے (النساء 4:87)

~~~~~~~~~~~~

1۔ قرآن مجید رب العالمین کا نازل کردہ کلام حق ہے (آل عمران 3:60)  یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے (قرآن 2:2)
2۔ قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)
3۔قرآن مجید کلام الٰہی ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ 2:2)
4۔اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر15:9)
5.قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)
6۔قرآن کو واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں (یوسف18:1,2)۔
7۔ باطل نہ اس کلام کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (الفصلت 41:42)
8۔یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ42:17)
9۔یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)
10۔ تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)
11۔قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)
12۔یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)
14.تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)
یہ الله کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل سچی پڑھ کر سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے، (الجاثية45:6)
15.وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٧﴾ يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ  (الجاثية45:7)
ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے (-جو آیات الہیٰ سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر نا حق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے گویاکہ اس نے سنا ہی نہیں پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو  (الجاثية45:7,8)
16.هَـٰذَا هُدًى ۖوَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ  (الجاثية45:11)
“یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)
اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے اور (اس میں) مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے (16:89)

 أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ﷺ

حدیث  کے بیان و ترسیل  کا مجوزہ طریقہ

کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ “تجدید الاسلام” حدیث کے خلاف ہے۔“تجدید الاسلام” کی بنیاد "أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ" پر ہے-  ایک مسلمان اپنے محبوب اور پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب الفاظ، اقوال (احادیث) اور عمل (سنت) کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتا، حقیقی محبت کا اظہار اطاعت[83]  رسول اللہ ﷺ  ہے نہ کہ نافرمانی[84]- قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم “ کتب حدیث”[85] کا انکار، ممانعت کرتے ہیں لیکن وہ احادیث جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ معیار[86]کے مطابق ہوں ان کی ترسیل بذریعه حفظ و بیان مستحب اور باعث ثواب ہے- رسول اللہ ﷺ نے کچھ صحابہ کو حفظ کی کمزوری پر انفرادی طور پر ذاتی نوٹس کی اجازت دی اور کچھ کو انکار[87]- اس سے احادیث کے انفرادی طور پر ذاتی نوٹس بزریعہ قلم کاغذ یا ڈیجیٹل نوٹس کا جواز ممکن ہے- علماء اور ماہرین جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی[88] کے ذریعہ ممکنہ ترسیل کا شرعی جائزہ لے سکتے ہیں-"أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ" کی روشنی میں حکمت[89 اورعقل و شعور کا تقاضا ہے کہ  جب تک "اجماع"  قائم نہیں ہو جاتا، اتحاد امت[90] (وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا[91]) کی خاطر بحالت مجبوری (اضْطُر)[92] وضع موجود  (statuesque) میں اچانک تبدیلی نامناسب اقدام ہوگا- انتشار سے بچتےہوۓ انفرادی طور پر اصول دین کے مطابق ایمان کو درست رکھتے ہوۓ رسول اللہ ﷺ کے قائم کردہ معیار[93] کے مطابق احادیث کا بیان و ترسیل بزریعہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی[94] ممکن ہو سکتا ہے(و اللہ اعلم ) جبکہ اجماع کی پرامن فکری جدوجہد (Peaceful intellectual struggle) بزریعہ دعوه و مکالمہ بھی جاری رہے- [مزید تفصیل: سنت، حدیث اور متواتر حدیث][95]

پوسٹ لسٹ